بے نظیر سلامت تیری توقیر


نوحہ خوانی کرتی پرسہ دیتی صف ماتم بچھاتی آشفتہ حال کر گئی 27 دسمبر کی وہ اداس بے آس شام شفق کی سرخی بھی لال تھی۔ شاہ خاور بھی ڈوبنے کو بے تاب تھا ہر آنکھ اشک بار اور دل بوجھل تھا جیالوں کے علاوہ بیسیوں کے حلق میں آنسؤں کا ذخیرہ جیسے پھنس گیا تھا۔ سر نوچتے سینہ کوبی و بین کرتے بی بی کی جدائی کے نوحے پڑھتے سبھی ماتم کناں تھے۔ 27 دسمبر 2007 ء کی ظالم شام نے جس بے نیازی سے مایوسی پھیلائی یہ ایک ایسا کرب ناک اور درد ناک وقت تھا کہ پارٹی کا ہر کارکن غم اور صدمہ کی وجہ سے دم بخود رہ گیا۔

27 دسمبر کو کمپنی باغ جو لیاقت باغ کے نام سے معروف ہے اپنے کناروں سے چھلک رہا تھا۔ یہی باغ سیاسی جلسوں کا مرکز رہا ہے۔ جہاں گاندھی، نہرو، ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان، محمد علی جناح بھی اسی باغ کے سامنے اسلامیہ اسکول تشریف لائے تھے زیڈ اے بھٹو نے بھی چار مرتبہ یہاں عوامی جلسوں سے خطاب کیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی پھانسی کے بعد یہاں جلسہ کیا تھا۔ کمپنی باغ لیاقت باغ بننے کے لیے 16 اکتوبر 1951 کو گردن کا لہو مانگتا ہے دس ہزار کے مجمع کے سامنے ٹھیک چار بجے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم صرف اتنا ہی کہہ پاتے ہیں ”برادرانِ ملت“ کہ کوئی برادر یوسف ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور ٹھیک پچاس منٹ بعد اعلان ہوا کہ لیاقت علی خان دم توڑ گئے ہیں۔

کمپنی باغ کی تشنگی ابھی باقی تھی اسے ایک اور لہو چاہیے تھا۔ اور لہو بھی کس کا وہ ہستی جو پاکستان کے سیاسی اُفق پر چمکتا دمکتا اور عالمی سطح پر جگمگاتا ستارہ جس نے اپنی خرد و دانش، فہم و فراست، تدبر و بصیرت سے پورے جہان کو اپنا گرویدہ بنا لیا، دنیائے عالم میں خدا داد صلاحیتوں کی بنا پر اپنے وطن کا وقار بلند کیا، اسلامی اور غیر اسلامی دنیا میں بہت بڑا نام دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جس کی مُلکی خدمات اور قُربانیاں اور ناقابل فراموش کارنامے پاکستانی قوم کے دلوں اور تاریخ کے صفحات میں رہتی دنیا تک سُنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔

زیڈ اے بھٹو کی لخت جگر قوم کی بیٹی کی زیست مصائب سے بھر پور مگر دلیر ایسی کہ صنف نازک کے ساتھ صنف آہن ہونے کی صورت۔ عوام کا درد رکھنے والی لیڈر وطن واپس پلٹتی ہیں تو دشمن کے مذموم اور ناپاک ارادوں سے محفوظ نہیں۔ ان کا استقبال کیسے ہوتا ہے خود کش حملوں سے؟ بمباری سے؟

بھٹو خاندان کے خون سے روشن پاکستانی سیاست کا کھلتا ہوا پھول مسل کر آخری چراغ بھی ظُلم کی آندھیوں سے بجھانے اور تیرتی ناؤ کو بے درد موجوں کی نذر کرنے والے حریفوں کے ناپاک ارادے اور عزائم مصمم ہوچکے تھے۔ ایک عورت سے اس قدر خوفزدہ کہ اس کی زندگی کے ہی درپے ہو گئے۔ اس کی سیاست پسند نہیں وہ غریب عوام کا درد رکھتی تھی تبھی اتنے درد سہے ان کی زندگی میں جو دکھ انہوں نے برداشت کیے کو شاید ہی کوئی اس دور کی عورت کر پائے۔

شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو نے زندگی میں بہت سے نشیب و فراز اور عروج و زوال دیکھے، کبھی بطور وزیر اعظم اور کبھی بطور رہنما حزب اختلاف۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر ہوتے ہوئے اپنے کڑیل جوان بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کا دفعتاً قتل دیکھنا پڑا۔ ابھی وہ اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی رسم قُل کے ختم سے اٹھی ہی نہیں تھیں کہ اُس شخص نے جس کو بے نظیر بھٹو نے منہ بولا بھائی بنایا تھا جو کہ حقیقت میں آستین کا سانپ تھا یعنی فاروق احمد لغاری جس کو خود محترمہ نے پاکستان کے سب سے بڑے عُہدے پر فائز کروا کر عزت و توقیر سے نوازا تھا صدر پاکستان بنایا اُسی احسان فراموش نے اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کر کے دُکھوں میں اضافہ کر دیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی پر نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی زندگی دُکھوں، غموں، پریشانیوں، مصائب و آلام سے ہی عبارت تھی گویا کہ زندگی کا ایک لمحہ بھی چین اور سکون سے نہیں گزارا تھا، پہلے ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے باپ کو قتل کے جھوٹے مقدمہ میں سپریم کورٹ سے اپنی مرضی کا فیصلہ دلوا کر تختۂ دار پر چڑھا دیا۔ پھر بھائی شاہنواز بھٹو کی موت کے ذریعے بے نظیر بھٹو کے صبر کو آزمایا گیا۔

پھر میر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر کے آزمائشوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیے گئے، پھر آخری حربہ کے طور پر بینظیر بھٹو کے شریک حیات آصف علی زرداری کو پابند سلاسل کر کے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان کی زندگی میں شفیق ماں نصرت بھٹو زندہ درگور ہو گئیں۔ یہاں پر بس نہیں ہوئی بے دردی کی انتہا کر دی گئی کہ دُشمن نے اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کے لئے 18 اکتوبر 2007 ء سانحہ کارساز میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کی سازش کی گئی اس روز جمہوریت کے دشمنوں نے ان کے قافلے پر ظالمانہ حملہ کیا جس میں دو سو پارٹی جیالے کارکنوں اور جمہوریت پسندوں نے شہادت پائی۔

بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ لہو سے رنگین ہے۔ پاکستان کی سالمیت، ترقی، بقا اور استحکام کے لیے جتنی قربانیاں بھٹو خاندان نے دی ہیں۔ شاید ہی دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال موجود ہو۔ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے دشمن عناصر نے 27 دسمبر 2007 ء کے دن بے نظیر بھٹو کو شہید کر کے اُن کے جسمانی وجود سے تو چھٹکارا تو حاصل کر لیا، مگر اُن کی مقبولیت، لوگوں کے دلوں پر حکمرانی، اور طلسماتی اور کرشماتی شخصیت کو نہ مٹا سکے۔ آصفہ بھٹو زرداری میں آج بھی جیالے بے نظیر کو تلاش کرتے ہیں اور دشمنوں کے دل پر تیر چلتے ہیں۔ اللہ پاک بے نظیر کی آل اولاد اور پسماندگان اور جیالوں کو صبر سے نوازے اور پارٹی قیادت کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Facebook Comments HS