گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا پرانا؟


بہت پرانی بات ہے۔ ہماری عمر سات برس سے زیادہ نہ ہوگی۔ وہ زمانہ نسبتاً محفوظ تھا، جب بچے بے خوفی سے باہر کھیلتے اور گھر والے بنا خوف سے دہلے سکون سے باہر کھیلنے دیتے۔ ایک سہ پہر گھر کے باہر کھیلتے کھیلتے ہم نے خاصی دور سے اپنے ایک رشتہ دار کو اپنے گھر کی جانب آتے ہوئے دیکھا۔ جو ہمیشہ ہی ہمیں بہت پیار کرتے تھے۔ اُدھر انہیں آتا دیکھا اِدھر ہم تیزی سے اپنے گھر دوڑ پڑے۔ جلدی جلدی صابن سے منہ دھویا اور لپک کے چہرے پہ تبت ٹیلکم پاؤڈر، جس پر ایک خوش شکل عورت کی تصویر بنی ہوتی تھی، وافر مقدار میں تھوپ لیا۔ یوں اپنے طور ہم نے اپنی سانولی رنگت کو گورا کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ رشتے دار گھر پہنچے تو گلے سے لگاتے ہوئے پیار سے کہا، ”واہ آج تو ہماری مون (پیار کا نام) بڑی پیاری پیاری، گوری گوری لگ رہی ہے۔“ بات بھی درست تھی کہ ان کی بیٹی اور ہماری بہت اچھی دوست کا رنگ بہت شہابی تھا اور ہم سانولے۔ یہی نہیں ہم تو اپنی بہنوں کے مقابلے میں بھی قدرے سانولے تھے۔ اس طرح اس کا ادراک ہمیں بچپن سے ہی ہو چکا تھا کہ گوری رنگت اور قبولیت میں گہرا ناتا ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ بڑے ہوئے تو ہمیں شادی کے لیے کسی لڑکے کی اماں کے سامنے، لوازمات کے ساتھ چائے کی ٹرے پیش کرنے کی نوبت نہیں آئی کہ یہ ہمارے گھر کا طریقہ نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید آج ہم شادی شدہ نہ ہوتے۔ پھر اس پر بھی یقین آیا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو رنگت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے لہٰذا بقول شخصے ”ہم نپٹ گئے۔“

بات شادی کی آئی تو شادی بیاہ کے کچھ گانوں کے بول کیوں نہ دھرا لیے جائیں جو لڑکیاں بالیاں، ڈھولک کی تھاپ پہ، قطع نظر خود ان کی اپنی رنگت کے، گلے پھاڑ پھاڑ کے گاتی ہیں۔ ان میں برصغیر کے علاقائی قدیمی، شادی بیاہ کے سہاگ گیتوں کے علاوہ، بولی ووڈ، اور لولی وڈ کے فلمی گانے شامل ہیں۔ کچھ مکھڑے ملاحظہ فرمائیں۔

گورے رنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا
گوری کر کے سولہ سنگھار ہو جا چلنے کو تیار سجن تجھے لینے آئے
ہمارے انگنا میں تمھارا کیا کام ہے
جس کی بیوی کالی اس کی بھی بڑی شان ہے
چولہے پہ بیٹھا دو توے کا کیا کام ہے؟
گوری کر کے سولہ سنگھار، ہو جا چلنے کو تیار
سجن تجھے لینے آئے
گورے رنگ پہ تو اتنا گماں نہ کر
گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا
میں تو گیا مارا آ کے یہاں رے
گورے گورے او بانکے چھورے
کبھی میری گلی آیا کرو
یہ چاند سا روشن چہرہ
زلفوں کا رنگ سنہرا

پھر بات شادی پہ ہی نہیں رکتی، حاملیت کے زمانے میں عورتیں قرآنی آیات، دعائیں اور تعویزوں کے علاوہ وہ گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال کرتی ہیں کہ جس سے آنے والے کی رنگت شکم مادر میں ہی صاف ہو جائے، تاکہ جنم لینے والے کا روشن چہرہ سماجی توقعات کی آنکھ کو خیرہ کر دے۔ حتی کہ وہ خواتین بھی جو خاندانی گہری رنگت کی ہیں، کسی روحانی معجزے کی متمنی رہتی ہیں۔

