نو کا مطلب نو ہوتا ہے
چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پی ٹی آئی کے دور میں ایک عظیم کارنامہ یونیورسٹی آف چکوال کے قیام کی شکل میں سر انجام دیا۔ راجہ یاسر کے دادا راجہ سرفراز خان نے چکوال میں 1949 میں کالج بنا کر خود کو امر کیا تھا۔ یونیورسٹی کا قیام بلاشبہ چکوال کی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ یہ یونیورسٹی جہاں ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرنے کی درسگاہ ہے وہاں چکوال کی تہذیب اور کلچر کا امین بھی اسے ہی بننا ہے۔ اس حوالے سے یہ نوزائیدہ درسگاہ قابلِ ستائش اقدامات کر رہی ہے۔ آئے روز یہاں کوئی نہ کوئی ادبی، علمی اور ثقافتی تقریب رونما ہوتی ہے۔
ہمارا معاشرہ چونکہ ایک گھٹن زدہ معاشرہ ہے۔ اور جنسی لحاظ سے تو یہ معاشرہ کسی پرلے درجے کی گھٹن اور فرسٹریشن کا شکار ہے۔ کچھ تو ہماری فرسودہ روایات ہیں اور اس پہ مستزاد سیکس ایجوکیشن کا سرے سے نہ ہونا ہے۔ یہاں سیکس جیسی بنیادی ضرورت اور مسئلے پر بات کرنا بھی ناممکن ہے۔ ایسے معاشرے جنسی درندگی کے واقعات، لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کے واقعات، لڑکیوں حتی کہ معصوم بچوں اور لڑکوں کے جنسی استحصال کے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ ایسے گھٹن زدہ معاشرے میں جہاں اتفاق یا مجبوری سے جوان مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں اور ان کو ایک ساتھ کافی وقت گزارنا پڑ جائے تو مردوں کے اس معاشرے میں جہاں عورت ایک نارمل انسان کی طرح زندگی نہیں گزار سکتی وہاں عورت کا جنسی استحصال اور اسے ہراساں کرنے کے واقعات عام ہوتے ہیں۔
یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جہاں مخلوط تعلیم ہو اور جہاں جنسی مایوسی (Sexual Frustration) کے شکار معاشرے کے نوجوان جوانی کی سیڑھی کے اولین زینوں پر قدم رکھ رہے ہوں وہاں ایسے دلخراش واقعات بھی اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو صرف اپنے ہم جماعت لڑکوں سے ہی جنسی استحصال کا خطرہ نہیں ہوتا بلکہ اساتذہ کے روپ میں بھی کچھ جنسی درندے نکلتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے بہت سے واقعات خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوتے۔
آٹھ فروری کو چکوال میں یونیورسٹی آف چکوال کی تئیس سالہ سابقہ طالبہ کو ہم جماعت طالب علم نے اپنے موبائل میں موجود تصاویر مٹانے کے بہانے گھر سے بلا کر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ تھانہ سٹی نے طالبہ کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔ متاثرہ طالبہ نے پولیس کو بتایا کہ کل 8 فروری کو ملزم جو کلر کہار کا رہائشی ہے اور متاثرہ طالبہ کا کلاس فیلو رہ چکا ہے، نے اسے کال کر کے کہا کہ چکوال آ جاؤ، میرے پاس جو تمہاری تصاویر ہیں وہ تمہارے سامنے ڈیلیٹ کردوں گا۔ ملزم نے دھمکی دی کہ اگر چکوال نہ آئی تو تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ متاثرہ طالبہ اپنی تصاویر وائرل ہونے کے ڈر کی وجہ سے چکوال شہر آ گئی۔ شہدا پارک سے ملزم نے طالبہ کو رکشے پر بٹھایا اور تلہ گنگ روڈ پر واقع اسلام آباد گیسٹ ہاؤس لے گیا جہاں ملزم نے طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور ساتھ دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ طالبہ کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا۔ ایک پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
