زرد گلاب


اے حمید صاحب اسلام آباد آئے تو میں شام کو انہیں اپنے ایک دوست کے گھر پارٹی میں لے گیا۔ میری ان سے کٔی سالوں کے بعد ملاقات ہو رہی تھی اس لیے کہ جب سے میری ٹرانسفر پنڈی اسلام آباد کردی گیٔ تھی میرا لاہور آنا جانا بہت کم ہو گیا تھا۔ اس شام حمید صاحب اپنے کارڈرائے کے ہلکے براون سوٹ میں تھے، اور ان سے ایوننگ ان پیرس کی خوشبو ارہی تھی۔ پارٹی میرے ایک دوست کے گھر میں تھی۔ دروازے کے باہر سیڑھیوں پر دیے جل رہے تھے، اندر مدھم روشنیوں میں خوش لباس مہمان خوش گپیاں کر رہے تھے۔ بیک گراؤنڈ میں ہلکی سی جاز کی موسیقی چل رہی تھی۔ ایک طرف بار تھی جہاں ہر قسم کے ولایتی مشروبات رکھے تھے، میں نے حمید صاحب کو اپنے دوستوں سے ملایا اور انہیں ان کی پسند کا مشروب پیش کیا، کچھ دیر بعد رقص کی موسیقی شروع ہو گءی۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں اس رومانٹک ماحول میں رقص کرنے لگے، ان میں کیٔ غیرملکی جوڑے بھی شامل تھے۔ ، میں نے اپنی ایک جرمن خاتون دوست کو حمید صاحب سے ملوایا اور سے کہا تم حمید صاحب کے ساتھ رقص کرو۔ حمید صاحب بہت دیر تک شرماتے اور جھجکتے رہے لیکن پھر میرے اور خاتون کے اصرار پر اس کے ساتھ ڈانس فلور پر چلے گیے۔ میں انہیں رقص کرتے ہوئے دیکھتا رہا، وہ آنکھیں بند کیے موسیقی کی دھن پر ہلکے ہلکے جھوم رہے تھے جیسے کویٔ بچہ نیند میں خواب دیکھ رہا ہو۔ جب وہ واپس آءے تو میں نے کہا ’حمید صاحب یہ کیا؟ صرف ایک ڈانس؟ آپ تو آج ساری رات رقص کریں اور جی بھر کر پیءں پلاءیں، سرگوشی میں کہنے لگے، ‘بس سرمد یار میرے لیٔ اینی خوبصورتی کافی اے ’ (بس سرمد یار میرے لیے اتنی خوبصورتی کافی ہے)۔

مجھے یک دم ان سے اپنی پہلی ملاقات یاد آءی۔ میں جب دسویں جماعت میں پڑھتا تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے بڑے بھاءی جاوید کے گھر واہ کینٹ چلا جاتا تھا۔ واہ کینٹ ایک بہت خوبصورت اور صاف ستھرا شہر تھا، آبادی کم تھی، آسمان بغیر کسی الودگی کے نیلا دکھایٔ دیتا تھا اور رات کو ستارے پوری آب و تاب سے چمکتے تھے۔ ماحول بڑا رومانٹک تھا۔ بھاءی جان کے گھرمیں بہت سی کتابیں تھیں، منٹو، بیدی، کرشن چندر اور اے حمید کی لکھی ہوءیں، میں ان سے سب سے تقریباً نا آشنا تھا، اس لیے کہ ہمارے اپنے گھر میں ان میں سے کسی کی بھی کویٔ کتاب نہیں تھی۔ منٹو صاحب نے اپنی کتاب ’اوپر نیچے اور درمیان‘ بھاءی جان کو تحفے میں دی تھی۔ اس پر منٹو صاحب نے لکھا تھا، ’پیارے جاوید میں تو نہ اوپر ہوں نہ نیچے اور نہ درمیان تم جہاں کہیں بھی ہو خوش رہو‘۔ میں نے ان ادیبوں کو پڑھنا شروع کر دیا، لیکن میرے لیے یہ سب ذرا زیادہ ہی بالغ تھے سوائے اے حمید کے، میں ان کی کویٔ بھی کتاب پڑھتا تو مجھ پرایک عجیب سی کیفیت طاری ہونا شروع ہوجاتی، ایسی منظر نگاری، ایسا رومانس اور پھر میرے لڑکپن کا زمانہ، حمید صاحب کی تحریروں نے مجھ پر جادو سا کر دیا تھا۔ اسی زمانے میں جب میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مری گیا تو مجھے ساتھ والے بنگلے میں رہنے والی لڑکی سے عشق ہو گیا، یہ میرا اولین عشق تھا۔ میں نے اسے جو پہلا خط لکھا اس میں اے حمید کے رومانوی افسانوں کی بازگشت تھی۔

