”سرخ رنگ“ کا تجزیاتی مطالعہ
عَہد حاضر کے نوجوان لکھاریوں میں ایک اہم نام کرن احمد کا ہے جس سے میرا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا۔ آپ ایک عمدہ افسانہ نگار، کالم نویس، مبصر اور شاعرہ ہیں۔ آپ کی اُردو ادب سے الفت، محبت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ”سرخ رنگ“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اکیس افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر قدرتی رنگ اور معاشرتی حقیقتوں کو سمائے ہوئے ہے۔ کرن احمد نے اپنے افسانوں کے موضوعات چلتے پھرتے معاشرے سے اُٹھائے ہیں اور اُنہیں موضوعات کے ذریعے معاشرتی منافقت اور دوستی کے لباس میں چھپے بھیڑیوں کو عیاں کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کرن کے افسانے مختصر مگر سبق آموز ہیں۔
افسانہ ”سرخ رنگ“ کی کہانی ایک نجمہ نامی عورت کے گرد گھومتی ہے جو محبت کا بھرم رکھنے کے لیے قبرستان میں اپنے محبوب کی قبر پر سرخ پھول چڑھانے جاتی ہے۔ اس افسانے میں زندگی کے اُن حقائق سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کی گئی ہے جنہیں انسان دوران حیات فراموش کر دیتا ہے، تلخ حقیقت ہے کہ خاک سے بنے پتلے کو جب کوئی چیز میسر ہوتی ہے تو وہ اُس کی قدر نہیں کرتا اور جب کھو بیٹھتا ہے تو پھر تمام مان ارمان اور ہمدردیاں یاد آ جاتی ہے، اِسی پہلو کی عکاسی کرتی نجمہ اس کہانی میں منظر عام پر آتی ہے اور دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہے جیسے ماضی میں کوئی بڑا پاپ کر بیٹھی ہو۔ کہانی سے اقتباس دیکھیے :
” مجھے پتا ہے جب میں تھک ہار کر نڈھال ہو جاؤں گی تو زندگی پھر سے مجھے وہ پھول عطا کرے گی۔ وہ پھول جو کسی تازہ قبر پر یا پھر کسی پرانی بوسیدہ قبر پر کئی سالوں بعد کسی پیارے کی یاد میں ڈالے جاتے ہیں تاکہ وہ اتنے سالوں کی غفلت پر گلہ نہ کر سکے۔ ہاں وہی پھول، سرخ پھول۔ دیکھتے ہی دیکھتے قبرستان میں مزید ایک مٹی کی ڈھیری نے اپنی جگہ بنا لی تھی۔“
” رخصت“ افسانے کا تانا بانا صلہ اور سالار کی محبت سے بُنا گیا ہے، مصنفہ نے اس جوڑے کی محبت بھری کہانی کو بیان کر کے موجودہ معاشرے کے اُن تمام مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جو حالات حاضرہ میں ہر دوسرے محبت کے پنچھی کا مسئلہ ہے یعنی تیسرا شخص۔ صلہ اور سالار کی لوہے سے مضبوط محبت میں فیض نامی تیسرے شخص کے حائل ہونے سے محبت میں بدگمانی کو سمانے کا موقع ملتا ہے اور جہاں بدگمانیاں پیدا ہو جائے وہاں تعلق تادیر قائم نہیں رہتے، بس اُن کی داستانِ محبت میں ایک بدگمانی جنم لیتی ہے جو سرے عام محبت پہ وار کر کے برسوں کے تعلق کو پارہ پارہ کر دیتی ہے۔
اس کہانی میں ثبات نامی کردار معاشرتی منافقت کو ظاہر کرتا دکھایا گیا ہے، ایسی منافقت جو یا تو حسد کے باعث پیدا ہوتی ہے کہ ثبات سے اپنی دوست کی خوشی ہضم نہیں ہوئی یا پھر وہ دوستی کا سہارا لے کر کوئی پُرانا بدلہ چُکانا چاہتی ہے کیوں کہ ان کی خوشگوار محبت میں ناگواری کی وجہ اُس کی اپنی بہترین دوست ہی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
