وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور ہونہار سکالرشپ پروگرام!


مریم نواز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالے کم و بیش 10 ماہ ہو چلے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جب مریم نواز کو وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے نامزد کیا تب صحافتی اور سیاسی حلقوں میں یہ خبر خاص طور پر زیر بحث آئی تھی۔ ناقدین نے اس نامزدگی کو خوب ہدف تنقید بنایا۔ سیاسی مخالفین کی تنقید سے قطع نظر، بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ پنجاب جیسے اہم اور بڑے صوبے کے انتظامی معاملات چلانا کسی نا تجربہ کار سیاست دان کے بس کی بات نہیں ہے۔

اس ضمن میں مریم نواز کی صنف کا پہلو بھی زیر بحث آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) کے داخلی حلقوں میں بھی چہ مگوئیاں ہوتی رہیں۔ پارٹی کے کچھ اراکین کو اس ضمن میں خدشات تھے اور تحفظات بھی۔ مریم نواز شریف نے ان تمام تجزیوں، قیاس آرائیوں اور خدشات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ پچھلے دس مہینوں سے وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر متمکن ہیں۔ نہایت خود اعتمادی سے پنجاب کے انتظامی امور چلا رہی ہیں۔ روزانہ کئی اہم اجلاسوں کی صدارت کرتی ہیں۔ اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات سے ملاقاتیں کرتی ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں اور علاقوں کے دورے کرتی ہیں۔

ہم بخوبی آ گاہ ہیں کہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے بعد صوبہ پنجاب میں کچھ افسوسناک تجربات بھی ہوئے۔ پنجاب، جس کی تعمیر و ترقی دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید تھی، اس کی حالت قابل رحم ہو کر رہ گئی تھی۔ مریم نواز کی سربراہی میں پنجاب اپنے پرانے دور کی جانب لوٹ رہا ہے۔ یہاں ریکارڈ بارشیں ہوئیں، لیکن چند ہی گھنٹوں میں بارش کا پانی نکال دیا گیا۔ عید الاضحی کے دنوں میں لاکھوں جانور قربان ہوئے، تاہم ان کی ہزاروں ٹن آلائشوں کو فوری ٹھکانے لگا دیا گیا۔

گزشتہ دور میں لاہور شہر میں گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے تھے۔ اب ایک مرتبہ پھر یہ شہر خوبصورت اور صاف ستھرا نظر آتا ہے۔ پچھلے دو سال سے پنجاب کی 25 جامعات سربراہان سے محروم تھیں، آج بیشتر میں مستقل وائس چانسلر تعینات ہیں۔ ان دس مہینوں میں مریم نواز حکومت ای۔ بائیکس، اپنی چھت، اپنا گھر، ہمت کارڈ، دھی رانی، صاف ستھرا پنجاب، گرین ٹریکٹر، سولر پینل، سمیت بیسیوں سکیموں کا آغاز کر چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا یہ تحرک قابل تعریف ہے۔ اضافی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک ماں ہیں اور پنجاب کے بچوں کے متعلق ایک ماں بن کر سوچتی ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے 130 ارب روپے بجٹ کی حامل ہونہار اسکالر شپ پروگرام کی بنیاد رکھی ہے۔

دو دن پہلے وزیر اعلیٰ مریم نواز سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو وہ اس اسکیم کے بارے میں نہایت پر جوش تھیں۔ وہ خوش تھیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکالر شپ پروگرام کا آغاز کر رہی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میرے پاس لامحدود فنڈز ہوں اور میں وہ تعلیم پر خرچ کر دوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بہت جلد پنجاب کے بچوں کے لئے جدید لیپ ٹاپ اسکیم بھی لا رہی ہوں۔ کہنے لگیں کہ میں پنجاب کے عوام خاص طور پر نوجوانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا نا چاہتی ہوں۔

میں نے پنجاب کی ایک دو نسبتاً غیر معروف جامعات کے کچھ معاملات کا تذکرہ کیا تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ انہیں متعلقہ وائس چانسلروں کے ناموں اور ان کے تعلیمی پس منظر تک سے آ گاہی تھی۔ عمومی طور حکمران اور اعلیٰ عہدیدار اپنے کاموں پر تنقید ناپسند کرتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کی مہربانی کہ کبھی کسی جانب توجہ دلاؤں تو میری بات سن لیتی ہیں۔ اس ملاقات کے دوران کچھ حکومتی اور سیاسی معاملات پر بات چلی تو کہنے لگیں کہ بالکل honest opinion دو ، بغیر کسی لگی لپٹی کے۔ میری کچھ تنقیدی باتیں غور سے سنتی رہیں۔ کچھ سے اتفاق کیا اور کچھ سے اختلاف۔ پون گھنٹہ پر محیط یہ ملاقات اچھی رہی۔ میں نے دل سے دعا کی کہ وہ اپنے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

میں محترمہ مریم نواز کو برسوں سے جانتی ہوں۔ اکثر خیال آتا ہے کہ میڈیا پر آج تک ان کی شخصیت کی درست تصویر پیش نہیں ہو سکی ہے۔ ان کے سیاسی مخالفین تو خیر سوشل میڈیا پر ان کے متعلق انتہائی منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ تاہم ان کے قریبی لوگ آگاہ ہیں کہ مریم نواز بہت ذہین ہیں او ر نہایت صاف گو بھی۔ وہ بہادر اور نڈر ہیں۔ مضبوط قوت ارادی کی مالک ہیں۔ کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو اسے کر کے دم لیتی ہیں۔ انہیں پڑھنے لکھنے سے دلچسپی ہے۔

