ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بدھ 27 دسمبر 2024 دن ڈھائی بجے صحافیوں کے ایک پرہجوم اجتماع سے دھواں دھار خطاب کیا اور بعد ازاں صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب بھی دیے۔
بطور پاکستانی شہری ہر کسی کو اظہار رائے کی آئینی آزادی حاصل ہے اور وہ اس پریس کانفرنس کے متعلق اظہار خیال کر سکتا ہے اور اس ساری پریس کانفرنس یا اس کے کسی بھی نکتے سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایک بہت خوب اور قابل فہم مقولہ ہے کہ اگر تمام لوگ کسی ایک نکتہ یا ایک مسئلہ پر متفق ہو گئے ہیں تو اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کسی نے بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔
پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ تینوں مسلح افواج پاکستان کے متعلق خبریں اور اطلاعات عوام کو فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور باقی دنیا کے کئی ممالک کی افواج میں یہ شعبہ نہیں ہے۔
فوجی ترجمان ہر پریس کانفرنس میں اس امر کا بر ملا اعادہ کرتے ہیں کہ قومی فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا اور تعلق نہیں ہے لیکن ان کی ہر پریس کا زیادہ تر مواد سیاسی ہی ہوتا ہے۔ پاک فوج کے 16 ویں سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی سبکدوشی سے دو تین ماہ قبل 2022 میں یوم دفاع پاکستان پر تقریر کرتے ہوئے پچھلے ستر برس میں فوج کی ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کا اعتراف کیا تھا اور اسی مداخلت کو فوج پر تنقید کی وجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ فوج نے اب اپنے آپ کو غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن اس وقت بھی ان کی تقریر کا زیادہ تر مواد سیاسی تھا۔
9 اپریل 2022 کو عمران خاں کی حکومت کو فوجی مداخلت کے ذریعے عدم اعتماد کروا کر ختم کر دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سن کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی پاکستان مسلم لیگ نون کا ترجمان اپنا بیانہ بیان کر رہا ہے۔ فوجی ترجمان کی ساری پریس کانفرنس سیاسی معاملات سے بھر پور تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ موجودہ ملکی حالات، بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کی ساری وجہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر عمران خاں اور اور پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو انتشاری جماعت اور ٹولا کہہ کر جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔ فوجی پریس کانفرنس سے یوں محسوس ہوا کہ
پاک فوج اور پاکستان تحریک انصاف دو متحارب سیاسی جماعتیں ہیں۔
ڈی جی صاحب نے سانحہ 9 مئی 2023 کے ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزاؤں کا دفاع کیا اور اسے عالمی عدالت انصاف اور ملکی آئین و قانون کے ماتحت قرار دیا۔ 26 نومبر 2024 کے سانحہ ڈی چوک کو عین حکومتی موقف کے مطابق ہی بیان کیا۔ انہوں نے فتنہ الخوارج کو طاقت سے ختم کرنے پر زور دیا اور اس مسلے کو مذاکرات سے حل کرنے کی نفی کردی۔
2022 میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو قبائلی علاقوں میں آباد کرنے کے فیصلے کو بھی نام لیے بغیر انہوں نے عمران خان کے ذمے لگا دیا حالانکہ یہ فیصلہ اس وقت کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے مشورے سے کیا گیا تھا۔ مئی 2022 میں جنرل فیض حمید کس کے کہنے پر کابل گئے تھے، جہاں ایک چائے کی پیالی بہت مشہور ہوئی تھی، جب کہ اس وقت عمران خان کی حکومت بھی نہیں تھی۔ ڈی جی صاحب نے فیض حمید کے متعلق سوال پوچھنے سے بھی منع کر دیا تھا۔ انہوں نے بغیر نام لیے عمران خان کو اپنی سابقہ غلطیوں سے سیکھنے کا مشورہ دیا لیکن خود اپنے چار دفعہ مارشل لاء لگانے اور مشرق پاکستان کی علیحدگی پر اپنی کوئی غلطی تسلیم نہیں کی۔