جب میں لاہور واپس آیا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میری حمید صاحب سے ملاقات ہو جائے گی۔ جالی صاحب ایک مصور تھے جو ادبی کتابوں اور رساءل کے ٹاءٹل بناتے تھے، انہوں نے اے حمید کی کچھ کتابوں کے بھی ٹاءٹل بنائے تھے۔ میری ان سے جانے کب اور کیسے دوستی ہو گیٔ تھی۔ میں جب بھی انارکلی سے گزرتا ان کے دفتر ضرور جاتا، ایک دن دیکھا کہ ان کے دفتر میں حمید صاحب بیٹھے ہیں۔ مجھے ان دنوں اپنے پسندیدہ شاعروں ادیبوں سے آٹو گراف لینے کا شوق تھا چنانچہ میں نے حمید صاحب سے بھی اس کی فرمایش کی۔ انہوں نے میری آٹوگراف پر لکھا۔ ’جھونپڑیوں میں رہ کر محلوں کے خواب دیکھنا بہتر ہے اس سے کہ آدمی محلوں میں رہے اور اس کے پاس خواب دیکھنے کو کچھ نہ ہو‘ ۔ حمید صاحب اسلام آباد کی پارٹی میں اس رات شاید مجھے یہی کہنا چاہتے تھے کہ اگر وہ ساری رات رقص کرتے رہے اور پیتے پلاتے رہے تو ان کے پاس خواب دیکھنے کو باقی کچھ نہیں بچے گا۔ منیر نیازی اور اے حمید میں بہت سی باتیں ایک ہی رنگ میں تھیِں، دونوں خوبرو، خوش لباس اور دونوں حسن و جمال کے عاشق اور دونوں کو خوشبو پسند، منیر صاحب شاعر تھے اور حمید صاحب نثر میں شاعری کرتے تھے۔ میں نے منیر صاحب کو بھی اکثریہ کہتے سنا ہے کہ بس اتنی خوبصورتی کافی ہے۔ میرے موسیقی کے ایک استاد تھے۔ میں اگر کبھی سم پر آ جاتا یا مجھ سے کویٔ سر صحیح لگ جاتا تو وہ گانا روک دیتے، اور کہتے ’بس آج اتنا ہی کافی ہے‘، بہت دیر تک خاموشی سے اس کا مزہ لیتے رہتے، شاید ان کے لیے میرا سم پر آنا اور صحیح سروں میں کوی استھأی کہہ لینا ہی کافی تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں سب کچھ ابھی کرلوں اور یہ لمحہ پھر ہاتھ نہ آیٔے ۔ لفظ ’کافی‘ میں ایک تشنگی ہے، یہی ایک ادھوری جگہ ہے جہاں ہمارے خواب جنم لیتے ہیں۔ انسان سے اگر اس کا تخیل چھین لیا جائے تو اس کے پاس خواب دیکھنے کو کچھ نہیں رہتا، اور یہ خواب ہی ہیں جو ہمیں زندہ رکھتے ہیں۔ ہم پر امکانات کا در وا کرتے ہیں اور ہمیں ایک ان دیکھی دنیا کا نظارہ کرواتے ہیں اور اسی لیے حمید صاحب کو محلوں سے زیادہ ان کے خواب عزیز تھے۔ انہوں نے دنیا کی بدصورتی میں زندگی بسر کرنے کے لیے ایک خوبصورت جواز پیدا کیا تھا، محبت، فطرت اور انسانیت دوستی کا خواب، وہ ’خوابوں کے صورت گر‘ تھے۔ سفاک حقیقت کے درمیان تاریکی میں جہاں کہیں انہیں کسی کرن کی جھلک دکھایٔ دیتی تو وہ اس سے ایک روشن صبح کے پر بنا لیتے۔ ان کے تحریروں میں قدیم شاعروں، دیوی دیوتاؤں رشیوں اور دشت نوردوں کے نوحے ان کی نغمہ گری اور ان کے خوابوں کی تاثیر ہم پر ایک سحر طاری کرتی ہیں۔

