پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی روایت
خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اسے بولنے اور سننے کا ہنر بھی عطا کیا، بولنے اور سننے کا تعلق کسی نہ کسی زبان سے ہوتا ہے جو ہر انسان بولتا یا سنتا ہے، کرہ ارض پر اس وقت اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں زبانیں لازمی بولی جاتی ہیں، کچھ زبانوں کو بولنے والے دستیاب نہیں رہے تو وہ معدوم ہو چکیں، کچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جنہیں سیکھنے کی خواہش دنیا بھر میں اب بھی موجود ہے، کسی ایک خطہ، علاقہ یا قبیلہ کی بولی والی زبان ضروری نہیں کہ دوسرے خطہ، علاقہ یا قبیلہ میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہو، کسی بھی خطہ، علاقہ یا قبیلہ کی زبان کو دوسروں علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے لئے قابل سمجھ بنانے کے لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے، ماہرین لسانیات یا مترجمین کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے، علوم و فنون کی کتابیں ترجمہ ہونے کے بعد کئی تحریکوں اور سائنسی ایجادات کی وجہ بنی ہیں، اسلامی دور کے سائنسدانوں کی لکھی گئی کتابوں کو ترجمہ کر کے یورپی دنیا نے سائنس اور طب کی دنیا میں متعدد انقلاب برپا کیے۔ کتاب مقدس قرآن مجید تو عربی سے دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے، دنیائے ادب کی بات کی جائے تو برطانوی، امریکی، جرمن اور روسی ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم دنیا بھر کی زبانوں میں دستیاب ہیں۔
مقامی اور علاقائی زبانوں کی بقا، وہاں کی ثقافت، تہذیب و تمدن اور زبان و ادب کا ورثہ محفوظ کرنے اور ان کی ترویج میں بھی ترجمہ نگاری اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر علاقے کا لوک ادب، ترجمہ سے آشنا ہو کر دیگر زبانیں جاننے والے افراد تک جب پہنچتا ہے تو اس خطے کے رسوم و رواج بھی ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں۔
پوٹھوہاری میں ترجمہ نگاری کی بات کریں تو اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے آغاز سے کسی نہ کسی شکل میں ترجمہ نگاری کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، اس ضمن میں دستیاب معلومات کے مطابق اولیت کا سہرا سید اختر امام رضوی کے سر سجتا ہے، پوٹھوہاری ترجمہ کی پہلی مطبوعہ کتاب 2003 ء میں انہی کی سامنے آئی تھی، مطبوعہ انفرادی شعری تراجم کی بات کریں تو حبیب شاہ بخاری نے جنوری 2000 میں قومی ترانہ کا پہلا انفرادی شعری ترجمہ کیا جو ان کے مطبوعہ کتابچے ”پوٹھوہاری قاعدہ“ میں شامل ہے، اس کے بعد متعدد نثری و شعری تراجم شائع ہوچکے ہیں جن میں ترجمہ قرآن پاک، سیرت رسول ﷺ، افسانوی اور شعری تراجم شامل ہیں، تعداد کی بات کریں تو اب تک (جنوری 2025 ) نثری تراجم کی 8 اور شعری تراجم کی 4 کتب منظر عام پر آ چکی ہیں، اور متعدد کتب اشاعت کے لئے تیاری کے مراحل میں ہیں، اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی رسالے ”ادبیات“ میں پوٹھوہاری شعراء اور افسانہ نگاروں کی نظموں اور افسانوں کے اردو تراجم تواتر سے شائع ہوتے رہتے ہیں، زیر نظر مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ 2025 تک پوٹھوہاری ترجمہ نگاری کے حوالے سے کی گئی انفرادی و اجتماعی کاوشوں کا احاطہ کیا جائے۔
