میاں بیوی کا رشتہ دل سے قبول نہ کیا تو کیا؟


شادی ایک خوبصورت بندھن ہے۔ اس خوبصورت رشتے کو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لباس قرار دے کر خوبصورت ترین بنا دیا ہے۔

وہ تمہارے لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔ سورہ البقرہ

ایک دوسرے کے لیے لباس سے مراد یہ ہے کہ لباس باعث زینت و احترام ہے، گرم و سرد موسم سے بچاتا ہے، انسان کے بہت سے عیب چھپاتا ہے، خوشی کا باعث بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے باعث زینت و احترام ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر اس خوبصورت رشتے کو بدصورت بنایا جاتا ہے، جس کی کچھ وجوہات ہیں مثلاً:

☆ شادی پسند کی نہیں ہوئی۔
☆ شادی تو پسند کی ہوئی، مگر مزاج آشنا نہیں ہو سکے۔
☆ شوہر کو گلہ ہے کہ بیوی میرے گھر والوں کی خدمت نہیں کرتی۔
☆ بیوی کو گلہ ہے کہ شوہر میرے گھر والوں کی پروا نہیں کرتا بلکہ اپنے گھر والوں کی فکر زیادہ کرتا ہے۔
☆ مزاج آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بیوی شوہر اور شوہر بیوی کی پسند ناپسند کا خیال نہیں رکھتے۔

ایک دوسرے کے قریب رہیں، ایک دوسرے کے کو سنیں، دونوں اچھے سننے والے ہونے چاہئیں۔ یقیناً انہیں سننے سے ہی بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

فائدہ کیا ہو سکتا ہے؟

☆ میاں اور بیوی ایک دوسرے کا احترام کریں گے۔
☆ دونوں کی زندگی میں ٹھہراؤ اور مستقل مزاجی پیدا ہوگی۔
☆ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے۔
☆ دونوں کی توجہ گھر پر رہے گی۔
☆ دونوں ایک دوسرے کو جلد اور بہتر انداز میں سمجھ پائیں گے۔
☆ زندگی کا ہر رنگ خوبصورت محسوس ہو گا۔
☆ دونوں اپنے خاندانی، مالی، سماجی، اور دوسرے تمام معاملات ایک دوسرے کے ساتھ صلاح مشورے سے کریں گے۔

یاد رکھیں! زندگی بے حد خوبصورت ہے، اسے بدصورت نہ بنائیں۔ یہ زندگی آپ کی ہے، کوئی اور آپ کی زندگی کو خوبصورت نہیں بنا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو مختلف شکل، رنگ، طبیعت، ذہانت اور صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا۔ بالکل اسی طرح ہر شخص کا زندگی گزارنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ شادی کے بعد میاں بیوی نے ایک نئی نسل پیدا کرنی ہے۔ یہ نسل کے خوبصورت اور خوشگوار آغاز کا راز میاں بیوی کے خوبصورت اور خوشگوار رشتے میں ہے، یعنی نسل کے لیے کوئی مہنگا سودا نہیں۔ بچے خاندان میں پیدا ہوتے ہیں اور خاندان میں ہی تربیت کا کام بہترین انداز میں ہو سکتا ہے۔ بچے کے لیے خاندان اس کے ماں باپ ہیں۔ یعنی تربیت کی بہترین جگہ اس کا اپنا گھر ہے۔

گھر اسی وقت اچھی تربیت گاہ بنے گا جب میاں بیوی مل کر اس کو اچھا بنانے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ یہ اس وقت ہو گا جب میاں بیوی ایک دوسرے کے حلیف (ساتھی) بن کر رہیں گے نہ کہ حریف (دشمن) ۔ بنیادی طور پر میاں بیوی معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں، اسی ستون نے معاشرے کو مضبوط، باکردار، ہمدرد، مفید اور ہر دوسرے فرد کے لیے قابل قبول افراد مہیا کرنے ہیں، جو دراصل ان کی اولاد کی صورت میں ان کی تربیت گاہ میں موجود ہے۔ یہ تربیت گاہ اپنی ذات میں ایک ادارہ ہے اور اسے ایسا ادارہ ہونا چاہیے جیسا کہ بچوں کے تعلیمی ادارے، اساتذہ اور ان کی رہائشی جگہیں بہتر رہتی ہیں مگر ماں باپ نہیں۔