ان کی فینٹسی حقیقت سے کہیں زیاد خوبصورت ہوتی تھی۔

بہت سالوں بعد میں جب میں نے ٹی وی پر سکرپٹ پروڈیوسر کی ملازمت شروع کی تو تقریباً روز ہی میری حمید صاحب سے ملاقات رہتی، ان کے ساتھ ہمیشہ ان کا قریبی دوست نواز ہوتا جو پنجابی کا بڑا اعلی لکھاری تھا، ’شام رنگی کڑٰی‘ اس کی کہانیوں کا مجموعہ تھا۔ میرے کالج کا دوست اور ٹی وی پروڈیوسر نصیر ملکی بھی زیادہ وقت میرے ہی کمرے میں رہتا۔ اس کی بھی ان سے بہت گہری دوستی تھی۔ حمید صاحب ریڈیو اور ٹی وی کے لیے لکھتے تھے اس لیے ان کا ہفتے میں تین چار مرتبہ ریڈیو اور ٹی وی کا چکر لگتا رہتا۔ حمید صاحب آتے تو اکثر ان کے ہاتھ میں کویٔ پھُول ہوتا اور آنکھیں کسی غائب کے نظارے سے مست رہتی۔ گُم صُم اور رومانٹک۔ اُن کو چائے سے بہت محبت تھی۔ کہتے تھے، ’سرمد یار چاء وچ وی جان ہوندی اے‘۔ چائے آتی تو وہ کسی کو ہاتھ نہ لگانے دیتے۔ ان کے لیے چائے دانی ٹی کوزی میں ایک ڈھکی چھپی محبوبہ تھی۔ چائے دم پر آنے تک وہ بھی چُپ چاپ کوئی دم پڑھتے رہتے۔ پھر آہستہ سے ٹی کوزی اُتاری جاتی جیسے کویٔ اپنی محبوبہ کو بے حجاب کر رہا ہو۔ چائے حمید صاحب کو اور حمید صاحب چائے کو اپنی خوشبو سے سیڈوس کرتے یعنی رجھاتے رہتے۔ حمید صاحب کے ہاتھ نہایت لاڈ سے چائے دانی کو اپنی آغوش میں تھام کر اُسے پیالی میں عریاں کرتے، آہستہ بہت آہستہ۔ چائے بھی جھُک کر کہتی اور ذرا آہستہ!

جیسے وہ اپنی چائے ہلکی ہلکی چسکیاں لے کر پیتے ویسے ہی وہ اپنی کہانی بیان کرتے، ٹھہر ٹھہر کر، وہ کسی تجربے یا واقعے کو ہلکے شرابی کی طرح غٹاغٹ نہ پی جاتے بلکہ اہل ظرف کی طرح دیر تک شیشے میں تندیٔ صہبا کا ارغوانی دیدار کرتے اور پھر مزے لے لے کر پیتے۔