” وہ تو میری دوست ہے وہ کیوں میرے ساتھ بھلا ایسا کرے گی وہ جانتی ہے کہ سالار کی اہمیت میری زندگی میں کیا ہے؟ وہ کیوں مجھے دکھ دے گی؟ دکھ بھی ایسا کہ کاٹے خون نہ نکلے۔ اس کا دل پکار رہا تھا کہ صلہ تسلیم کر لو تمہاری سب سے اچھی دوست ایسا کر چکی ہے“
” بد بخت“ افسانے کا مرکزی کردار احمد ہے جو محلے میں ایمانداری، خوش اخلاقی اور شرافت کے القاب سے مشہور ہے، جن کی عکاسی افسانے میں مختلف جگہوں پر واضح دکھائی دیتی ہے۔ توصیف نامی شخص ایک بد چلن کردار کے طور پر سامنے آتا ہے، جب وہ فلک جیسی معصوم لڑکی سے بدتمیزی کرتا ہے تو محلے کے تمام لوگ صرف تماشائی بنے غُور رہے ہوتے ہیں، سوائے احمد کے کسی میں ہمت نہیں پڑتی کہ لڑکی کی عزت کو تحفظ فراہم کر سکے، احمد جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے فلک کو بچانے کے بعد خود توصیف کے ہاتھوں گھائل ہو جاتا ہے جس کا خمیازہ توصیف کو جیل جا کر ادا کرنا پڑتا ہے۔
کرن احمد نے قارئین کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے معاشرتی حقیقت نگاری سے خوب کام لیا ہے۔ ”بد بخت میں دیکھا جائے تو فلک مجبوری کے باعث گھر سے باہر نکلتی ہے تو توصیف نامی درندہ اُس کو دبوچنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کو کلائی سے جکڑ لیتا ہے بد معاش طبیعت ہونے کے باعث کوئی اس کے قریب تک نہیں پھٹکتا تو آخر احمد ہمت کرتا ہے اُسے بچاتا ہے تو دوسرے دن معاشرے میں اُسی کی بدکاری کے چرچے ہوتے ہیں، لوگ باتیں بناتے ہیں کہ اُن دونوں کا آپس میں کوئی چکر تھا، پھر اس طرح فلک اور اُس کے اہل و عیال پر زندگی کو تنگ کرنے کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، بالکل اُسی طرح جس طرح ناول امراؤ جان ادا میں امیرن کی زندگی کو نرک بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی انسان سے غلطی سرزد ہو بھی جائے تو اُسے عزت سے جینے کا دوسرا موقع ہمارے معاشرے میں دستیاب نہیں۔ پھر تہمت، بہتان اور طعنے سب یکجا ہو کر اُسے بدبخت بنا دیتے ہیں۔
” راز الفت“ حقیقت پر مبنی ایک عمدہ کہانی ہے۔ جس کا مرکزی کردار ایک سیمابیہ نامی لڑکی ہے، غریب گھر سے تعلق رکھتی ہے باپ فیکٹری میں دن بھر کام کر کے اُس کے تعلیمی اخراجات کو اُٹھاتا ہے اور اس کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتا ہے۔ سیمابیہ جب کالج میں ایڈمیشن لیتی ہے تو وہاں اس کا واسطہ سیٹھ حیدر سے پڑتا ہے ایک شریف، ایماندار، خوب رو اور خوب پیسے والا بندہ ہے۔ جیسے تیسے دونوں میں محبت کی کہانی شروع ہو کر شادی تک جا پہنچتی ہے، سیمابیہ محبت میں اتنی اندھی جاتی ہے کہ باپ کے مان ارمان پس پشت ڈال کر اپنی خواہش سے شادی کروا لیتی ہے جس کا کڑوا گھونٹ والدین کو بھی چکھنا پڑتا ہے۔
ہم سفری کے پھیرے لینے کے بعد سیٹھ کے در دولت پر اتنا آگے نکل جاتی ہے کہ اپنی اولاد، شوہر اور گھر تک کو بھول جاتی ہے۔ لیٹ نائٹ، پارٹیز اور کلب میں آنا جانا اس کا معمول بن جاتا ہے، شرم و حیا کا تعلق تو جیسے شادی کے پھیروں سمیت کٹ گیا ہو۔ سیٹھ کے کہیں بار سمجھانے کے باوجود وہ باز نہیں آتی تو آخر باپ کا گھر مقدر بنتا ہے۔