انہوں نے حکومتوں کی بری انتظامی کارکردگی کا بھی ذکر کیا جس کی بنیادی وجہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت ہے۔ انہوں نے بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف پاک فوج کی ذمہ داریوں کو بیان کیا جو پھر ایک سیاسی میدان تھا۔ بجلی چوری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے ادارے موجود ہیں تو پاک فوج یہ کام کیوں کرتی ہے؟ فوجی ترجمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کا احترام کرنے کا بھی بتایا لیکن اپنی ساری پریس کانفرنس عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کر دی۔
اگر عمران خان مجرم ہے تو برطانیہ، امریکہ سمیت پوری دنیا کو جواب دیں کہ عمران خان مجرم ہے، ہم نہیں چھوڑیں گے اور آپ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ فوج وفاقی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے۔ ملک اور حکومت چلانا سیاسی جماعتوں کا ہی آئینی حق ہوتا ہے۔ اس لیے فوج کو سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا احترام کرنا ہی لازم ہوتا ہے اور یہ کوئی جتانے کی بات نہیں ہوتی ہے۔
فوجی ترجمان نے حالیہ دنوں میں پاکستان میں حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیموں کے بیانات کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے مذکورہ تنظیموں کو مشورہ دیا کہ وہ غزہ، کشمیر اور فلسطین میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے متعلق بات کریں، پاکستان میں ایسی خلاف ورزیوں کو انہوں نے درخور اعتنا نہیں سمجھا ہے۔
26 نومبر 2024 سانحہ ڈی چوک اسلام آباد میں ڈی جی صاحب کا موقف بھی بالکل حکومتی موقف کے عین مطابق ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ حکومت وقت کے ترجمان ہیں۔ ڈی چوک میں تمام مظاہرین پر امن اور غیر مسلح تھے۔ 12 مظاہرین کی ہلاکتیں کیسے ہوئیں۔ ڈی چوک کی روشنیاں کس نے بند کرائیں اور وہاں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی عکس بند تصاویر کیوں غائب ہو گئیں۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں سے زخمی اور ہلاک ہونے والے مظاہرین کا طبی ریکارڈ کیسے گم ہو گیا۔ یہ تمام سوالات تشنہ طلب ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ 26 نومبر کے اگلے دن کے اخبارات میں وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان
شہ سرخیوں میں شائع ہوا تھا کہ سپہ سالار نے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والوں کو روک کر حکومت کی بہت مدد کی ہے۔ ڈی جی صاحب نے پر امن مظاہرین کے احتجاج کو سیاسی دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ ڈی جی صاحب کی اس پریس کانفرنس کے متعلق کوئی عوامی رائے لی جائے تو کوئی بھی ذی شعور انسان اس کانفرنس کے نکات سے متفق نہیں ہو گا اور نہ اس میں بیان کی گئی باتوں کو سچ سمجھے گا۔
کسی تقریب میں موجودہ سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ پاک فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو بے نقاب کریں تو حضور وہ سب تو پارلیمان میں بیٹھے ہوئے ہیں جنھوں نے ماضی میں پاک فوج کے خلاف بیانات دیے تھے، جیسے اب کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاک فوج نے کوئی جنگ نہیں جیتی ہے اور یہ ہماری ہڈیوں کا گودا بھی کھا گئی ہے۔ موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ جب جنرل باجوہ آئے تو ان کے ماتھے پر پسینہ تھا اور ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے جلسوں میں سر عام نعرے لگوائے تھے یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔
اور پی ایم ایل این کے رہبر نواز شریف نے سترہ دفعہ نام لے کر کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے میری حکومت ختم کی اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ممبئی حملے پاک فوج نے کروائے تھے۔ اب ان سب سے پوچھیں کہ انہوں نے پاک فوج کے خلاف یہ نفرت انگیز بیانات کیوں دیے۔
موجودہ سالار رب کعبہ کی قسم کر کے اپنے ہی ہم وطنوں کو اکثر دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ جب کبھی کسی اخبار کے فیس بک صفحہ پر ان کا کوئی بیان پڑھنے کو ملتا ہے تو اس کے نیچے انتہائی گھٹیا اور رکیک تبصرے لکھے ہوتے ہیں۔