سلام ہے اس لڑکی کو جو ہمت کر کے تھانے پہنچ گئی اور سلام ہے اس کے والدین کو جنہوں نے اس درندگی پر اپنی بیٹی کے کردار میں کیڑے نکالنے پر اس کا ساتھ دیا۔ کوئی جاہل باپ یا بھائی ہوتا تو جھوٹی غیرت و انا کی خاطر لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہوتا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایسے واقعات میں ہم متاثرہ شخص کا ساتھ دینے کی بجائے اس کو ہی اپنے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ لڑکی نے تصاویر کیوں دیں؟ لڑکے کے بلانے پر اسے ملنے کیوں گئی؟ پھر لڑکے کے ساتھ گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں کیوں گئی؟ اگر مقدمہ درج ہوا ہے تو یہ کوئی ذاتی عناد ہو گا؟ کوئی مجھے کہہ رہا ہے کہ خبر میں یونیورسٹی کا نام نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ یہ ایسا رویہ ہے جسے انگریزی میں Blaming the victim یعنی متاثرہ شخص کو الزام دینا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے کہ ایک ایسے سانحہ سے گزرنے والے شخص کو جس کی ساری زندگی اس سانحہ کی وجہ سے تباہ ہو جائے، اس کا کھل کر ساتھ دینے کی بجائے الٹا اسی کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جائے اور ملزم کو کچھ نہ کہا جائے اور نہ ہی ایسے واقعات کے سدِ باب کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ لڑکی نے تصاویر کیوں دیں۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ لڑکے نے تصاویر کیوں مانگیں؟ اور اگر اس بیچاری نے اس لڑکے کو انسان سمجھ کر تصاویر بھیج ہی دی ہیں تو اس نے اس کے اعتبار کا بھرم کیوں نہ رکھا؟ یا یہ کہنے کی ہمت کریں نا کہ ہم مرد اصل میں جنسی درندے ہیں جن پر ایک لڑکی کو کبھی بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے یہاں تھامس ہارڈی کے ناول کی سولہ سالہ بے بس ہیروئن ٹیس (Tess) یاد آتی ہے جب ایک غنڈہ اس کے ساتھ ریپ کر دیتا ہے اور وہ روتے ہوئے اپنی ماں کے پاس آتے ہی یہ کہہ اٹھتی ہے،
Why didn ’t you tell me there was danger in men-folk? Why didn‘ t you warn me?
کہ تم نے مجھے یہ کیوں نہیں بتایا کہ مردوں میں خطرہ ہوتا ہے، تم نے مجھے خبردار کیوں نہ کیا؟
جنسی زیادتی کی شکار عورت کو ہی الزام دینے اور اس کے کردار میں کیڑے ڈھونڈنے والوں سے کوئی یہ پوچھے کہ قصور کی سات سالہ زینب کا کیا قصور تھا جسے جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا؟ چکوال کے گاؤں سہگل آباد کی سات سالہ کومل شہزادی کا کیا جرم تھا جسے قتل کر کے اس کے چہرے کو درانتی سے چیرا گیا؟ چکوال کے مدرسے میں پڑھنے والے ان معصوم بچوں کا کیا گناہ تھا جن کو ان کے اپنے اساتذہ نے ہی ہوس کا نشانہ بنایا اور ان کے جسموں پر چاقو سے اپنے نام کندہ کرتے رہے؟ کیا پاکستانی مرد برقع پوش خواتین کا بھی اپنی آنکھوں سے ایکسرے نہیں کرتے؟ کیا پاکستان میں ہر سال چار سے پانچ ہزار عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے؟ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ قصور عورتوں اور معصوم بچوں کا نہیں قصور ہمارے معاشرے میں موجود جنسی درندوں کا ہے جو سات سال کی معصوم بچی کو بھی نہیں بخشتے۔
جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لڑکی نے پہلے تصاویر کیوں دیں، ان کو تب اس سانحے کا احساس ہو جب ان کی اپنی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا ہو۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ خبر کے ساتھ مجھے یونیورسٹی کا نام نہیں لکھنا چاہیے تھا کیونکہ متاثرہ لڑکی اور ملزم یونیورسٹی کے سابقہ طالب علم تھے نہ کہ موجودہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یونیورسٹی کا ذکر اس خبر کے ساتھ انتہائی ضروری تھا۔ وہ اس لیے کہ ایک یونیورسٹی اگر ریپسٹ پیدا کر رہی ہے اور اس کی فارغ التحصیل طالبات خود کو جنسی درندوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو پھر ایسی درسگاہ کے درس اور تربیت میں کوئی بہت بڑا نقص ہے۔ یونیورسٹی کا نام لکھنا اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ اپنے طلبا و طالبات کی تربیت کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات رونما نہ ہوں۔
