نظم مرشد کے خالق افکار علوی کا بیان حلفی یا معافی نامہ؟
جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔ جمہوریت کی یہ تعریف امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863 ء کو اپنی تاریخی گیٹس برگ تقریر میں دی تھی۔ یورپ اور امریکہ میں اسی معنی و مفہوم کے ساتھ آج جمہوریت وہاں کا کامیاب ترین سیاسی نظام ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان ایسے ممالک جہاں صدیوں سے بادشاہت اور جاگیرداری کا نظام رائج رہا ہے۔ یہاں پر کبھی جہموریت پنپ نہیں سکی۔ مملکت خداداد میں آمروں نے جمہوری لبادہ اوڑھنے کی کوششیں کی ہیں جبکہ نام نہاد جمہوری وزرائے اعظم نے جمہوری بھیس میں آمریت رائج رکھی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد سے جو یہاں پر جبر و ظلم کا بازار گرم ہوا ہے۔ اس کو تاریخ ہمیشہ تاریک دور ہی لکھے گی۔ سیاسی مخالفین کے خلاف تو کریک ڈاؤن پھر بھی سمجھ میں آتا ہے، مگر حیرت کی بات ہے کہ اب تو شاعر و ادیب بھی ان پابندیوں کی زد میں ہیں۔
اردو اور سرائیکی زبان کے نامور شاعر افکار علوی بھی ان دنوں ایسی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ پہلے ان کا ایک مبینہ اقرار نامہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں ان سے وطن کی محبت سے سرشار اشعار لکھنے کا عہد لیا گیا۔ بعد میں انہیں مشاعروں میں شرکت کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ یہ خبر میرے لیے افسوس ناک تو تھی مگر حیرت انگیز بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ طاقتور حلقے ابتدائے آفرینش سے سوچنے والے دماغوں سے خود کو غیر محفوظ سمجھتے آئے ہیں۔ جو سوچتا ہے، سوال کرتا ہے اور انصاف کی بات کرتا ہے۔ وہ طاقتور کی انا کو ٹھیس لگاتا ہے۔ جو طاقتور اور سفاک ذہن سے برداشت نہیں ہوتا۔ سقراط کا کیا قصور تھا، صرف یہ کہ وہ منطق اور عقل کی بات کرتے تھے۔ چونکہ آمر صفت لوگوں کا عقل ایسی چیزوں سے دور کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا، جو انہیں تکلیف دیتا ہے۔ اور وہ بدلے میں سوچنے والوں، آزادی، امن و امان، عدل و انصاف اور برابری کے خواب دیکھنے والوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہتے ہیں۔
معاہدہ ویسٹ فیلیا جس نے ریاستوں کی خودمختاری اور قومی سرحدوں کے اصول کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے شاعروں، ادیبوں اور سائنس دانوں کو زیادہ تر مخالفت کا سامنا مذہبی حلقوں سے رہتا تھا۔ جس میں دانتے، والٹیر، گیلیلیو، مائیکل سرویتس، عمر خیام وغیرہ کی مثالیں لی جا سکتی ہیں۔ جنھیں ان کے نظریات کی وجہ سے اذیتوں سے گزرنا پڑا۔ معاہدہ ویسٹ فیلیا میں چونکہ چرچ وغیرہ یعنی مذہب کو سیاست سے دور کر لیا گیا تو جو طاقت مذہبی پنڈتوں کے پاس تھی۔ وہ حکومتوں اور ریاستی اداروں کے پاس چلی گئی، اب کی بار آمروں اور سیاسی پنڈتوں نے متفکر ذہنوں اور اہل دانش پر اپنی طاقت کا استعمال شروع کیا۔
تاریخ میں کئی مشہور شاعروں، سائنسدانوں اور ادبی شخصیات کو سیاسی اشرافیہ کے ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں نیوٹن، آندرے سخاروف، ایلن ٹورنگ، کارل ساگان، پابلو نرودا، ایزرا پاؤنڈ، فیودر دوستوفسکی، حسرت موہانی، فیض احمد فیض، حبیب جالب وغیرہ کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جنھیں محض جبر و ستم کا سامنا مذہبی و سیاسی اشرافیہ کے متصادم خیالات رکھنے کی وجہ سے کرنا پڑا۔ یہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے۔ آج کے افکار علوی اور احمد فرہاد بھی وہی کچھ دیکھ رہے ہیں، جن حالات کا سامنا ان کے قبیل کے بڑوں کو کرنا پڑا تھا۔