سیمابیہ جیسے کردار آج ہمیں موجودہ معاشرے میں نظر آتے ہیں جن کو کچھ مل جائے تو وہ اپنی اوقات سے بڑے فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا تھی؟ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی کا بھرم، مان اور ارمان ہیں؟ اور پھر سیمابیہ کی طرح منہ کی کھانی پڑتی ہے، پھر طلاقیں ہوتی ہیں گھر بگڑتے اور اُجڑتے ہیں، گھر عورت کی سلطنت ہوتا ہے اب اس پہ ہے وہ اپنی عادات و اطوار سے خوبصورت بناتی ہے یا ویرانی کے رستے پر چل نکلتی ہے۔
” شناسائی“ طبقاتی تقسیم کی عکاسی کرتا ایک بہترین افسانہ ہے، کرن احمد نے جبل جیسے کردار کو پیش کر کے یہ عیاں کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر لوگ کہاں نچلے طبقے کے لوگوں کو قبول کرتے ہیں، جبل کے والدین اُس کی محبت کو قبول نہ کر کے اُس کی جان کے دشمن بنتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو؛
جبل کے قاتل اس کے اپنے پیارے تھے خوشبو، وہ پیارے جن کی انا کو بچاتے بچاتے وہ خود مٹی ہو گیا، اُس کے باپ کا اونچا شملہ، بھائی کی اکڑ اور اُس کی ماں کی ضد ان سب نے مارا ہے اُسے، ان محلوں میں رہنے والوں کو ہم جھگی واسیوں سے دل نہیں لگانا چاہیے خوشبو ورنہ وہ زندگی ہار دیتے ہیں۔ ”
”دردِ دل“ معاشرتی منافقت کا عکس دکھاتا ایک خوبصورت آئینہ ہے جس میں اس پہلو کو بے نقاب کرنے کی کرن کامیاب کوشش کرتی ہے کہ اپنے ہی۔ وہ اپنے جو دل کے بہت قریب ہوتے ہیں، وہی دل کو چھلنی چھلنی کر دیتے ہیں، اور پھر قہقہوں سے نمک چھڑکنے کا کام بھی احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔ اِس افسانے میں ضمیر کا کردار معاشرتی منافقت کا عکاس ہے جو اپنے دوست علی سے حسد کرتے ہوئے اس کی زیست کو نرک بنا دیتا ہے اور علی کی نظروں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کم ظرف ٹھہرتا ہے۔
افسانہ ”آخری کال“ میں پدر سری معاشرے اور انسانی نفسیات کا تذکرہ ہے۔ ایک ایسے معاشرے کو دکھایا گیا ہے جہاں عورت ذات کے لیے تعلیم حاصل کرنا اپنی زیست میں مختلف رکاوٹیں پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ اقتباس دیکھے ؛
” اس تنگ دستی اور حبس زدہ ماحول میں رہ کر ہزار مخالفتوں کے باوجود بھی وہ تعلیم حاصل کر رہی تھی اُسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی کوئی چھوٹی سی بھول اس کے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بن جائے اس لیے وہ بہت محتاط رہتی تھی“
نیلم ایک نازک مزاج لڑکی ہے جو اُس پدر سری معاشرے میں ڈرتے مرتے تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ اچانک اس کے لیے ایک مشکل آن کھڑی ہوتی ہے، کوئی اُسے انجان نمبر سے پریشان کرنا شروع کر دیتا ہے شروع شروع میں کالز اور میسج پریشانی کا باعث بنتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت کا رنگ پکڑ لیتے ہیں، انسانی نفسیات ہی کچھ ایسی ہیں کہ کچھ عرصہ کسی سے ربط رکھا جائے تو اس سے عقیدت اور محبت ہو جاتی ہے یہی مسئلہ معصوم نیلم کے ساتھ رونما ہوا۔ اقتباس ملاحظہ ہو؛
” میں سب جانتا ہوں تمہارے بارے میں اس لئے تمہیں ڈرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہیں کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا اس لئے چپ چاپ بات کر لیا کرو یہ کہتے ہوئے کال بند ہو گئی۔ دن گزرتے گئے مختصر گفتگو نے طوالت اختیار کر لی۔ جب کبھی وہ پریشان ہوتی یا اُسے کسی مدد کی ضرورت ہوتی تو ہمیشہ اس کا موبائل جگمگا اُٹھتا یوں اُس کی پریشانی منٹوں میں حل ہو جاتی“