٭مطبوعہ نثری تراجم٭
اختر امام رضوی نے سن 2003 ء میں انگریز مصنف ”ڈیوڈ ورنر“ کی کتاب کا ”پہلی طبی امداد“ کے نام سے پوٹھوہاری ترجمہ کیا، جسے سانجھ پبلشر راولپنڈی نے شائع کیا، سیرت رسول ﷺ پر پہلی پوٹھوہاری کتاب ”محمد رسول اللہ“ گندھارا ہندکو اکیڈمی پشاور سے 2019 ء میں شائع ہوئی، یہ کتاب توفیق الحکیم کی عربی کتاب محمد ﷺ کے عطیہ خلیل عرب کے اردو متن کا پوٹھوہاری ترجمہ ہے جسے سلطان محمود چشتی نے پوٹھوہاری کے قالب میں ڈھالا اور نگرانی کا فریضہ شیراز طاہر نے سرانجام دیا، قرآن کریم کے پوٹھوہاری تراجم کی بات کریں تو پہلے مکمل اور شائع شدہ قرآن پاک کے پوٹھوہاری ترجمہ کی سعادت شریف شاد کے حصہ میں آئی، شریف شاد نے اس کام کا آغاز 27 رمضان 2016 کو کیا، 2018 میں ترجمہ مکمل ہوا جو ربیع الاول 2020 کو شائع ہو کر منظر عام پر آیا، شریف شاد نے مولانا فتح محمد کے اردو ترجمہ قرآن پاک سے معاونت حاصل کی جو تقسیم ہند سے پہلے شائع ہو چکا تھا اور جس نسخے کی مدد سے ترجمہ کیا وہ 1948 میں شائع ہوا تھا۔
جنگ ستمبر 1965 ء کے 2015 میں 50 سال پورے ہونے پر نعمان رزاق نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے لئے پوٹھوہار کے شہداء کے بارے میں اردو فیچر لکھے جو فوجی بھائیوں کے پروگرام ”پاسبان وطن“ میں نشر ہوئے جن کو بعد ازاں انہوں نے خود پوٹھوہاری میں ترجمہ کر کے 2018 میں اپنی کتاب ”مٹی مونہوں بولنی“ میں شائع کیا، ان فیچرز میں میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر، لانس نائیک محمد محفوظ شہید نشان حیدر، سوار محمد حسین شہید نشان حیدر شامل ہیں۔ شریف شاد نے 2021 میں ”شیخ سعدی نیاں کہانڑیاں“ اور 2022 میں ”مولانا روم نیاں کہانڑیاں“ کے نام سے پُرا پبلی کیشنز کے زیر اہتمام دو کتابیں مرتب کر کے شائع کی ہیں، دونوں کتابیں شیخ سعدی اور مولانا روم کی حکایات کا پوٹھوہاری ترجمہ ہیں، پروفیسر ناصر محمود کیانی نے 2021 میں قرآن پاک کے پوٹھوہاری ترجمہ کا آغاز کیا اور تین سالوں کی مدت میں ترجمہ مکمل کر لیا، 2024 میں اس کا محدود تعداد میں پہلا ایڈیشن شائع ہوا جس میں باریک لکھائی سمیت بعض دیگر مسائل بھی تھے، اب ترجمہ قرآن پاک کا دوسرا ایڈیشن طباعت کے مراحل سے گزر رہا ہے جس کا فونٹ سائز بھی بڑا کیا گیا ہے، پروفیسر ناصر کیانی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے لفظی با محاورہ ترجمہ کیا ہے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا، پوٹھوہاری کے متروک الفاظ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس میں شامل کیے گئے ہیں، اردو متن کے لئے کنز الایمان اور شاہ عبدالقادر کے تراجم سے مدد لی گئی ہے۔
