بھارتی اور پاکستانی معاشرہ مایوسی کی طرف کیوں جا رہا ہے؟


انسان فطرتاً دھرتی کا بیٹا ہوتا ہے۔ وہ دھرتی وہ علاقہ اُس کے دل سے کبھی نہیں نکل پاتا جہاں وہ پیدا ہوتا ہے جہاں پلا بڑھا ہوتا ہے۔ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ اور یورپ جا بستے ہیں، بہت زیادہ دولت کماتے ہیں لیکن وہاں تمام تر آسائشوں کے باوجود ان کا دل مسلسل اپنے وطن کے اُس شہر یا گاؤں میں اٹکا رہتا ہے جہاں ان کا بچپن بیتا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک پہ کوئی مشکل وقت آ جائے تو سرمایہ دار اور صنعت کار اور یہاں تک کہ اُس ملک کی باوردی اور بے وردی اشرافیہ تو جمع کی ہوئی دولت کے ساتھ اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف چلے جاتے ہیں لیکن کسان کبھی بھی اپنے ملک کو چھوڑ کر نہیں جاتا کیونکہ وہی حقیقی معنوں میں دھرتی کا بیٹا ہوتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی جنم بھومی کو چھوڑ نہیں سکتا یا وہاں سے ہجرت کرتے ہوئے اُسے تکلیف ہوتی ہے لیکن اب لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی اور بھارتی نوجوان اپنا ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟ بہاول پور میں پاسپورٹ آفس پوش علاقہ میں کرایہ کے بنگلہ میں قائم ہے۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں وہاں پاسپورٹ بنوانے آتے ہیں۔ بنگلہ کے باہر والی سڑک پہ عوام کا جمِ غفیر ہوتا ہے۔ یہی حال پاکستان اور انڈیا کے تمام شہروں کا ہے۔ پاسپورٹ دفاتر کے باہر نوجوانوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ پاسپورٹ آفس بار بار میڈیا کو بیان جاری کر رہا ہوتا ہے کہ پاسپورٹ کی بہت زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے اُس کے پاس پاسپورٹ والا کاغذ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن لاکھوں انڈین اور پاکستانی نوجوانوں کا مائنڈ سیٹ بن چکا ہے کہ ماں کے زیور بیچو، گھر بیچو، جانور بیچو، قرضہ اُٹھاؤ یہاں تک کہ گھر کے برتن بیچو بس یہاں سے باہر نکلو۔ کیوں؟

آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ انڈیا اور پاکستان کی نوجوان نسل اس وقت بے یقینی، مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے؟ انڈیا اور پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز اور بڑے اخبارات کے کئی مالکان پہ الزام عائد ہو رہا ہے کہ وہ بکاؤ مال بن چکے ہیں اور یک طرفہ پروپیگنڈا کے ذریعے عوام کو تصویر کا صرف ایک رُخ دکھا رہے ہیں۔

”ہم سب“ پہ 24 جون 2024 کو راقم کا لکھا ہوا ایک بلاگ ”کمیونسٹ انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا جنوبی ایشیا“ شائع ہوا تھا۔ میں نے لکھا تھا ”راقم اپنے مشاہدہ اور پاکستانی و انڈین پنجاب میں جاری کسان تحریک، بلندیوں کو چھوتی ہوئی مہنگائی، مڈل کلاس کی زوال پذیری، بے روزگاری اور سوشل میڈیا کے زیرِ اثر سیاسی شعور حاصل کرتی نوجوان نسل کے اذہان کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچا ہے کہ جنوبی ایشیا کمیونسٹ انقلاب کی طرف قدم بڑھا چکا ہے“ ۔ یہ بھی لکھا تھا ”راقم کا اندازہ ہے کہ سال 2030 کے بعد کمیونسٹ تحریک جنوبی ایشیا میں زور پکڑ لے گی اور عوام کی بڑی تعداد اس کا حصّہ بن جائے گی تاہم یہ سوال کہ کمیونسٹ تحریک جنوبی ایشیا میں اقتدار کب سنبھالے گی؟ ممکن ہے کہ اُس وقت کے آنے میں بیس یا تیس سال لگ جائیں“ ۔

احباب! آج 8 دسمبر 2024 کو یہ بلاگ لکھنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ انڈین اور پاکستانی معاشرے کو مایوسی اور ڈپریشن کی کیفیت سے نکالنے اور مزید خرابیوں سے بچانے کے لیے چند تجاویز پیش کر دی جائیں۔ انڈیا اور پاکستان میں دیہات سے شہر کی طرف کروڑوں لوگوں کی مسلسل ہجرت شہروں کا سائز بڑھا کر اور اربن سٹرکچر پہ مزید بوجھ ڈال کر نئے معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے۔ اس ہجرت کو ایمرجنسی بنیادوں پہ روکا جائے۔