رنگ پرستی کے حوالے سے بات شادی بیاہ اور بچہ کی پیدائش پہ ہی موقوف نہیں، اگر نظر دوڑائیں تو عام زندگی میں کی یہ رینج خاصی کشادہ ہے۔ جہاں رنگ کی بنیاد پہ فوقیت دی جاتی ہے اور وسائل کی فراہمی کا دائرہ جلد کی ہلکی رنگت پہ سمٹنے لگتا ہے وہ چاہے ملازمت ہو، تعلیم اور دوسری مراعات۔ اس طرح رنگ پرستی، ثقافت اور اقتصادیات کا بڑا گہرا گتھ جوڑ ہے۔

رنگ پرستی کے اس سماجی رویے کو کلرازم کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ جلد کی بنیاد پہ کالے کی نسبت گورے رنگ کو فوقیت۔ اور یہ رویہ دنیا میں عام اور قبولیت کے درجے پہ ہے۔

میں آج بھی امریکہ کے سیاہ فام جارج فلائیڈ کی امریکی پولیس کے ہاتھوں بے بس موت کو نہیں بھول سکتی جس نے بیہمانہ سلوک کرنے والے سفید فام پولیس سے یہ کہتے ہوئے جان دے دی کہ ”میرا دم گھٹ رہا ہے۔“

اس کی ہلاکت نے مجھے مجبور کیا کہ میں غلامی اور رنگ پرستی کے موضوع پہ ایک مضمون لکھوں جو میرا تعزیت نامہ اور انسانیت کو پرسہ تھا۔ لیکن اس تفریقی رویہ کی جڑیں گہری ہیں۔ اور بات امریکہ میں غلامی کی غرض سے افریقہ اور دوسرے علاقوں سے لائے گئے سیاہ فام غلاموں تک ہی محدود نہیں۔ یہ برتری اداروں کی سطح پہ نسلی تفریق اور رنگ پرستی کا ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق سوچ کے جارج فلائیڈ کی طرح میرا بھی دم کاٹنے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے جلد کی رنگت نے آج دنیا کو واضح طور پہ تقسیم کر دیا ہے۔

دنیا کے اور خطوں کی طرح برصغیر پاک و ہند کی تاریخ بھی جلد کے مختلف رنگوں سے مرصع ہے۔ اور ہزاروں سال پہ محیط ہے۔ پاکستان برصغیر کی تقسیم کا نتیجہ ہے لہٰذا پاکستان ہو یا ہندوستان یا جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک ہماری عمومی سوچ اور سماجی رویوں میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ بالخصوص گوری رنگت کی فوقیت کے حوالے سے۔

برصغیر جو صدیوں سے حملہ آوروں کا مسکن رہا ہے، وہاں ذات پات کی تقسیم کی بنیادیں قدیمی ہیں۔ جب 1500 قبل مسیح میں حملہ آور آریاؤں نے بطور مفتوح اپنا تسلط قائم کیا۔ مقامی آبادی کو جنوب میں پہاڑوں اور جنگلوں کی جانب دھکیل دیا اور اپنی جسمانی ظاہری شکل اور ہلکی رنگت بچانے کے لیے ذات پات کو آلہ کار بنایا۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے مذہب، پیشہ، سماجی رتبہ اور جلد کی رنگت کی بنیاد پہ درجہ بندی کی۔ ہلکی رنگت والے برہمن کو سب سے اونچے روحانی درجہ پہ فائز کیا اور سب سے نچلے درجے پہ ہاتھ سے کام کرنے والے غریب، شودر جو غریب اور گہری رنگت والے تھے۔ گہری رنگت والے باہر دھوپ کی تمازت میں میدانوں میں محنت کرتے جبکہ مراعات یافتہ گھروں میں ان سختیوں اور موسم کی شدت سے محفوظ رہتے۔ جلد پہ موسم کے ظاہری اثرات ہوتے تو سماجی تفریقی رویہ انسانی نفسیات پہ منفی طور پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ جبکہ دیکھا جائے تو ہندو مذہب کی قدیمی کتابوں میں کرشنا یا شیام دیوتا اور شیاما یا کالی دیوی کی وجہ سے رنگوں کو قبولیت حاصل تھی۔

آریائی حملوں کے بعد اور ہندوستان میں برطانوی تاج کا زیور بننے سے پہلے برصغیر پہ مغلوں نے حملہ کیا اور 1526 ء سے 1857 ء تک حکومت کی۔ ان حکمرانوں کی رنگت مقامی ہندوستانیوں کے مقابلے میں ہلکی تھی۔ پھر بحر ہند میں ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر حصوں میں افریقی غلاموں کی بڑھتی تجارت نے ذات پات کے نظام میں رنگت کی تفریق کی جڑیں مزید مضبوط ہوئیں۔ اس طرح آریائی، مغلوں اور پھر یورپی تجارتی کمپنیوں نے نوآبادیات اور استمراری قوتوں کے زور پہ مروج نسل پرستانہ نظام کو مزید فروغ دیا۔

