ٹرمپ اور بھارتی امریکن


سابق صدر اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔ اپنی صدارت کو ہر وقت ہمسائے سے مانگا ہوا وائی فائی کا پاس ورڈ سمجھتے تھے۔ اسی لیے محتاط رویوں کے مالک تھے اور اپنی بیگم مشعل اوباما جو ذرا جمبو سائز کی خاتون تھیں ان کے سامنے تو ہر وقت سہمے سہمے دکھائی دیتے تھے۔

صدر اوباما بھی ہمارے ہر دل عزیز وزیر اعظم گجرات کے من موہن سنگھ، چوہدری شجاعت کی طرح مشرف دور جرنیلوں کو تعویز بنا کر گلے لگائے رکھتے تھے اور انہیں اپنا حاضر امام مانتے تھے۔ اوباما فطرتا ”چالاک تھے۔ کالج کے ٹپوڑیوں کی طرح بین الاقوامی محاذ پر دوسروں کو تھپڑ مار کر ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتے۔ ساتھی جرنیل ان کی ان ہی حرکات پر، ہم جماعت لڑکیوں کی طرح اس کڑک لونڈے کو“ ویری ناٹی ”کہہ کر منھ پر دوپٹہ گھسیٹ کر ہنستے تھے۔ ٹرمپ ایسے نہ تھے وہ اپنے پہلے دور میں نیٹو ایران، شام اور یورپین یونین جیسوں کو پہلے کس کر تھپڑ مارتے اور کہتے بھوتنی کے بھانجے، اپنے باپ سے نادرہ سے تصدیق شدہ نکاح نامہ طلب کرتے ہو۔ تمہاری یہ مجال۔ اس وجہ سے وہ ادارے اور افراد جنہوں نے اپنا ملازمت مالی مفادات اور مال بناؤ خوانچہ مختلف ممالک اور اداروں میں ٹانک رکھا ہوتا وہ سب ان سے نالاں رہتے تھے۔

انہیں سب سے پہلے اور رج کے برا بھلا کہنے والے ان کے اپنے فوجی ساتھی تھے۔ ان دغا باز چلبل پانڈوں کو انہوں نے اپنے دور صدارت میں بڑے عہدوں سے نوازا تھا۔ ٹرمپ کے ایام آخر میں تو ان جرنیلوں کے منھ میں جیسے انگارے بھر گئے تھے۔ وہ ہمارے کپتان کی طرح ٹرمپ کو بھی نابالغ رویوں کا مالک، صلاح و مشورے اور استفادے کی صلاحیت سے عاری اور متلون مزاج، لا ابالی مرد کہنے سے بھی باز نہ آئے۔

ٹرمپ کو پینٹاگون اور واشنگٹن کی بیورو کریسی پر اسی وجہ سے بہت غصہ ہے۔ ان میں سر فہرست تو ڈیفنس سیکرٹری میجر جنرل جان میٹس، جنرل جان کیلی، تھے ایک اور جان ایلن جو کہتے تھے۔ جن کا اصرار تھا ٹرمپ کا مذہبی ہونا ڈھکوسلا ہے۔ مزاروں پر سجدے ٹھوکنے سے بندہ مذہبی تھوڑی ہوجاتا ہے۔ ایک ایڈمرل جان ملن بھی ہوا کرتے تھے جو پاکستان بھی جنرل باجوے سے ملنے بہانے بہانے سے آتے تھے ان کا کہنا تھا دیکھو میں ٹینچ بھاٹا پنڈی جیسے ہارر فلم کے سیٹ جیسے علاقے میں بغیر گارڈز کے چلا جاتا ہوں اور یہ واشنگٹن کے Lafayette Square والے سینٹ جان چرچ جانا ہو تو کہتا جس طرح نریندر مودی والی زیڈ لیول سیکورٹی (بلڈی سویلینز کو دی جانے والی انت لیول کی سیکورٹی) یہ کہہ کر مانگتا ہے کہ راہول گاندھی تو جاپانی مارشل آرٹ Aikido میں بلیک بیلٹ ہے۔ کیا پتہ مجھے اکیلا پا کر حملہ کردے۔ مجھے بھی ویسی ہی سیکورٹی دو۔ آدھی سیون اپ بریگیڈ میرے ساتھ رکھو۔