کوئی مانے یا نہ مانے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی گئی ہے اور 8 فروری 2024 کے متنازع انتخابات ہوئے ہیں، عوام کی فوج کے ساتھ پہلے والی محبت باقی نہیں رہی ہے۔ عوام نے فوجی مصنوعات کی خریداری بھی انتہائی کم یا ختم کر دی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں فوج مخالف جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ فوج کے ذمہ داران کو ان کا ادراک کر کے ان جذبات کے پیدا ہونے کو روکنے کے لئے ایک اچھا لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ان سے ملکی اور غیر ملکی، ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔
فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس سن کر یہ ہی لگتا ہے کہ فوج کا بیانہ ابھی تک وہی ہے جو 60 کی دہائی میں تھا۔ صدر ایوب کے دور میں فاطمہ جناح کے خلاف مذموم مہم چلائی گئی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب پیدا ہوئے۔ صدر یحیی کے دور صدارت میں مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔ صدر ضیاء الحق کے دور میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی اور سیا چن گلیشیر پر بھارت کا قبضہ ہو گیا۔ ضیاء الحق کی آئین و قانون دشمنی اس جملے سے واضح ہوتی ہے جو انہوں نے آئین پاکستان کے متعلق کہا تھا کہ، آئین تو بارہ صفحے کی ایک کتاب ہے جس کو جب مرضی پھاڑ دیں۔
سیاست دانوں کے متعلق یوں اظہار خیال کیا کہ وہ تو دم ہلاتے میرے پیچھے آ جاتے ہیں اور ان کو سیاست کی اے بی سی بھی نہیں آتی۔ سیا چن کے متعلق ارشاد فرمایا، وہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی ہے۔ پاکستان میں ناجائز اسلحہ، منشیات کی فراوانی اور لسانی گروہوں کی آبیاری ان کے دور حکومت میں پیدا ہونے والے بڑے مسائل ہیں۔ صدر مشرف کے دور صدارت میں کارگل کی مہم ناکام ہوئی۔ اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا اور سانحہ لال مسجد اسلام آباد وقوع پذیر ہوا۔
2009 میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جنرل اسلم بیگ کی جانب سے مہران بنک کے ذریعے سیاسی رہنماؤں کو نقد رقوم دینے کے سارے معاملات پاکستان کی ناپختہ سیاسی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ایک فہرست الزامات ہے۔ چھ لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل قومی مسلح افواج پاکستان کے ترجمان کی مذکورہ پریس کانفرنس کسی طور پر بھی حقائق کے مطابق نہیں تھی اور نہ ان کے شایان شان تھی۔ اس پریس کانفرنس نے پاک فوج کو پاکستان تحریک انصاف کی متحارب سیاسی جماعت بنا دیا ہے۔


آپ نے لکھا:
باقی دنیا کے کئی ممالک کی افواج میں یہ شعبہ نہیں ہے۔
بالفرض اگر کسی ملک کے پاس ایٹم بم ہے یا نہیں اس سے ہمارا کیا تعلق۔ افواج پاکستان سے متعلق یہ ادارہ برطانوی دور حکومت سے موجود ہے جب بالخصوص دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی (ہندوستانی) فوجیوں کے لئے ادیب اور شاعر حضرات کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ چراغ حسن حسرت ترقی پاکر میجر تک بنے۔ فیض لیفٹننٹ کرنل اور بعد میں متعدد دوسرے لوگ ۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب مستند ادیبوں اور شاعروں کی جگہ اچھا کیریئر رکھنے والے فوجی حضرات اس ادارے کے مہتمم بن گئے۔
پاکستانیوں کے لئے سب سے اہم ملک امریکہ ہوتا ہے اور وہاں بھی یہ ادارہ موجود ہے وہاں نام ہے
Army Public Affair
آج کل خاتون بریگیڈیئر امانڈا وہاں کی روح رواں ہیں اور امریکی فوج سے متعلق بیان ضرورت پڑے تو دے دیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر افواج پاکستان سے متعلق وزیر دفاع ڈھنگ کا شخص ہو اور تیکنیکی معلومات بھی رکھتا ہو تو آئی ایس پی آر (تعلقات عامہ) کے ادارے کے سربراہ کو آگے نہ آنا پڑے۔
برطانیہ میں Army Press Officers یہ کام کرتے ہیں۔
انڈیا میں البتہ یہ ادارہ آرمی کی بجائے وزارت دفاع کے ماتحت ہے جہاں سے تمام افواج کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
