”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ


اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی حلقوں میں داد وصول کی۔

فکشن پر ان کی دسترس کے، پانچ ناول اور آٹھ ڈرامے دال ہیں۔ ان کی تحریروں کے دنیا کی بہترین زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ ان کے ناول ”سات آسمان“ کو اردو میں محمد عباس اور سید عرفان عرفی نے ترجمہ کیا ہے۔ محمد عباس کا تعلق جہلم سے ہے لیکن اس وقت وہ لاہور میں اردو کے استاد ہیں۔ ترجمہ نگاری کے ساتھ ساتھ وہ طبع زاد افسانے بھی تحریر کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ”متر شاہ بالو“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔

ہندی ادب سے محبت ان کا جنون ہے اور اس کا ثبوت ان کے ہندی سے اردو تراجم ہیں۔ سات آسمان سے قبل انھوں نے ”چھوٹے چھوٹے تاج محل“ اور ”پچھلی گرمیوں میں“ کے عنوان سے دو کتب اردو میں ترجمہ کی ہیں۔ محنت اور فکشن سے محبت ان کا جوہر ہے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں وہاں محمد عباس تشکیل پذیر ہوتا ہے۔ سید عرفان عرفی کا تعلق بھی جہلم کی سرزمین سے ہے لیکن ان کا مضمون صحافت ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ترجمہ نگاری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

”سات آسمان“ میں مصنف نے ساٹھ کی دہائی کے ایک ایسے گھرانے کی کہانی پیش کی ہے جو ترقی کے بجائے تنزلی کے سفر پر رواں ہے۔ کہانی کا راوی خاندان کی نئی نسل کا نوجوان ہے جو در حقیقت اپنے خاندان کی زوال پذیری کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ اس کے پُرکھے جو اپنے وقتوں کے با اثر جاگیردار تھے لیکن انھوں نے روایتی طریقوں سے دولت کمانے اور پُرتعیش زندگی گزارنے پر اکتفا کیا۔ انھوں نے خود کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔

بجائے اس کے کہ وہ خود کو ترقی اور جدت سے ہم آہنگ کرتے انھوں نے خاندانی سیاست پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ اس کے نتیجے میں خاندان معاشی طور پر خستہ حال ہو گیا۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کئی لوگوں کو اپنی ملازمت پہ رکھتے تھے اب وہ خود ملازمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ راوی کے اسلاف کی زندگیاں کنویں کے اس پانی کے مانند ہیں جو ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے۔ دریا کے پانی کے بر عکس نہ وہ محوِ سفر ہے اور نہ ہی اس میں روانی ہے۔

ناول میں ایک ایسے ہی کنویں کا ذکر موجود ہے جس کا پانی اگر کوئی مسافر یا اجنبی پی لے تو وہ وہیں کا ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ناول میں ابو صاحب کا کردار ہے جو راوی کے دادا کا بچپن کا دوست ہے جو لکھنو سے کلکتہ جاتے ہوئے اس کے دادا کے پاس مٹیا برج میں دن بھر کے لیے رکتا ہے اور پھر یہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ناول نگار نے اس کا خاکہ بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے جس میں مزاح بھی موجود ہے اور کردار کی ذات کے نہاں گوشوں سے پردے بھی اٹھتے جاتے ہیں۔

یہی انداز ان کا دیگر کرداروں کے بیان کے حوالے سے بھی ہے۔ مثلاً ابا میاں، جتن میاں، ، میر تقی، لکھو میاں، ستی، معتمدالدولہ اور ستن میاں کے کرداروں کو ، اس حوالے سے بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ناول میں منظر کشی اور شخصیت نگاری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ بعض مقامات پر عمارات اور مناظر کی تفصیل میں راوی اس باریک بینی سے کام لیتا ہے کہ کہانی کی رفتار انتہائی دھیمی پڑ جاتی ہے اور قاری کو اگلے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ناول کا وہ حصہ انتہائی دلچسپ ہے جس میں انیسویں صدی کے لکھنو کا حال بیان ہوا ہے جہاں معتمدالدولہ کے کردار کے ذریعے غازی الدین حیدر اور نصیر الدین حیدر کے دربار کی ریشہ دوانیاں سامنے لائی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں اودھ کی ریاست میں ریزیڈنٹ کی کتنی طاقت تھی اور ہر اہم فیصلہ انگریز کرتے تھے۔ ریاست لکھنو کے بادشاہ صرف ثقافتی اور تہذیبی سرگرمیوں تک محدود تھے۔ کٹھ پتلی بادشاہوں کی موجودگی میں ان کے ماتحت عہدوں پر موجود لوگ ان سے کہیں زیادہ با اثر اور دولت مند ہوتے جا رہے تھے۔

اس کی وجہ بادشاہوں کی سلطنت کے معاملات میں عدم دلچسپی اور اہل کاروں کی لوٹ کھسوٹ تھی۔ اس کی مثال ناول میں معتمد الدولہ کا کردار ہے۔ ناول کا مطالعہ بعض تاریخی حقائق سے بھی پردے اٹھا تا ہے، جیسے نصیر الدین حیدر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اس کی بیوی بادشاہ بیگم کی اولاد نہیں تھے بلکہ صبحِ دولت نامی ایک خواص کی اولاد تھے۔ بادشاہ بیگم نے اسے اپنی اولاد کی طرح ہی پالا پوسا تھا۔ ناول میں معتمدالدولہ کا کردار انتہائی چالاک، زیرک اور سیاسی چالوں میں ماہر ہے جس نے بادشاہ بیگم جیسی زیرک خاتون کی زندگی بھی اجیرن بنا رکھی ہے۔

انگریز جب اسے عہدے سے فارغ کرتے ہیں تو پھر بھی اس کے پاس اتنی دولت موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے لیے پر تعیش سفید کوٹھی رام نرائن سے خریدتا ہے۔ اپنی بیٹی کے لیے محل بنواتا ہے اور کافی ساری زمین خریدتا ہے۔ شاہی دربار سے بے عزت بے دخلی کے بعد بھی وہ تمام عمر کوشش کرتا رہتا ہے کہ اسے بادشاہ معاف کر دیں اور وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائے۔ معتمدالدولہ کا تعلق ناول کے راوی سے اس وقت جڑتا ہے جب وہ قاری پر منکشف کرتا ہے کہ معتمدالدولہ کی اولاد میں سے ہی اس کا ننھیالی خاندان ہے۔ اور گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیال میں وہ جس محل اور سفید کوٹھی میں رہتا ہے، وہ دراصل رام نرائن سے خریدی گئی، وہ کوٹھی ہے جسے معتمدالدولہ نے اپنے زمانے میں خریدا تھا جو اب کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے لیکن اس کی شان و شوکت اب بھی قائم ہے۔

اس کے بعد ناول کی کہانی تقسیم ہندوستان کے بعد کے زمانے میں منتقل ہو جاتی ہے جہاں راوی کا باپ زمینداری سے جڑا ہوا ہے لیکن دن بہ دن اس میں تنزلی آتی جا رہی ہے۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ جاگیرداری نظام کو زندہ رکھے لیکن ہر بار اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ کئی طرح کے کاروبار بھی کرتا ہے تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کی ساکھ برقرار رکھ سکے لیکن نتائج ہر بار اس کی توقع کے خلاف نکلتے ہیں۔ راوی اور اس کا بھائی شہر جاکر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور رزق کمانے کی خاطر ملازمتیں اختیار کر لیتے ہیں جو ان کے باپ کو پسند نہیں۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح وہ سلسلہ برقرار رہے جو اس کے پرکھوں سے چلا آ رہا ہے مگر وہ یہ سلسلہ قائم نہیں رکھ پاتا۔ اسی غم میں نڈھال ہو کر وہ جان دے دیتا ہے۔

ناول کے زیادہ تر کردار سنکی ہیں اور ایسی حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں جس سے انھیں نیم پاگل کہا جا سکتا ہے۔ دوسرا راوی کے اسلاف میں تقریباً ہر شخص ایسا ہے جس نے شادی اور اولاد ہونے کے باوجود رکھیل ڈال رکھی ہے جس پر وہ آمدن کا زیادہ تر حصہ خرچ کرتا ہے۔ اس کا علم اس کی اولاد اور بیوی کو ہوتا ہے لیکن وہ اس کا بُرا محسوس نہیں کرتے۔ انھیں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی رکھیل کی اولاد قانونی وارث بننے لگتی ہے۔

ایسا شاید اس زمانے میں رواج ہے یا لکھنو اور اس کے مضافات میں ایسا کرنا جاگیرداری اقدار میں شامل تھا۔ زیادہ تر کردار آمدن سے اخراجات بڑھنے کی صورت میں، قرض اٹھاتے ہیں اور پھر اس قرض کو چکانے کے لیے اپنی کوئی نہ کوئی قیمتی شے بیچ دیتے ہیں۔ ناول نگار یہ آشکار کرنا چاہتے ہیں کہ جاگیرداروں کا یہی شعار ہوتا ہے جو ان کی تنزلی اور گراوٹ کا باعث بنتا ہے۔

محمد عباس اور سید عرفان عرفی نے اصغر وجاہت کے اس ناول کو اردو روپ دے کر ، اردو قارئین کو ہندی ادب سے متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کا اردو دان طبقہ اس سے قبل ان سے واقف نہیں تھا کیوں کہ ان کی زیادہ تر تحریریں دیوناگری میں شائع ہوتی رہی ہیں اور یہاں اس رسم ِخط کو پڑھنے اور سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ امید ہے کہ اس طرح کی کاوشیں مستقبل میں بھی ہوتی رہیں گی تاکہ ہندی ادب اور اردو ادب کو قریب لایا جا سکے۔

Facebook Comments HS