نانیوں دادیوں کے تیرہ بچے اور بڑے حکیم صاحب


سوشل میڈیا کے ذریعے مشوروں اور ٹوٹکوں کا بھی ایک بیش بہا دریا بہتا رہتا ہے۔
اور ہمارے یہاں چونکہ عوام الناس ڈاکٹرز کے پاس جانے میں کافی مشکل محسوس کرتے ہیں یا شاید ڈرتے ہیں کہ کہ ڈاکٹر سوئی نہ لگا دے۔ اس لیے کوئی بیمار فرد خود سے بھی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہے تو اس کو اپنے مشوروں سے ضرور نوازتے ہیں سو فیصد کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے بہت دور رکھا جائے۔

حتیٰ کہ نسوانی و زچگی کے مسائل پر مبنی کالمز اور ویڈیوز پر بھی مرد حضرات ایسے ایسے کمنٹس کرتے ہیں کہ مجھے لگنے لگا ہے کہ پاکستان کا ہر بے چارہ مرد ایک دفعہ ضرور بچہ پیدا کر چکا ہے تب ہی وہ اتنے وثوق سے نہ صرف امثال بلکہ مشورے بھی دیتا ہے۔

ہماری دادیوں اور نانیوں اور اماؤں نے دس یا تیرہ بچے پیدا کیے ان کو تو کبھی کچھ نہیں ہوا بلکہ وہ تو آخری عمر تک چاق و چوبند رہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ آپ نے کبھی نانی دادی اور اماں سے پوچھا نہیں کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے کیونکہ معاشرے کی روایات اور ہماری خواتین کی فطری شرم و حیا اور کبھی حالات کے ستم ان کو یہ سب بتانے سے روکے رکھتے تھے۔

زچگی کے جڑے اتنے پیچیدہ مسائل ہیں تب ہی Gynecologist & Obstetricians
کا شعبہ وجود میں آیا اور زمانہ قدیم سے دائیاں اور مڈ وائف موجود تھیں۔ ان ہی پیچیدگیوں کا علاج اور بچاؤ کے مشورے دینا ہر ڈاکٹر کا فرض ہے لیکن لوگوں کا یہ کہنا کہ لڑکیوں کو بچے پیدا کرنے سے ڈرا رہی ہیں، انتہائی بودی دلیل ہے۔

پچھلے دنوں ایسے ہی کالم کے کمنٹس میں ایک دلچسپ مشورہ پڑھنے کو ملا کہ خواتین کو واک کرنی چاہیے۔ پڑھ کر پہلے ہنسی آئی پھر رونا۔ واک کرنے کے لئے سازگار ماحول تو بناؤ پہلے۔ ہر فرد واک کرتی ہوئی خواتین کو گھورنا، آوازے کسنا اور ان کے اردگرد ہی واک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

کچھ لوگ تو چاہتے ہیں کہ عبایہ پہن کر واک کی جائے، یعنی خود تو جراثیموں سے حفاظت کے لئے ماسک تک نہ پہنو لیکن گرم موسم میں خواتین برقعوں و چادروں میں واک کریں۔ اور ڈی ہائیڈریٹ ہو جائیں۔ کیسی نا انصافی ہے۔
کراچی سے لے کر اسلام آباد تک خواتین کے لئے واک کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

کراچی میں لاقانونیت کا راج ہے۔ شہر اقتدار میں فدویہ پچھلے ڈیڑھ برس سے مقیم ہے۔ اردگرد موجود خواتین اور یونیورسٹی کی طالبات مسائل بتاتی رہتی ہیں۔ نوبت یہاں تک بھی آئی کہ پولیس کی مدد بھی لینی پڑی۔ ہم مانتے ہیں کہ شہر اقتدار میں کچھ مقامات پر خواتین بہت آسانی سے واک کر لیتی ہیں لیکن باقی شہروں کی خواتین کیا کریں، ملک میں ایسے شہر بھی ہیں جہاں خواتین کو پارک تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ خواتین کہاں واک کریں؟ وہ خواتین کہاں جائیں جو دیہات، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں رہتی ہیں جن کی ہر وقت نگرانی کی جاتی ہے حتیٰ کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے وسائل اور اجازت نہیں ہے وہ کیا کریں؟

مشورے دینا بہت آسان ہے خود تو حضرات کے لئے ہر جگہ آسانی ہے، چند روز پیشتر آفیشل کام سے اسلام آباد سے تھوڑا آگے ایک چھوٹے شہر جانا ہوا، وہاں دیوار پر ایک جگہ لکھا دیکھا ”قبلہ بڑے حکیم صاحب“ ہر کمزوری کا شافی علاج، بے ساختہ منہ سے نکلا یہ یہاں بھی آ گئے ساتھ موجود کولیگ صاحبہ نے قہقہہ لگایا اور کہا یہ تو ہو گا ان کی ضرورت جو ہے۔ ضرورت تو ان ڈاکٹرز کی ہے جو جدید خطوط پر خلق خدا کا علاج کریں۔ ضرورت تو خاندانی منصوبہ بندی کی ہے تا کہ خواتین کو صحت کے مسائل نہ ہوں اور آنے والے بچے نہ صرف صحت مند ہوں بلکہ اس دنیا میں رہنے بسنے کے لئے ان کو بہترین خوراک اور توجہ ملے۔

دو ہزار پچیس شروع ہو چکا ہے اور دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے لیکن ہم ابھی تک یہ نہیں سیکھ سکے ہیں کہ سائنس کی ترقی سے کیسے استفادہ کیا جائے۔ اور خواتین کی عزت و احترام کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کیسے دی جائے۔ ہر شہر میں ایک ایسا پارک یا کم از کم ایک سڑک ہی ایسی بنا دی جائے جہاں وہ واک کر کے اپنی ماں، نانی اور دادی کی طرح صحتمند رہ سکیں۔

Facebook Comments HS