بڑے جاگیردار خاندانوں کو ٹارگٹ کر کے زرعی اصلاحات کی جائیں تاکہ دیہات کے بے زمین خاندانوں کو بھی کاشت کاری کے لیے ذاتی زمین مل سکے اور وہ شہروں کی طرف ہجرت کرنے سے رک جائیں۔ فی گھرانا پچاس ایکڑ سے زیادہ زرعی نہری رقبہ ملکیت میں رکھنے پہ پابندی ہو۔ دیہات کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی کاشت کاری کی طرف مائل کیا جائے بجائے اس کے کہ وہ سرکاری نوکری ملنے کے انتظار میں بے روزگار بن کر بیٹھے رہیں۔ کسان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دیہات سے گزرنے والی بڑی رابطہ سڑکوں کے کناروں پہ بڑے شہروں کے کالجز اور یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائے جائیں۔ دیہات سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم دلانے یا اپنے بیمار ماں باپ کا علاج شہر کے بڑے ہسپتالوں جہاں بڑے ڈاکٹرز اور میڈیکل مشینری موجود ہوتی ہے میں کرانے کے لیے بھی شہر میں مستقل سکونت اختیار کر لیتی ہے۔

انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے زرعی اجناس خریدیں۔ انڈیا کا چاول اور گرم مصالحے دبئی اور دیگر ممالک کے راستے پاکستان پہنچتے ہیں جو درآمدی محصولات کی ادائیگی کی وجہ سے پاکستان پہنچ کر مزید مہنگے ہو جاتے ہیں۔ آپ واہگہ بارڈر سے براہ راست کیوں نہیں منگوا لیتے تاکہ مقامی آبادی کو سستے نرخوں پہ دستیاب ہوں۔

اگر آپ کی افسر شاہی نے باہر سے بڑے پیمانہ پہ گندم منگوا لی اور جب پاکستانی کسان کی گندم کی فصل اتری تو یہ کہہ کر خریدنے سے انکار کر دیا گیا کہ دوسرے ممالک سے منگوائی گئی گندم سے پاکستانی سرکاری گودام پہلے ہی بھرے ہوئے ہیں لہذا مقامی پاکستانی گندم اب نہیں خریدی جائے گی اور پھر مقامی کسان آہ و بکا کر رہا ہوتا ہے ”رُل گیا کسان“ ۔ انڈیا کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ کو پہنچ رہی ہے وہاں گندم اور آٹا کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ آپ اضافی پاکستانی گندم انڈیا کو ایکسپورٹ کر کے اپنے کسان کو معاشی تباہی سے بچا کیوں نہیں لیتے۔

اقوامِ متحدہ اور دوست سپر پاور ممالک کو بیچ میں ڈال کر انڈین ڈیمز سے چولستان اور تھر کے لیے نہریں حاصل کریں اور ان دو صحراؤں کا لاکھوں ایکڑ بنجر رقبہ آباد کریں بجائے اس کے کہ ”دریائے سندھ سے چولستان کے دس لاکھ ایکڑ رقبہ کی آبپاشی کے لیے نہریں نہیں نکالنے دیں گے“ کے سیاسی تنازعہ کو فروغ دے کر نفرتوں کو بڑھائیں۔

پاکستان اور انڈیا کا عام آدمی بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کی آئے روز بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہے۔ لاطینی امریکہ ہو، افریقہ ہو یا ایشیا ہو، ایک طبقہ وہ ہے جو گولف کھیلتا ہے۔ شام کو اس کے لیے میس میں کھانا لگایا جاتا ہے اور اس کے تمام یوٹیلٹی بلز عوام سے حاصل کیے گئے ٹیکس سے ادا کیے جاتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ہے جس کے لیے کئی کئی ایکڑ پہ پھیلے بنگلے بنائے جاتے ہیں۔ قیمتی گاڑیاں خرید کر دی جاتی ہیں۔ اربوں روپے کے فنڈز اس کے ایک دستخط کے نیچے ہوتے ہیں۔ اس کی پیشہ ورانہ تربیت ایک متکبر اور گردن میں سریا رکھنے والے انسان کی کی جاتی ہے تاکہ عام آدمی کو دبا کے رکھا جائے۔ اس طبقہ کو ملنے والی تمام سہولیات اور بجلی گیس کے بلز عوام سے جمع کیے گئے ٹیکسوں سے ادا ہوتے ہیں۔