ایک زمانے میں یہ پی۔ ایچ۔ ڈی کرنا چاہتی تھیں۔ جب یہ جیل میں قید تھیں، تب بھی ان کا وقت کتابیں پڑھنے میں گزرا۔ ان کے گھر میں آج بھی ڈھیروں کتابیں موجود ہیں، جو انہوں نے جیل میں پڑھیں، اور جن پر ان کے ہاتھ سے لکھے نوٹس اور حاشیے موجود ہیں۔ اکثر تنقید ہوتی ہے کہ انہیں نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے یہ مقام ملا ہے۔ تاہم سچ یہ ہے کہ مریم نواز نے یہ مقام جدوجہد سے حاصل کیا ہے۔ اپنی ماں کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان واپس آنا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔

تاہم وہ واپس آئیں۔ قید و بند کی مشکلات سہیں۔ کاش وہ کبھی اپنی خود نوشت لکھیں اور بتائیں کہ ان کی جیل کی کوٹھڑی کے حالات کتنے ابتر تھے۔ تاہم انہوں نے خودداری اور جواں مردی سے جیل کاٹی۔ وہ جیل سے باہر تھیں تب ان کی جماعت پر وہ وقت بھی آیا جب پارٹی کے مرد رہنما بھی مصلحتا خاموش ہو گئے تھے، لیکن یہ نہایت دلیری سے جلسے جلوس اور تقریریں کیا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں مریم نواز نے تن تنہا پارٹی کے بیانئے کو زندہ اور کارکنوں کے حوصلے کو بلند رکھا۔

نہایت اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خاندانی روایات اور رکھ رکھاؤ کو ہمیشہ قائم رکھا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے ناقدین بھی ان کے اخلاق اور رکھ رکھاؤ کی تعریف کرتے ہیں۔ مہمانوں کو کھڑے ہو کر خوش آمدید کہنا۔ عزت افزائی کرنا۔ رخصت ہوتے وقت دروازے تک چھوڑنے جانا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز اپنے والد کی روایات پر کاربند ہیں۔

مجھ سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد وہ جامعہ پنجاب میں ہونہار اسکالر شپ پروگرام کے افتتاح کے لئے تشریف فرما تھیں۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر فرخ نوید اور جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے ایک نہایت عمدہ تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کم و بیش پانچ ہزار طالب علم، اساتذہ اور دیگر مہمانان یہاں موجود تھے۔ حسب معمول وزیر اعلیٰ پنجاب اسٹیج کے بجائے بچیوں کے درمیان بیٹھیں۔

خوشدلی سے ان سے باتیں کرتی رہیں۔ چیک تقسیم کرتے وقت طالب علموں سے محبت سے پیش آئیں۔ جامعہ پنجاب میں انہوں نے ایک عمدہ اور مدبرانہ تقریر کی۔ اس تقریر میں صرف تعلیم کا ذکر تھا اور طالب علموں کا ۔ نہایت فخر سے انہوں نے بتایا کہ میں نے انگریزی لٹریچر میں ایم۔ اے کیا ہے اور میرے پاس پنجاب یونیورسٹی کی ڈگری ہے۔ اس بات پر خوب تالیاں بجیں جب انہوں نے کہا کہ آپ مسلم لیگ (ن) کے ووٹر ہیں یا کسی اور سیاسی جماعت کے، آپ سب بچے میری ذمہ داری ہیں اور یہ سکالر شپ پروگرام آپ سب کے لئے ہے۔

اس بات پر بھی پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا جب انہوں نے کہا کہ یہ رقم میری جیب سے نہیں جا رہی۔ یہ پیسہ آپ کی امانت ہے۔ اس اسکالر شپ کو احسان سمجھ کر نہیں، بلکہ سر اٹھا کر وصول کریں۔ انہوں نے طالب علموں کو بتایا کہ میرا بیٹا جنید جب ڈگری لے کر آیا تو میں نے اسے شاباش دی۔ لیکن اسے یہ نصیحت بھی کی تھی کہ اگر آپ کو سلیقے سے بات کرنے کا ڈھنگ نہیں تو آپ کی ڈگری کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ تقریر کے آخر میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے بچوں کو یہ پیغام دیا کہ آپ نوجوان کالجوں، یونیورسٹیوں میں بیٹھے اچھے لگتے ہیں، ڈی چوک میں نہیں۔

بندوق، غلیل، پتھر اور کیلوں والے ڈنڈے نہیں بلکہ آپ نوجوان پاکستان کا اصل چہرہ ہیں۔ اس پنڈال میں بیٹھی میں سوچتی رہی کہ کاش ہم سب یہ بات سمجھ سکیں کہ یہ نوجوان ہی ہمارے ملک کا چہرہ اور مستقبل ہیں۔ کاش ہم پاکستان کے نوجوانوں کو فساد اور انتشار کی آگ میں جھونکنے کے بجائے، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی جانب راغب کر سکیں۔

Facebook Comments HS