پی ٹی آئی کے بدزبان میڈیا کی کوکھ میں پلے لونڈے لپاڑوں کا کہنا تھا کہ وہ جو ایک چاند چہرہ ستارہ آنکھوں والی بی بی کو تمغۂ حسن بلا کارکردگی دیا گیا تھا وہ بھی کسی کالے گورے ایڈمرل کے لب سے گرے چند الفاظ پسندیدگی کا اعتراف خوش دلی تھا۔ کپتان کے ایک معتمد مگر مرحوم ساتھی کی یہ مجال کہاں۔ اس مرحوم معصوم کی سانس تو ایک بدنام زمانہ ٹک ٹاکر کو وزیر اعظم ہاؤس کی چوتھی منزل کی لفٹ کے قریب دیکھ کر ہی خوشی سے پھول جاتی تھی۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کو برا کہنے والوں میں ایر فورس کے جنرل رچرڈ مائرس، لیون پناٹا اور چک ہیگل جو اس کے ڈیفنس سیکرٹری بھی تھے۔ ان کی ٹرمپ مخالفت ہر وقت نوک سناں پر رہی۔ یہ سابق فوجی سرگوشیاں کرتے تھے کہ ٹرمپ ہمیں آپس میں لڑاتا ہے، ہمارے سوئزرلینڈ، لندن آسٹریلیا اور بیلجیئم والے مال پر بری نگاہ ڈالتا ہے، ہماری ویڈیوز بھی لیک کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

ٹرمپ جب پہلی مرتبہ امریکہ کے پنتالیسویں صدر بن کر آئے تو انہیں بھی اپنی گلیمر بھری زندگی اور شو مین شپ کی وجہ کپتان کی طرح نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہنے کا شعور تو تھا۔ ان کی زندگی میں بھی بہت سی اذان عصر کے وقت روزہ توڑنے والی گلا لائیاں تھیں۔ ٹرمپ ہرچند کہ کپتان جیسے پیکر وجاہت تو نہ تھے کہ لگتا اسلام آباد کی طرح واشنگٹن میں بھی کوئی Greek god بھولے سے چلا آیا ہے پھر بھی مشرقی یورپ کی حسین مگر مالی ناآسودگی اور بڑے خوابوں کی ستائی مہوشان بے راہ رو ان کی طرف مادہ تیندوہ بن کر لپکتی تھیں۔

کپتان کی طرح ٹرمپ کو بھی یہ علم نہ تھا کہ واشنگٹن بھی اسلام آباد کی طرح بہت کوفہ مزاج شہر ہے۔ یہاں رات سازش سے لپٹ کر سوتی ہے اور دن فتنوں کی مانگ میں سیندور سجاتا ہے۔ تاجر اور شو مین ٹرمپ کو کھلاڑی کپتان کی طرح یہ بھی علم نہ تھا کہ اس شہر عداوت میں بقول فراز

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں

سو ہر فوجی کو انہوں نے بھی اپنے اولین دور اقتدار میں اوباما کی طرح گلے لگایا اور دل پر چوٹ کھائی۔ چوٹ لگے جب دیر ہوئی اور دل نے احساس دلایا تو یاد آیا کہ وہ سب فوجی وزارت خارجہ کے مشیر جیمز بولٹن، ان کے پرنسپل سیکرٹری ان کے اعظم خان جان کیلی اور سب سے بڑھ کر سکھنی نکی ہیلی یہ وہ بچھو تو جنہیں انہوں نے موتی چگا کر سونے کے پیالے میں پالا تھا۔ ان سب نے باجماعت باجوہ بن کر ڈسا۔