یہ تربیت گاہ، تربیت کی تمام ضرورتوں کا مجموعہ ہونی چاہیے۔ میاں بیوی میں اختلافات ناگزیر ہیں۔ ان اختلافات کو اختلاف، برائے اختلاف نہ لیں بلکہ اختلافِ رائے کے حالات مختلف ہوں گے اور اگر ان اختلافات کو اعتماد، محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا موزوں موقع تصور کر لیا جائے تو نہ صرف میاں بیوی کی اپنی زندگی سکون، خوش گوار احساس اور اطمینان سے بھر جائے گی بلکہ بچوں کی تربیت میں یہ صحتمند ماحول کا اضافہ ہو گا۔

نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے بالخصوص یہ ضروری ہو گا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت دیں۔ شادی شدہ زندگی صرف جسمانی تعلقات کا نام نہیں، جو ہمارے معاشرے میں عام ہے۔

معاشرے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صرف توقعات پوری ہونے کا نام نہیں اور زندگی کی مادی خواہشات کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف لوگوں کا ملاپ ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کے وقت زیادہ تر میاں، بیوی ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہوتے حتیٰ کہ محبت کی شادیاں کرنے والے بھی ایک دوسرے کو جذباتی حد تک جانتے ہوتے ہیں مگر عادت، طبیعت، غصے کے اظہار، عمل اور ردعمل جیسی اہم چیزوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ جب جذبات کی ہلکی سی چادر اترتی ہے، حقیقی چہرہ سامنے آنے پر اختلافات، ناپسندیدگی اور بعض حالات میں علیحدگی کا بیج علیحدگی کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جب شادی ہو جائے تو یہ کہ دوسروں کو بہتر انداز میں قبول اور برداشت کرنے کے فن سے آشنا ہوں۔ تبھی گھر صحیح معنوں میں آنے والے بچوں کے لیے اچھی تربیت گاہ بن سکے گا اور رشتہ دار بھی خوش رہیں گے۔ بچوں کی اچھی تربیت ہو سکے گی۔

اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ جلد بازی میں کیا گیا کوئی بھی کام اچھے نتائج نہیں دیتا۔ اگر نئے جوڑے میں شروع میں ہم آہنگی نہیں ہوگی، تعلقات اچھے نہیں بن سکیں گے تو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت دیں۔ وقت رشتوں کو مضبوط کر دیتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب بیوی شوہر کے کسی فیصلے پر اعتراض کرتی ہے یا اسے قبول نہیں کرتی تو شوہر بگڑ جاتا ہے، جس سے دونوں میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ بیوی کا خیال نہیں رکھتا جیسے رکھنا چاہیے۔ جب شوہر بیوی کے کسی فیصلے پر اعتراض کرتا ہے تو بیوی بگڑ جاتی ہے۔ اس سے بچنا بھی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک صاحب کی شادی کوئی پندرہ سال پہلے ہوئی۔ ایک سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے سے نوازا۔ دونوں کے تعلقات میں سرد مہری تھی۔ بیوی نے بہت مسائل پیدا کیے۔ شوہر نے ہر ممکن کوشش کی کہ معاملات ٹھیک رہیں۔ سلسلہ شب و روز کے بعد بالآخر علیحدگی ہو گئی مگر اس دوران دو بچے اور ہو گئے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں پورے معاشرے میں ہیں جن پر ایک الگ کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

میرج منیجمنٹ بہت اہم پہلو ہے مگر بدقسمتی سے اسے نظر انداز بھی کیا جاتا ہے۔ جتنا اچھا سسٹم ہو گا اولاد کی تربیت اتنی ہی اچھی ہوگی اور بہتر معاشرہ وجود میں آئے گا۔ معاشرہ دو بنیادوں پر قائم ہوتا ہے، ایک رسمی تعلیم جو تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے اور دوسری غیر رسمی تعلیم، جس کا سب سے بڑا مرکز خاندان اور والدین ہیں۔

میاں بیوی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنی اس ذمہ داری کو ضرور سمجھیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS