خوشبو کی شہادت


شاعر انقلاب حبیب جالب نے کہا تھا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ و رو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
یہ اہل حشم یہ دارا و جم سب نقش بر آب ہیں اے ہم دم
مٹ جائیں گے سب پرورد شب اے اہل وفا رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

پھانسی کا پھندا جھولنے والے بہادر بھٹو کی دلیر اور نہتی بیٹی بے نظیر ان الفاظ کا جیتا جاگتا نمونہ تھی جس سے آمریت کے لبادے میں چھپا ہر کردار، یہاں تک کہ اس مملکت خداداد پر بزور طاقت قابض ہونے والے بندوق بردار تک ڈرتے تھے۔ وہ ڈرتے تھے اس کی سوچ سے۔ اس کے نظریہ سے، اس کے ذکر سے، اس کی فکر سے، اس کی وراثت سے، اس کے وارث سے، اس کے نام سے، اس کے کام سے، اس کی آن سے، اس کی شان سے،

اور آج بھی ڈرتے ہیں بی بی شہید سے۔ وہ بی بی جسے 27 دسمبر 2007 کی خونین شام راولپنڈی کی ایک سڑک پر سر عام قتل کر دیا گیا۔ وہ بے نظیر جو وفاق کی علامت اور چاروں صوبوں کی زنجیر تھی۔ اس کے قتل کی سازش رچنے والے سمجھے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا کافی نہیں تھا بلکہ اس کی وراثت کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیکن انہیں کیا معلوم کہ شہیدوں کی وراثت منتقل ضرور ہوتی ہے، ختم نہیں ہوتی۔ کسی کو یقین نہ ہو تو کربلا کی تاریخ اٹھا کر صرف ایک نظر دیکھ لے۔ لیکن آمریت پسند سوچ کا تاریخ سے کیا واسطہ، ورنہ فرعون، نمرود اور شداد کا تذکرہ ہی ان کی عبرت کے لئے کافی تھا۔

منیر نیازی نے کہا تھا۔
آدمی تنہا کھڑا ہے ظالموں کے سامنے!

ہر قبول شدہ اصول، مروجہ دستور اور واقعہ کو چیلنج کرنے کا خواب دیکھنے سے بھی آنکھیں انکاری ہوئیں۔ زبانیں گنگ، ماضی کی جراتیں خاموش، سچے لوگ مر کھپ گئے، شور و غوغا کے علمبردار پاکستان کے آسمانوں پہ چھا گئے، تاریخ کی روشن مثالوں کو انہوں نے اپنے نفس پرستانہ تقدس کے آئینوں میں استعمال کیا۔ عامتہ الناس عقیدے کی خودساختہ شدتوں میں پیدا ہو رہے اور مر رہے ہیں اور

آدمی تنہا کھڑا ہے ظالموں کے سامنے!
شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والی چہیتی بیٹی کو اس کے عظیم باپ نے لکھا تھا۔

” میری بیٹی جواہر لال نہرو کی بیٹی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ اندرا نے تیرہ سال کی عمر میں اس زمانے کی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا تھا لیکن تب تک وہ سیاست کی آگ میں سے ہو کر نہیں گزری تھی جبکہ تمہارے گرد یہ آگ اوائل ہی میں جلا دی گئی ہے۔ یہ آگ تباہ کن اور ہولناک ہے۔ مجھے اگر کسی طریقے سے سیاست کے میدان سے ہٹا دیا گیا تو مجھے یقین ہے کہ میرے مقابلے میں تم زیادہ بہتر طور پر یہ جنگ لڑ سکو گی۔ تمہاری تقاریر، میری تقاریر کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ ہوں گی۔ تمہاری جدوجہد میں زیادہ توانائی اور جدوجہد کا جوش ہو گا۔ تمہارے اقدامات زیادہ جرات مندانہ ہوں گے“ ۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بہادر بیٹی تھی اور ان لوگوں کی ہم نشین جنہوں نے حرماں کی زنجیریں توڑنے کا علم اٹھایا اور الم سے گزرتے، ایک وہبی کیفیت میں انہوں نے غربت کی تعریف متعین کرتے ہوئے کہا، غربت کا مطلب یہ ہے کہ عین اس وقت جب بچے پروان چڑھنے لگیں، آپ کے بچوں کو آپ سے چھین لیا جائے، آپ کی بیوی کو جلد بوڑھا ہوتے دیکھنے اور آپ کی ماں کی پیٹھ کو زندگی کے بوجھ تلے جھکتا اور پھر اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کا نام ہے، یہ بھوک، مایوسی، سوگ اور بے اثری کا نام ہے جس میں کسی قسم کا حسن نہیں۔

