مریم نواز کا دورہ چین


ذوالفقار علی بھٹو نے پاک چین دوستی بارے میں تاریخی جملہ کہا تھا کہ ”پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے زیادہ میٹھی اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔“ جس میں نواز شریف نے ”پاک چین دوستی فولاد سے زیادہ مضبوط“ کر دیا جس کے جواب میں چینی وزیر اعظم نے کہا کہ ”اگر چین سے پیار کرتے ہو تو پاکستان سے بھی پیار کرو“ پاکستان 1947 ء میں قائد اعظم اور چین 1949 ء میں ماؤزے تنگ کی قیادت میں آزاد ہوا پاکستان نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا تھا۔

پاکستان نے چین امریکہ تعلقات قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پاکستان سے پی آئی اے کے ذریعے چین کا خفیہ دورہ کیا جس کے نتیجے میں پوری دنیا کو امریکہ کی جانب سے چین کو تسلیم کرنے کی چونکا دینے والی خبر ملی چین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے نمائندگی ملی پاکستان او چین دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔

ایوب خان ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے ادوار میں اس دوستی کو مزید فروغ حاصل ہوا ”پاک چین راہداری معاہدہ“ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ ہے۔ چین، متحدہ امارات اور سعودی عرب کی طرح پاکستان کا حقیقی معنوں میں دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جی۔ 20 ہو یا ایف اے ٹی ایف، سلامتی کونسل ہو یا کوئی سفارتی فورم۔ چین پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔

چین نے مشکل وقت میں پاکستان کو ”ڈپلومیٹک ائر کور“ دیا پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں چینیوں کی سیکیورٹی میں ناکامی، ون ونڈو آپریشن کے وعدوں کی عدم تکمیل اور 500 بلین ڈالر کے قرضوں کے بار بار ”رول اوور“ سے سردمہری پائی جاتی ہے۔ ہماری نالائقیوں کی وجہ سے باہمی اعتماد جو ٹھیس پہنچی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورہ چین سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں خاصی بہتری آئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ باہمی تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری میں خاصی کمی آئی ہے۔

مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ مریم نواز کا شمار ملک کی دوسری تیسری بڑی سیاسی قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک سال بھی کم عرصہ میں پنجاب کو تعمیر و ترقی کے میدان میں سبقت دلا دی ان کا تعلق شریف فیملی سے ہے جو پاک چین دوستی مضبوط کرنے کا داعی ہے۔ ان کے والد نواز شریف کے دور حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کا 46 بلین ڈالر کا معاہدہ ہوا جس میں سے 26 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ اڑھائی لاکھ لوگوں روزگار ملا ہے۔

8 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے۔ 600 کلومیٹر شاہراہوں کی تعمیر، 50 ہزار ماہرین کو تربیت دہ گئی اس وقت 28 ہزار پاکستانی چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے 8 ہزار پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ سی پیک اگلے 10 میں مکمل ہو جائے گا۔ مریم نواز نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی دعوت پر دورہ کیا ہے۔ 20 رکنی وفد میں جہاں بزنس مین شامل تھے۔ وہاں حکومت پنجاب کے تین اہم ستون ”مریم اورنگ زیب، پرویز رشید اور عظمی گیلانی“ شامل تھیں گویا پوری حکومت پنجاب ہفتہ عشرہ چین کے دورے پر رہی شہباز شریف نے 1999 ء میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے چین کا دورہ کیا ہے لیکن مریم نواز کا چین کا سرکاری دورہ اپنی نوعیت کا منفرد دورہ تھا جس میں انہوں نے دیوار چین اور تاریخی مقامات دیکھنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ اپنے طویل دورے کے دوران متعدد ایم او یوز پر دستخط کیے اور چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جب سے مریم نواز نے وزارت اعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالا ہے۔

انہوں نے پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہی وجہ ہے۔ انہیں ”آئرن لیڈی“ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں پنجاب کو ترقی دینے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ ان کا دورہ چین پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنانے کی طرف پیش رفت ہے۔ پرویز رشید جن کی پوری زندگی ”چینی سوشلزم“ کے گیت گاتے گزر گئی ہے۔ شاید انہیں مریم نواز کے ہمراہ دوسری بار چین کی ترقی کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

