علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کے ساتھ ایک بات چیت (2)
قصہ اسلامیہ ہائی اسکول چنیوٹ کا
” چنیوٹ کی شیخ برادری کے ایک نومسلم رئیس نے اسلامیہ ہائی اسکول قائم کیا جو آگے چل کر ڈگری کالج بن گیا۔ شیخ برادری ہم جیسے غریب بچوں کی تعلیم میں سہولت کار تھے۔ و ہاں ایک ایسا واقعہ ہوا جو بڑا قابلِ غور ہے۔ ہم ہر سال فیس معافی کی درخواست دیتے تھے۔ ایک سال ایسا ہوا کہ ہماری فیسیں معاف نہیں ہوئیں۔ جھنگ اور بالخصوص چنیوٹ میں سادات کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ وہاں سنی العقیدہ محرم شریف کو عقیدت اور احترام سے تسلیم کرتے اور مناتے ہیں یہاں تک کہ ماتم کرتے اور ذوالجناح نکالتے ہیں! یہاں سے دو تعزیے سادات کے اور باقی تمام اہلِ سنت کے ہوتے ہیں۔ ہمارے جو یہ لوگ ہیں ان میں نشاط ٹیکسٹائل ملز کے مالک نشاط صاحب پڑھے لکھے آدمی تھے انہیں طلباء کی درخواستیں جانچنے کا فرض سونپا گیا۔ میرے نام سید احسن عمرانی سمیت سادات کے نام ایک طرف کروا دیے اور اپنے دستخط کر کے کارروائی مکمل کر دی۔ اس وقت عبدالمجید قصوری اسلامیہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ تب غربت بہت تھی۔ مجھ سمیت بہت سے سادات بچوں کے نام نہ تو فیس میں کمی اور نہ ہی فیس معافی میں آئے“ ۔
” جن کی درخواستیں رد ہوئیں وہ پریشان تھے لیکن ہیڈ ماسٹر سے پوچھیں کیسے؟ انہوں نے کہا کہ عمرانی کو آگے کر دو۔ مجھ میں شروع سے عادت تھی یا بزرگوں کی دین کہ جس کی بنا پر میں بے خوف ہیڈ ماسٹر صاحب کے چِق پڑے گول کمرے میں داخل ہوا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے پوچھا کیسے آئے؟ میں نے کہا کہ ہم سادات کی کیوں فیسیں معاف یا کم نہیں ہوئیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا میرا تو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ شیخوں نے جو فیس کم یا معاف کر کے بھیجی میں نے وہ سُنا دی! یہ حاجی صاحب سے معلوم کرو۔ پوچھا کہاں ملیں گے تو بتایا کہ اپنے ڈیرے پر ملیں گے۔ میں کچھ دیگر سادات بچوں کے ساتھ حاجی صاحب کے ڈیرے پر چلا گیا۔ ڈیرے پر چھوٹے موڑھے اور بڑی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ پانی کا چھِڑکاؤ ہو رہا تھا۔ ایک تخت بھی تھا جس پر شیخ صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا بیٹا کیسے آئے؟ میں نے سلام عرض کر کے کہا کہ ہم اسلامیہ ہائی اسکول کے چھٹی سے لے کر دسویں جماعت کے طلباء ہیں۔ چوں کہ ہمارے نام ہمیشہ سے منفرد رہے ہیں چنانچہ جہاں پر عباس، حسن، حسین، علی، غضنفر کا نام آیا انہیں فیس معافی سے محروم کر دیا گیا ہے“ ۔
” اللہ اکبر ایسے سنی کہاں ملیں گے؟ ساری بات اطمینان سے سننے کے بعد مجھ سے کہا کہ ہم پوری برادری مل کر اسکول چلا رہے ہیں۔ بیٹا اللہ تعالیٰ اور ہمارے پیغمبر ﷺ کے حکم کے مطابق سادات پر زکوٰۃ حرام ہے اس لئے میں نے آپ لوگوں کی فیسیں معاف نہیں کیں! میں نے کہا کیوں؟ جواب دیا کہ زکوٰۃ امت تو لے سکتی لیکن سادات نہیں! میں نے کہا کہ کیا ہمارے رسول ﷺ کو اپنی اولاد ( یعنی ہم طلبا ء ) سے کوئی پیار نہیں؟ اس پر حاجی صاحب کہنے لگے کہ پھر کیا کیا جائے تم بتا دو! میں نے کہا کہ ’خُمَس‘ کوئی چیز ہے؟ اس پر وہ ایک دم اُچھل پڑے اور کہا ’اوہ‘ اور مُنشی کو بلوا کر کہا کہ بالکل خُمس ہے! شاباش بیٹا تو نے خوب یاد کرا دیا! میں اپنی جیب سے آپ سب کی 50 فی صد فیس ادا کرتا ہوں اور تیری تمام فیس میری! ! تو نے صرف اسکول آنا ہے۔ پھر اسکول کے منشی کو لکھوایا کہ جب تک میں زندہ ہوں تیری وردی، جوتے، ٹوپی میرے کھاتے میں ہو گی۔ لہٰذا میں اور میرا چھوٹا بھائی افضال ہم دونوں کی فیسیں شیخوں کے ذمے اور میرا تو اس کے علاوہ تمام ہی خرچہ اُن کے ذمے ہو گیا“ ۔
میری اولاد
” علامہ صاحب آپ اپنی اولاد کے بارے میں بتایئے“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میری اولاد میں سب سے بڑا بیٹا ٹِرِپل ایم اے اور اردو میں پی ایچ ڈی تھا۔ انہوں نے خانوادہ حضرتِ میر انیس پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا تھا۔ وہ اپنی یہ ڈگری لینے بھی نہ پایا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا گیا۔ اس سے چھوٹا ایم اے سیاسیات ہے اور آج کل پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ڈپٹی ٹریژر ہے۔ اُس سے سات سال چھوٹی میری بیٹی قرۃ العین حیدر ہے جو آج کل چنیوٹ میں ہیڈ مسٹریس ہے۔ پھر سید محمد عدنان حیدر زیدی عرف کاکے شاہ ایم اے اور ہائی کورٹ میں وکیل ہے۔ جس طرح میرے والد صاحب نے میری شادی اپنے دوست کے ہاں کی تھی میں نے بھی اسی رِیت پر اس کی شادی اپنے دوست جاوید اقبال صاحب کی چھوٹی بیٹی سے کر دی۔ میں آج تک اپنی شادی سے سُکھی اور چَین میں ہوں۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ میرے بیٹے عدنان کو بھی سکون عطا فرمائے اور اس کو صاحبِ اولاد کرے“ ۔
شجروں کی تصدیق
” میں نے سنا ہے کہ لوگ آپ سے اپنے شجرے کی تصدیق کے لئے آتے ہیں۔ یہ بات کہاں تک درست ہے؟“ ۔
” ہاں یہ بات درست ہے۔ پنجاب میں ایک جگہ ’اُچ شریف‘ سادات کے شجروں کی تصدیق کے لئے مشہور ہے۔ یہ نقوی خاندان ہے۔ یہ تمام افراد بہاولپور کی طرف کے ہیں۔ اب اُن میں سے کچھ مُلتان آ گئے ہیں۔ چنیوٹ میں بھی ایک دو مزارات ہیں۔ مثلاً ساداتِ رجوعہ والے اور شاہ جیونے کے بھی نقوی ہیں۔ نقوی، بخاری بھی کہلاتے ہیں! نقوی بُخاری عرب سے آئے تھے! ۔
” میرا ایک دفتر انارکلی میں تھا جہاں احباب آتے تھے۔ جو کماتا احباب کو کھِلا دیتا۔ میری بیوی کی تنخواہ سے گھر چلتا تھا۔ میرے دفتر کے سامنے امامیہ مِشن کا دفتر تھا جہاں لکھنؤ کے رہنے والے مولانا مرتضیٰ حسین نے ایک شعبہ شادی بنایا تھا۔ اِن کے ساتھ محمد عباس صاحب بھی تھے۔ ان دونوں نے میرا نام تجویز کیا کہ عمرانی صاحب آپ تحقیق کر کے تصدیق کریں گے کہ فُلاں لڑکا سید اور فُلاں لڑکی سیدانی ہے! جب تک عمرانی صاحب دستخط نہیں کریں گے اس وقت تک رشتہ نہیں ہو گا“ ۔
