گوتم سے ملاقات
1979 میں ڈیڑھ سال کی انکوائری کے بعد مجھے لاہور کے ہنگامہ خیز شہر سے راول پنڈی اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ واشنگٹن کے ایک قبرستان جتنا بڑا ہے اور اس سے دگنا مردہ۔ اس شہر میں لوگ نہیں گریڈ رہتے ہیں اور ان کی قبروں کے بھی گریڈ ہوتے ہیں۔ میں اس شہر کے رومان پرور موسموں اور فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر خوش ہوتا اور ساتھ ہی یہاں رہنے والوں کی سماجی بدصورتی اور ذہنی معذوری پر افسوس کرتا۔ کئی سال میں اس شش و پنج میں رہا کہ ٹرانسفر تو ایک دنیاوی چیز ہے لیکن میرا اس شہر میں رہنے کا روحانی جواز کیا ہے، میرا مطلب ہے کوئی ڈیوائن ریشنال۔
ایک دن میں یہی سوچتے ہوئے مرگلہ روڈ سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری نظر سڑک کے کنارے کی دوسری طرف کھلے میدان میں ایک بودھی کے درخت پر پڑی۔ صدیوں پرانا، گھنا سایہ دار درخت کسی مہربان دیوتا کی طرح اپنے بازو کھولے دور تک پھیلا ہوا تھا۔ یک دم مجھے محسوس ہوا جیسے یہ درخت مجھے اپنی طرف بلا رہا ہو۔ میں نے گاڑی روکی اور اس درخت کی طرف چل پڑا، جوں جوں میرے قدم بڑھتے چلے جاتے مجھے لگتا میں ہر قدم کے ساتھ کئی صدیوں کا سفر طے کر رہا ہوں۔ درخت کے نیچے رک کر میں کافی دیر تک اس کی صدیوں پرانی جڑوں اور ہریالے پتوں کو دیکھتا رہا، اور پھر جیسے میرے کان میں کسی نے سرگوشی کی، ’تم اس پیڑ کے نیچے کھڑے ہو جس کے نیچے گوتم کو گیان ہوا تھا‘ ، ’اوہ یہ تو گوتم کا شہر ہے‘ میں نے سوچا ’لیکن اس پر چیلوں اور گدھوں نے قبضہ کر رکھا ہے، تکششلا اور جولیاں تو ہمارے تہذیبی ماخذ ہیں جو اسلام آباد کی مصنوعی چکا چوند میں نظر نہیں آتے۔ مجھے اس شہر میں رہنے کا جواز مل چکا تھا، میں یہاں گوتم کی تلاش میں آیا تھا گوتم جو ہر زمانے میں دوبارہ پیدا ہوتا ہے، جس کے ہزاروں جنم ہیں، اور وہ ہمیں کبھی بھی کسی شہر کسی بھی زمانے میں مل سکتا ہے۔ چنانچہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس شہر میں میری ملاقات گوتم سے ضرور ہوگی، لیکن‘ آپ کس سیکٹر میں رہتے ہیں؟ ، اوہ جی الیون؟ اوہ مائی گاڈ، ’کون سا گریڈ ہے آپ کا؟ ، سیونٹین؟ ایکسکیوز می، ان سے ملیے یہ جوائنٹ سیکرٹری ہیں، سیکرٹری کی جھانٹ، کیا ان کا کوئی اپنا نام نہیں؟ جی ہم تو ای سیون میں ہیں، اپ آئیں کبھی۔‘ بھن! بھن! بھن! اسلام آباد حرص و ہوس کی مٹھائی کا چھابڑا ہے جس پر مکھیاں بھنبھناتی رہتی ہیں، اس بھنبھناہٹ میں گوتم کی آواز کیسے سنائی دے؟
اسی زمانے میں میری پہلی ٹیلی فلم ’فنکار گلی‘ اسلام آباد میں ایک فلم فیسٹول میں دکھائی گئی۔