صدر ٹرمپ کا پہلا عرصۂ صدارت پورا ہوا سن 2020 کی بیس جنوری آئی تو وہاں وہائٹ ہاؤس میں تھانہ آب پارہ اسلام آباد سے کوئی ہیلی کاپٹر تو نہ آیا کہ ایس ایچ او بنی گالہ میں کہتا ”وے کپتانیا! اپنی پرانی گیند پکڑو، ڈائری اٹھاؤ، گھر جاؤ۔ بہت ہو گئی۔ سجنی سے کرو گے بہانہ کیا۔ نہ ہی اسلام آباد کی طرح واشنگٹن کی کورٹ کوئی سستی رکھیل تھی کہ رات کو بے بی ڈول نائیٹی پہن پہنے دروازے پاٹم پاٹ کھول کے نئے آنے والوں کی سہولت کاری کا دھندا سجائے۔ سو ٹرمپ کی رخصتی ویسے ہی ہوئی جیسے دہلی میں شرفاء کی بیٹیاں نہاری کھا کر نہار منھ کاہے کو بیاہی بدیس گاتے ہوئے رخصتی ہوا کرتی تھیں۔

آپ نے اگر ہمارا اس سلسلے کا پہلا مضمون ”ٹرمپ کی آمد مرحبا“ پڑھا ہے تو ہم نے عرض کیا تھا کہ اب کی دفعہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جو ٹیم آ رہی ہے ان میں چار باتیں بہت مشترک ہیں۔ باقی تین کا ذکر ہمارے اس مضمون میں پیش خدمت ہے۔

پہلی۔ اکثریت ڈالروں میں کروڑ پتی افراد کی ہے۔ یہ سب کے سب افراد صدر ٹرمپ کے وہ ساتھی ہیں جو۔ Anti Authority، Anti Bureaucaracy ہیں۔ ان کی دولت ان کے اپنے میرٹ، محنت، قابلیت اور ذہانت کا ثمر ہے۔ ان کے نزدیک بیوروکریسی تو اوسط درجے کے قابل مگر تحفظ کے مارے دیوار کے ساتھ لگ کر چلنے والی چھچھوندر جیسے افراد کا گروہ ہوس ناک ہوتا ہے۔ ان کی سوچ بھی ان کے نشست پر دھرے کولہوں کی طرح بوجھل اور ان کا دماغ اپنے جیسوں کے پیران بے خبر کے بنائے ضابطوں کے پولیو کا شکار ہوتی ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں۔

کراچی میں سیاسی مخالفت کا ایک کوفہ ایسے علاقے میں آباد تھا جسے پہلے تو لالو کھیت کہتے تھے۔ یہاں کہ ناعاقبت سیاسی خود کش بمباروں نے ایوب بھٹو بے نظیر کس کس کی ناک میں اپنی سرکار مخالف تحریکوں سے گرم ریت نہ بھری۔ نہ جانے کراچی کے لوگوں کو کیا سوجھی کہ مشرقی پنجاب کی ریاست کرنال کے ایک اوسط سے کم قابلیت کے پنجابی مہاجر وزیر اعظم کے محبت میں ان نے لالو کھیت کو لیاقت آباد بنالیا۔ جب تک وہ وزیر اعظم اللہ کو پیارے نہ ہوئے تھے لالو کھیت کبھی لیاقت آباد نہ کہلایا۔ لالو کھیت ہی رہا۔ یہ علاقہ ایم کیو ایم کی جنم بھومی ہے۔ یہاں افسری کے دنوں میں ہمیں یہ سہولت تھی کہ جہاں چاہیں جا گھسیں جس سے چاہیں مل لیں۔ عمر شریف، غلام فرید صابری، شعیب خان، الطاف بھائی، بکی حنیف کیڈبری سب سے یہیں روز کا ملنا رہتا تھا۔ پرانے بوڑھے بوڑھیاں زندہ تھے سو رام پور، دہلی آگرہ اور فیض آباد کی اردو کا لہجہ اپنے شدھ رنگ میں سننے کو مل جاتا تھا۔ یہاں ایک محاورہ بہت دل چسپ سننے کو ملا۔ آپ بھی سنیں۔ اس سے ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی اینٹی نوکر شاہی اور اینٹی پینٹاگون پالیسی سمجھنے میں آسانی ہو گی

رانڈ کا سانڈ، سوداگر کا گھوڑا
کھائے بہت اور چلے تھوڑا
( رانڈ کا سانڈ بولے تو مالدار بیوہ کا پالکی بیل گاڑی اور ہل چلانے والا بیل)