” ہوا یوں کہ ایک روز وہاں ایک عورت اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے آئی۔ وہاں موجود کاظم علی گجراتی صاحب نے کہا کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ میری بیٹی سیدانی ہے شجرہ تو آپ کے پاس نہیں ہے۔ آپ اپنے شجرے کے لئے عمرانی صاحب سے رابطہ کیجئے۔ اب وہ عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میں سید زادی نہیں ہوں بلکہ طوائف محلے کی طوائف ہوں! میری بچی نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہے اور ایک سید زادے کو پسند کرتی اور وہ بھی اسے پسند کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے خاندان والے سید زادی ہی لیتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ بی بی آپ دیانت داری سے بتائیں کہ آپ کی بچی کیا کسی سید زادے کی اولاد ہے؟ وہ جنابِ غازی عباس کی قسم کھانے پر تیار ہو گئی کہ اس بچی کا باپ سید زادہ تھا۔ مجھے علم تھا کہ پنجاب کے سید زادے زیادہ تر نقوی ہیں، زیدی اور کاظمی کم ہیں۔ ان سے پہلے جو کاظمی ہیں وہ بری امام کاظمی ہیں۔ اس نے پوچھنے پر بتایا کہ جی ہاں اس بچی کے باپ نقوی تھے۔ پھر کہنے لگی کہ آپ کہیں تو بچی لے آؤں! میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں! میں نے ان کو راستہ دکھایا اور کہا کہ آپ ایسا کریں کہ اُچ شریف چلی جائیں۔ وہاں تین گھرانے ایسے ہیں جو ’مُہریں‘ لگاتے ہیں۔ کوئی 15000 ہزار کوئی 25000 تو کوئی 50000 ہزار میں نقوی بنا دیتا ہے“ ۔ وہ مہریں لگا دیں گے البتہ شجرہ آپ خود تیار کرا کر لے جائیں۔ اِس پر اُس خاتون نے کہا کہ آپ مہربانی فرما کر یہ شجرہ تیار کروا دیجئے۔ میں نے کہا کہ ہاں یہ کام میں کر دوں گا۔ اُس عورت نے کہیں سے ایک شجرہ لا کر دے دیا۔ اب وہ لڑکی سیدانی ہو گئی کیوں کہ اس کی ماں شجرے پر مہر لگوا لائی تھی ”۔
گفتگو میں وقفہ کرتے ہوئے علّامہ صاحب نے محنت سے بنایا ہوا اپنا شجرہ مجھے دِکھایا جو ایک بہت بڑے رول کی شکل میں تھا۔
ماجرا ایک پیر خانے کا
” شباب چوک کے پاس کسی نے ایک آستانہ بنایا اور اس پر علّامہ سید احسن عمرانی صاحب کا نام لکھ دیا جس کا آپ کو پتا ہی نہیں تھا۔ یہ کیا ماجرا ہے؟“ ۔
” میرا بیٹا ایک دن سمن آباد سے گزرا تو وہاں لکھا ہوا تھا سید کمال الدین زیدی و ترمذی کیتھلوی سید غلام حسنین کربلائی، پیر سید احسن عمرانی کا آستانہ۔ القابات سے دیوار بھری ہوئی تھی۔ وہ حیران ہوا کہ ہمارے بزرگوں کے نام کس نے لکھے؟ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہاں پیر محمد امین حاجی صاحب تعویذ دھاگہ کرتے ہیں۔ اور دیوار پر اپنے پیر و مُرشد کا خاندان لکھا ہوا ہے! میں نے کہا کہ مجھے کسی دن وہاں لے کر چلو! یوں وہ مجھے اُس آستانے پر لے گیا۔ واقعی دیوار پر وہی سب کچھ لکھا ہوا تھا۔ پھر ایک دن میرے دوست محمد انور علوی (م) میرے پاس آئے اور بتایا کہ کوئی محمد امین ہے میں نے اُسے کہا تھا کہ کچھ علم اور نام لینا ہے تو عمرانی سے لو وہ صحیح بندہ ہے۔ خیر! یوں ایک روز یہ محمد امین میرے پاس امام بارگاہ گلشنِ راوی میں پہنچ گیا۔ مجھے کہا کہ یہ معلومات اس نے پیر گامے شاہ اور میرے دوست محمد انور علوی سے لیں تھیں اور ساتھ ہی مجھے تلاش بھی کرتا رہا اور اب اپنے تعارفی کارڈ چھپوانا چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ کارڈ چھپوانے کی اجازت کے لئے تو آ گئے لیکن دیواروں پر میرے نام میری اجازت کے بغیر لکھوا دیے! کہنے لگے کہ میں تو محض ایک مستند نِسبت لینا چاہتا ہوں ؛ اپنے نام محمد امین کے ساتھ عمرانی لگانا چاہتا ہوں! یوں اس نے اس نام سے کارڈ چھپوا لئے۔ میں نے اُس کو کچھ چیزیں بتائیں جو میرے تایا نے مجھے بتائی تھیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہیں کچھ حاصل ہو جائے گا۔ محمد امین عامل تو پہلے ہی تھا اس نے یہ کر لیا اور اس سے بڑا فائدہ اُٹھایا“ ۔