اخباروں میں بہت سے ریوو آئے لیکن ’دی نیشن‘ میں ایم انور کے نام سے چھپنے والے ایک رویو نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ یہ ریوو پڑھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب انگریزی اخباروں میں صفدر میر (زینو) محمد ادریس، عزیز صدیقی، اور ایسے ہی کئی اور لوگ بہت اعلی پائے کے ریویو لکھا کرتے تھے۔ میں حیران تھا کہ لکھنے والے نے فلم کو کس قدر باریکی سے دیکھا ہے، کہانی، کردار، ہر سین کا اتار چڑھاؤ، کیمرہ اینگلز، لائٹنگ، اور پھر انگریزی زبان میں ایک اپنا ہی الگ لہجہ، کمال ہے لگتا تھا کسی ماہر فلم نقاد نے اسے لکھا ہو۔ میں اسلام آباد کے اکثر صحافیوں کو جانتا تھا لیکن ایم انور کا نام میرے لیے اجنبی تھا۔ میں نے ادھر ادھر کچھ لوگوں سے پوچھا لیکن ایم انور کا کسی کو پتہ نہیں تھا، کچھ دنوں بعد میں اس بات کو بھول بھال گیا لیکن وہ تبصرہ میں نے سنبھال کر رکھ لیا۔
کچھ سال بعد جب میں نے منٹو کی کہانی ’نیا قانون‘ پرایک ڈرامہ بنایا تو اس کے نشر ہونے سے پہلے ٹی وی سٹیشن پر اس کے پری ویو کے لیے کچھ صحافیوں کو بلایا گیا۔ ڈرامے کے بعد چائے کا اہتمام تھا، میں اس دن ایک ایک کر کے سب صحافیوں سے ذاتی طور پر ملا لیکن ایک ہفتے بعد ’دی نیشن‘ میں ’نیا قانون‘ پر ایم انور کا بہت خوبصورت تبصرہ (اے کوایٹ پیس) A quiet piece پڑھ کر بہت حیرت ہوئی، اس لیے کہ اگر ایم انور کے نام کا کویٔ صحافی پری ویو میں موجود ہی نہیں تھا تو پھر اس قدر تفصیل سے لکھا گیا یہ تبصرہ کیسے چھپ گیا، ایسا تبصرہ تو ڈرامہ دیکھے بغیر لکھا ہی نہیں جاسکتا۔ اب میرے لیے ایم انور ایک معمہ بن چکے تھے۔
ایک دن شام کو جب کچھ دوست میرے گھر اپنی مستی میں بیٹھے تھے پاکستان آرٹ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل کا فون آیا، اس نے مجھے کونسل کے ایک پروگرام ’ڈائیلاگ اون آرٹ‘ پر آنے کی دعوت دی۔ یہ تقریب کسی مصور یا شاعر کے ساتھ منائی جاتی تھی جس میں اس سے سوال جواب بھی ہوتے تھے۔ میں ان دنوں کسی ایسی تقریب میں شامل نہیں ہوتا تھا، مجھے ویسے بھی آرٹ کونسلوں کی تقریبات مضحکہ خیز لگتی تھیں۔ لیکن میرے دوست فرخ یار نے کہا، ’نہیں ٓاپ کو جانا چاہیے، میں آپ کو خود وہاں لے کر جاؤں گا‘ ۔ میں نے عالم خمار میں کہہ دیا ’چلو چلتے ہیں، دیکھی جائے گی‘
جب ہم نیشنل کونسل اف آرٹس پہنچے تو ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اتفاق سے تقریب کے بعد سوال و جواب کے وقفے میں مجھ سے کچھ ناروا اور غیر مہذب گفتگو سرزد ہو گئی۔ ایک سوال کے جواب میں نے کہہ دیا کہ جتنے بھی سرکاری ثقافتی اور ادبی ادارے ہیں جیسے نیشنل کونسل آف آرٹس، لوک ورثہ، اکادمی ادبیات، سب کے سب کلچرل براتھلز یعنی ثقافتی قحبہ خانے ہیں اور ان کے کرتا دھرتا پمپس اف کلچر یعنی کلچر کے دلال ہیں۔ دوسرے دن صبح اٹھا تو مجھے گزشتہ شام کا واقعہ یاد آیا، جس پر مجھے خاصا افسوسں ہوا، سوچا باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن مجھے یہ دو باتیں نہیں کرنا چاہیے تھیں، میں نے صبح کا اخبار کھولا تو اس میں جمیل جامی صاحب کا بڑا اچھا کالم چھپا ہوا تھا اور اس میں کسی ایسی بات کا ذکر نہیں تھا جس کا مجھے خطرہ تھا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا لیکن ہفتے بعد جب اتوار کے روز ”ڈان ’اخبار کھولا تو اس میں {ایک ہیڈ لائن نے مجھے چونکا دیا، ’دس سپیک صہبائی‘ (Thus Spake Sehbai)۔