اس افسانے کی کہانی سے یہ راز عیاں ہوتا ہے کہ جہاں پدر سری معاشرے کی پابندیاں عورتوں کے لیے کچھ نقصان دہ تھیں تو وہاں کافی حد تک مفید بھی تھیں۔
” وحشت“ موجودہ معاشرے کی عکاسی کرتا ایک شاہکار افسانہ ہے جس کا لفظ لفظ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ماہم نامی عورت ہے۔ جس کو راہ چلتے ایک شخص ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے جس کے باعث ماہم کا کردار داغ دار ہو جاتا ہے، اس واقعے کے بعد ماہم کے اپنوں میں اپنائیت ختم ہو جاتی ہے، بجائے اِس کے اُس اوباش شخص کو سزا دی جائے اُلٹا ماہم پر زندگی کے دروازے تنگ کیے جاتے ہیں تو وہ اپنے اُوپر ہونے والے ظلم کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیتی ہے کیوں کہ خدا بہتر انصاف کرنے والا ہے۔
آج حالات حاضرہ میں ماہم جیسے ہزاروں معصوم کردار دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن کو وحشت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہوس پوری ہونے کے بعد اُن کو درگور کر دیا جاتا ہے یا اُن کے کردار پر بد چلنی کا الزام لگا کر خودکشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کرن احمد نے بڑی خوش اسلوبی سے معاشرے کی بند آنکھوں سے پٹی اُترنے کی کوشش کی ہے تاکہ کسی اور ماہم جیسی معصومہ کی زندگی برباد نہ ہو۔
” بچھڑ جانے والے“ افسانے میں جدائی کی گہرائی اور گیرائی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ ”سیاہ رنگ، جاڑے کا موسم، ادھورے سپنے، لمبی دعائیں، خیال، نصیبا اور محبت کے رنگ“ جیسے افسانوں میں محبت کے مختلف درجات اور اونچ نیچ کو دکھایا گیا ہے۔ مصنفہ نے محبت کی اونچ نیچ کو اپنے افسانوں میں بیان کر کے نسل نو، خاص کر صنفِ نازک کے لیے پیغام لکھا ہے کہ وہ معاشرتی حیوان کے پھندے میں آ کر اپنی زیست کو برباد نہ کریں، خود جذبات میں آ کر اپنے آپ کو زندہ لاش نہ بنائیں۔
اس مجموعے کے آخری افسانے ”وجود کی قید“ میں ایک ایسے شخص کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے جو جنس کے اعتبار سے مخنث ہے۔ خواجہ سرا ہونے کے باعث گھر والے جان کے دشمن اور معاشرہ تماشائی بن جاتا ہے، اُس سے عزت سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا وہ اپنی مرضی سے تیسری جنس میں پیدا ہوا؟ مصنفہ نے نیاز نامی کردار کے ذریعے جو اب نازو بن چکی ہے، یہ بیان کرنے کی سعی کی ہے کہ معاشرہ درحقیقت نیاز کا نہیں بلکہ اُس کو بنانے والے خدا کا مذاق اُڑتا ہے۔
اسلوب کی بات کی جائے تو جامع اور اختصار پر مبنی کرن احمد کے افسانوں میں ربط اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ مصنفہ نے زبان کو مقفع و مسجع بنانے کی بجائے سادگی اور سلاست سے کام لیا گیا ہے۔ افسانوں کے پلاٹ مربوط اور مختصر ہیں۔ منظر نگاری پر مزید کام کر کے کہانیوں میں چاشنی پیدا کی جا سکتی ہے۔ المختصر کرن احمد ایک اچھی کہانی کار ہیں اور اس کے افسانے یقیناً معاشرے میں اصلاح کا کام کریں گے۔