ٹرمپ نے اپنی جو ٹیم جوڑی ہے یعنی ایلن مسک اور ویویک رام سوامی یہ ٹرمپ کا وہی اصلاحات کا پروگرام چلائیں گے جو واشنگٹن سے بیورو کریسی کی چربی کم کرنے کے لیے رمضانی روزوں کا کام کرے گا۔ ایسا ہی پروگرام کا پرفریب وعدہ لے کر نگران وزیر اعظم بننے کے سپنوں میں ناکامی پر کراچی کے ایک معاشی ڈاکٹر جو سی ایس پی تھے چلے آتے تھے۔ پاکستان میں ان کا عرصۂ ملازمت کل تین سے چار سال رہا مگر بیوروکریسی کی اصلاحات کا ڈھونگ ایسا رچاتے کہ لگتا سنگاپور والے لی کوان یو ان کے شاگرد رہے ہوں گے۔ وہ سندھ سرکار سے ایک پروگرام پکڑ کر امریکہ سدھار گئے۔ جب ان کے بیچ میٹ صدر لغاری صدر بنے تو انہوں نے اپنی سی ایس پی برہمن گیری کی بنیاد پر اپنی ساری ترقیاں یک جنبش قلم سمیٹیں اور پاکستان میں موج مارنے آ پہنچے۔ جب بھی کوئی نئی سرکار آتی سیدنا بیوروکریسی کی اصلاحات کے مشیر بن کر افسروں پر رعب جمانے آ جاتے تھے۔ تین سال مزے لوٹ کر وہ پھر سے نئی حکومت کے اعلان کے منتظر ہوتے تھے۔ کہا کرتے تھے شادی کی شیروانی بس ایک دفعہ پہنی اور نگران وزیر اعظم والی شیروانی، میرا وہ خواب پائمال ہے جو مسلم لیگ کے بڑوں نے دیکھا تھا۔ میرا یہ لباس فاخرہ ایوان وزیر اعظم میں پہن کر تقریر کرنے کا یہ ہڑکا یہ اس بد لحاظ کم بخت مادہ چیل کا شور ہے جسے سن کر سب چھت کی منڈیر اور درختوں کی طرف دیکھنے لگ جاتے ہیں۔

ہم یہاں ان چند افراد کا ذکر کرتے ہیں جو ٹرمپ کے ساتھ مملکت میں ان کی بیوروکریسی، پینٹا گون اور بین الاقوامی تعلقات میں Royal Rumble ( ٹی وی پر ریسلنگ کا وہ مقابلہ جس میں پہلوان جو ہات لگے اسے رنگ سے باہر پھینکتے ہیں ) مچانا چاہتے ہیں۔

ان سب کا خیال ہے کہ واشنگٹن ایسا پیٹ اور کولہے ہیں جس پر سیال کوٹ کی تیس سال سے اوپر کی چند مالدار خواتین کی طرح بے تحاشا چربی چڑھ گئی اور یہ چربی کچھ اور نہیں بلکہ خرگوش کی طرح ضرب در ضرب پیدا ہونے والی مفت خور بیوروکریسی ہے۔

اس ٹیم کے سرخیل ٹرمپ کی مہم کے سب سے بڑے سرمایہ کار دنیا کے سب سے مالدار شخص ایلان مسک کا تو کہنا ہی کیا۔ ہر کامیاب آدمی کی طرح اپنے والد سے نفرت اور والدہ سے بے تحاشا پیار کرتے ہیں اور بہت برق رفتاری سے مگر جدا سوچ کے مالک ہیں اور خطرات مول لینے سے قطعی نہیں گھبراتے۔ ان کا فزکس میں پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ ہوا تو تیسرے دن اعلان کیا کہ یہ پروگرام تو علم کا قبرستان ہے۔ یہاں ادراک اور عمل کو کوئی دخل نہیں۔ بھائی اور دوست کے ساتھ مل کر دو ایپ بنائیں اور تین سال میں یہ تینوں ڈالروں میں ارب پتی بن گئے۔

ایلان مسک کے اس مشن میں ساتھی ویویک راما سوامی ہیں۔ بھارتی ہندو نژاد والدین کے امریکن صاحبزادے۔ کمال کے آدمی ہیں بایو ٹیک اور قانون کی ڈگریاں گومل اور بہاول پور کی جامعات کی نہیں ییل اور ہارورڈ کی ہیں۔ پندرہ سال کی عمر سے دادا کے سالگرہ پر دیے ہوئے دو ہزار ڈالر کے تحفے سے وال اسٹریٹ کے اسٹاکس میں جا گھسے تھے۔ نہال ہو گئے۔ ان کی فرم کو biotech pioneer مانا جاتا ہے۔ ان کی موجودہ کمپنی Roivant Sciences کبھی ڈوب رہی تھی۔ اسے خرید کر انہوں نے ایڈوانس اسٹیج کی ادویات بنانے پر لگا دیا اور اب اس کا شمار امریکہ کے بڑے نہ سہی مگر بہت اسپیشل دوا ساز اداروں میں ہوتا ہے۔ نیشنل لیول کے ٹینس کھلاڑی اور نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ویویک جی ایک فلاسفی کے پیروکار ہیں جنہیں دین سے پرے بائیڈن کملا حارث کے جنسی بے راہ رو اور Gender Manipulative امریکہ میں ”دس۔ قدیم سچ“ کا پرچارک مانا جاتا ہے جیسے خدا سچائی ہے، جینڈر صرف دو ہیں۔ (فیس بک پر پچاس سے زائد جینڈرز میں سے کوئی ایک اپنانے کی اجازت ہے) انسانی کی مادی ترقی کے لیے fossil fuels۔ لازم ہیں۔

ان دو افراد کی ٹیم جو سرکاری محکموں میں چربی پگھلائے گی ان کے ایک پلان سے واشنگٹن میں کھلبلی مچی ہے۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں اسلام آباد کی طرح کون سا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے کہ نیوی کے دفاتر یہاں قائم کیے گئے ہیں اس طرح واشنگٹن میں محکمۂ کان کنی کیا رام لیلا سجا کر بیٹھا ہے۔ جاؤ جہاں سمندر ہے حوثی ہیں چینی بحریہ ہے، وہاں کھودو جہاں کان ہے۔ ان دو دوستوں کو ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل بجٹ میں سرکاری اخراجات اور فضول خرچی پر پابندی اور نوکر شاہی کی تعداد میں کٹوتی کا ایجنڈا ملا ہے۔

اس ضمن میں ایلان مسک کا آپ کو علم ہے کہ نہیں۔ جب ٹیوٹر جسے اب ایکس کہتے ہیں سن 2022، میں چوالیس بلین ڈالر کا خریدا تو سب سے پہلے اپنی خزانچی سمیت 75 % اسٹاف کو غیر ضروری جان کر گھر بھیج دیا۔ یہ اسٹاف ہر شعبے میں موجود تھا۔

ان کے علاوہ ایک وکیل صاحب ہیں کیش پٹیل، ان کی کتاب بھی ہے اس کا نام ہی Government Gangsters یعنی سرکاری بدمعاش ہے۔ یہ کتاب اپنے سرورق کی پشت پر دھڑلے سے ان ساٹھ لوگوں کا تذکرہ کرتی ہے جو ڈیپ اسٹیٹ کے سلیپر سیلز اور کارندے بن کر نوکری کرتے ہیں۔ یہ ڈیپ اسٹیٹ کے ایما پر سرکاری اداروں کی طاقت کو ان کے مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ان سے نمٹنا۔ ان کا ایجنڈا ہے سو محاسبہ بھی ٹرمپ سرکار کی سوچ میں غالب ہے۔

کیش پٹیل ان لوگوں میں سے ہیں جن کی تقرری کا مطلب کبوتروں میں کے دڑبے میں بلی کی آمد ہے۔ ایف بی آئی جس کا قیام سن 1908 میں عمل میں آیا۔ امریکہ میں فیڈرل لیول کی تحقیقاتی ایجنسی ہے اس وقت کل اڑتیس ہزار ملازمین پر مشتمل ہے جس میں آدھے واشنگٹن میں موجیں مارتے ہیں۔ ان کی بڑی اکثریت اس بلڈنگ میں بیٹھتی ہے جس کا نام ہوور بلڈنگ ہے اور جسے واشنگٹن کی بدصورت عمارتوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ پٹیل کا کہنا ہے کہ اس شہر میں اٹھارہ ہزار ایجنٹوں کا مفت کی روٹیاں توڑنے کے سوا کوئی کام اور نہیں۔ جہاں جرم وہاں قانون کے نافذ کرنے والے۔ سو انہیں فیلڈ میں ہونا چاہیے اور ان کا ارادہ اس عمارت کو ایک عجائب گھر میں بدلنے کا ہے۔ بہت سے نکتہ چیں انہیں سن 1924 میں تعینات ہونے والے ڈائریکٹر ہوور سے تشبیہ دے رہے ہیں جن نے سیاسی مخالفین کا ناک میں دم کیا تھا مگر مافیا سے ڈرتے تھے۔ انہیں بھی مخالفین کو بدنام کرنے والا مواد جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ کینیڈی برادران سے خاص دشمنی تھی اور خود کو عوامی اخلاقیات کا سب سے بڑا چمپیئن مانتے تھے۔ کیش پٹیل کے بارے میں یہ خیال تواتر سے پھیلایا جا رہا ہے کہ وہ ہوور اسٹائل سے ایف بی آئی کو ٹرمپ مخالفین کو کچلنے کے لیے چلائیں گے۔

ان دنوں ٹرمپ کی اس ٹیم پر بطور خاص اور ویسے عموماً یہ اعتراض ہو رہا ہے کہ یہ واحد کابینہ ہے جس کے ایک تہائی ممبر ہندو دھرم سے جڑے بھارتی پس منظر کے امریکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ کی کابینہ میں تلسی گے بارڈ ( اٹھارہ خفیہ ایجنسیوں کی مہارانی جو پیدا تو عیسائی ہوئی تھیں) کیش پٹیل، وویوک راما سوامی، ڈاکٹر جیانتا جے بھٹاچاری، اور ہرمیت کور ڈھلون جیسے اہم ہندو افراد شامل ہیں۔ اس میں ان کے نائب صدر وانس جو یہودی ہیں ان کی بیگم اوشا وانس ہیں۔ اس اعتراض میں صدر ٹرمپ کا وہ شدت پسند بیس فی صد عیسائی ووٹر بھی شامل ہے جنہیں آپ چھیڑ چھاڑ کے پیرائے میں Bible thumper بھی کہہ سکتے ہیں۔

یہ عجیب بات ہے کہ ان مخالفین کو صدارتی امیدوار کے طور پر کمالا حارث پر کوئی اعتراض یوں نہ تھا کہ انہیں کبھی مادھوری کے گانے ڈولا رے من ڈولا پر ناچتے، مندر آتے جاتے اور بندی سیندور لگاتے دیکھا نہ گیا۔ وہ ضد کر کے خود کو گورا بھی مانتی تھیں اور سیکولر بھی۔ ٹرمپ کے مخالفین کی وجہ سے ایک نئی سوچ نے جڑ پکڑی ہے کہ امریکہ پر ایک طرح سے Saffron invasion ہوا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں زعفرانی رنگ جسے بہار شریف میں بھگوا، راجھستان میں کیسریا کہا جاتا ہے ہندو دھرم میں وہی اہمیت رکھتا ہے جو اسلام میں سبز رنگ کی ہے، سادھو اس رنگ کا ون پیس سوٹ پہن کر پھرتے ہیں اور چشتی سلسلے میں وارثی بزرگ اسے کفن مان اوڑھے پھرتے ہیں۔ سناتھن (سچے) ہندو دھرم میں یہ سندھیا (غروب آفتاب) اور اگنی کا رنگ ہے جو نجات، طاقت اور قربانی کا رنگ ہے۔ امریکہ کی مالدار ترین اقلیتوں میں پہلے نمبر پر یہودی ہیں گو وہ اپنے آپ کو اقلیتوں میں شمار نہیں کرتے۔ ان کی دولت طاقت اور کنٹرول کی وجہ سے عیسائی ان کے آگے کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بعد ہندو ہیں۔ تائی وانی، چینی جاپانی اس کے بعد آتے ہیں مگر پاکستانی بھی ان کے فوراً بعد پانچویں نمبر پر دکھائی دیتے ہیں۔

ٹرمپ کی اس ٹیم میں موجود افراد کی ایک فعال اکثریت کے بارے میں باقی تین اہم نکات یہ ہیں

دوم: اب کی دفعہ یہ ٹیم قابل تو ہے ہی لیکن ان میں اکثریت اہل وفا اور جانثاروں پر مشتمل ہے۔ جس گردن توڑ (breakneck pace) سے ٹرمپ نے اپنی کابینہ چنی ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ ان کی ری پبلکن پارٹی کا ایک نیا روپ سامنے آ رہا ہے۔

اس دوسرے نقطے کو یوں سمجھیں کہ امریکہ کہ سولہویں صدر ابراہم لنکن نے اپنے انتخاب کے بعد اپنی ٹیم میں ان افراد کو شامل کیا تھا جو ان کے کٹر مخالف تھے ان ساتھیوں کی وجہ سے یہ کابینہTeam of Rivals کہلاتی تھی۔ اس میں ان کے مخالف سی وارڈ سمپسن سیکرٹری آف اسٹیٹ، چیز (Chase) وزارت خزانہ کے اور بیٹس ان کے اٹارنی جنرل لگائے گئے تھے۔ اس کارنامے کو لنکن کی جرات اور سیاسی مدبرانہ صلاحیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

لنکن کے برعکس ٹرمپ جو امریکہ کے سنتالیسویں صدر بنیں گے ان کی ٹیم کو جانثاروں کی ٹیم یا (Team of Loyalists) کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ اپنے پہلے دور سنہ 2016 میں ایک سیاسی نومولود تھے۔ انہیں واشنگٹن میں سیاست کی گھمن پھیریوں کا علم نہ تھا۔ جن لوگوں کو انہوں نے ساتھی چنا تھا وہ پرانے گرگ باراں دیدہ تھے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔ اختتام صدارت تک ٹرمپ نے جب کمین گاہ پر نظر دوڑائی تو اپنے ہی ساتھیوں سے ملاقات ہو گئی۔ اور بڑا دکھ دینو اپنے لکھن نے۔ ان پرانے ساتھیوں میں اکثریت فوجیوں کی تھی عمران خان کی طرح ٹرمپ کو بھی یہ دکھ بھرا ادراک ہوا کہ پردیسی اور فوجی کسی کے نہیں ہوتے۔ وقت آنے پر سب رشک قمر باجوہ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح مومن کو ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاسکتا اس طرح ٹرمپ نے بھی کسی دشمن سے پیار اور اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہیں مانگنی۔ اب کی دفعہ انہوں نے سمدھیوں اور وکلا میں دس سے زائد افراد کو اہم عہدوں کے لیے چنا ہے۔ سو غیر ملکیوں اور ٹرمپ دشمنوں کے لیے وقت دعا ہے اور کپتان کے لیے اپنے پرانے بزداروں کرکٹ میں منصور اختر اور سلیم جعفروں کو پرے ہٹانے کی چتاؤنی ہے۔

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

One thought on “ٹرمپ اور بھارتی امریکن

  • 06/01/2025 at 7:16 شام
    Permalink

    آپ نے لکھا:
    "صدر ٹرمپ کا پہلا عرصۂ صدارت پورا ہوا سن 2020 کی بیس جنوری آئی”۔

    اس تاریخ تک تو کووڈ کے کرونا کا مطلب "کرو- ناں” سے ہی لیا جاتا تھا۔ اور پھر کرونا کے دور میں ٹرمپ کے ڈرامے سب نے دیکھے تو صاحب حاجی ٹرمپ کا پہلا دور جنوری 2021 میں ختم ہوا تھا۔

    اعتراضات کچھ اور بھی ہیں مگر اس وقت تنگی وقت کا مسئلہ ہے ویسے بھی طنزیہ تحریر میں فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ غلطی سہواً ہوئی ہے یا جان بوجھ کر۔

Comments are closed.