یہ کالم مشیر انور کے نام سے تھا اور اس کا آغاز اسی بات سے ہوا تھا کہ سرمد نے آرٹ کونسلوں کو ثقافتی قحبہ خانے اور ان کے کرتا دھرتائوں کو ثقافتی دلال کہا ہے، ’میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مشیر انور صاحب وہی پراسرار صحافی ایم انور ہیں جو اپنی سلیمانی ٹوپی پہنے وہاں موجود تھے۔ میں وہ کالم پڑھ کر بہت پریشان ہوا۔
میں نے اپنے دوست اشفاق سلیم مرزا صاحب کو فون کیا اور پوچھا کیا اپ مشیر انور صاحب کو جانتے ہیں، انہوں نے کہا ’بالکل، وہ تو میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔‘ میں کہا ’اور ایم انور؟‘ انہوں نے کہا اب وہ ایم انور کے نام سے نہیں لکھتے۔ میں کہا انہوں نے میرے کام کے بارے میں دو تین کالم لکھے ہیں لیکن میں نے کبھی ان کو اپنی کسی تقریب میں نہیں دیکھا۔ مرزا صاحب ہنس کر کہنے لگے، ’وہ پروگرام شروع ہونے کے چند منٹ بعد داخل ہوتے ہیں اور پروگرام کے اختتام سے چند منٹ پہلے غائب ہو جاتے، انہیں بعد کی چائے شائے اور لوگوں سے ”ہوں ہاں“ کرنے کا قطعی کوئی شوق نہیں۔ ‘ میں نے مرزا صاحب سے کالم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا وہ یہ کالم پڑھ چکے ہیں، میں نے کہا ’کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا، اپ ذرا ان سے بات کریں‘۔ انہوں نے پھر ہنس کر کہا، ’مشیر صاحب مشیر صاحب ہیں، ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا وہ اپنی مرضی سے لکھتے ہیں، انہیں کسی کی پروا نہیں‘۔ میں نے مرزا صاحب سے ان کا نمبر لیا اور ڈرتے ڈرتے انہیں خود فون کیا، سلام دعا کے بعد میں نے بڑے احترام سے کالم کی تعریف کی اور پھر دبی زبان ۔میں کہا ’سر مگر کلچرل قحبہ خانوں اور دلالوں کا ذکر نہ ہوتا تو شاید بہتر تھا‘ ۔ مشیر صاحب نے نہایت سخت لہجے میں کہا،
’بھئی بڑا صحیح کہا تم نے، یہ سب ہیں ہی بھڑوے، تمہارا یہ کہنا اور میرا یہ لکھنا ضروری تھا‘ میں بالکل خاموش ہو گیا۔ لیکن اس واقعے کے بعد میرے دل میں مشیر صاحب کو ملنے کی خواہش جاگ اٹھی۔
میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ اب جب بھی وہ مشیر صاحب کے گھر جائیں، مجھے ساتھ لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا، چلیں کل ہی چلتے ہیں۔ دوسرے دن میں مرزا صاحب کے ساتھ ان کے گھر گیا، واہ، کیا خوبصورت ملاقات تھی، کیا شام تھی۔ مشیر صاحب نے دروازے پر ہمارا والہانہ استقبال کیا۔ گھر کے اندر گئے تو یوں لگا جیسے کسی درویش کے حجرے میں داخل ہو گئے ہیں۔ مشیر صاحب بہت کم گو دکھائی دیے لیکن ان کے چہرے کے تاثرات ان کے الفاظ سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوئے۔ ان کی بیگم ملکہ حسن اخلاق کا ایک مجسمہ تھیں، ملنسار، خوش اخلاق، باوقار اور مہمان نواز، ایسی نفاست ایسی خوبصورتی میں نے کم ہی دیکھی ہے، انگریزی، فرانسیسی، اردو اور فارسی زبانوں اور ان کے ادب سے دلچسپی رکھنے والی ملکہ صرف نام کی ہی ملکہ نہیں تھیں، وہ مشرقی پنجاب میں نابھہ کے اعلی اور تہذیب یافتہ اشراف سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد ڈاکٹر قریشی لاہور میں جنرل فزیشن تھے۔
مشیر صاحب کی شادی محبت کی شادی تھی، ان کی جوانی کے زمانے میں مری ایک رومان پرور تفریح گاہ تھی جہاں لوگ اپنی گرمیاں گزارنے جاتے تھے، مری کے موسم، چمکیلے دن، سرمئی شامیں، پررونق ریسٹورانٹ، سیر کو جاتے خوش پوش نوجوان جوڑے اور دھند میں لپٹے گھروں کی چھتوں کو چھوتے بادل اس پہاڑی مقام کو ایک طلسمی شہر میں بدل دیتے تھے۔ مشیر صاحب اور ملکہ اسی مری میں ایک دوسرے کے ہمسائے تھے، اس دور میں محبت کا اظہار الفاظ سے نہیں ہوتا تھا، بس دور دور سے دیکھنا، کسی کے قدموں کی آہٹ سے دل کا دھڑک اٹھنا، کسی چوڑی کی کھنک سے ہزاروں نغمے پھوٹ پڑنا، کسی کی ہلکی سی مسکراہٹ سے کھل اٹھنا اور کسی کی انکھوں میں پل بھر جھانک کر عمر بھر ساتھ رہنے کا بندھن باندھ لینا۔ مشیر صاحب اور ملکہ نے یہیں مری میں ایک دوسرے کے ساتھ عمر بھر رہنے کا بندھن باندھ لیا تھا۔
اس شام ہم نے کافی دیر گپ شپ کی اور بعد میں بہت لذیذ کھانا کھایا۔ اب میرا مشیر صاحب کے گھر اور ان کا میرے گھر آنا جانا شروع ہو چکا تھا۔ اسلام آباد میں میری زندگی کی سب سے یادگار محفلیں مشیر صاحب کے دم قدم سے تھیں۔ مشیر صاحب کے بہت چاہنے والے تھے خاص طور پر ہمارے دوست، فرخ یار، حارث خلیق اور اشفاق سلیم مرزا، کچھ عرصہ بعد امیر جعفری بھی اس حلقے میں شامل ہو گئے، مشیر صاحب کی موجودگی اور ان کے مختصر سے فقرے ہمارے لیے ہزار گفتنیوں سے زیادہ قیمتی تھے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک ہلکی سی پرسکون مسکراہٹ رہتی، مشیر صاحب کی جوانی کا زمانہ راول پنڈی میں گزرا تھا، انہوں نے ایم اے گورڈن کالج سے کیا تھا۔ وہ بہت خوب پوٹھوہاری زبان جانتے اور سمجھتے تھے، امیر جعفری ان کو پوٹھوہاری میں دلچسپ واقعات سناتا جن سے وہ بہت لطف اٹھاتے۔ اب مشیر صاحب کے بیٹے خیام مشیر بھی ہم میں شامل ہو گئے، ہماری ملاقات خیام کے بیٹوں دانیال اور شیرو سے بھی ہوتیں جن سے مشیر صاحب بے حد پیار کرتے تھے۔ مشیر صاحب ہماری باتیں سنتے لیکن گفتگو میں بہت کم شامل ہوتے۔ انہوں نے زندگی کا جو حسن دیکھ رکھا تھا وہ ہم سب کے بحث مباحثوں سے زیادہ مسحورکن تھا، وہ اپنی اسی مستی میں اور ہم ان کی صحبت کے خمار میں مگن رہتے، ہمارے اور ان کے درمیان ایک نادیدہ سا تعلق تھا، ہم خاموش بھی بیٹھے رہتے تو ان سے ہمکلام رہتے۔ بس مشیر صاحب کی ہلکی سی مسکراہٹ سب کچھ کہہ جاتی۔ ’چھاپ تلک سب چھین لی مو سے نیناں لگائی کے‘۔ مشیر صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو ایک نظر میں آپ سے آپ کا دل ہی نہیں چھاپ تلک بھی چھین لیتے ہیں، چھاپ، تلک، یعنی انا، خود پسندی، تعصب، دینا داری۔ مجھے اس دوران خبر ہی نہ ہوئی کہ میں جس گوتم کو تلاش کر رہا تھا اس سے تو میری روز ہی ملاقات رہتی ہے۔
میں نے ان کو کبھی کسی سے بحث مباحثے میں الجھتے نہیں دیکھا، کوئی لاکھ انہیں کسی بحث میں الجھانا چاہے وہ اس کے جال میں نہیں آئیں گے،
ایک شام ہماری ایک خاتون دوست کے گھر کھانا تھا۔ صحافی، ادیب شاعر جمع تھے اور کچھ فیمنسٹس خواتین۔ کچھ دیر بعد سب میں ایک خوفناک بحث چھڑ گئی۔ لوگ چیخ چیخ کر ایک دوسرے سے سوال جواب کر رہے تھے۔ اس بحث کے دوران اچانک موسم نے انگڑائی لی، بادل کی گھن گرج سنائی دی، اور پھر یکایک بارش شروع ہو گئی، سارا ماحول بہت رومینٹک ہو گیا لیکن ہمارے سب دوست موسم سے بے خبر اونچی اونچی بے ہنگم گفتگو کرتے رہے۔ میں اور مشیر صاحب اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے اور ’مزے‘ میں تھے، اس بے ہنگم اور لایعنی بحث میں جب کویٔ سوال ہماری طرف اچھالتا ہم گانا گانا شروع کر دیتے، بھلا اس موسم میں کون پیٹرارکی، پدری نظام اور لبرل لیفٹ کی بکواس سن سکتا تھا۔
اس شام مجھے ایسے لگا جیسے مشیر صاحب کی جوانی واپس لوٹ آئی ہے، جیسے مشیر صاحب مری کی بارشوں میں اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بار بار کھڑکی سے جھانک رہے ہیں، محبوب جو چلمنوں کے پیچھے چھپا ہے
’چھپو نا چھپو نا او پیاری سجنیا، ہم سے چھپو نہ چھپو نا،
یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا، بھلانا۔‘
اس دن میں نے مشیر صاحب کے ساتھ پنکج ملک، سہگل اور کشور کمار کے کئی گانے گائے، مشیر صاحب لہک لہک کر میرے ساتھ گا رہے تھے، لگتا تھا بارش بھی ہمارے ساتھ گا رہی ہے۔
’وہ مراد آباد سے موت کے مونہہ سے نکل کر زندہ لاہور پہنچے تھے۔ جب ٹرین ان لوگوں کو جو پاکستان میں رہنا چاہتے تھے مراد آباد سے لے کر چلی تو اس کی رفتار میں ایک بے یقینی سی تھی جیسے وہ اپنی منزل پر کبھی نہ پہنچ سکے گی۔ راستے میں وہ کہیں کہیں ایسے رک جاتی جیے اپنا راستہ تلاش کر رہی ہو۔ وہ سٹیشن کی بجائے کسی گاؤں کے پاس رکتی جہاں دور دور تک جلے ہوئے مکان اور لہولہان لاشیں نظر آتیں اور کبھی وہ کسی سٹیشن سے بغیر رکے تیزرفتاری سے نکل جاتی جہاں انتقام سے بھرے سکھوں کے جتھے ٹرین کو روکنے کی کوشش کرتے تاکہ وہ سکھوں کے قتل کے بدلے میں ہم سب کو ذبح کرسکیں۔ (اے پیس آف مون)