” ارے! “ ۔ میں نے کہا۔
” جی ہاں پوچھو مت کہ اُس نے کیا کیا فائدے نہیں اُٹھائے! “
” میری تحقیق کے مطابق وہ دھر لیا گیا تھا۔ وہ پکڑا کس طرح گیا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” وہ پکڑا یوں گیا کہ اس نے اپنے ہاں آنے والی خواتین کے ساتھ واہیات حرکات کیں جس کی خبر مجھ تک بھی پہنچ گئی۔ میں نے محمد امین سے کہا کہ برائے مہربانی اب آپ میرا نام استعمال نہ کریں۔ تین چار سال کے بعد سنا کہ عامل موصوف جیل میں چھ سات مہینے اندر رہ کر آئے لیکن پھر اُن سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ پیر خانہ بھی بند ہو گیا۔ بھئی جب ایسے کام کیے جائیں پھر پیر خانے تو بند ہی ہوں گے“ ۔
ایک خوفناک قصّہ
” کسی خاتون نے لاہور کے اچھے علاقے میں مکان لیا، آپ سے کہا کہ برکت اور دعاء کے لئے آئیے۔ بہت اصرار پر جب گئے تو ایک دہشت ناک قصّہ ہوا؟ اس کے بارے میں بتائیے“ ۔
” ایسا ہوا کہ میں ایل ڈی اے کے اسٹینو، کمال نقوی کے ہاں گوجرانوالہ جاتا تھا جو ترقی کر کے ڈائریکٹر بھی ہوئے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے اپنے ہاں محفلِ مسالمہ میں بلوایا جہاں پہلا مسالمہ میری ہی صدارت میں ہوا مولانا فاروق حیدر مودودی اس کے مہمانِ خصوصی تھے یہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی علیہ رحمہ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ یہ نسلاً جعفری سید ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ مولانا فاروق حیدر مودودی کو جعفری صاحب کہا تو وہ ہکّا بکّا رہ گئے۔ مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ ہم جعفری ہیں؟ میں نے کہا کہ بس مجھے پتا ہے اس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں ہم جعفری ہیں۔ پھر مجھ سے اُن کا پیار اتنا بڑھا کہ جب وہاں جاتا ہوں تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بلکہ ان کے مریدین کہتے ہیں کہ نہ جانے یہ عمرانی صاحب کون ہیں جن کے سامنے ہمارے مولانا صاحب یوں کھڑے ہو جاتے ہیں“ ۔
” تو اس محفلِ مسالمہ میں گوجرانوالہ کینٹ کے ایک میجر صاحب بھی تھے۔ دوسرے مسالمے میں اُن میجر صاحب نے کہا کہ عمرانی صاحب! ہر ایک مرتبہ میری ترقی میں رُکاوٹ آ جاتی ہے۔ برائے مہربانی یہ رُکاوٹ تو ختم کروا دیجئے! میں نے کہا کہ اللہ رکاوٹیں کھولنے والا ہے۔ بندے میں کیا طاقت ہے۔ چوں کہ میں نے اللہ الصمد کا وظیفہ کیا ہوا ہے اور میرے نام کے عدد 134 ہیں اور 134 کا ’اللہ لصمد‘ ہے۔ یہ وظیفہ میرے تایا جی نے بتایا تھا۔ میں نے اُن صاحب کے نام سے اعداد نکالے اور کچھ دن انہیں کوئی چیز پڑھنے کو دی اور کہا کہ انشاء اللہ اِسی سال آپ لیفٹیننٹ کرنل ہو جائیں گے اللہ کی رضا سے وہ کرنل ہو گئے۔ اگلے سال جب میں گوجرانوالہ محفلِ مسالمہ میں گیا تو میجر صاحب کے لیفٹیننٹ کرنل کی ترقی کی بات وہاں بیٹھی عورتوں تک جا پہنچی۔ اُن میں سے ایک عورت نے سید کمال سے میرا پوچھا کہ لاہور میں کہاں ملوں گا؟ اُنہوں نے بتایا کہ وہ کوئی ڈیرہ لگائے نہیں بیٹھتے البتہ کوئی ان کے گھر چلا جائے تو چلا جائے۔ انہوں نے میرا پتہ بتا دیا“ ۔