پہلی بار وہ 2019 میں مشاہد حسین سید کے ساتھ چین گئے تھے جو پاکستان پاک چین دوستی کی بلند آواز ہیں۔ مشاہد حسین سید پاک چین انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کی حیثیت سے پاک چین دوستی کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کی پاک چین کمیٹی کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ مریم نواز جیسی قد آور سیاسی شخصیت کے دورہ چین سے دونوں ملکوں تعلقات کو فروغ حاصل ہو گا اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہو گا اگرچہ مریم نواز کے دورہ کا سی پیک سے متعلق نہیں تھا لیکن اس دورے سے سی پیک پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر سی پیک کے حوالے سے امریکہ یا یورپ کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا تو پاکستان چین کے بہت قریب ہو جائے گا۔

مریم نواز نے اپنے دورہ کا آغاز روبوٹک زرعی آلات بنانے والی کمپنی اے آئی فورس ٹیک ہیڈ آفس کے دورہ سے کیا، چینی کمپنی پنجاب میں روبوٹک زرعی آلات مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی۔ ماہرین زراعت جلد پنجاب میں روبوٹک زرعی آلات کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لگا نے کے لئے دورہ کریں گے۔ مریم نواز نے بلیو ٹیک کلین ائر الائنس ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کیا اور ژونگ گی۔ یون کن بلیو ٹیک کلین ائر الائنس کے چیئرمین زی ہونگ شنگ سے ملاقات کی، محکمہ ماحولیات حکومت پنجاب اور بلیو ٹیک کلین ائر الائنس کے درمیان ایم او یو پر دستخط بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے ہائی جیا میڈیکل ٹیکنالوجی اور شی جی تان ہسپتال، بیجنگ میونسپل کمیشن آف ٹرانسپورٹ کا دورہ بھی کیا۔ انہیں ”ہائی جیا“ میڈیکل ٹیکنالوجی کے زیراہتمام کینسر کے علاج کے لئے درکار مشینری کے بارے میں بریفنگ دی گئی مریم نواز نے پاکستان کے پہلے پبلک سیکٹر نواز شریف ہسپتال کے پراجیکٹ کے بارے میں آگاہ کیا۔ ”ہائی جیا“ میڈیکل ٹیکنالوجی کے حکام نے نواز شریف کینسر ہسپتال کے لئے پروفیشنل معاونت پر اتفاق کیا، سرجری اور کیمو تھراپی کے بغیر کینسر کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

پنجاب اور سی جی تان ہسپتال کے درمیان تعاون اور شراکت داری کا معاہدہ کیا گیا اگلے روز وزیر اعلیٰ نے چینی وزرا سے ملاقاتیں کیں کمیونسٹ پارٹی نے وفد کے اعزاز میں خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا ملاقات میں ماحولیاتی بہتری، بائیو ڈائیورسٹی، انسداد سموگ، جنگلی حیات اور شجرکاری کے فروغ اور تحفظ کے لئے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور بیجنگ پنجاب کلین ائر ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا مریم نواز نے پاک چین تعلقات کے فروغ کے لئے جڑواں شہروں اور صوبوں کی تجویز پیش کر دی مریم نوازنے شنگھائی میں چینی حکام سے ملاقاتیں کیں اور مختلف اداروں کے دورے کیے، انہوں نے چینی کمپنیوں کو سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی انہوں نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے میوزیم کا دورہ کیا اور شنگھائی بیسڈ کمپنیوں کو پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جن کو سولر کمپنی کو پنجاب میں سولر پینل مینوفیکچرنگ لگانے کی پیشکش اور گرین انرجی پراجیکٹس میں شرکت کی دعوت دی، کمپنی پنجاب میں سولر پینل مینوفیکچرنگ پلانٹ اور چارجنگ سٹیشن لگائے گی۔

مریم نوازنے کہا کہ پاکستان اور چین نواز شریف اور شہباز شریف کے دورہ حکومت میں مزید قریب آئے ہیں اور اہل چین سے محبت میرے خون میں شامل ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور جیسے گیم چینجر پراجیکٹ کا آغاز نواز شریف اور شہباز شریف کے دورہ حکومت میں ہی ممکن ہوا۔ بعد ازاں مریم نواز نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے میوزیم کا دورہ کیا۔ انہیں سی پی سی میوزیم میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی بصری تاریخ دکھائی گئی اور چینی انقلاب کے روح رواں ماؤ زے تنگ کی جدوجہد کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ مریم نوازنے چینی قیادت کے مجسماتی اجلاس کو دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔

Facebook Comments HS