سال 2024 صحافت کے لئے خطرناک: کیا نیا سال بہتر ہو گا؟


بڑی بدقسمتی ہے کہ 2024 کا سال بھی صحافت کے لئے خطرناک سال ثابت ہوا۔ دنیا بھر میں 104 صحافی قتل ہوئے جبکہ صرف فلسطین میں 55 صحافیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستان میں بھی 7 صحافی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ نئے سال 2025 سے امیدیں وابستہ ہیں۔ صحافت کرنا آسان نہی جتنا دیکھا یا سمجھا جاتا ہے۔ عوام کے لئے آواز بلند کرنا، ملک قوم جمہوریت اور مظلومیت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ جان کی بازی لگانی پڑتی ہے، تشدد سہنا پڑتا ہے، گولیاں کھانی پڑتی ہیں، مقدمات جیل قید و صعوبتیں برداشت کرنی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد صحافت کے لئے صحافیوں کی شہادتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

سال 2024 میں دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے ایک خطرناک سال ثابت ہوا، جس میں متعدد صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس IFJ کے مطابق، اس سال 104 صحافی قتل کیے گئے، جن میں سے نصف سے زائد کا تعلق غزہ فلسطین سے تھا۔ وجہ یہ تھی کہ غزہ کے تمام بڑے بڑے صحافیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان میں 6 سے 7 صحافی قتل ہوئے ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں پاکستان میں 6 صحافی قتل کیے گئے، جبکہ 11 کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب اس سال پاکستان میں 7 صحافی قتل ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فلسطین میں خاص طور پر غزہ میں، صحافیوں کو شدید خطرات کا سامنا رہا۔ IFJ کے مطابق، 2024 میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 55 فلسطینی میڈیا ورکرز شہید ہوئے۔ دیگر ممالک میں بھی صحافیوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں بنگلہ دیش میں 5، سوڈان میں 4، میانمار میں 3، میکسیکو میں 5، کولمبیا میں 2، یوکرین میں 2، لبنان میں 2، اور روس، انڈونیشیا، عراق، چاڈ، شام، ترکمانستان، ہنڈوراس اور نیپال میں ایک ایک صحافی کی جان لی گئی۔

تاہم امریکہ، برطانیہ، اور یورپی یونین کے ممالک میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی۔ یورپ میں مجموعی طور پر 4 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں سے کچھ یوکرین میں جاری جنگ کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوکرین میں جاری جنگ کے دوران، برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے لیے کام کرنے والے میڈیا ورکر ریان ایونز (Ryan Evans) ہلاک ہوئے۔ وہ مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں ایک ہوٹل پر روسی میزائل حملے کا شکار بنے۔ ریان ایونز سابق برطانوی فوجی تھے اور 2022 سے رائٹرز کے ساتھ حفاظتی مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ امریکہ میں 2024 کے دوران 9 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں 5 میکسیکن، 2 کولمبیا کے، اور 2 ہیٹی کے صحافی شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں کی وجوہات میں منشیات کی اسمگلنگ پر رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے دھمکیاں، اغوا، اور قتل شامل ہیں۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد محدود رہی۔ یورپ مجموعی طور پر صحافیوں کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ براعظم رہا۔

گزشتہ 17 سالوں ( 2007 سے 2023 ) کے دوران سندھ میں متعدد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ یہ واقعات صحافیوں کو درپیش خطرات اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سندھ میں گزشتہ کچھ سالوں میں صحافی سب سے زیادہ نشانے پر رہے۔ کاوش کے عبدالعزیز میمن، سکھر سے شہید جان محمد مہر، خیرپور سے اصغر کھنڈ، گھوٹکی سے نصر اللہ گڈانی، صحافی عبدالرزاق جویو کو 3 نومبر 2007 کو قتل کیا گیا۔ 11 مئی 2012 کو شہداد کوٹ ضلع کے علاقے لالو رائنک میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے اورنگزیب تنیو، ان کے بھائی رستم اور دوست دیدار علی کو قتل کر دیا۔ صحافی مشتاق کھنڈ کو 2013 میں خیرپور شہر میں ایک سیاسی اجتماع کے دوران حملے میں قتل کیا گیا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سندھ میں صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ آزادانہ اور محفوظ ماحول میں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔ نصراللہ گڈانی، جو گھوٹکی ضلع میں مقامی روزنامہ ’عوامی آواز‘ سے منسلک صحافی تھے، کو 21 مئی 2024 کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ انہیں پہلے میرپور ماتھیلو اسپتال، پھر رحیم یار خان کے شیخ زید اسپتال، اور بعد میں ائر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 27 مئی 2024 کو انتقال کر گئے۔ جبکہ پنجاب، بلوچستان، کے پی میں بھی صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف صحافیوں کو قتل کیا جاتا ہے دوسری طرف انہیں اغوا کیا جاتا ہے۔ مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ ہراساں ہوتے ہیں اور ہر قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شہید صحافی جان محمد مہر کے کو 13 اگست 2023 کو سکھر لوکس پارک کے قریب فائرنگ کر کے شہید کیا گیا۔ اب تک 16 ماہ مکمل جبکہ 500 سے زائد روز گزر چکے ہیں، اب تک مرکزی ملزم گرفتار نہ ہو سکے ہیں۔ جبکہ 6 ملزم ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔

2025 صحافیوں کے لئے کیسا سال رہے گا؟ کیا نئے سال میں شہید صحافی جان محمد مہر کو انصاف ملے گا؟ کیا اس سال سندھ سمیت پاکستان میں کوئی صحافی قتل نہی ہو گا؟ کیا حکومت ادارے، پولیس، سردار، جاگیردار، منتخب نمائندے، وزیر، مشیر، دہشتگرد اور ڈاکو اب صحافیوں کو نشانہ نہی بنائیں گے؟ یہ وہ سوال ہیں شاید جن کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہو گا۔ لیکن صحافتی تنظیمیں اور جرنلسٹس امید رکھتے ہیں کہ نیا سال آزاد صحافت کے لئے بہتر سال ثابت ہو گا۔

Facebook Comments HS