خون تو بے پناہ بہا اور بہہ رہا ہے مگر اس المیے کا رشتہ 80 کی دہائی سے پاکستان کی خاکی اور غیر خاکی عناصر، پوشیدہ اسلامسٹوں اور پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتوں کے نظریاتی سفر کی انتہا پسندیوں سے ہے جس نے وطن کی دھرتی کے ہر ذرے کے اوپر بندوق کی نوک چبھوئے رکھی۔ صرف وقت ہی ان سے پاکستان اور پاکستانیوں کی جان چھڑا سکتا ہے۔ انسانی جدوجہد ان لوگوں اور جماعتوں کی دہکائی ہوئی آگ بجھا نے میں چڑیا کی چونچ سے ٹپکے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔

یہ بات تو واضح طور پر سمجھ میں آ سکتی ہے کہ افسر شاہی کے شہزادوں، اعلیٰ فوجی افسروں، احساس کمتری کی شدت سے احساس برتری میں مبتلا ہو جانے والے بالشتیوں اور قانونی تحفظ اور استثنا کے ذریعے عزت و آبرو پانے والے عہدوں پر براجمان لوگوں کی ایک بڑی تعداد سیاستدانوں کو زمین پر رینگنے والی مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے کی تربیت کے دوران ان کو یہی باور کرایا جاتا ہے کہ وہ عام خاکی اور فانی انسانوں سے کہیں بہتر، برتر اور اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور لوگوں پر حکمرانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔

اسی مائنڈ سیٹ نے بی بی شہید کی پوری زندگی انہیں پاکستان کی خدمت نہ کرنے دی مگر شکست کھائی، بدنام ہوئے، ناکام ٹھہرے کہ بی بی شہید نے پاکستان کی خدمت کر کے دکھائی۔ پاکستان ہی نہیں، عالم اسلام کی ممتاز ترین شخصیت تسلیم کی گئیں، وہ بین الاقوامی استعارہ بنیں اور آجان کے مخالف کردار اسی کرہ ارض پر منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور ان کے لئے کوئی جائے اماں نہیں۔

پھانسی کی کوٹھڑی سے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک سندیسے کی چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ ”یہ بات کرتے ہیں۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ کمزوریوں سے پر ہے۔ میں بارہ مہینے سے قید تنہائی میں ہوں اور تین مہینے سے موت کی کوٹھڑی میں ہوں اور تمام سہولتوں سے محروم ہوں، میں نے اس خط کا کافی حصہ ناقابل برداشت گرمی میں اپنی رانوں پہ کاغذ رکھ کر لکھا ہے۔ میرے پاس حوالہ دینے کا کوئی مواد یا لائبریری نہیں ہے۔ میں نے نیلا آسمان بھی شاذونادر ہی دیکھا ہے۔

حوالہ جات ان چند کتابوں سے لئے گئے ہیں جن کو پڑھنے کی اجازت تھی اور ان اخبارات و رسائل سے لئے گئے ہیں جو تم یا تمہاری والدہ اس دم گھونٹنے والی کوٹھڑی میں مجھ سے ہفتہ میں ایک بار ملاقات کرنے کے وقت ساتھ لے کر آتی ہو، میں اپنی خامیوں کے لئے بہانے نہیں تراش رہا ہوں لیکن اس قسم کے جسمانی اور ذہنی حالات میں گرتی ہوئی یادداشت پر بھروسا کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ میں پچاس سال کا ہوں اور تمہاری عمر مجھ سے نصف ہے۔ جس وقت تم میری عمر کو پہنچو گی تمہیں عوام کے لئے اس سے دگنی کامیابی حاصل کرنی چاہیے جس قدر کہ میں نے ان کے لئے حاصل کی ہے، یہ غلام مرتضیٰ جو میرا بیٹا اور وارث بھی ہے، وہ میرے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی شاہنواز اور صنم میرے ساتھ ہیں۔ میرے ورثے کے حصے کے طور پر اس پیغام میں ان کو بھی شریک کیا جائے۔“

سب سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ ہم جمہوری سیاست کو بھی اقتدار کی دوسری لڑائیوں کی طرح ایک لڑائی سمجھتے ہیں اور ایسی جنگ قرار دیتے ہیں جس میں کچھ بھی کرنا جائز ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔ پاکستان میں جمہوری سیاست کی بحالی کے باوجود اگر غیر جمہوری عناصر غلبہ حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اور ہماری سیاسی جماعتوں نے جمہوری سیاست کے تقاضوں کا احترام نہیں کیا جس کی وجہ سے غیر جمہوری عناصر کو آگے بڑھنے کی سہولت نصیب ہوئی اور انہوں نے اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