جنسی زیادتی کے واقعات میں قومی میڈیا کے ایک بڑے حصے کا کردار اور خاص طور پر مقامی میڈیا کا کردار انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیر پیشہ ورانہ اور شرمناک ہوتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا نے ہر شخص کو فیس بکی صحافی بنا دیا ہے۔ ان موبائلی جنگجووں کو صحافت کی الف ب کا نہیں پتہ ہوتا اور لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ چکوال میں کل ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر ایک فیس بکی صحافی کے ہاتھ لگ گئی۔ اتفاق سے وہ صحافی بھی ایک خاتون ہیں اور اپنے اصلی نام کی بجائے خود کو ”بنتِ حوا“ لکھتی ہیں۔ پولیس سے ایف آئی آر کی کاپی لینا کون سا معرکہ ہوتا ہے؟ لیکن حوا کی اس بیٹی نے ایف آئی آر پر اپنے قلمی نام ”بنتِ حوا“ کی مہر لگائی اور ایف آئی آر کو مختلف وٹس ایپ گروپس میں بھیج دیا اور ساتھ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی اپنی ہی ہم جنس کو اس واقعہ کا قصور وار ٹھہرا دیا۔ اب ایف آئی آر میں نہ صرف متاثرہ لڑکی کا نام، ولدیت، پتہ اور موبائل نمبر لکھا ہوا ہے بلکہ ملزم کا نام بھی لکھا ہے۔ یہ فیس بکی صحافی یہ کارنامہ سر انجام دینے والی واحد ہستی نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں صحافیوں کی اکثریت جنسی زیادتی کے واقعات کو رپورٹ کرنے میں یہی چن چڑھاتے ہیں۔
صحافت کا بھیس اوڑھے ہوئے اس مخلوق کے لیے 2012 میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں ہونے والے ریپ (جس پر دہلی کرائمز کے نام سے ایک سیریز بھی بن چکی ہے جو نیٹ فلیکس پر موجود ہے ) پر میڈیا کی کوریج ایک سبق ہونا چاہیے۔ 16 دسمبر 2012 کو دہلی کی ایک بس میں ایک طالبہ جیوتی سنگھ کے ساتھ چھ درندوں نے جنسی درندگی کی۔ لوہے کے راڈ اندر ٹھونسے۔ جیوتی سنگھ سنگھا پور کے ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ پورا بھارت ہل گیا تھا۔ جنسی درندے کیفرِکردار تک پہنچے۔ جیوتی سنگھ کی زندگی پر تین فلمیں بنیں۔ جب تک اس کے والد نے اجازت نہ دی تب تک میڈیا نے جیوتی سنگھ کا اصلی نام نہ لکھا اور ”نربھایا“ ( نڈر) ، ”امانت“ ، ”دامنی“ (روشنی) اور ”India ’s Braveheart“ کے علامتی نام استعمال کیے۔ لیکن کل چکوال میں جنسی درندگی کا شکار ہونے والی ایک لڑکی کا نہ صرف اصلی نام بلکہ والد کا نام، گاؤں کا نام اور موبائل فون نمبر کسی مرد نے نہیں بلکہ ایک عورت نے سوشل میڈیا کے چوراہے پر لٹکا دیے ہیں۔ صحافت کا بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ جنسی زیادتی کے شکار افراد کی شناخت ظاہر نہ کی جائے کہ انہوں نے اس دھبے کے ساتھ اسی معاشرے میں زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ صحافت کا اصول تو یہ بھی ہے کہ ایسے واقعات میں ملزم کی شناخت بھی ظاہر نہ کی جائے کہ وہ ایک ملزم ہے نہ کہ مجرم اور ملزم تب تک بے گناہ تصور ہوتا ہے جب تک اس پر الزام ثابت نہ ہو جائے۔
آخر میں یونیورسٹی آف چکوال کی انتظامیہ سے دست بستہ گزارش ہے کہ جہاں جامعہ کے طلبا و طالبات کو جنسی تعلیم اور شعور دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں وہاں یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات دونوں کو 2016 میں آنے والی بھارتی فلم پنک لازمی دکھائی جائے اور بار بار دکھائی جائے تاکہ لڑکوں کی کھوپڑی میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اگر کوئی لڑکی آپ کے ساتھ کسی کمرے میں چلی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ سیکس کرنے کے لیے تیار ہے۔ نو کا مطلب نو ہے۔ اس فلم کو دیکھنے سے لڑکیوں کے دماغ میں بھی یہ بات نقش ہو جائے گی کہ اگر کوئی درندہ نو کہنے کے باوجود بھی آپ کو جنسی درندگی کا نشانہ بناتا ہے تو آپ نے اپنا معاملہ آسمانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا بلکہ انصاف کے حصول کے لیے مر مٹنا ہے۔ یہ فلم تو ہر پاکستانی مرد کو دیکھنی چاہیے۔