حمید صاحب کو نیچر اور موسموں سے بے حد عشق تھا۔ ایک دن میرے دفتر میں بیٹھے بیٹھے یک دم اُٹھ کھڑے ہوئے، مَیں نے کہا، کیا ہُوا حمید صاحب؟ ’۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے، ”سرمد یار چل باہر چلیے۔“

’باہر؟‘

’یار بدل آ گءے نیں،‘ (یار بادل آ گءے ہیں ) انہوں نے بچوں کی سی معصومیت سے ایسے کہا جیسے انہوں نے پہلی بار بادل دیکھے ہوں۔ میں بے اختیار ان کے ساتھ دفتر سے باہر نکل گیا اور ہم دیر تک مال پر ادھر ادھر بادلوں کا پیچھا کرتے رہے۔

جس دن نصیر ملکی اور مجھ کو تنخواہ کا یا نواز اور حمید صاحب کو کسی پروگرام کا چیک ملتا تو ہم سب کی حالت بدل جاتی، چیک فوراً کیش کیا جاتا اور ہمارے قدم خود بہ خود ایمبسڈر ہوٹل کی بار کا رخ کر لیتے۔ ہر قسم کے مشروبات، سینڈ وچ، پیسٹریاں اور کریم رول جن سے حمید صاحب کا رومانس تھا۔ فل عیاشی ہوتی اور پھر وہی تلاش رزق، یعنی کان پر رکھ کر قلم نکلے۔

حمید صاحب کے لیے رومانس کویٔ زیب داستان نہیں، ایک طرز زندگی تھا، کسی درویش صوفی کی طریقت تھی۔ وہ پیچیدہ اور فلسفیانہ موضوعات سے گریز کرتے اور انسانی تعلقات، دوستی اور محبت کے رشتوں کو مقدس جانتے، وہ لوگوں سے رسمی اور راءج سماجی رشتوں سے نہ ملتے بلکہ ان کے دلوں کو انسانی اور حسیاتی راستوں سے چھوتے۔

ٹی وی کے لیے جب کویٔ نیٔ سیریز شروع کی جاتی تو میں شہر کے ڈرامہ راءٹرز کو ایک رسمی خط لکھتا جن میں ان کو ٹی وی کے لیے لکھنے کی دعوت دیتا۔ جب مجھے ایک اردو ٹاءپسٹ مل گیا تو میں نے اس کو ایک آنے والی سیریز کے بارے خط لکھوایا۔ خط کی عبارت ایک ہی ہوتی۔ میں نے جہاں باقیوں کو یہ خط بھیجے تو روٹین میں حمید صاحب کو بھی ایک ٹاءپ شدہ خط بھیج دیا گیا۔ حمید صاحب کو جب وہ خط ملا تو انہوں نے مجھے فون کیا اور ایک لاڈ بھری خفگی کے ساتھ کہا ’سرمد یار مینوں اپنے ہتھ نال خط لخیا کر‘ ( مجھے اپنے ہاتھ سے خط لکھا کرو) ہاتھ سے لکھے ہوئے خط میں لکھنے والے کی خوشبو اور اس کے ہاتھوں کا لمس شامل ہوتا ہے، رسمی ٹاءپ شدہ خط میں، میں حمید صاحب کے لیے سرمد نہیں، کویٔ اجنبی تھا۔