شیراز طاہر مرحوم نے اردو کے معروف افسانہ نگاروں کے منتخب افسانوں کا پوٹھوہاری ترجمہ ”رنگ روپ“ کے نام سے کیا جو پُرا پبلی کیشنز کے زیر اہتمام 2022 میں کتابی شکل میں شائع ہو چکا، کتاب میں شامل افسانوں کے نام پرمیشر سنگھ از احمد ندیم قاسمی، آنندی از غلام عباس، ٹوبہ ٹیک سنگھ از سعادت حسن منٹو، لاجونتی از راجندر سنگھ بیدی، آخری آدم از انتظار حسین، نیلی از کرتار سنگھ دُگل، آؤٹ گیٹ کے اندر از کرتار سنگھ دُگل، پل دو پل از بلونت سنگھ، دنگر بولی از منشاء یاد اور قافلے سے بچھڑا غم از رشید امجد ہیں، ماجد وفا عابدی نے پریم چند کے 9 اردوافسانوں کا پوٹھوہاری ترجمہ کیا جن کے نام ”کفن، دو داند، کاکا، جِت، اِٹی ٹلا، اَنہی رات، محبت ناں کلاوہ، بندے ناں پھاء، بڑے کہھار نی تہھی“ ہیں جو 2022 میں پُرا پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ”اِٹی ٹلا“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔
٭مطبوعہ شعری تراجم٭
سن 2005 ء میں پوٹھوہاری ادبی سنگت کلر سیداں کے زیر اہتمام اور حرف اکادمی راولپنڈی کی معاونت سے دلپذیر شاد کی ”اردو غزل کا پوٹھوہار رنگ“ شائع ہوئی جس میں دلپذیر شاد نے 83 اردو شعراء کی ایک ایک غزل کا پوٹھوہاری میں ترجمہ کیا ہے، راجہ شاہد رشید کی کتاب ”نقطہ نقطہ نُور“ 2013 ء میں کیپٹن شبیر شہید ٹرسٹ سوہاوہ کے زیر اہتمام اشرف بک ایجنسی راولپنڈی سے شائع ہوئی، جس میں انہوں نے قرآن مجید کی 18 سورتوں کا منظوم پوٹھوہاری ترجمہ کیا ہے، یاسر کیانی نے ستمبر 2018 ء میں مرزا غالب کی بچوں کے لئے لکھی گئی کتاب ”قادر نامہ“ کا پوٹھوہاری ترجمہ کیا۔ کتاب کے مرتب ڈاکٹر محمود الحسن اور پبلشر ”پوٹھوہار رہتل اُسار پبلی کیشنز“ تھے۔ جنوری 2025 میں مضراب پبلی کیشنز کے زیر اہتمام مسرت شیریں کی مرتب کردہ کتاب ”ان سُنڑیاں کُوکاں“ شائع ہوئی ہے، جس میں مسرت شیریں نے یاسر کیانی کی صوفیانہ شاعری پر مشتمل غزلوں، نظموں اور چو مصرعوں کا اردو ترجمہ کیا ہے۔
٭زیر تکمیل نثری تراجم٭
، شعیب خالق نے اکادمی ادبیات پاکستان کے لئے پوٹھوہاری افسانوں کا اردو ترجمہ کیا تھا لیکن یہ کتاب بوجوہ تاحال شائع نہیں ہو سکی۔ سید حبیب شاہ بخاری نے قرآن پاک کے 21 سپارے ترجمہ کیے ہوئے ہیں، یاسر کیانی نے 2012 میں سورۃ اخلاص اور سورۃ فاتحہ کا ترجمہ کیا، قیصر راجہ (راجا قیصر گلفام) منڈار/کلر سیداں نے قرآن پاک کے آخری چار سپارے اور پنج سورہ (سورہ یٰسین، سورہ رحمٰن، سورہ مزمل، سورہ مدثر اور سورہ ملک) کا بھی ترجمہ مکمل کر رکھا ہے۔ پروفیسر عبدالحمید مدنی نے 2015 ء میں ترجمہ قرآن پاک کا آغاز کیا لیکن دیگر مصروفیات کے باعث اسے مکمل نہیں کرسکے، انہوں نے سورۃ بقرہ، سورۃ آل عمران اور تیسویں پارے کی کچھ صورتیں پوٹھوہاری میں ترجمہ کی ہوئی ہیں، عبدالحمید مدنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا ترجمہ قرآن پاک دیگر پوٹھوہاری تراجم سے مختلف ہو گا اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عراق سے دینی تعلیم حاصل کر رکھی جس کی وجہ سے عربی زبان پر انہیں عبور حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ براہ راست عربی متن سے پوٹھوہاری میں ترجمہ کر رہے ہے، مفتی مختار علی رضوی نے بھی کووڈ 19 کے آغاز پر قرآن پاک کے پوٹھوہاری ترجمہ کا آغاز کیا تھا اور پہلے 4 سپاروں کا پوٹھوہاری میں ترجمہ کر چکے ہیں۔
