سب اپنے ہی تھے
میاں محمد بخش نے کیا خوب کہا تھا:
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے
سجناں وی مر جانا
کیا ڈی چوک پر مرنے والے دشمن تھے۔ نہیں سب اپنے ہی تھے۔ انقلاب تو نظام کی تبدیلی کا نام ہوتا ہے۔ جب تک نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی انقلاب کیسے آئے گا؟ شاید موجودہ حکومت نظام کی تبدیلی سے ہی گھبرا رہی ہو؟ ریاست کی ایک لغوی تعریف ہوتی ہے اور ایک معنوی۔ لغوی مطلب کہ ریاست ایک ایسا قانونی اور سیاسی معین علاقہ ہے جہاں ایک مستقل آبادی خود مختاری پر مشتمل ہوتی ہے۔ ریاست کے مختلف ادارے عوام کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ معنوی تعریف میں ریاست کو ماں کے جیسا بھی کہا گیا۔ اگر وہاں معصوم شہری احتجاج کرنے پہنچ ہی گئے تھے تو ان کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک کیوں ہوا؟ یہ سب باتیں ڈی چوک کا احتجاج جو بعد میں ایک سانحے میں ڈھل گیا کی صورتِ حال سے پیدا ہوئیں۔ کہا جانے لگا ہے کہ احتجاج اب تحریکِ انصاف کے ڈی۔ این۔ اے میں شامل ہو چکا ہے تو بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالتیں اور باقی ادارے جو کسی بھی ریاست کے نظام کی خاطر بنائے جاتے ہیں جب وہاں سے انصاف مہیا نہیں ہو گا تو لوگ راہِ احتجاج ہی اختیار کریں گے۔
کسی بھی ریاست میں موجود حکومت کو بلا شبہ بہت سے داخلی اور خارجی کئی اقسام کے مسائل اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ یہ تمام مسائل صبر اور پُرامن طریقے سے طے کیے جائیں۔ موجودہ دور اور زمانہ جمہوریت کا ہے۔ تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل ہونا چاہیے۔ عدالتی نظام کو تیز تر ہونا چاہیے۔ میں نے پہلے بھی کئی بار یہ لکھا کہ پاکستان میں انصاف کے لیے لوگ سالوں عدالتوں کی غلام گردشوں میں دھکے کھاتے رہتے ہیں مگر انصاف مل کے نہیں دیتا۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ یہ احتجاج سانحے میں کیسے بدلا؟ پہلا سوال تو حکومت سے ہے کہ جب کال 24 کی تھی تو 21 تاریخ سے ہی راستے وغیرہ بند کرنا کیوں شروع کر دیے۔ لاہور شہر کے تمام خارجی راستے بشمول پُلوں پر کنٹینر لگا کر فصیلیں قائم کر دی گئیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب چند دن پہلے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ ضمانت پر رہا کر دیے جانے کا فیصلہ سنا چکی تھی تو رہا کیوں نہیں کیا گیا؟ تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کے وفاقی وزرا نے بہت بڑھکیں ماری تھیں کہ یہ داخل ہو کر دکھائیں۔ ہم نے ان کا بندوبست کر رکھا ہے۔ پھر سب احتجاج کرنے والے کس طرح داخل ہوئے؟ ہم اس وقت دنیا میں ایک تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔ ملک کے ایک نامور صحافی نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا دفتر عین اس جگہ کے سامنے ہے جہاں احتجاج کے لیے عوام جمع تھے۔ شام کے وقت انہیں کہیں سے فون آیا کہ آپ لوگ اپنے دفتر کی لائٹس بند کریں اور پروگرام کہیں اور سے کریں۔ یعنی یہ سب منصوبہ بندی سے کیا گیا؟ جن پر تشدد کیا وہ سب بھی اپنے ہی تھے۔ دوسری طرف وفاقی وزرا مذاق اڑاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انقلاب لانے والے اپنے جوتے اور کپڑے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ظاہر ہے وہ انسان تھے کوئی مشینی روبوٹ تو تھے نہیں جان کا تحفظ کرنا بھی انسان کا ایک جبلی جذبہ ہے۔ کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے عدالت، میڈیا اور تمام ادارے آزاد ہونے چاہئیں۔
بدقسمتی سے گزرتے وقت کے ساتھ ہمیں ادارے کمزور ہی ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ گِلہ کریں تو کس سے؟ یہاں تو سب اقتدار کے بھوکے ہیں۔ ہم وراثت میں کیسا ملک چھوڑ کر جائیں گے جہاں سوالات کے کانٹے ہمارے نوجوانوں کے پیروں میں چُھبتے رہیں گے۔ پتہ نہیں یہ سب باتیں میں کس کو بتانا چاہ رہی ہوں؟ کوئی فائدہ بھی ہو گا یا نہیں۔ شامِ غم ہے کہ ڈھلتی ہی نہیں ہے۔ مگر فسانے بنتے رہتے ہیں اور ان فسانوں کے زندہ کرداروں پر طاقت کی دھاک بٹھانے کے لیے انہیں گولیوں سے بُھون دیا جاتا ہے۔ ہم غلط سمجھتے رہے کہ یہ اپنوں پر گولی نہیں چلائیں گے۔ اس کہانی کو سنانے سے بھی کیا فائدہ؟ یہ ظلم کی ایک درد بھری داستان ہے۔ محبت اور محرومیوں سے جکڑی ہوئی قوم یہ بھی کہتی ہے خان نے ہمارے ساتھ بہت بُرا کیا۔ ہم تو سیدھے سادے لوگ تھے۔ شعور اور آگہی کی آگ سے واقف ہی نہ تھے کہ اس سے انسان کیسے دھیرے دھیرے اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے۔ ہم تو بس قسمت پر ہی اکتفا کیے بیٹھے تھے کہ اچانک ایک مسیحا نما انسان آ کر بتاتا ہے کہ تمہارے حقوق بھی ہیں۔ مگر افسوس کہ حقوق کے حصول کا رستہ بہت طویل، کٹھن اور خاردار ہے۔ قبضہ گروں نے کبھی چھوڑا ہی نہیں اس ملک کو۔ وفاقی وزرا مرنے والوں کی لاشوں کو دکھانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ کیا اب ہم اخلاقی طور پر اس حد تک گر چکے ہیں کہ مرنے والوں کے بھی ثبوت مانگے جائیں گے۔
سیاست میں چاپلوسیاں اور استحکام کے فقدان نے سیاست دانوں کو صرف اقتدار کی ہوس کا بُھوکا بنا کر رکھ دیا ہے۔ آمرانہ اطوار جمہوریت کی قبر کھود رہے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر داخلہ نے پہلے دن کہا تھا کہ ہم صبر سے کام لے رہے ہیں ورنہ ہمارے لیے پانچ منٹ کا کام ہے یہ قافلہ یہاں سے تتر بتر ہو جائے گا۔ تحریکِ انصاف کی موجودہ قیادت کی بُزدلی پر بھی بہت سے سوالات ہیں۔ سیاسی ورکر کسی بھی سیاسی پارٹی کے مقصد کے فروغ میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔ وہ پارٹی کے نظریے اور فکر کے ساتھ چلتا ہے۔ سیاسی کارکن کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ سیاسی کارکن جذبے اور عزم کے ساتھ پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی کو نہ صرف ترتیب دیتا ہے بلکہ عوامی حمایت کو بھی متحرک کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر سیاسی کارکنوں کو ظاہر ہے سیاسی قیادت کی ضرورت پڑتی ہے۔ تحریکِ انصاف کی سیاسی قیادت کا ان دنوں فقدان نظر آتا ہے خواہ وہ خوف کی شکل ہے یا اندرونی خلفشار کی وجہ۔


