ملتے ہیں اگست میں: پوشیدہ جسمانی تعلقات اور جنسی خواہشات پر مبنی ایک دل چسپ ناول


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

اس ناول کے مصنف گیبرئیل گارسیا مارکیز کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ ہسپانوی زبان کے معروف ترین ادیب بھی ہیں اور صحافی بھی۔ ان کی پیدائش 6 مارچ 1927 کو کولمبیا لاطینی امریکا میں ہوئی۔ اُن کی ادبی تخلیقات کو عالمی سطح پر اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ اُن کی خدمات کے اعتراف میں 1982 میں انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اُن کا انتقال 17 اپریل 2014 کو میکسیکو سٹی، میکسیکو میں ہوا۔

مارکیز نے جادوئی حقیقت نگاری پر مبنی ’ناول تنہائی کے سو سال‘ اور ’وبا کے دونوں میں محبت‘ جیسے شاہکاروں کے ذریعے ادب میں اپنی ان مٹ چھاپ چھوڑی ہے۔ ان کا بعد از مرگ شائع ہونے والا ناول ملتے ہیں اگست میں جو حال ہی میں منظر عام پر آیا، ایک حیران کن اور دل چسپ ناول ہے۔ یہ ناول انسان کے پوشیدہ تعلقات اور جنسی خواہشات جیسے موضوعات کی عمیق جستجو ہے۔ یہ ناول قارئین کو ایک درمیانی عمر کی عورت آنا ماگدالینا باخ کی خاموش اور غور و فکر سے بھرپور زندگی میں لے جاتا ہے جو موت و تنہائی اور جنسی خواہش جیسے پیچیدہ جذبات سے نبرد آزما ہے۔

یہ ناول 6 مارچ 2024 کو پہلی بار ہسپانوی زبان میں چھپا۔ اسی مہینے میں ہی اس کا انگریزی ایڈیشن بھی منظر عام پر آ گیا جسے کینیڈا سے تعلق رکھنے والی مترجم این میک لینن نے انگریزی زبان میں ڈھالا۔ اردو میں اس کا ترجمہ انعام ندیم نے کیا ہے اور اس اردو ایڈیشن کے 128 صفحات ہیں اور یہ 6 ابواب پر مشتمل ہے۔

ملتے ہیں اگست میں بنیادی طور پر سماجی رسوم اور عارضی تعلقات کی کہانی ہے۔ مرکزی کردار آنا مگدالینا ہر سال کیریبین کے ایک جزیرے پر اپنی ماں کی قبر پر حاضری دینے کے لیے جاتی ہے۔ یہ سفر جہاں علامتی ہے وہیں حقائق سے فرار کا ذریعہ بھی ہے۔ اپنے دورے کے دوران آنا اجنبی مردوں کے ساتھ بے ساختہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرتی ہے جو اس کی زندگی کی روایتی زندگی اور نظم و ضبط کے برعکس ہیں۔ ناول کا مرکزی خیال بھی اسی تضاد میں پوشیدہ ہے۔ آنا کا ہر سال ماں کی قبر پر آنا دراصل روایتی شادی شدہ زندگی سے عارضی فرار مختلف مردوں سے جسمانی سرور کا ذریعہ ہے۔

اس ناول میں مارکیز نے ایسا بیانیہ تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے کی جو روحانی سکون کی تلاش اور جنسی امور کی لذت کے درمیان جھولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ماں کی قبر اس کے لیے روحانیت کا باعث ہے جب کہ مردوں سے مراسم اس کی جسمانی ضروریات کے پیش نظر ہیں۔ ان دونوں پہلووں کو یکجا کر کے مارکیز نے غم اور خوشی کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کو نمایاں کیا ہے۔

اس کے علاوہ ناول کا نمایاں پہلو جنسیت کا مطالعہ بھی ہے، خاص طور پر ایک درمیانی عمر کی عورت کی جنسیت۔ مارکیز کے سابقہ کاموں کے برعکس جہاں محبت اکثر عظمت اور ابدیت کی حامل دکھائی دیتی ہے، ’ملتے ہیں اگست میں‘ انہوں نے خواہشات کا ایک نیا اور نرگسی پہلو پیش کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنا کے جسمانی تعلقات رومانوی خیالات سے خالی ہیں، یہ عارضی اور معاہداتی نوعیت کے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ خود مختاری کے حصول کی علامت بھی ہیں۔

آنا کے ذریعے مارکیز نے ہمیں ایک ایسی شخصیت سے متعارف کروایا ہے جو روایتی کرداروں کو چیلنج کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی طور پر درمیانی عمر کی عورتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ جسمانی لذت کو اپناتے ہوئے اپنی جگہ بناتی ہے۔ تاہم آنا کی آزادی اندرونی تفاوت کا باعث بھی بنتی ہے۔ اس کے اجنبیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات آزادی کا تاثر تو قائم کرتے ہیں مگر وہ پچھتاوے اور مزید تنہائی کا شکار بھی ہو جاتی ہے۔ مارکیز پوشیدہ تعلقات کو حقیقی آزادی میں داخل نہیں ہونے دیتے اور وہ اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ عارضی تعلقات کی بنیاد پر حقیقی آزادی کا احساس ممکن نہیں۔

بہرحال ’ملتے ہیں اگست میں‘ کی اشاعت نے مارکیز کی بعد از موت اشاعت کے حوالے سے ادبی بحث کا جواز بھی فراہم کیا ہے۔ مارکیز نے اپنی زندگی میں اس ناول کے مسودے پر عدم اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے نہ چھاپنے کا اظہار کیا تھا، مگر اس کے باوجود ان کے بیٹوں نے اسے چھاپنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ان کے والد کا کام ہے اور اسے منظر عام پر لایا جانا ضروری ہے۔ ناقدین اس بات پر منقسم نظر آتے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ نثر کی سادہ نوعیت اور غیر حتمی مسودے کو مارکیز کی خواہش کے برعکس نہیں چھاپا جانا چاہیے تھا۔ لیکن کچھ اس کی کثافت اور سادگی کی وجہ سے اسے حقیقت نگاری کا باعث سمجھتے ہیں اور اس کے منظر عام پر آنے کو درست سمجھتے ہیں۔ جب کہ کچھ اس بات کی غمازی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ سب سے عظیم ادیب بھی بسا اوقات تخلیقی اضطراب کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ ناول مارکیز کے سابقہ کاموں سے بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ یہ تنہائی کے سو سال جیسی جادوئی حقیقت نگاری یا وبا کے دونوں میں محبت جیسی رومانیت سے بھی عاری ہے لیکن یہ عورت کی جنسی خودمختاری اور انسانی تعلقات کی گمبھیرتا جیسے اہم موضوعات کا جائزہ ضرور پیش کرتا ہے۔ یہ شاید ان کا پسندیدہ یا مشہور کام نہ ہو مگر یہ ان کی غیر معمولی ادبی خدمات کا دل کو چھو لینے والا اختتامیہ ضرور ہے۔

 

Facebook Comments HS