پاکستان کی الگ بات ہے کہ یہاں جوائنٹ چیف اف اسٹاف تینوں افواج کا باری باری لگنا چاہئے مگر 48 سال میں آج تک صرف ایک مرحوم فاروق فیروز ایئر فورس اور دو ایڈمرل شریف اور ایڈمرل سروہی نیوی سے اس عہدے پر پہنچے۔
1999 میں ایڈمرل فصیح بخاری کی بجائے نواز شریف نے جب پرویز مشرف کو (تختہ الٹنے سے پہلے) چیئرمین بنایا تو اس وقت سے اس بدعت کا رد کفر نہیں ہوپایا۔
–
عارف احمد صاحب
آپ نے بہت معلومات فراہم کی ہیں۔میرا لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ان کی پریس کانفرنسز سیاسی معاملات پر نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو عسکری اطلاعات اور معلومات تک محدود رکھتے ہیں۔جیسے ہندوستان کا یہ ادارہ وزارت دفاع کے ماتحت ہے۔کسی بھی ادارے کا ترجمان اپنے ادارے کے متعلق اطلاعات اور معلومات دینے کا پابند ہوتا ہے نہ کہ تمام ملکی معاملات پر اپنی رائے دینے کا مجاز ہوتا ہے۔آپ کا تبصرہ پڑھ کر بہت اچھا لگا اور میری معلومات میں اضافہ بھی ہوا۔
آداب ۔۔۔محمد سلیم
شکریہ۔
ایک دکھ کی بات یہ بھی ہوئی کہ آپ کے شروع کا مواد پڑھ کر میں ٹریک سے اتر گیا۔ کیوں کہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ لکھنے والا کتنی تحقیق کے بعد لکھتا ہے۔
آپ کی تحریر بعد میں پھر پڑھی اور کچھ باتوں کی اصلاح ضروری ہے۔ آپ کی معلومات یا دلائل میں اگر ایک بات بھی غلط آجائے تو آپ جلتے توے پر بیٹھ کر بھی کہیں کہ جناب توا گرم ہے تو کوئی نہیں مانے گا۔ اس لئے دوسروں بالخصوص فوج سے متعلق دلائل یا واقعات لکھتے وقت خیال رکھا کریں۔
–
اپنی غلطیاں پڑھین اور لطف اٹھائیں: (ویسے یہ دنیا کا سب سے آسان مگر مشکل کام بھی ہے یعنی دوسروں کی غلطیاں نکالنا۔ یہ اور کہ میری کوئی تحریر آپ کی نظر سے نہیں گزرے گی)
–
بقول آپ کے
بدھ 27 دسمبر 2024 دن ڈھائی بجے۔۔۔۔
27 دسمبر کو جمعہ تھا بدھ نہیں۔
–
بقول آپ کے :
9 اپریل 2022 کو عمران خاں کی حکومت کو فوجی مداخلت کے ذریعے عدم اعتماد کروا کر ختم کر دیا گیا۔
–
(کیا آپ کے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود ہے یا محض وہ بیانیہ چھاپ دیا جو سیاست داں یا صحافی لکھتے اور کہتے رہتے ہیں۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ عمران خان کے پاس سادہ اکثریت ہی نہیں تھی۔ ایم کیو ایم ۔۔۔باپ اور ق لیگ کے ساتھ مانگے تانگے کی حکومت تھی اور جس دن بالخصوص ایم کیو ایم نے سپورٹ کھینچنی تھی حکومت گرجاتی۔ ایم کیو ایم سے کئے گئے سارے وعدے بالخصوص گورنر سندھ لگانے کا وعدہ کبھی پورا نہیں کیا۔ بالکل خان صاحب اور ان کے حق میں بات کرنے والے اپنی منجی نیچے ڈانگ پھیریں پھر دوسروں بالخصوص فوج کی بات کریں۔ میں فوج کے بیانیہ کی حمایت نہیں کررہا مگر حقائق سامنے رکھیں سنی سنائی بات نہیں۔ ان تاریخوں کے اخبارات پھر اٹھالیں اور دیکھیں اس وقت ایم کیو ایم یا ق لیگ کو ساتھ رکھنے کے لئے عمران خان نے کیا کوششیں کیں۔ صفر۔ شاہ محمود اور اسد عمر کو لگایا ہوا تھا۔ میں خود بہادر آباد آفس آتا جاتا تھا۔ ایم کیو ایم صرف یہ مطالبہ کررہی تھی کہ عمران خان کراچی آکر ہمارا گورنر لگانے کا اعلان کردیں تو ہم انہیں سپورٹ کردیں گے۔ خان صاحب کراچی اپنی انا میں نہیں گئے یا ان کی بیگم نے منع کیا۔ نتیجہ بہرحال ایم کیو ایم کو زرداری صاحب نے اچھا پیکچ دے کر اپنی طرف کرلیا اس میں فوج کہاں سے آگئی ؟)
–
آپ نے لکھا:
2022 میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو قبائلی علاقوں میں آباد کرنے کے فیصلے کو بھی نام لیے بغیر انہوں نے عمران خان کے ذمے لگا دیا حالانکہ یہ فیصلہ اس وقت کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کے مشورے سے کیا گیا تھا۔
جناب کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔ آرمی چیف وزیر اعظم کے ماتحت ہوتا ہے یا عمران خان کو جنرل باجوہ نے ملازم رکھا ہوا تھا۔ پہلے طے کرلیں۔ باس اپنے ماتحت سے مشورہ ضرور کرتا ہے لیکن فیصلہ صادر ہونے کے بعد حکم اس کا کہلاتا ہے ماتحت کا نہیں۔ جن لوگوں کو افغانستان سے واپس لاکر آباد کیا گیا تھا۔ پہلے جذباتی ہوئے بغیر اس معاملے کو سمجھ لیں۔ وہ پاکستان کے ہی لوگ تھے جو اپنی فیملیز سمیت افغانستان چلے گئے تھے۔ طالبان حکومت کا اصرار تھا (ایک ڈیل کے تحت) کہ ان پاکستانیوں کو واپس پاکستان جاکر رہنے کا موقع دیا جائے۔ یہ تعداد زیادہ اس لئے محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں فیملی کے لوگ بھی شامل تھے۔
فیصلہ صحیح تھا یا غلط اور ان میں سے کتنے لوگ بعد میں غلط کاموں میں ملوث پائے گئے کیا کسی کے پاس کوئی ریکارڈ ہے ؟
–
آپ نے لکھا:
مئی 2022 میں جنرل فیض حمید کس کے کہنے پر کابل گئے تھے، جہاں ایک چائے کی پیالی بہت مشہور ہوئی تھی، جب کہ اس وقت عمران خان کی حکومت بھی نہیں تھی۔
میرے بھائی بادام کھائیں ۔ پہلی بات تو فیض حمید کی سیرینا ہوٹل کابل میں چائے کا واقعہ 4 ستمبر 2021 کو پیش آیا تھا اس میں مئی 2022 اور فیض حمید کہاں سے آگئے۔ مزید یہ کہ فیض حمید کی پوسٹنگ بحیثیت کور کمانڈر اکتوبر 2021 میں ہوگئی تھی (یہ اور بات کہ وہ نومبر 2021 میں گئے) تو ایسے میں مئی 2022 میں اگر وہ کابل گئے بھی تو کور کمانڈر پشاور کی حیثیت میں گئے ہونگے نہ کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے۔
اور مئی 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے کہ کوئی اعلی عہدیدار ملک سے باہر چلاجاتا۔ بہرحال پہلے طے کرلیں کہ کیا لکھنا اور کہنا چاہتے ہیں۔
آپ اور متعدد لوگوں کی اطلاع کے لئے ایک بات میں پھر لکھ دوں کہ 4 ستمبر 2021 کو جب امریکہ افغانستان چھوڑچکا تھا اور اشرف غنی بھی ملک سے جاچکے تھے۔ افغانستان میں کوئی حکومت نہیں تھی اور اس کے پڑوسی ممالک اور وہ جن کے مفادات وابستہ تھے ان کو خدشہ تھا کہ طالبان کے آتے ہی افغانیوں کی ایک بڑی تعداد متصل پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت کرے گی ایسی صورت میں اس معاملے سے کیسے نبٹا جائے۔
پاکستان، چین، روس، ترکمانستان، ایران، تاجکستان اور قازقستان (شاید قطر بھی) کے اسپائی ماسٹر ایک میٹنگ کے لئے کابل میں 4 ار 5 ستمبر کو جمع ہوئے۔ پھر یادرہے اس شام وہاں کوئی حکومت نہیں تھی۔ شہرت کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔ اس شام متعدد دوسرے ممالک کے اینٹلی جنس چیف یعنی اسپائی ماسٹر بھی سیرینا کابل میں موجود تھے لیکن کسی کو بھی صحافی نہیں جانتے تھے سوائے فیض حمید کے تو ان کی تصویر ایسے کھینچ کر لگادی گئی جیسے وہ طالبان سے مذاکرات یا ان کو گائیڈلائن دینے پہنچے ہوئے ہیں۔ کیا مسئلہ تھا ان کے وہاں جانے یا محض چائے پینے پر۔ غور سے دیکھیں تو ان کے ساتھ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے لوگ بھی موجود تھے۔ کیا کوئی کسی خفیہ مشن پر اس طرح جاتا ہے ؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ چند بعد جب کابل اور افغانستان کی فضائی حدود بند ہوگئیں تو ان تمام اسپائی چیفس کی اگلی میٹنگز اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ گوگل کرکے دیکھ لیں لیکن ہم ہر چیز میں سازش کا پہلو ڈھونڈتے ہیں۔
–
ایاز صادق، خواجہ آصف، بیگم صفدر کے بیانات ہوں یا خود آئی ایس پی آر یا آرمی چیف کے بیانات یہ ان کا درد سر ہے کہ وہ کیا کہتے اور کرتے ہیں۔ میرا تعلق حقائق سے ہے۔
26 نومبر اور 9 مئی سے متعلق میرے پاس موجود حقائق آپ سے مختلف ہیں۔ لیکن وہ بھی میرا درد سر نہیں۔
باقی فاطمہ جناح سے لے کر۔ اکبر بگٹی کی موت یا لال مسجد، بھٹو کی پھانسی ہو یا کچھ اور ہر چیز اور معاملے کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ ان میں بھی بہت سارے حقائق وہ نہیں جس طرح بیان کئے جاتے ہیں۔ اوپر لکھ گئے میرے اعتراض اور تبصرے پڑھ کر اندازہ لگالیں کہ باقی معاملات سے متعلق بھی میرے پاس کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوگا۔
–
9 مئی یاد رکھیں بالخصوص کور کمانڈر لاہور کے گھر کا واقعہ۔ وہ کسی کا گھر تھا (بالفرض آپ کا تھا) تو کیا کسی کو یہ حق حاصل ہوسکتا ہے کہ آُ کے گھر میں گھس کر trespass کرے۔ آپ کے گھر میں توڑ پھوڑ کرے۔ چیزوں کو اٹھاکر لے جائے جو ڈکیتی کے زمرے میں آئے گی۔