” ایک روز یہ عورت وہاں امام بارگاہ میں میرا نام پوچھتے ہوئے آ گئی۔ اس وقت میرے ساتھ مولانا صبیح حیدر شیرازی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علماء کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کیا جا رہا تھا۔ اُس نے گوجرانوالہ میں لیفٹیننٹ کرنل بننے والے ان میجر صاحب کا حوالہ دیا۔ اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میری ایک پریشانی دور کر دیجئے، میں آپ کو اپنے گھر لے جانا چاہتی ہوں۔ اس کے بہت اصرار پر میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ موذن کاشف اور علّامہ سید صبیح حیدر شیرازی نے کہا کہ اس خاتون کی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لو جس کو وہ خود ڈرائیو کر رہی تھی“ ۔
” وہ اب مجھے لے کر چلی تو گھماتی ہی رہی۔ آخر کو شام کے وقت جب اندھیرا ہو گیا تو مجھے وہ ایک بہت بڑی کوٹھی میں لے گئی۔ داخل ہوتے ہی بائیں جانب ڈرائینگ روم اور سامنے برآمدہ تھا۔ مجھے وہاں بٹھایا گیا۔ چائے کے بعد کہنے لگی کہ آئیے میں آپ کو اپنا گھر دکھاتی ہوں۔ جب میں اُٹھ کر چلا تو دائیں جانب ایک گول مٹول سا لڑکا بیٹھا ہارمونیم یا کوئی ساز بجا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اب میرا بیڈروم دیکھئیے۔ یہ ایک اچھا خاصا بڑا کمرہ تھا۔ کہنے لگی کہ مسئلہ یہ ہے مجھے کبھی نیند آ جاتی ہے کبھی نہیں! میں نے پوچھا کہ آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ کہنے لگی کہ یہ میرا بچہ یتیم ہے اس کا باپ مر چکا ہے۔ جب اس نے یہ کہا کہ مر گیا ہے تو میں سکتے میں آ گیا۔ کہنے لگی کہ کیوں آپ کو کیا محسوس ہوا؟ میں نے کہا کہ کچھ نہیں میں تو ویسے ہی پوچھ رہا ہوں پھر کہا کہ اب آپ مجھے چھوڑ آئیں۔ کہنے لگی ابھی تو میں آپ کو اوپر کے کمرے دکھاؤں گی۔ میں نے یوں ہی ایک لمبا سانس لیا تو مجھے خون کی بو آئی کیوں کہ خون کبھی چھُپتا نہیں، چاہے وہ قتل ہو یا اسے وہاں مارنے کی کوشش کی گئی ہو! لہٰذا میں نے اس سے کہا کہ ہمارے نتھنے تیز ہوتے ہیں، مجھے سامنے کونے سے خون کی بُو آ رہی ہے۔ کہنے لگی کہ نہیں نہیں ایسی بات نہیں۔ لیکن میرا یہ کہنا ہی تھا کہ اُس کو پسینہ آ گیا“ ۔
” اوہ!“ ۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
” میں مولا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ مجھے کچھ نہیں آتا میں تو مورکھ ہوں“ ۔ علّامہ عمرانی صاحب نے نہایت ہی انکساری سے کام لیتے ہوئے مجھ سے کہا۔
” جی ہاں! پھر میں نے اس سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں ایسا ہوا ہے اس پر اس عورت نے کہا کہ ہاں! یہ بچہ ہے نا، اس کے باپ نے ایک دفعہ میرے گلے میں بجلی کی استری والی تار ڈال کر کھینچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کام اُلٹ ہو گیا“ ۔
” ارے! کیا اُلٹ ہو گیا؟“ بے ساختہ میں نے سوال کر ڈالا۔
” یہی بات میں نے بھی اُس سے پوچھی تو کہنے لگی کہ بجائے کہ وہ میرا گلا گھونٹتا، میں نے وہ تار اُس کے گلے میں ڈال دی پھر جب تار کو کھینچا تو اس کی ناک سے خون کی پچکاری دیوار پر گئی“ ۔
(جاری ہے )