"زرد گلاب” ان کا شہکار افسانہ سمجھا جاتا ہے، میں نے ایک دن پوچھا، اس افسانے کے پیچھے کیا واقعہ چھپا ہے، کہنے لگے یہ ہمارے نرگسی دنوں کا واقعہ ہے، ہم شام کو روز خوب نہا دھو کر عطر اور ہاتھ میں پھول لے کر آوارہ گردی کرتے تھے، ایک دن انارکلی سے گزرتے ہوئے مجھے ایک جھروکے میں چق کی اوٹ سے ایک لڑکی نظر آیٔ جو مجھے دیکھ رہی تھی، میں اس کی جھلک دیکھنے کے لیے انار کلی بازار کے چکر لگاتا رہتا، جب کبھی میں اس کی طرف دیکھتا تو مسکرا کر چق کے پیچھے چھپ جاتی، میری نہ تو کبھی اس سے کویٔ بات ہویٔ اور نہ ہی ملاقات لیکن وہ میرے اندر آج بھی ویسی رچی بسی ہے۔ وہ میری اولین محبت تھی۔ ’یہ لڑکی ان کے افسانے زرد گلاب کی راجدہ تھی، راجدہ جو ان کی اولین محبت تھی، معصوم اور بے داغ، بے غرض اور بے ارادہ، جیسے کہ آرٹ جو خود ایک بے غرض اور بے ارادہ آوارگی ہے

جو بھی اے حمید کو پڑھتا ہے وہ اپنی اولین محبت کو یاد کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پہلی محبت کی سرشاری ہمارے ساتھ ساری زندگی رہتی ہے یہ ایک ایسی محبت ہے جس میں جنسی کشش ایک روحانی اور اساطیری تجربے میں بدل جاتی ہے، اولین محبت میں بلوغت کی ہلکی سی چاشنی ہوتی ہے، جیسے نوخیز کونپل کی پروا میں انگڑاءی جیسے کسی پرسکون جھیل میں ایک ہلکی سی بل کھاتی موج۔ جیسے کچے پھلوں میں رس اترے، جیسے مونہہ اندھیرے آسمان کی مسیں صبح کی تمماہٹ سے بھیگ جاءیں، جیسے روز آفرینش پہلی بار حوا اور آدم نے ایک دوسرے کو دیکھا ہو۔

زرد گلاب میں کیٔ علامتیں اور رمزیں چھپی ہویٔ ہیں، یہ روحانی بالیدگی، باطنی مکاشفے کی بھی علامت ہے۔ ایک افلاطونی عشق، جہاں محبوب کی اولین جھلک ازلی اور ابدی نقش بن کر دل میں دھڑکتی رہتی ہے۔

اے حمید اپنی یادوں میں لکھتے ہیں

”امرتسر میرا وطن ہے، میں وہاں پیدا ہوا تھا۔ لیکن میں جب بھی بھاگ کر کسی دوسرے ملک کے، شہروں میں جہاں جہاں بھی آوارہ گردی کرتا رہا لاہور کی یاد میرے دل کے ساتھ لگی رہی، امرت سر کا صرف کمپنی باغ اور وہ لڑکی یاد آتی جس سے مجھے بچپن ہی سے پیار ہو گیا تھا۔ ’امرتسر اور لاہور ان کے دل کے ساتھ لگے رہتے ہیں، ‘ زرد گلاب ’ان دو محبوب شہروں کی کہانی ہے

آج صبح میری احمد مشتاق صاحب سے ٹیلی فون پر بات ہو رہی تھی، اے حمید کی بات چھڑی تو کہنے لگے اے حمید کی وفات سے آٹھ دس دن پہلے انہوں نے امریکا سے اے حمید کو فون کیا تھا۔ باتوں باتوں میں امرتسر کا ذکر شروع ہو گیا، میرے حافظے میں امرتسر ایک تصویر کی طرح نقش ہے، میں اے حمید کو ٹھنڈی کھوءی سے کمپنی باغ تک امرتسر کی گلیاں محلے دکھاتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اے حمید نے کہا، ’یار مشتاق لگدا اے توں امرتسروں بول رہیا ایں‘ (یارمشتاق، لگتا ہے تم امرتسر سے بول رہے ہو۔)

احمد مشتاق کا کہنا تھا امرتسر اور لاہور لوگ سائیکلوں پر آتے جاتے تھے اور اگر پارٹیشن نہ ہوتی تو یہ دونوں شہر ایک ہی شہر ہونے تھے۔

امرت سر کے کمپنی باغ کی لڑکی ’زرد گلاب‘ میں راجدہ کے کردار میں جنم لیتی ہے، اس کا شہر امرتسر سے لاہور میں بدل جاتا ہے اور اے حمید لاہور میں اپنی جوانی کے آغاز میں دوبارہ جنم لیتے ہیں۔

’اس وقت گھر کی ہر چیز دیاسلائی کی ڈبی سے لے کر راجدہ کے کھلے بالوں تک، مجھے اپنی محسوس ہو رہی تھی جیسے یہ گھر میرا ہو۔ اس گھر میں میں نے پہلی مرتبہ کھلے آسمان اور چمکیلی دھوپ کو دیکھا ہو اور اسی ایرانی قالین پر میں نے لڑھک لڑھک کر چلنا سیکھا ہو اور اسی گھر کے باہر نیم روشن ٹھنڈی گلیوں میں، چالاک بچوں کی منڈلیوں میں میں نے اپنا بچپن گزارا ہو۔ ‘ یہاں امرتسر اور لاہور ایک ہو جاتے ہیں

اس افسانے میں کہیں ریڈیو پر خبریں نشر ہو رہی ہیں اور کہیں قاءد اعظم کی تقریر کا ذکر ہے جہاں راجدہ کے چچا شطرنج لے کر تقریر سننے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ محبت کی بے خبری میں دھندلا جاتے ہیں پھر امرتسر سے لاہور اور لاہور سے لاشوں سے بھری گاڑیوں کا ذکر ہے، ان دھندلے دھندلے مناظر میں راجدہ سے بچھڑ جانے کا خوف، اور امرتسر اور لاہور کا دو اجنبی شہروں میں تقسیم ہونے کا خوف سرسراتا رہتا ہے۔

’ اب راجدہ کی باری آئی۔ ایک نرم اور نکھری ہوئی آواز ڈھولک کی تھاپ کے ساتھ اوپر اٹھی۔ شعلے کی طرح بے چین، مضطرب اور زخم خوردہ۔

دو پتر اناراں دے
ساڈا دکھ سن سن کے۔ روند ے پتھر پہاڑاں دے۔ ’

اور میرے ذہن میں ایک تصویر کھنچ گئی۔ جیسے کوہ بندھیا چل کے گھنے اور تاریک جنگلات میں موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور تیز رفتار پہاڑی نالے نشیب کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ تصویر کچھ غلط تھی۔ پھر ایک اور تصویر سامنے آئی۔ سادہ مگر سوگوار سی۔ جیسے شام کا گیت۔ سنسان پہاڑیوں پر رم جھم رم جھم۔ مدھم بارش میں غمگین موسیقی اور ادھر ادھر پتھروں کو سیاہ اور چکنی سلوں پر سے رک رک کر، ٹھہر ٹھہر کر پھسلتے ہوئے بارش کے موتی۔ پتھروں کے آنسو۔

روندے پتھر پہاڑاں رے۔
ڈھولک تھم گئی۔ شعلہ بجھ گیا
میں راجدہ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ راجدہ تمہیں وہ کون سا دکھ ہے جسے سن کر پہاڑ بھی رونے لگے؟

امرتسر، لاہور، دو ہم آغوش شہر جدا ہوتے ہوئے، لاشوں سے بھرے ٹرک، قاءد اعظم کی تقریر، شطرنج، ڈھولک کی تھاپ، بے چین شعلہ، بجھتا ہوا، کچھ ٹوٹتا ہوا کچھ بگڑتا ہوا، ہر شے ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہوءی اپنے آپ سے بچھڑتی ہوءی۔

