سولہ دسمبر 1971۔ سولہ دسمبر 2024: تذلیل، توہین اور گمشدہ شناخت کے 19,359دن
ایک نسلی برادری، جو ”بہاری پاکستانی“ کے نام سے جانی جاتی ہے، بے دردی سے جانچی گئی ہے۔ میں نے اس کمیونٹی کے حوالے سے، اور خاص طور پر غیر بنگالی یا بہاری پاکستانی محصورین کے لیے، اپنی مقدور بھر آواز اٹھانے کی، آگاہی اور ہم دلی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشتر میڈیا کے فورمز ایسی تحریر اور رائے کو رد کر دیتے ہیں یا ان کو جگہ دیتے ہیں جن کے عہدے اور مرتبے رعب اور دبدبے والے ہوں۔ ان حالات اور ترجیحات میں ”ہم سب“ جیسے گنتی کے چند ڈیجیٹل دریچوں کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔
میں نے بغیر کسی نیٹ ورکنگ یا اسپانسر شپ کے ان موضوعات پر کئی زاویوں سے اتنا لکھا اور بولا ہے کہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بتانے یا سنانے کو کچھ بھی نہیں رہا۔ شاید دامن جھاڑ چکی ہوں۔ لیکن یہ تمام تگ و دو، کامیابی یا موثر ہونے کے روایتی پیمانوں سے ناپی جائے تو میں ناکام اور بے اثر رہی ہوں، جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں :
پاکستانی لبرلز اور دانشور طبقات کا اس المیے سے بے رخی اختیار کرنا یا بے حسی دکھانا۔
خود میری کوتاہیاں، جن میں مارکیٹنگ کی مہارت نہ ہونا یا ذاتی کرشمہ نہ رکھنا بھی شامل ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ خوش شکل، خوش نما اور خوش مزاج خواتین، جو تلخ اور سنجیدہ معاملات سے دور رہتی ہیں، سے مرد حضرات بہتر سلوک کرتے ہیں۔ مردوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ہر شعبے میں مرد ہی لیڈرشپ کی کرسی پر براجمان ہیں، اور کہیں کہیں خواتین ہیں بھی تو وہ مردوں سے بھی زیادہ پدر سری رویوں کی وارث بنی بیٹھی ہیں۔ اس تلخ نوائی اور جذباتی پن پر معذرت۔
آج کی تحریر کا مقصد کچھ بنیادی حقائق کا خلاصہ پیش کرنا ہے، اس موہوم سی امید پر کہ شاید کہیں پر ایک مظلوم ترین کمیونٹی، ایک لسانی اور نسلی طور پر اقلیت کی تضحیک اور تفاوت کی سچی کہانی، ان کی پاکستان سے بے لوث محبت کے نتیجے میں دربدری اور تباہی کی سچی کہانی، مقتدر حلقوں کے دلوں میں کچھ نرمی پیدا کرے۔
شاید حامد میر صاحب یا ان کے پائے کے صحافی کیمرے اور مائک لے کر ”جنیوا کیمپ“ کی اصلیت سے پردہ اٹھا سکیں اور اپنے آدھے سچ کو، جس میں صرف بنگالیوں سے ویسٹ پاکستانی اشرافیہ کا ناروا سلوک یا شیخ مجیب کی ابتدا بطور محب وطن پاکستانی بیان کرنا شامل ہے، کو نہتے بہاریوں پر (واضح رہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں پھنسے پاکستانیوں میں صرف بہاری نہیں بلکہ یو پی اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے 1947 کے بعد آنے والے لوگ بھی شامل ہیں، مگر ان سب کو بہاری کہا جاتا ہے کیونکہ اکثریت ان کی ہی ہے، جبکہ کچھ حلقے انہیں غیر بنگالی اردو اسپیکرز بھی کہتے ہیں ) گزری اور گزرتی ہوئی قیامتوں کی حق پر مبنی رپورٹنگ کے ساتھ مکمل کر سکیں۔ یا شاید ایمان مزاری صاحبہ جیسی کوئی لائق اور با اثر وکیل ہمارا بھی کیس لڑ لے اور ان کی طرح جلد از جلد عالمی میڈیا، لوکل عدالت اور دیگر حلقوں کی توجہ حاصل کر لے اور ہمارے لوگ بھی عالمی اداروں کے تعاون سے اپنی بات کر سکیں اور ان کے پاس بھی پاسپورٹ ہوں۔ شاید۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے اور کرنے کو تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، مگر ایک ایسے معاملے میں جس میں نہ تو مقامی نہ ہی عالمی اسٹیبلشمنٹ یا انسانی حقوق تک کے اداروں اور رکھوالوں کو کوئی دلچسپی نہ ہو، کون اپنا وقت برباد کرتا ہے؟ ایک بار پھر بچی کھچی ہمتوں کو یکجا کر کے اس سال ہر امن پسند شہری، ہر انسان دوست انسان اور خاص طور پر پاکستانی اور بنگلادیشی نوجوانوں سے چاہے وہ اپنے ملکوں کے علاوہ دنیا کے کسی بھی حصّے میں ہیں ہاتھ جوڑ کر خاص درخواست کر رہی ہوں کہ وہ صحیح تاریخ سے واقف ہوں۔ ماضی کو بدلا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ماضی کو تاریخ سے بد دیانتی کر کے دکھانا چاہیے بلکہ ماضی سے سیکھنا ضرور چاہیے۔ سیکھنے کے لیے ذہن اور دل دونوں کو کشادہ کرنا پڑتا ہے۔ کیا آپ تیار ہیں؟
سولہ دسمبر 1971 سے پہلے اور بعد میں کیا ہوا؟ بہاری المیوں کے حوالے سے حقائق کی مختصر ترین تاریخ:
بہاری مسلمانوں کی بنگال آمد کے متعلق حقائق سے بے خبری یا ان کا توڑ مروڑ کر پیش کرنا
1۔ متحدہ ہندوستان میں بہار کے مسلمانوں کے پاکستان کے لیے ”احساسِ اپنائیت“ کے بارے میں بات نہیں کی جاتی، حالانکہ یہ ایک خاص اہمیت اور پس منظر رکھتا ہے۔ 1946 کے بہار قتل عام (جس پر میں نے لکھا ہے ) نے پاکستان کے قیام میں ایک محرک کا کردار ادا کیا، اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلم لیگ کی کامیابی کو تقویت دی، جہاں یہ پہلے غیر مقبول تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے خود فرمایا: ”میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاکستان میری زندگی میں قائم ہو جائے گا، لیکن بہار کے سانحے نے اسے ممکن بنا دیا۔“
2۔ بہاری مسلمانوں نے مشرقی پاکستان کی طرف ہجرت نہیں کی؛ انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا۔ مشرقی پاکستان کا نہیں۔ جناح صاحب نے اڑیسہ، یوپی، بہار، اور دیگر علاقوں کے سرکاری ملازمین کو ہدایت دی تھی کہ وہ مشرقی پاکستان منتقل ہوں۔ انہوں نے 1947 سے 1971 تک معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، حالانکہ انہیں مغربی پاکستان کی طرح کوئی جائیدادیں بطور معاوضہ نہیں دی گئیں۔ اس وقت کی حکومت نے عام اردو بولنے والوں اور بنگالیوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔
3۔ زبان کی تحریک کے دوران، مسعود محمود نے بنگالی طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ یہی شخص بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں مشہور ”وعدہ معاف گواہ“ بن گیا۔ دوسری طرف، خود ساختہ فیلڈ مارشل اور آمر ایوب خان کی بدانتظامی پر نہ تو مرکزی دھارے کے میڈیا میں تنقید کی گئی اور نہ ہی فوجی تاریخ میں اسے چیلنج کیا گیا۔ اس کے سیاسی اثرات آج بھی نسل در نسل برقرار ہیں۔
4۔ اس کمیونٹی کے المیے اور صدمے کبھی ختم نہیں ہوئے۔ 1978 میں پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے ان محب وطن پاکستانی بہاریوں کو بے وطن کر دیا۔ 2008 میں، بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا، جس کے تحت 16 دسمبر 1971 کے بعد بنگلہ دیش کے نام نہاد کیمپوں میں پیدا ہونے والوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ یہ قدم ایک بنگلہ دیشی مافیا نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اٹھایا تھا۔ یہ حق، جو ذاتی مفادات کے تحت دیا گیا، مکمل شہریت کے برابر نہیں۔
2009 کے ”شہریت کے پروپیگنڈے“ کی بات کی جائے تو یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ اگر مکمل شہریت دی جاتی تو بنگلہ دیش کو بہاری خواتین کی عصمت دری، بہاری بچوں کی ہلاکت، لوٹ مار، جانوں کے نقصان اور جائیدادوں کی ضبطی کا ازالہ کرنا پڑتا۔ نتیجتاً، یہ بے بس بہاری اپنی بدحالی کی زندگی گزارتے رہے، جنہیں غذائی قلت، بیماریوں، ، ذہنی صحت کے مسائل اور دیگر مشکلات نے گھیرے رکھا ہے۔