آُ کے بیڈروم میں گھس کر کپڑے نکال کر انہیں پہن کر فخر سے گھومے۔ اگر کسی فوجی نے سازش کرکے حسان نیازی کو مجبور کیا کہ اس نے جنرل کی پینٹ پہن کر وکٹری کا نشان بنایا تو سلام ہے ایسی اینٹلی جنس والوں کو (ان کی صلاحیت کو ماننا پڑے گا)۔ اسی طرح بلال یا جو کوئی بھی جس نے کور کمانڈر کی یونیفارم والی وردی رینک اور میڈل ساتھ نیم پلیٹ پہن کر تصویریں کھنچوائیں۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ اس حرکت پر حسان نیازی اور اس لڑکے پر کون کون سی دفعات خود بخود لگ جاتی ہیں۔ دس سال سے لے کر عمر قید۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مقدمہ کون سی عدالت میں چلتا ہے۔
شکر کریں فوج مقدمہ چلاکر بری بھی کررہی ہے اور معافی بھی دے رہی ہے اگر ان کو منع کردیا کہ مقدمہ نہیں چلاسکتے تو اگلی دفعہ ایسے شرپسندوں کو سیدھا گولیاں مارکر معاملہ وہین ختم کردیں گے۔ لوگوں کے غلط کام کو غلط کہیں۔
امریکہ عافیہ صدیقی اور گوانتاناموبے میں دوسرے ممالک کے لوگوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلاسکتا ہے۔ برطانیہ فرانس اور جرمنی بھی اتنے معصوم نہیں۔
فوجی تنصیبات یا املاک پر حملہ کرنے والوں کو اگر فوج ٹرائل نہیں کرسکتی تو پہلے فوجی قوانین کی کتاب پڑھ لیں جو انہی اسمبلیوں نے ماضی میں پاس کی ہے۔
افسوس ہوتا ہے جب لوگ ایک شخص اکبر بگٹی کو شہید لکھتے ہیں جس نے ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھاکر پہاڑوں میں پناہ لی ہوئی تھی۔ کیا آپ کو یاد ہے اس واقعہ سے چند دن پہلے دو فوجی ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا تھا، ایک میں شاید آئی جی ایف سی اور دوسرے میں مشرف سوار تھا۔ آئے دن بگٹی کے لوگ گیس کی پائپ لائن اڑادیتے تھے بجلی کے کھمبوں کو تباہ کردیا جاتا تھا اور ریلوے لائن اکھاڑدی جاتی تھیں۔
یہ بھی یاد رکھیں جو فوجی کمانڈو بگتی کو گرفتار کرنے غار میں گھسے تھے وہ ایک ریاستی مجرم کو گرفتار کرنے گئے تھے آپ جیسے لوگ ان کے لئے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ کتے کی موت مارے گئے جب کہ ریاستی مجرم اکبر بگتی شہید ہے۔ دوسری طرف انہی دنوں کی بات ہے لوگ واقعہ سے پہلے شور پچارہے ہوتے تھے کہ بلوچستان میں سب کچھ تباہ کیا جارہا ہے اور ریاست سو رہی ہے۔
–
لال مسجد میں جو کچھ ہوا اس کا کریڈٹ مشرف یا فوج کو دینے کی بجائے یاد رکھیں وہاں ہو کیا رہا تھا اور وزیر داخلہ چوہدری شجاعت کو ٹٹولیں کہ یہ ان کا کام تھا اور دوسرا ان دو اشخاص کو پوچھیں جن میں ایک مولانا عبدالعزیز برقع والے اور دوسرے اس وقت کے چیف جسٹس جن ہوں نے آخری وقت تک معاملات کو خراب کیا۔
–
جہاں تک فاطمہ جناح بمقابلہ ایوب خان کا معاملہ ہے اس کہانی کو بھی پہلے سمجھیں اور شروع سے آخر تک سب جانیں۔
دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں اگر فرض کریں آپ کے پاس ایک فیکٹری ہے جس کا سربراہ کسی ایسے شخص کو لگانا ہو تاکہ وہ اس مردہ فیکٹری کو واپس اچھا کردے اور ساری دنیا میں صرف دو لوگ اس کام کے لئے موجود ہوں ایک کا نام ایوب خان ہو جو چھ سال سے حکمرانی اور انتظامی امور کا تجربہ رکھتا ہو اور دوسری طرف 72 سالہ محترمہ فاطمہ جناح ہوں جن کے پاس نہ سیاست کا تجربہ ہو نا انتظامی امور کا اور لوگوں کو سنبھالنے کا تو آپ اپنی فیکٹری کس کے حوالے کریں گے۔ یاد رکھیں آپ کے پاس محض ان دو لوگوں کا سی وی ہے نا آپ مس جناح کو جانتے ہیں اور نہ ایوب کو تو کس کی پروفائل بہتر ہوگی ؟
بات شاید تلخ یا مشکل لگے لیکن مثال سے سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
–
متعدد لوگ یہ نہیں بتاتے کہ مس جناح اور ایوب کے درمیان انتخاب 1962 کے آئین کے تحت ہونے تھے جسے منظور ہوئے ڈھائی تین سال ہوچکے تھے اور اس کے تحت پورے ملک سے جو پچاس ہزار (بی ڈی ممبر یا کونسلر) منتخب ہوچکے تھے انہوں نے ان دونوں لوگوں میں سے ایک کو منتخب کرنا تھا۔ عام پاکستانیوں نے نہیں۔
–
لوگوں سے خطاب کرنے سے زیادہ ضروری تھا شاید وہ نو دس اجتماع جو الیکشن کمیشن کی نگرانی مٰیں مختلف شہروں میں ہوئے جس میں صرف ایوب مس جناح اور متعلقہ شہروں کے بی ڈی ممبرز نے شرکت کی۔
دھاندلی کا شور مچانا بڑا آسان ہے لیکن ان بند کمروں میں جو یہ خطاب ہوئے جس دوران بی ڈی ممبرز نے ان دونوں لوگوں سے سوال پوچھے اور ان کے منشور پر بات کرنی چاہی۔
افسوس اس بات کا ہے کہ لوگ کبھی ان جلسوں یا سوالات کے دوران کیا ہوا اس پر بات نہیں کرتے جب کہ ووٹ ان ممبران نے دینے تھے نا کہ عام عوام نے۔
اور ان اجلاس میں مس جناح ممبران کے تلخ سوالات کا جواب دینے قاصر رہیں تھیں ان کے پاس چند مخصوص الزام تھے اور بس۔ لیکن پاکستان کو کیسے آگے لے جانا ہے کوئی پلان نہیں تھا۔ چند اجلاس میں مس جناح اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پائیں اور ممبران ہی نہیں اپنے رضاکاروں پر بھی چلانا شروع ہوگئی تھیں جس سے بہت سارے ایسے لوگ جو ان کے حق میں تھے وہ بھی اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے۔
پھر پڑھیں ۔۔۔اصلی کہانیاں
آپ نے مزید لکھا کہ
کسی بھی ادارے کا ترجمان اپنے ادارے کے متعلق اطلاعات اور معلومات دینے کا پابند ہوتا ہے نہ کہ تمام ملکی معاملات پر اپنی رائے دینے کا مجاز ہوتا ہے۔
جناب اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ وہ جنگل کے بادشاہ ہیں تو انہیں کیوں بتاتے ہیں کہ انہوں نے انڈہ دینا ہے یا بچہ۔
–
مجھے علم نہیں کہ آپ تحریک انصاف یا کس پارٹی سے کتنی عقیدت رکھتے ہیں۔ کیا یہ کسی سیاست دان کو زیب دیتا ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے پہلے شور مچانا شروع ہوجائے کہ کس جرنیل کو چیف نہیں بننا چاہئے ؟ اگر عمران خان صاحب حکومت سے باہر بیٹھ کر اس طرح کی باتیں کریں گے تو وہی ہوگا جو بھٹو دور میں ہوا تھا کہ بقول شاید ولی خان ۔۔۔۔ قبر ایک ہے اور مردے دو۔
اب عاصم منیر جب ساری خانی دھمکیوں کے باوجود بن گئے تو وہ جو کہتے ہیں کہ اب پچھتاوے کیا ہوت۔۔۔
–
آپ اور متعدد دوسرے لوگوں کی اطلاع کے لئے ایک بار پھر لکھ دوں کہ خان صاحب نے اپنی سیاسی قبر اکتوبر 2021 میں اس وقت کھودی تھی جب آرمی نے اپنے پلان کے تحت نیا آئی ایس آئی چیف لگایا تھا اور وہ بھی خان صاحب کی زبانی اجازت سے۔ جس کا اقرار وہ خود کرتے ہیں۔
جب تک فائل جی ایچ کیو سے ان کے دفتر پہنچی۔ ٹی وی چینلز پر ٹکر چلنے شروع ہوچکے تھے۔ وزیراعظم پر (شاید) گھر سے دباؤ پڑا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اس پر عمران خان نے کچھ بیانات دیئے تھے جس میں فوج پر لعن طعن کی تھی اور کہا تھا کہ آپ لوگوں کو نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہئے اور ہر کام کی فائل پر پہلے اجازت لیں پھر عمل کریں۔
اندازہ کریں نیا چیف پرانا دفتر چھوڑ کر او ایس ڈی بن گیا ہے کیوں کہ آپ اب انٹرویو کے لئے وقت لگارہے ہیں ۔ اس سے تین خوف ناک نتائج اس وقت ہی نظر آنے شروع ہوگئے تھے یعنی نومبر 2021 میں۔
پہلا پیغام فوج کے چھ سینیئر ترین جرنیلوں کو یہ گیا کہ آپ لوگوں نے ساری زندگی جھک ماری ہے اور چیف بننا بھول جائیں کیوں کہ خان صاحب نے طے کرلیا ہے کہ آؤٹ آف ٹرن کس کو اگلا چیف بننا ہے۔
–
دوسرا پیغام کور کمانڈرز کو گیا کہ آپ لوگ نظم و ضبط کی پابندی نہیں کرتے۔ اس پر متفقہ فیصلہ ہوا کہ نومبر 2021 کے بعد حکومت (یعنی وزیراعظم) کا جو بھی حکم ہو جب تک تحریری شکل میں نہ آئے اس پر عمل نہیں ہوگا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جو خان صاحب کو لے ڈوبا کہ اب وہ صرف وہی احکامات فوج کو دے سکتے تھے تحریری شکل میں جو قانونی اور جائز ہوں۔
–
تیسرا پیغام اس نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو گیا یعنی تھری اسٹار جنرل کو جسے لگ بھگ دو تین ہفتے او ایس ڈی بناکر رکھا گیا۔ اور اس نے بھی کوئی ایسا حکم ماننے سے صاف انکار کردیا تھا جو تحریری شکل میں اسے نہ دیا جائے۔ یہی نہیں فیض حمید کے برعکس نئئ چیف نے اپنا نام اور تصویر کسی بھی جگہ بغیر اجازت چھاپنے کی پابندی لگادی تھی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ ثابت کریں کہ کب کس نے کیا غلط کام کیاَ؟
–
–