افکار علوی نے کم وقت میں شاعری کے میدان میں اپنے رومانوی، احتجاجی اور انقلابی رنگوں سے ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ افکار دھیمے مزاج کے خوبصورت انسان اور شاعر ہیں۔ کم وقت میں ہی افکار نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں سے نام کمایا۔ وہ بہت تھوڑے عرصے میں اپنے پورے قد کے ساتھ شاعرانہ افق پر چھا گئے۔ نظم ”مرشد“ نے افکار کو اردو کی دنیا سے متعارف کروایا۔ یہ نظم آفاقی نوحہ ہے۔ ہم عروض کی اونچ نیچ سے نابلد ہیں۔ ہم الطاف حسین حالی کو مانتے ہیں جن کے نزدیک نفس شعر وزن کا محتاج نہیں۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، بہرحال اس نظم میں آپ کے میرے دکھ ہیں۔ اس میں رومانویت نہیں ہے، اس پر کسی بیوٹی سیلون کا رنگ نہیں چڑھا ہوا۔ سیدھی سادی باتیں ہیں۔ جو کان سے نہیں دل سے سننے والی ہیں۔ افکار علوی کو ادبی دنیا میں زندہ رکھنے کے لئے مرشد نظم ہی کافی ہے۔
چونکہ شاعر اپنے دور کا نمائندہ ہوتا ہے اور تاریخ گو ہوتا ہے۔ جو شاعری کے ذریعے اپنے وقت کے سماج، مذہب، سیاست اور ریاستی امور کو زیر بحث لاتا ہے۔ وہی کچھ افکار کے ہاں بھی ملتا ہے۔ چونکہ چور کی داڑھی میں تنکا تو ہمیشہ سے ہی چلا آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے جو اشرافیہ آج کے ملکی حالات کی ذمہ دار ہے، انہیں افکار کے افکار و خیالات میں بغاوت کی بو آتی ہے۔ حالانکہ بغاوت تو وہ طبقہ خود کر رہا ہے۔ اپنے ملک سے اپنی قوم سے، ورنہ تو اگر وہ اتنے محب وطن ہوتے تو آج ملک کے حالات ایسے نہ ہوتے۔ بھوک افلاس، بے روز گاری، لوٹ کھسوٹ، دہشت گردی اور عدم استحکام کی بجائے خوشحالی ہوتی۔
بہرحال ہم محض صفحہ قرطاس پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچنے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ناول نگار اقبال دیوان صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ طاقت سے رعایت صرف طاقت ہی لے سکتی ہے۔ ایک لکھنے اور سوچنے والے کے پاس تو محض خیالات کی طاقت ہوتی ہے۔ وہ بندوق تو نہیں اٹھا سکتا۔ طاقتور اشرافیہ روز اول سے کمزور پر طاقت استعمال کرتے آئی ہیں۔ یہی ہوتے رہنا ہے کہ شاید یہ انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ مگر اتنا ضرور ہوتا ہے، کہ طاقت کے نشے میں مست آمر کو تاریخ مٹا دیتی ہے، اس کی پہچان سفاک اور جابر کے طور پر رہتی ہے۔ مگر یہ دنیا سقراطوں کو نہیں بھولتی۔ آج بھی فیض کی شاعری کانوں میں گونجتی ہے۔ آج بھی لوگ گورکی کا ”ماں“ ناول پڑھتے ہیں۔ آج بھی انسان نیوٹن کے خیالات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج بھی فضاؤں میں ساحر کے گیتوں کی جلترنگ بج رہی ہے۔ مگر اسی شخصیات کو اذیتیں دینے والے، پابند سلاسل رکھنے والوں کو کوئی نہیں جانتا۔ افکار آج اپنی قیبل کا نمائندہ ہے۔ افکار آئینہ ہے جس میں عہد حاضر کے سفاک اپنی سفاکیت دیکھ سکتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں جو کبھی تو ان سے اقرار نامہ لیتے ہیں اور کبھی انہیں مشاعروں میں شرکت سے روکتے ہیں۔ وہ افکار کو ایک انمٹ اور انمول شاعر کے طور پر لوگوں کے قلوب و اذہان میں اتار رہے ہیں۔ افکار تم سدا جیو، تم نے اپنا کام کر دیا ہے۔ تمہارا مقدمہ ہر باضمیر شخص لڑتا رہے گا۔ خدا تمہیں آسودہ حال رکھے اور دُشمنوں کے شر سے بچائے۔