5۔ جو چیز شرمناک حد تک عیاں ہے لیکن کم ہی بیان کی جاتی ہے، وہ میری بہاری بیٹیوں اور بہنوں کی زبردستی عصمت فروشی ہے۔ کسی نمایاں نسائی حقوق کی حامی یا انسانی حقوق کے علمبردار نے ورثے، شناخت اور وقار کے نقصان پر سوگ نہیں منایا۔ ہماری خواتین کی عزت پامال کی گئی، لیکن نہ تو انہیں گنا گیا اور نہ ہی ان کے لیے کوئی افسوس کیا گیا۔
6۔ سولہ دسمبر 1971 کو باضابطہ ہتھیار ڈالے گئے۔ پاکستان دو لخت ہوا، سقوط ڈھاکہ پر اب تک نصاب تک میں سکوت ہے۔ اس کمیونٹی کو جو پاکستان کے جھنڈے سے دستبردار نہیں ہوئی قتل کیا گیا۔ یاد رکھیں مسلمان بنگالیوں نے مسلمان بہاریوں کا قتل کیا، چاہے ان کی ٹریننگ انڈیا نے کی ہو، لیکن اپنے ہی غیر بنگالی بھائی، بہنوں، کولیگز پر بندوق مسلمانوں نے ہی تانی تھی۔
ہم لوگ کس کو سمجھائیں کہ صرف جغرافیہ نہیں بدلا ہماری شناخت اور حیثیت بھی بدلی۔ کیسا بدلہ لیا بنگالیوں نے؟ شکوہ پاکستان کے مراعات یافتہ طبقے سے جن کے ظلم کا شکار غریب پنجابی تک ہے اور برق گرائی گئی تو ہم امن پسند پڑھے لکھے مڈل کلاس اور محنت کی روزی کمانے والے بہاریوں پر۔
7۔ ابتدائی طور پر محصورین کا عالمی اداروں کی مدد سے محدود تعداد میں واپسی کا عمل ہوا، لیکن بعد میں یہ رک گیا، حالانکہ اس کے لیے فنڈز اکٹھے کیے گئے اور وعدے کیے گئے۔ ایسا کیوں ہوا اس کو بھی میں نے اپنے ایک حالیہ اردو مضمون میں جو آئی بی سی میں چھپ چکا ہے اور دس دسمبر 2024 کو اپنے یو ٹیوب چینل (کیف کام ) پر ری لیز کی گئی ایک انگریزی ویڈیو میں بیان کر دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ قوم پرست نامی گرامی لوگوں کا احتجاج، منافق فمینسٹ اور انسانی حقوق کے چیمپئنز، کوتاہ اندیش اپنے مفادات سے منسلک سیاست دانوں اور سمجھوتوں میں مقید سول اور ملٹری بیوروکریسی کی ملی بھگت سے آخرکار، ہمیں مکمل طور پر دھتکار دیا گیا۔
8۔ فارن آفس کو اس المیے کے امپیکٹ کا احساس تک نہیں۔ اکادمیا کے موقع پرست الگ ہیں۔ بھارت نواز حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے پر پاکستانی میڈیا اور معتبر حلقوں کا یوفوریا دیدنی رہا اور قبل فہم بھی۔ لیکن اب تک میری نظر سے پاکستانی بہاری محصورین سے معافی ان کے نقصانات کی تلافی کی بات نہیں گزری۔ بحالی اور آباد کاری تو دور کی بات ہے مسلمان اکثریت کا یہ ملک خداداد صرف تین لاکھ بے کس لوگوں کو محبّت اور عزت سے نہیں دیکھ سکتا۔ کبھی محبّت سے ان کا ذکر تک نہیں کیا۔
ہر طبقہ فکر جس میں مذہبی جماعتیں اور مہاجر کی محرومی پر سیاست کرنے والی مختلف اشکال اور القاب کی سیاسی جماعتیں تک شامل ہیں انھوں نے تریپن برسوں میں بنگلہ دیش کے کیمپ کے نام پر قائم ڈربوں میں جہاں سانس لینا تک محال ہے وہاں پاکستان کی محبّت میں معتوب کمیونٹی کو فراموش کر دیا۔
ہم بہاریوں سے پہلی دو ہجرتوں میں زمین چھینی گئی، مگر پاکستان وطن رہا اور اس تیسری ”ہجرت“ میں ہم بے زمین ہونے کے ساتھ ساتھ بے وطن بھی ہوئے۔ سِتَم بالائے سِتَم یہ بھی ہے کہ ہماری مظلومیت کی بات کرنے والا کوئی بھی نہیں۔
16 دسمبر 1971۔ 16 دسمبر 2024 تک۔ تذلیل، توہین اور گمشدہ شناختوں کے 19,359 دن ہیں اور بے زمین سے بے وطن ہونے تک کی بے امان لوگوں کی فریاد نہ کوئی سنے والا ہے نہ سنانے والا۔
نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
(محسن بھوپالی)