جنوبی افریقہ اور شمالی امریکہ میں نسلی علیحدگی کے ساتھ سیاہ فام ہندوستانیوں کو ریستورانوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے پہ پابندی لگا کر رنگ کی تقسیم مزید گہری ہوئی۔ جس نے اگر ہندوستان میں برہمنوں نے نچلی ذات شودروں کو اعلی ثقافتی سطح تک بڑھنے سے روکا۔ تو امریکہ میں بھی اس تفریقی رویہ کی بنیاد پہ ترقی کے راستے میں رکاوٹیں حائل کیں۔

اس ضمن میں شرمناک قوانین مثلاً جم کروز لا اور قواعد کو لاگو کیا گیا مثلاً شمالی امریکہ میں افریقہ سے آنے والے غلاموں کی وجہ سے ایک قطرہ خون کا قانون تو 1662 ء تک رائج تھا جس کے تحت اگر کسی کے خاندان اور ابا و اجداد میں ایک بھی کالا ہے تو وہ کالا قرار دیا جائے گا۔ بلیو وین سوسائٹیز کے تحت ایسے کلب بنے جہاں کالی بستیوں میں نسبتاً ہلکی رنگت والے ایسے افریقی افراد کو ہی شامل کیا جاتا جن کی ہلکی رنگت کی بناء پہ نیلی رگیں واضح ہوں۔ اس کے علاوہ ایک پیپر بیگ ٹسٹ بھی رائج تھا۔ جسے چرچ اور نائٹ کلبوں میں داخل ہونے ہونے سے پہلے پاس کرنا ہوتا تھا۔ ان لوگوں کا داخلہ ممنوع تھا جن کی رنگت ہلکے براؤن بیگ سے زیادہ گہری ہوتی۔

یہ سب لکھتے ہوئے مجھے اپنا ایک ہلکی رنگت والا افریقی نژاد کلائنٹ یاد آ گیا جس کا المیہ یہ تھا کہ بچپن سے اسے ہلکی رنگت کی وجہ سے اسے کالی رنگت والے افریقی امریکیوں کی نفرت اور تشدد کا سامنا تھا۔ پھر میری ایک کولیگ نے بھی، جو نسبتاً ہلکی رنگت کی افریقن امریکی تھی، مجھے بتایا کہ اس کی مرحومہ ماں اس سے اس لیے برا سلوک کرتی تھی کیونکہ اس کی جلد کی رنگت ہلکی تھی۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس سائنسی دور میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری جلد کی رنگت کا تعلق ہمارے جسم میں بالخصوص ایک پگمنٹ میلینن melanin سے ہے۔ اگر ہم ایسے علاقے میں جہاں سورج کی روشنی اور الٹرا وائلیٹ شعاعیں کم ہیں وہاں رہنے والوں کی رنگت ہلکی ہوگی۔ لیکن اگر ہم خط استوا کے قریب علاقوں کے باسی ہیں تو جلد کی رنگت میلینن کی زیادتی کی وجہ سے گہری ہوگی۔ جو جلد کو سورج کی مضر رساں یو وی شعاؤں سے محفوظ رکھنے کا قدرتی عمل ہے۔ اس سادہ سی وجہ کو جان اور سمجھ لیا جائے کہ ہلکا رنگ اور نسل کی تفریق برتری کی علامت نہیں بلکہ قدرت کا مظہر ہے تو انسانوں کے درمیان تقسیم کا سلسلہ ختم ہو جائے۔

گو یہ ایک پرانی کہاوت ہے کہ گوری رنگت بہت سے عیب چھپا لیتی ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں فلم، ٹی وی اور دوسرے میڈیا میں فن کار کی قدر کے بجائے رنگ پرستی کی سیاست حاوی ہے۔ عموماً مرکزی کردار گوری رنگت والی ہیروئن اور ہیرو کے حصے میں آتے ہیں جبکہ باوجود فنکارانہ صلاحیت کے سائیڈ اور معمولی غیر اہم کردار گہری رنگت والوں کے حصے میں آتے ہیں۔ سمیرا پاٹل اور شبانہ اعظمی جیسی کامیابی قسمت سے ہی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کاسمیٹک کی صنعت میں بھی یہ کہاوت صادق آتی ہے۔ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی ملٹی بلین انڈسٹری ہے۔ رنگ اور چہرے کو دلکش بنانے کے لیے بلیچنگ پلز، کریم، اور پالرز ہیں۔