غیر جمہوری عناصر آپس میں متحد اور متفق ہیں جبکہ جمہوریت پسند عناصر اختلافات اور آویزشوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے اوپر کرپشن اور بددیانتی کی افواہوں کے الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے جمہوری سیاست کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور اپنے دشمنوں کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ان کا کردار خود کش حملہ آوروں کے کردار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

بے نظیر پاکستان کے محکوم عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے کہاں کہاں نہ گئی، کیا کیا نہ کیا۔ جمہوریت کا سندیسہ لے کر میاں نواز شریف کے پاس گئی، صرف اور صرف پاکستان کے لئے، پاکستانی عوام کے لئے، نواز شریف سے کہا آؤ! میں بھولتی ہوں، میں برداشت کرتی ہوں، میں اپنے زخم سینے لگی ہوں، ساتھ چلو وطن کی دھرتی ہمیں بلا رہی ہے۔ جس نے ضیا کی موت پر کہا تھا۔ میں اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔ جو ملک کے آئین اور آئینی سفر سے کھلواڑ کا اندازہ کرتے ہوئے اس وقت کے سپریم کورٹ کو مخاطب کر کے کہتی۔

مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے می لارڈ! اور پھر اسی فیصلے پر تختہ دار کو سرفراز کر دیتی۔

پاکستان کی ساری تاریخ میں نیکی کے آسیبوں اور سفید پوش طاقتوروں کی مقدس نفس پرستیوں کے ملبے تلے انسانیت روندی گئی، رسوا ہوئی، اس کی تدفین کر دی گئی، معلوم نہیں وہ لوگ کون ہیں جو ان قرضوں کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں جو واجب الادا بھی نہیں ہیں۔ یہاں پاکستان میں تو صرف ایک قومی ذریت نے قرضے چکائے، اس کا نام ہے بھٹو خاندان، بی بی کی یاد۔

کچھ لوگوں کے لئے جو چڑھائی چڑھنے اور اترائی اترنے کے قابل نہیں ہوتے راہیں ہموار کرنی پڑتی ہیں، جیسے وطن عزیز میں چار مرتبہ مارشل لاؤں کی راہیں ہموار کی گئیں اور پھر ان سے نجات پانے کے لئے بھی چار مرتبہ سول حکومتوں کی راہیں ہموار کی گئیں جیسے پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے اور اسلامی جمہوری اتحاد کے لئے آئی ایس آئی نے راہیں ہموار کی تھیں جیسے پاکستان کے کالے کوٹوں کی تحریک نے عدلیہ کی آزادی کی راہیں ہموار کی تھیں۔ اصل جھگڑا ہی یہ ہے کہ پاکستان کی دھرتی پہ اس کے باشندوں کی طے کردہ حکمرانی کا حق کس نے دینا ہے؟ پاکستان کی سرزمین پر جنہیں یہ حق ہے، ان کی مسلسل کردار کشی کا باب کیوں بند نہیں ہوتا۔

عباس اطہر مرحوم نے ذوالفقار علی بھٹو کی یاد میں کہا تھا۔
سارے ملک، گہنگاروں کے میرے ہیں
ساری قومیں، مجبوروں کی میری ہیں
جتنے نام ہیں، گمنامی کے میرے ہیں
میں بے بس ہوں
سارے رسے
اس کے ہاتھ میں پکڑے ہیں
جس نے صبح کا تین دفعہ انکار کیا
اور ساری گردنیں میری ہیں
تاریکی کے تخت پہ جس نے
رسہ گلے میں باندھ کے بھی
اقرار کیا ہے
میرا کوئی نام نہیں ہے
میں نے پھانسی کے تختے پر جنم لیا ہے
رات نے میری گواہی دی ہے
صبح نے میری صفائی دی ہے!

تاریخ کا جبر تو یہ بھی ہے کہ آج سترہ سال گزرنے کے بعد بھٹو شہید کو پھانسی چڑھانے والی ظالم و جابر قوتیں اپنے سیاہ کرتوتوں کا برملا اعتراف کر کے شرمندہ ہیں بلکہ اس بے نظیر کو شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز کرنے پر مجبور ہیں جس کی کردار کشی کے لئے انہوں نے اپنی زندگیاں تج دیں۔ کچھ تو اپنے بھیانک انجام کو پہنچ چکے اور کچھ کو تاریخ کی گرد نے ایسا سیاہ کر دیا کہ ان کے چہرے تک پہچاننے سے زمانہ قاصر ہے۔ یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے۔ بے شک یزید تھا، حسین ہے۔

Facebook Comments HS