آپ نے ایک بلنڈر اور بھی مارا تھا وہ بھی لکھ دیتا ہوں۔
2009 میں اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جنرل اسلم بیگ کی جانب سے مہران بنک کے ذریعے سیاسی رہنماؤں کو نقد رقوم دینے کے سارے معاملات پاکستان کی ناپختہ سیاسی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔
–
جناب والا 2009 میں مشرف جاچکا تھا کیانی آرمی چیف تھے اکتوبر 2008 سے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا تھے۔ جہاں تک مرحوم حمید گل کا سوال ہے وہ مئی 1989 میں آب پارہ چھوڑچکے تھے۔ دوسرا یہ کہ مئی 1989 میں بے نظیر حکومت کو بھلا کیا اور کس سے خطرہ تھا ؟ حمید گل کے بعد بے نظیر نے ایک ریٹائرڈ جنرل شمس الرحمن کلو کو آئی ایس آئی کا سربراہ لگادیا تھا۔
–
تیسری بات یہ کہ 1990 میں جب بے نظیر حکومت کا تختہ الٹنے کی نوبت آئی تو ایک اینٹلی جنس ادارے کے سربراہ جہانگیر اشرف قاضی تھے۔ اور ان کو حکم دینے والا غلام اسحق خان تھا جس کی رو سے قومی بنکوں سے پیسے لے کر بے نظیر مخالف پارٹیوں میں بانٹنا تھا۔
–
اگست 1990 میں جنرل کلو کی جگہ جنرل اسد درانی آئی ایس آئی کے سربراہ بنے اور ان کو لانے اور لگانے والا کوئی اور نہیں فوج کا سپریم کمانڈر تھا یعنی صدر پاکستان غلام اسحق خان۔
اپ جس بیان کی بات کررہے ہیں وہ جنرل اسد درانی کا ہے جن ہوں نے اسلم بیگ اور غلام اسحق کے حکم پر نواز شریف کے ساتھ آئی جے آئی بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔
یاد رہے آئی ایس آئی "صرف” فوج نہیں ایک ریاستی ادارہ ہے جو صدر یا وزیراعظم کے احکامات کا پابند ہوتا ہے۔
جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے یہی صاحب بعد میں جنرل درانی اور اسلم بیگ پر الزام لگاتے رہے کہ یہ دونوں لوگ پاکستان سے "ہیروین” اسمگل کرکے نواز شریف مخالف پارٹیوں کو فنڈنگ کررہے تھے۔ اب کس کی مانیں اور کس کی نہ مانی جائے۔
–
جنرل درانی سے میری طویل بیٹھکیں ریاض میں ہوتی رہیں جب وہ سفیر پاکستان تھے !
ویسے جہاں آپ نے دنیا جہاں کے ماضی کے تمام الزامات جو احمد شریف چوہدری کے فوجی بزرگوں سے موسوم ہیں ان کی ذمہ داری ڈی جی آئی ایس پی آر پر ڈال دی کیا ہی اچھا ہوتا اگرآپ ان کے والد کا تذکرہ بھی کردیتے جو ڈاکٹر قدیر کے ساتھ کہوٹہ لیب میں یورینیم افزادگی میں اپنا حصہ ڈال کر ایٹم بم بنانے میں اہم کردار ادا کرچکے تھے اور بعد میں جوہری توانائی کے پھیلاؤ کے الزام میں ان پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور شاید امریکہ نے بھی 911 کے بعد پابندیاں لگائی تھیں۔
ویسے پرویز ہود بھائی ان کا مذاق آج بھی اڑاتے ہیں کہ وہ جنات کو قابو میں کرکے ان سے بجلی حاصل کرنے کے قائل تھے۔
اسی طرح احمد شریف کے ساتھ ان کے سسر شہید بریگیڈیئر ٹی ایم ٹائیگر یعنی طارق محمود کا بھی تذکرہ کردیتے جو دو بار ستارہ جرات حاصل کرنے کا اعزاز رکھتے تھے۔
آپ کے ہی شہر گجرانوالہ میں راہوالی کینٹ میں ہونے والی پیرا فری فال کے دوران پیراشوٹ نہ کھلنے کی وجہ سے مئی 1989 میں شہید ہوگئے تھے اسی بے نظیر کے فوراً وزیراعظم بننے کے چند مہینوں بعد۔
اوپر میرے لکھے :
دوسرا پیغام کور کمانڈرز کو گیا کہ آپ لوگ نظم و ضبط کی پابندی نہیں کرتے۔ اس پر متفقہ فیصلہ ہوا کہ نومبر 2021 کے بعد حکومت (یعنی وزیراعظم) کا جو بھی حکم ہو جب تک تحریری شکل میں نہ آئے اس پر عمل نہیں ہوگا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جو خان صاحب کو لے ڈوبا کہ اب وہ صرف وہی احکامات فوج کو دے سکتے تھے تحریری شکل میں جو قانونی اور جائز ہوں۔
–
اس میں ایک اہم بات یہ تھی کہ کورکمانڈرز (تمام جرنیلوں) کے اس متفقہ فیصلے کے بعد عمران خان نے تواتر سے طنزاً کہنا شروع کردیا تھا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں۔
وجہ یہی کہ اس کے بعد وہ جب کوئی غیرتحریری حکم دیتے انہیں جواب ملتا یا تو تحریری لکھ کر حکم دیں وگرنہ ہم سیاسی معاملات میں نیوٹرل ہیں۔ یہ تھی نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں کی کہانی۔ جو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان تواتر سے کہتے تھے۔