یہ وہ پل ہے جب اے حمید اپنی اولین محبت کو زمان و مکان سے آزاد ایک ازلی اور ابدی محبت میں بدلنا چاہتے ہیں، وہ اس لمحے کو سدا بہار دیکھنا چاہتے ہیں۔ ، راجدہ اور پارٹیشن زمان و مکان کے کیلنڈر ٹاءم میں بدل جاتے ہیں اور اے حمید کی راجدہ ایک اساطیری محبت کا اولین نقش بن جاتی ہے، حمید صاحب کا فن بھی ہماری اولین محبت کی سرشاری ہے جو ’بوڑھی ہے نہ جوان، کنواری ہے نہ شادی شدہ۔ اسے وقت کا بوڑھا ہاتھ کبھی نہیں چھو سکتا۔ وہ اس کی دسترس سے باہر، لازوال اٹل اور غیر فانی ہے۔ وہ ہر لحظہ، ہر گھڑی، ہر پل میرے ساتھ ہے۔ وہ اس وقت بھی میرے دل پر اپنی محبت کے نازک پروں کا سایہ کیے ہوئے ہے جب کہ میں اس کی داستان قلم بند کر رہا ہوں۔ ‘

ستمبر کی ایک سہ پہر۔
میرے دفتر کا دروازہ کھلتا ہے
حمید صاحب اندر داخل ہوتے ہیں اور کھڑے کھڑے کہتے ہیں۔

’ اٹھ یار سرمد اج میں تینوں اک چیز دکھانی اے، چل اٹھ! ‘ (اٹھو یار سرمد، میں آج تمہیں ایک چیز دکھانی ہے)۔ میں ان کے ساتھ چل پڑتا ہوں، ایمپرس روڈ سے کچھ دور سڑک کے داءیں طرف ایک کچی گلی آتی ہے، ہم اس گلی میں داخل ہو رہے ہیں۔ تھوڑی دور جاکر حمید صاحب ایک جگہ کھڑے ہوگءے ہیں، وہ بڑی محویت سے ایک بوسیدہ پرانے مکان کی طرف دیکھ رہے ہیں، سوچتا ہوں حمید صاحب کے قدم خود بخود اس کے سامنے کیوں رک گءے ہیں۔ ’حمید صاحب؟‘ میں ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوں،

’یار سرمد اوہ ساہمنے تینوں باری نظر ارہی اے،‘ (یار سرمد وہ سامنے تمہیں کھڑکی نظر آ رہی ہے؟) وہ مجھے بغیر دیکھے کہتے ہیں جیسے اپنے اپ سے بات کر رہے ہوں۔ میں ایک چھوٹی سی پرانی کھڑکی دیکھتا ہوں جس پر بہت خوبصورت رنگین شیشے جڑے ہوئے ء ہیں۔ ’یار ایہہ باریاں پتہ نییں ہن کتھے چلی گیاں نیں۔ ‘ (یار یہ کھڑکیاں نہ جانے اب کہاں چلی گءی ہیں ) وہ یک دم بہت اداس سے ہو گءے ہیں۔ پتہ نہیں اس کھڑکی کے پار کون رہتا ہے۔ مجھے منیر نیازی کی نظم یاد آتی ہے، لگتا ہے حمید صاحب نے یہ کھڑکی منیر نیازی کو بھی دکھایٔ ہوگی اور منیر صاحب نے شاید اسی کھڑکی کو دیکھ کر اے حمید سے کہا ہو گا۔

اک اوجھل بے کلی رہنے دو
اک رنگیں ان بنی دنیا پر
اک کھڑکی ان کھلی رہنے دو

یہ اوجھل بے کلی اور رنگین ان بنی دنیا کا نظارہ ہے۔ حمید صاحب اس کھڑکی کو دیکھتے چلے جا رہے ہیں جیسے جاگتے میں کویٔ خواب دیکھ رہے ہوں، شاید اس کھڑکی کے پیچھے وہی لڑکی کھڑی ہے جو ان کو انارکلی کے جھروکے سے جھانکتی تھی، شاید وہ اپنی اولین محبت کو تلاش کر رہے ہوں۔ اولین محبت کی سرشاری، جیسے دنیا ابھی ابھی پیدا ہویٔ ہو، جیسے روز آفرینش حوا اور آدم نے پہلی بار ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہو۔

Facebook Comments HS