2024 ء میں ان کی مارکیٹ اکتیس اعشاریہ دو 31۔ 2 بلین تک پہنچ گئی تھی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس امتیازی سلوک کو عالمی سطح پہ چیلنج کیا جائے اور رنگ اور نسل پرستی کو ختم کیا جائے۔ اس کے لیے ہمیں این جی اوز اور با اثر شخصیات کو مہم کا حصہ بنانا ہو گا۔ عوامی سطح پہ آگہی کی غرض کے لیے تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری کی جائے۔ جس کے لیے یقیناً ملکی سطح پہ سماجی اور سیاسی تعاون درکار ہو گا۔ تاکہ پیغام کی تشہیر کا کام منظم انداز میں ہو سکے۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “گورے رنگ کا زمانہ، کبھی ہو گا پرانا؟

  • 28/01/2025 at 10:27 شام
    Permalink

    ویسے تو پنجابی فلموں کی اداکارہ انجمن کی چھوٹی بہن کا نام بھی گوری تھا۔
    جہاں تک ان گانوں کا تعلق ہے

    گوری کر کے سولہ سنگھار ہو جا چلنے کو تیار سجن تجھے لینے آئے
    یا
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا

    یہاں گوری کا مطلب "لڑکی” ہے جس کا کوئی بھی رنگ ہوسکتا ہے۔
    ہندو مت میں شیو کی بیوی رانی پاربتی کا نام بھی گوری تھا۔ اسی سے برصغیر کی بولی ٹھولی میں رانی یا لڑکی کو گوری بھی پکارتے ہیں اور اس کا رنگت سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسی طرح "گوریا” بھی شاعری اور گانوں میں آتا ہے یہ چڑیا ہے۔

    او گوری آ رے۔ تیرے آنے سے سج گئی ہمری یہ ٹوٹی پھوٹی ناؤ

    ضرب المثل میں لیکن ماننے والے عرصے سے یہ محاورہ بھی بول رہے ہیں۔
    جسے پِیا چاہے وہی سُہاگَن ۔۔۔ کیا سانولی کیا گوری
    یعنی شوہر یا مالک کی خوشی کا رنگت سے کوئی تعلق نہیں نلکہ "گن” یا کاموں سے ہے

    جہاں تک سفید چمڑی یا کالی چمڑی کے درمیان احساس کمتری یا برتری کا سوال ہے یہ چودہ سو پندرہ سو سال سے بھی پرانا مسئلہ ہے۔
    مسلمانوں کے آخری پیغمبر محمد ﷺ نے اپنے آخری مشہور خطاب میں ایک تاکید یہ بھی کی تھی کہ کسی گورے کو کالے یا کالے کو گورے پر رنگت کی وجہ سے فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔ تو ایک سچا مسلمان کبھی اس معاملے میں نہیں پڑے گا۔
    اسی خطاب میں یہ بھی تھا کہ عربی بولنے والے کو غیر عربی بولنے والے (یعنی عجمی) پر بھی کوئی فوقیت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ المیہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں صرف رنگت پر ہی تفاوت نہیں ہوتی بلکہ "گورے کی زبان انگریزی” بولنے والے کو بہتر اچھا اور طاقت ور سمجھا جاتا ہے اور باقی جائیں بھاڑ میں۔

    • 29/01/2025 at 12:15 صبح
      Permalink

      بہت شکریہ ۔ آپ نے اچھی معلومات فراہم کی۔ لیکن چونکہ کم الفاظ کی پابندی ہے لہٰذا سب لکھنا ممکن نہ تھا۔ بہت عنایت۔

    • 29/01/2025 at 8:10 صبح
      Permalink

      ایک بات جو رہ گئی آپ نے بہت محنت سے مواد جمع کرکے تحریر تراشی ہے۔ قابل ستائش۔

    • 29/01/2025 at 7:55 شام
      Permalink

      جی بہت شکریہ ۔ یہ ساری موضوعات محنت کے طلبگار ہے محض جذباتی تحریر سے کام نہیں چلنا چاہیے۔ تاریخی ثبوت بھی درکار ہیں اپنی بات کی سچائ کے لیے۔

Comments are closed.