تیسرا طبقہ ہے جو چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی چالیس چالیس سال تک لٹکائے رکھتا ہے اور اس کام کے عوض انھیں آٹھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور کروڑوں کی مراعات دی جاتی ہیں۔ اس طبقہ کے بجلی گیس اور فون کے بلز بھی عوام سے جمع کیے گئے محصولات سے ہی ادا ہوتے ہیں۔ چوتھا طبقہ وہ ہے جو ذاتی طور پہ اربوں روپے کی جائیدادوں بشمول ہزاروں لاکھوں ایکڑ زرعی رقبوں اور فیکٹریوں کا اونر ہوتا ہے، اس طبقہ کے لیے بھی ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہیں مقرر کرنے کے لیے اسمبلیوں میں قانون سازی ہوتی ہے۔ انڈیا اور پاکستان اپنے عوام کو ڈپریشن، مایوسی اور پریشانی سے نکالنے کے لیے بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کی قیمتوں کو بہت زیادہ کم کریں یہاں تک کہ ان کی ادائیگی عام آدمی پہ بوجھ نہ ہو۔

انڈیا اور پاکستان میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد بھی ڈپریشن کی مریض بن چکی ہے۔ یہاں بہاول پور میں خیبر پختونخوا صوبہ سے آنے والی خواتین بھی رہ رہی ہیں۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کے قبائلی علاقوں میں بہن اور بیٹی کا شناختی کارڈ اس لیے نہیں بنوانے دیا جاتا کہ کل کو جائیداد میں حصّہ لینے کا دعوٰی نہ کر دیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ گھر کے کسی بیٹے سے بہن بیٹی کو غیرت کے نام پہ قتل کروا دیا جاتا ہے اور پھر باپ مدعی بن کر بعد میں عدالت میں قاتل بیٹے کو معاف کر دیتا ہے۔

اس بلاگ کے ذریعے اکبر شیخ اکبر انڈیا، پاکستان اور دیگر ممالک کی حکومتوں کو تجویز دیتا ہے کہ ایک تو قانون بنا دیا جائے کہ ہر قتل کی مدعی حکومت خود ہو گی اور قتل کی پولیس یا عدالتی فائل اس وقت تک بند نہیں ہو گی جب تک قاتل کو سزا نہیں مل جاتی یعنی باپ یا خاندان کے سرپرست کو قتل معاف کر دینے کا اختیار ہی نہ ہو۔

دوسرا یہ کہ گھر کی بچیوں کے نادرا ب فارم اور شناختی کارڈ لازمی بنوانے کا قانون بنایا جائے جو اس قانون کی پیروی نہ کرے اُس کے لیے سخت سزا رکھی جائے۔ تیسرا باپ کا یہ اختیار ختم کر دیا جائے کہ وہ چاہے تو بیٹیوں کو جائیداد میں سے تھوڑا بہت حصّہ دے دے یا ساری کی ساری جائیداد صرف اپنے بیٹوں کے نام کر دے۔ قانون سازی کر کے فرد کا یہ اختیار ہی ختم کر دیا جائے۔ ہر شخص اپنی بیٹی کو بھی جائیداد میں سے لازمی حصّہ دینے کا پابند ہو جو ایسا نہ کرے اس کے لیے سزا مقرر ہو اور یہ حصّہ کم نہیں بلکہ اتنا ملے جتنا اس کا قانونی حق ہو۔ اس طرح کی قانون سازی اور اس کے عملاً نفاذ سے معاشرہ میں خواتین میں پائی جانے والی مایوسی، عدم تحفظ کے احساس اور ڈپریشن کو کم کیا جاسکتا ہے۔

انڈیا اور پاکستان میں بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی معاشرے کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ آج 8 دسمبر کو ہی سوشل میڈیا پہ کسی نے بہت ہی پیاری بات پوسٹ کی تھی جس کے الفاظ تھے ”غریب مانگے تو بھیک، لاکھوں پتی مذہبی رہنما مانگے تو چندہ اور نذر نیاز، کروڑ پتی سیاسی رہنما مانگے تو ڈونیشن اور ارب پتی بزنس مین مانگے تو سبسڈی یعنی پورا سسٹم ہی بھکاریوں پہ مشتمل ہے بس روپ اپنے اپنے اور مانگنے کا انداز اپنا اپنا ہے“ ۔

Facebook Comments HS