مشیر صاحب کا خاندان تقسیم ہند کے بعد مراد آباد سے پاکستان آیا تھا، مشیر صاحب کے اندر جو حوادث اور کہانیاں چھپی ہوئی تھیں وہ ان کے انگریزی کے ناول A Piece of Moon میں ہمیں پڑھنے کو ملیں، یہ ناول ایک پوری نسل کی داستان ہے جو آزادی کے خواب لے کر ایک نئے ملک کی تلاش میں اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر ایک انجانے سفر پر نکلتی ہے۔ اس سفر میں کیا کیا مقام آتے ہیں، کیسے کیسے رشتے، خاندان اور شہر ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ہیں۔ کیسے یقین گمان میں اور خوابوں کا دریا سراب میں بدل جاتا ہے۔
’فٹ پاتھ پر بیٹھے فال نکالنے والے نے طوطے کی چونچ سے چھوٹا سا لفافہ نکالا جس میں سے ایک خاکی کاغذ برآٓمد ہوا۔ فال نکالنے والے نے عینک اپنی ناک پر سیدھی کی اور مولانا عبدالغفور کی فال پڑھنا شروع کی۔
’ طالب اس چیز کی طلب میں بے چین رہتا ہے جو اس کے اختیار میں نہیں۔
طوفان سورج نکلنے سے پہلے تھم جائے گا۔ لیکن
اس دوران کشتی میں سوار مسافر اپنا راستہ بھول جائیں گے۔
چند مسافر جو بچ جائیں گے، وہ
اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے
صرف یہ جاننے کے لیے کہ
ان کی منزل تبدیل ہو چکی ہے۔‘
عبدل غفور نے کہا ’یہ فال تو عین میرے حالات کے مطابق ہے۔ ماشا اللہ اپ نے اپنے طوطے کو خوب سدھا رکھا ہے۔ لیکن کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ یہ طوطا ہر بار بائیں طرف کا پانچواں لفافہ کیوں اٹھاتا ہے؟ ‘
’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ فال نکالنے والے نے کہا، ’اس لیے کہ تمام فالیں تاش کے پتوں کی طرح ہر روز پھینٹ دی جاتی ہیں۔ پانچویں لفافے سے ہر بار ایک نئی فال نکلے گی۔
’کیا ہمارا خدا بھی اسی طرح ہر روز آپ کی طرح لفافوں کو تاش کے پتوں کی طرح پھینٹ دیتا ہے؟‘
’ لگتا تو یہی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو دینا میں اتنی رونق کہاں سے آتی۔‘ فال نکالنے والے نے کہا۔ (اے پیس آف مون)
مشیر صاحب کا یہ ناول ان کی وفات سے کچھ دیر پہلے مکمل ہوا تھا لیکن میں نے اسے ان کی وفات کے بعد پڑھا، ایسا غضب کا ناول میں نے جنوبی ایشیا میں انگریزی لکھنے والوں میں کہیں نہیں پڑھا، مشیر صاحب نے انگریزی زبان کو اس کے نوآبادیاتی لہجے سے رہا کر دیا تھا، ناول انگریزی میں تھا لیکن لگتا تھا ہم اردو میں پڑھ رہے ہیں۔ تکنیک بھی بہت اوریجنل تھی۔ سارا ماحول ہندوستان پاکستان کا تھا، ایک سفر جس میں مصنف زندگی کے کڑے تجربوں سے گزرتا ہے۔ ایک خاندان کی کہانی، ہماری آپ کی اور ہمارے آبا و اجداد کی کہانی۔ دالانوں، چلمنوں اور پرندوں میں سانس لیتی ہوئی زندگی، آہستہ آہستہ وقت کے ہاتھوں مرتی ہوئی مٹتی ہوئی۔ خواب، جو آہستہ آہستہ چکنا چور ہونا شروع ہوتے ہیں، خوابوں کی یہ ٹوٹ پھوٹ مشیر صاحب کے اندر بھی ہو رہی تھی لیکن ان کے ٹوٹنے پھوٹنے کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔
کبھی کبھار وہ مجھ سے شعر سنانے کو کہتے، اور شعر سننے کے دوران روایتی طور پر کبھی داد نہ دیتے بس خاموش رہتے اور ایک پراسرار مسکراہٹ کے سوا کوئی رد عمل ظاہر نہ کرتے۔
میں نے ایک دن ایک غزل سنائی جس کا ایک شعر تھا
اپنے سینے میں لیے عمروں کی بے چینی کو
دوش پر چادرِ آرام اٹھائے رکھنا
یہ شعر پڑھتے ہی مجھے ان کے چہرے کی مدہم مسکراہٹ کی تہہ میں چھپا ایک عجیب کرب نظر آیا، وہ ایسا کیا کرب تھا جو ہمیں نظر نہیں آتا تھا
’اے مہاویر، اپنے چاروں طرف دیکھ، دنیا کیسے کیسے دکھوں میں گھری ہے۔ تو بتا تیرے چہرے پر یہ آنند بھری مسکراہٹ کہاں سے آتی ہے،
’سن انندہ! میرے اندر دُکھوں کی کروڑوں دنیائیں گردش کرتی ہیں۔ ان کی گردش اس قدر تیز ہے کہ تجھے ساکت دکھائی دیتی ہے،‘ (سدھارتا)
میں مشیر صاحب کو پہچان گیا تھا، مشیر صاحب ہی گوتم تھے جن کی تلاش میں میں اسلام آباد میں آیا تھا۔ وہی میرا روحانی جواز تھے۔
میرے لیے اب مشیر صاحب میرے مرشد بن چکے تھے، میں ان کا ہر کالم بڑی دلچسپی سے پڑھتا، انہوں نے بہت کمال کے کالم لکھے ہیں، کالم کے علاوہ انہوں نے نوبل یافتہ آیزک سنگر کا مشہور ناول A young man in search of love کا بھی اردو میں ’محبت کا متلاشی ایک نوجوان‘ کے نام سے ترجمہ کیا، ان کی تحریروں میں کہیں کوئی خانہ پری یا بھرتی کا لفظ نظر نہیں آتا، زبان کی تازگی الگ۔ اب میں کچھ لکھتا تو انہیں دکھاتا، وہ پڑھ کر کہتے ’بھئی بڑا صحیح لکھا ہے تم نے، مزہ آ گیا‘ ۔ میں نے ان کو اپنے انگریزی ناول کے بھی دو باب پڑھنے کو دیے۔ انہوں نے کہا، ’بھئی تمہاری نثر تو تمہاری شاعری سے بھی اچھی ہے۔‘ بس میرے لیے اتنی حوصلہ افزائی کافی تھی اس لیے کہ مشیر صاحب کی بات میرے لیے سب تبصروں اور تعریفوں سے بالا تر تھی۔ ایک دفعہ مجھے ہیرالڈ کے ایڈیٹر نے منٹو کی برسی پر کچھ لکھنے کو کہا، میں نے مشیر صاحب کو بتایا کہ میں سوچ رہا ہوں منٹو کے بارے میں ترقی پسند مصنفین کے حوالے سے لکھوں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے منٹو کو اپنے حلقے سے نکال دیا تھا کہنے لگے، سرمد یہ گھسا پٹا موضوع ہے، اس پر تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے‘، ان کا یہ کہنا میرے لیے چیلنج بن گیا، یعنی اب مجھے وہ لکھنا تھا جو پہلے کسی نے نہ لکھا ہو۔ میں نے کہا میں اپ کو لکھ کر دکھاؤں گا، پھر آپ بتایے گا، جب پڑھا تو کہا، بھئی تم نے تو ایک بالکل نیا اینگل نکالا ہے، میں نے پڑھا ہے، بڑا صحیح لکھا ہے تم نے، مزا آ گیا۔
کچھ سال بعد 2015 میں کلییرء میری بیوی کو امریکا کی ایک یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے بلایا گیا۔ ہم لوگ امریکا چلے گئے لیکن خیام سے ٹیلی فون پر بات ہوتی رہتی۔ اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ایک دن میں نے مشیر صاحب کی بیگم ملکہ کی وفات کی دلخراش خبر سنی، بہت صدمہ ہوا، یہ بھی خیال آیا کہ مشیر صاحب کا کیا حال ہوا ہو گا، ان پر کیا گزری ہوگی
