جون ایلیا کی شاعری کا منظر نامہ


اُردو زبان میں ہر دور میں مشہور شعرا کی شخصیت کا طلسم رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں قلی قطب شاہ کے کلام کا ڈنکا بجتا تھا۔ انیسویں صدی میں میرؔ، غالبؔ اور آتشؔ و ناسخؔ کا چرچا رہا۔ بیسویں صدی میں فیضؔ و اقباؔل اور ناصرؔ و فرازؔ وغیرہ کی شہرت رہی۔ بیسویں صدی کے اواخر میں اور اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک نام تیزی سے اُبھر کر سامنے آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اُردو زبان بولنے، سمجھنے اور جاننے والوں کو اپنے منفرد موضوعات اور نکتہ بیانی سے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

یہ شخص جسے آج سوشل میڈیا جون بھائی/چچا جون/جون جانی کہتا ہے، ان کی شاعری چہار دانگ عالم میں ایسے مشہور ہے جیسے نو عمر لڑکے کے عشقیہ خط کا قصہ مشہور ہوتا ہے۔

جون ایلیا کی وجہ مقبولیت کا راز کیا ہے؟ جون ایلیا اتنے مشہور کیسے ہو گئے؟ جون ایلیا کی شاعری میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اسے پڑھنے، سننے اور شیئر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس طرح کے دیسوں سوالات جون ایلیا کے معاصرین اور اکیسویں صدی کے نمائندہ شعرا کے ذہن میں کلبلاتے رہتے ہیں۔

جون ایلیا نے اُردو غزل کو نئے موضوعات سے متعارف کروایا۔ جون کی شخصیت، شاعری، چلن اور اندازِ حیات میں کوئی فرق نہیں تھا۔ یہ شاعر سر تا پا شاعر تھا۔ اس شاعر نے شاعر کی حیثیت سے جنم لیا تھا اور خود کو عمر بھر شاعری کے لیے وقف بھی کیے رکھا۔ جون نے پہلا شعر جب کہا تھا تب اس کی عمر کوئی آٹھ برس رہی ہوگی۔ شعر دیکھیے، عمر دیکھیے، شعر کی تازگی اور ندرت بیان کی لطافت کو محسوس کیجیے۔

چاہ میں اُس کی طمانچے کھائے ہیں /دیکھ لو سُرخی مرے رخسار کی

جون ایلیا نے شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ شاعری اس کی واحد پہچان رہی۔ جون نے شاعری کے ذریعے جو عزت کمائی ہے وہ اس کی اپنی، اصلی اور میرٹ پر حاصل کی ہوئی ہے۔ جون نے سستی شہرت کے لیے کبھی مبالغہ، خوشامد اور بیک ڈور پالیسی کو اختیار نہیں کیا۔

یہ شاعر خود جانتا تھا کہ ایک دن اس کی شاعری کے سامعین اسے میسر آئیں گے جو اس کی شہرت کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ دبئی کے مشاعروں میں بال بکھرائے یہ شاعر جب سوز کے ساتھ شاعر پڑھتا تھا، روتا تھا، ماتھا پیٹتا تھا اور گریہ زاری کے انداز میں اپنی کہانی کے ختم ہونے کا ذکر کرتا تھا تو ان کے ہم عصر شعرا اس کی ان اداؤں کو پاگل پن اور لایعنی قرار دیتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ جون ایلیا نے مشاعرہ پڑھتے ہوئے جس طرح کی حرکات کی ہیں یہ محض سامعین کی توجہ مبذول کروانے کی غرض سے تھیں جس میں یہ کامیاب ٹھہرے۔ ایسا ممکن ہو سکتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص واقعی اپنی ذات کے سانحات و آلام میں اس قدر شکستہ پا ہو چکا تھا کہ اس کی ہر ادا، شکستگی حیات کا حوالہ بن گئی ہے۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھیے :

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے /ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا/ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
کون اس گھرکی دیکھ بھال کرے /روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں /کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
اور تو کیا تھا بیچنے کے لیے /اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

جون نے خود کو تباہ کر کے ملال نہ ہونے کا دعویٰ یوں تو نہیں کیا۔ جب یہ کہتا ہے کہ میں خون تھوکتا ہوں اور تم بھی خون تھوکتی ہو، یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی تو یقین جانیے یہ خوشی انسان کو تباہ کر ڈالنے کے لیے کافی تھی۔ جون ایلیا کی شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو، رائٹر ہیں، اپنے فن و کام میں ماہر ہیں اور اپنی ذات کی نرگسیت میں مبتلا بھی ہیں۔ جون کی وابستگی کا انداز دیکھیے۔

سوچتا ہوں کہ اُس کی یاد آخر/اب کسے رات بھر جگاتی ہے
بِن تمہارے کبھی نہیں آتی/کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

جون بڑے ذہن کا شاعر تھا جس نے قیامِ پاکستان سے پہلے کچھ خواب دیکھے تھے جن کی تعبیر کے لیے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دے کر امروہہ کا آبائی شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ آیا۔ جب اسے یہ پتہ چلا کہ یہ ملک تو آمروں کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہاں عام انسان کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں آزادی رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یہاں جو سچ بولے گا وہ دار پر ٹکا دیا جائے گا۔ یہاں جو سچائی کا گیت گائے وہ تختہ پر جھولتا رہ جائے گا۔ یہاں جو حق مانگے گا اُس کے پاؤں کاٹ دیے جائیں گے۔ جو شعور کی آگاہی دینے کی کوشش کرے گا اُسے تہ تیغ کرنے کے جملہ اسباب کام میں لائیں جائیں گے۔ جون ایسے حساس ذہن کے شاعر نے یہ حالات دیکھے تو اس کا دل بجھ گیا۔ اس شاعر نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا اور مدتوں گمنامی کی حالت میں شراب میں دھت خوفناک زندگی کے تصور سے لڑتا مرتا کراہتا رہا لیکن حالات سے سمجھوتہ اور اپنے لیے نافذ کیے ہوئے کرفیو نما قوانین کو توڑنا گوارا نہیں کیا۔

اب نہیں کوئی بات خطرے کی/اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
نہیں دُنیا کو جب پروا ہماری/تو پھر دُنیا کی پروا کیوں کریں ہم
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں /آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

جون کی خانگی زندگی پوری طرح ناکام و برباد ہو گئی۔ جس خاتون کو دل و جان سے چاہا گیا ہو، بیچ رستے چھوڑ کر چلی جائے تو انسان جیتے جی مر جاتا ہے۔ جون نے اس صدمے سے خود کو تباہ کرنے اور حسبِ خواہش خود کو روند ڈالنے کی پوری کوشش کی۔ یاسیت و قنوطیت اس شخص کا معتکف کیے رہتی۔

ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں /اپنی حالت تباہ کی جائے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا/یاد کا سارا سرو ساماں جلاتے جائیے
یہ بہت غم کی بات ہو شاید/ اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں میں

یہ نہیں کہ اس شاعر نے محض شاعری کی اور خون تھوکا۔ اس شاعر نے دُنیا کی دسیوں زبانوں کے ادب کو پڑھا۔ اس شخص نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو اسے کتابوں کے درمیان علم و فہم کے دریاؤں کی سیرابی کرنے کی تربیت دی گئی۔ اسے یہ بتلایا کہ فلسفہ و منطق اور فکرو خیال ہی اصل شعور کی میراث ہے۔ روزی روٹی تو دوسرے اور تیسرے درجے کا عمل ہے جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ اس شخص نے جو کتاب ہاتھ لگی، اُسے چاٹ ڈالا، جو نکتہ ذہن میں آیا اُسے خواب سے تعبیر کیا، جو الجھاؤ خرد میں جھانکا، اُسے چٹکیوں میں سلجھا لیا۔ اس شخص نے عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، عبرانی اور جانے کون سی زبانوں کے علوم و فنون کو پڑھ ڈالا مگر دلی تسکین اور روحی راحت میسر نہ آ سکی۔ بے بسی اور لاچاری کی تشنگی ہمیشہ اسے ہونٹ کرتی رہی۔

شوق ہے اس دلِ درندہ کو/آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک/بات نہیں کہی گئی بات نہیں سُنی گئی
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں /یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے

جون ایلیا نے غزل کے مجموعی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر ڈالا۔ جون ایلیا کی وجہ شہرت سوشل میڈیا کو قرار دینا جون کے ساتھ نا انصافی ہے۔ جون کی شاعری میں اتنی طاقت اور لیاقت موجود ہے کہ یہ کسی بڑے بے رحم نقاد کے ہاں بھی اپنے وقار اور فن کے جملہ مباحث کے توازن کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جون ایلیا نے نثر لکھی تو اس جیسی کوئی نثر لکھنے والا ان کے ہم عصر میں نہ تھا۔ شاعری کی طرف آئے تو ایک دبستان کی بنیاد رکھ دی۔ جون ایلیا نے سہل ممتنع کی روایت کو خالصتاً مشرقی سماج کے تناظر میں برتا ہے۔ جون کے ہاں شاید ہی کوئی ایسا موضوع چھوٹ گیا ہو، جس پر جون نے طبع آزمائی نہ کی ہو۔ جون نے زندگی کو جس طرح دیکھا، پرکھا اور سہا، بعینہ وہی لکھ ڈالا۔

اُس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے /بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ/مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں /شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
آخری بات تم سے کہنا ہے /یاد رکھنا نہ تم کہا میرا

جون ایلیا کے ہاں سادگی، روانی، او ر روزمرہ و محاورہ کا برمحل استعمال ملتا ہے۔ جون نے تشبیہ و استعارے میں جدت پیدا کی۔ جون نے علامتوں کے کہنہ نظام کو ندرت و تازگی کے خودساختہ معیار پر پرکھا اور سینکڑؤں نئی علامات کا اضافہ کیا۔ جون کی غزل کی زبان سادہ اور آسان ہونے کے باوجود اپنے اندر حقیقت اور اصلیت کی گہری چھاپ لیے ہوئے ہے۔

چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر/اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی
جان من تیری بے نقابی نے /آج کتنے نقاب بیچے ہیں

جون کے ہاں ہر چیز پر سوال اُٹھایا گیا ہے۔ کیا، کیوں کیسے، کب سے شروع ہونے استفہامیہ مکالمے کو جون نے نئی شکل عطا کی ہے۔ جون نے کائنات کے جملہ نظام کے بارے میں فقرے تراشے ہیں۔ جون خدا کی بنائی ہوئی کائنات پر کہیں عدم دلچسپی اور کہیں غائر مشاقی کا عکس پیش کرتا ہے۔ جون کے ہاں نظریات و تصورات کی کہنہ تعاریفات میں متبدل عناصر کی پیش کش ملتی ہے۔ جون خود ایک فلسفہ کا نام ہے جس کی تفہیم جون ہی کی زبانی جون کی غزل میں مجسم حالت میں ملتی ہے۔

خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ/یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
یوں جو تکتا ہے آسماں کو تو/کوئی رہتا ہے آسماں میں کیا
میں سہوں کربِ زندگی کب تک/رہے آخر تری کمی کب تک

جون نے پاکستانی معاشرت، سیاست، تہذیب، اقدار اور جملہ انسانی حیات کے نظام کو چیلنج کیا ہے۔ جون کے ہاں آسانی سے کسی چیز کو قبول کرنے اور رد کرنے کا رویہ نہیں پایا جاتا۔ جون یہ چاہتے تھے کہ انسان کو اس کے تقویمی معیار پر رکھ کر دیکھا جائے اور اس کی بہ حیثیت انسان عزت کی جائے جس کا یہ مستحق ہے۔

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں /زمین کا بوجھ کیوں ہلکا کریں ہم
ہم کو ہرگز نہیں خدا منظور/ یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر/کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی

جون کے ساتھ زیادتی یہ ہوئی کہ اس کے کلام کو اس وقت کے معیاری رسائل و جرائد میں جگہ نہ مل سکی۔ جون کی جنونیت سر چڑھ کر بولتی تھی۔ جون کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔ زبان سے محبت اور شاعری سے بے انتہا لگاؤ نے انھیں غاؔلب کی طرح مطمئن کر دیا تھا کہ قرض کی مے پینے کے بعد بھی فاقہ مستی کے دن پھر کر رہیں گے۔ جون اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وہ اُردو غزل کی قدیم روایت کے جملہ شعری اسالیب کو بدل رہے ہیں اور اس کی نوک پلک سنوار کر آنے والے دور کے شعرا کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو/کچھ نہیں کوئی بد دُعا بھیجو
رکھو دیر و حرم کو اب مقفل/کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے
سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے /وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گے

مختصر یہ کہ جون ایلیا کو محض سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے توجہ نہیں مل رہی بلکہ ان کا کلام اس معیار کا ہے کہ ان کی شاعری پر تنقیدی نکتہ سے بات کی جائے۔ عہد ِ حاضر کے نقاد بھی اپنی طبیعت کے واقع ہوئے ہیں۔ یہ فیضؔ و راشد ؔاور مجید امجدؔ وغیرہ کی نظموں کے دیوانے ہیں۔ غزل کی طرف ان کا رجحان نسبتاً کم ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جون ایلیا پر دستاویزی تحقیق کے ساتھ اہل علم و ادب کی طرف سے سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکیسویں صدی کے منظر نامے پر اُردو غزل میں سرفہرست شعرا میں جون ایلیا کا نام نمایاں ہے۔

بے ستوں اک نواحی میں ہے شہر، دل کی/تیشہ انعام کریں اور کوئی فرہاد رکھیں

Facebook Comments HS