ملکہ کے جانے کے بعد سارے گھر کی رونق ماند پڑ چکی تھی، مشیر صاحب کے لیے زندگی بے معنی ہو چکی تھی۔ مشیر صاحب ملکہ کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے دو مہینوں بعد اپنی پہلی اور آخری محبت سے جا ملے۔ محبت جس کا اختتام شاید موت کے بعد بھی ممکن نہیں۔
شکاری دو پرندوں کو آسمان پر ساتھ ساتھ اڑتے دیکھتا ہے۔ نشانہ باندھ کر بندوق چلاتا ہے، ایک پرندہ لہولہان ہو کر زمین پر گر جاتا ہے۔ شکاری رک جاتا ہے
’ اور وہ دوسرا پرندہ؟‘ شکاری کا دوست پوچھتا ہے
’اسے نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں، یہ خود زمین پر شکار ہونے کے لیے آئے گا،
’ کیوں؟‘
دوسرا پرندہ زمین پر اترتا ہے، شکاری بندوق چلاتے ہوئے کہتا ہے
’یہ جوڑا تھا۔‘ ۔ (موپساں )
مشیر صاحب کے بارے میں سوشل میڈٰیا اور اخباروں میں لوگوں کی تحریریں چھپ رہی تھیں لیکن میرا ان کے بارے میں کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا، میں اپنے جذبات کا اؓظہار کسی رسم کے سہارے بھی کر سکتا تھا لیکن میرے لیے مشیر صاحب کا جانا رسمی کلمات اور رسمی آداب سے ماورا تھا۔
مجھے لگتا تھا کہ اگر میں نے ان کے بارے میں کچھ لکھا تو میرا غم چھن جائے گا، ان کی یاد مدہم پڑ جائے گی اور وہ زخم جو ان کے بچھڑنے سے میرے دل کو لگا ہے مندمل ہو جائے گا، اور اگر زخم مندمل ہو جائے تو اس کا نشان مٹ جاتا ہے، زخم ہرا رہنا چاہیے جب تک کہ وہ داغ نہ بن جائے، داغ جو کبھی نہیں مٹتا، ہمارے جسم کا حصہ بن جاتا ہے، اب جب ان سے بچھڑے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں اور یہ زخم داٖغ بن چکا ہے مین ان کے بارے میں ایسے ہی بات کر سکتا ہوں جیسے میں کوی آپ بیتی سنا رہا ہوں، جیسے میں اس داغ کی سیاہی سے جو کچھ بھی لکھوں گا وہ مجھے میرا زخم یاد دلاتا رہے گا۔
مشیر اور ملکہ چلے گئے لیکن میرے لیے بہت پیارے تحفے چھوڑ گئے، خیام، اس کے بیٹے شیرو اور دانیال۔ خیام اور اس کی بیگم نے ہمیں آج تک ملکہ اور مشیر صاحب کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ میں جب بھی اسلام آباد جاتا ہوں خیام کے لیے جاتا ہوں۔ خیام کی شخصیت میں اس کے والدین کے سبھی گن، سبھی خوبیاں اور خوبصورتیاں مجسم ہو گئی ہیں، وہی شائستگی، خلوص محبت اور علم دوستی، وہی مہمان داری، وہی ذہانت اور وہی کشادہ دلی۔
مشیر صاحب کی وفات پر میں نے کوئی تعزیت نامہ یا مضمون یا نظم نہیں لکھی لیکن میں نے مشیر صاحب سے ملاقات کے بعد جو کچھ بھی لکھا وہ مشیر صاحب کے لیے تھا، اور اب بھی جو لکھتا ہوں وہ بھی ان کے لیے ہے، میں اس دن کے انتظار میں لکھتا رہوں گا جب وہ اپنی پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہیں گے، بھئی مزہ آ گیا، بڑا صحیح لکھا تم نے۔ ”