٭زیر تکمیل شعری تراجم٭
شیراز طاہر مرحوم نے اکادمی ادبیات پاکستان کے لئے مختلف شعرا ء کی پوٹھوہاری نظموں کا اردو ترجمہ کیا تھا لیکن یہ کتاب تاحال شائع نہیں ہو سکی۔ عظمت مغل کی پوٹھوہاری چو مصرعوں کی کتاب ”اَکھیاں نیں بوہے“ میں شامل ابیات کا انگریزی ترجمہ اطہر قیوم راجہ کر رہے ہیں۔
٭غیر مطبوعہ انفرادی نثری تراجم٭
انفرادی تراجم کی بات کریں تو پروفیسر عصمت حسین فکشن سوسائٹی گوجر خان کی 2023۔ 24 کی سرمائی اور پھر ہفتہ وار ادبی اور تنقیدی نشستوں میں ایک اردو سے پوٹھوہاری اور 10 پوٹھوہاری افسانوں، افسانچوں اور مختصر کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کر کے تنقید کے لئے پیش کر چکے ہیں، ترجمہ شدہ افسانوں، افسانچوں اور مختصر پوٹھوہاری کہانیوں میں مجاہد حسین مجاہد کے اردو افسانچہ ست بھرائی کا پوٹھوہاری ترجمہ ست پہھرائی، شاہد لطیف ہاشمی کے افسانچے اصل تے نقل کا اردو ترجمہ اصل اور نقل، نیئر بھٹی کی پوٹھوہاری مختصر کہانی پچھلی عمرے ناں سانونڑکا اردو ترجمہ ڈھلتی ساعتوں کا ساون، عادل سلطان خاکی کی پوٹھوہاری کہانی کھٹی کا اردو ترجمہ اجر، اشتیاق محمود کی پوٹھوہاری کہانی کہھاٹے باہدے نا مُل کا اردو ترجمہ خلش کا تاوان، حافظ نعمان علی کے پوٹھوہاری افسانے داغلے کا اردو ترجمہ داغدار، اپنے ہی پوٹھوہاری افسانوں بانکا کا اردو ترجمہ بانکا، بیوے شامتے کا اردو ترجمہ بے بے شامتے، ڈنگر چتھ کا اردو ترجمہ بے زبان پہ پھبتی اور پوٹھوہاری افسانچے ”لک بشکار“ کا اردو ترجمہ ”ڈھاک کے تین پات“ کے نام سے کر چکے ہیں۔
اسی طرح پروفیسر عصمت حسین کی 30 مئی 1980 کو روزنامہ جنگ کے ایک ادبی ایڈیشن میں شائع ہونے والی اردو کہانی ”پرواز“ کی فکشن سوسائٹی گوجر خان میں دوبارہ اشاعت پر اس کا پوٹھوہاری ترجمہ ”ڈاری“ کے نام سے اشتیاق محمود نے کیا ہے۔ محترمہ نبیلہ فضل نے شیراز طاہر کے پوٹھوہاری افسانہ ”تتی لوہری“ کا Torrid Souls کے نام سے انگریزی ترجمہ کیا ہے، نوجوان شاعر پروفیسر جواد اقبال، شکور احسن اور جنید غنی راجا کے پانچ پانچ پوٹھوہاری افسانوں کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے ہیں۔
٭غیر مطبوعہ انفرادی شعری تراجم٭
قیوم طاہر نے 2014 میں عابد جنجوعہ کے ریڈیو پاکستان کے لئے لکھے گئے پوٹھوہاری ملی نغمے ”سوہنڑیں سوہنڑیں چن تے تارے“ کا اردو ترجمہ کیا، یاسر کیانی نے 2018۔ 19 میں قومی ترانے کا پوٹھوہاری میں ترجمہ کیا، ستمبر 2023 میں اردو اور سرائیکی کے معروف شاعر خورشید ربانی نے راقم کی پوٹھوہاری نظم ’ماء مرسی تے جیساں کِس رے ”کا سرائیکی میں ترجمہ“ ما مرسی تاں جیساں کیویں ”کے عنوان سے کیا جو سرائیکی میں کسی بھی پوٹھوہاری فن پارے کا پہلا ترجمہ تھا، محترمہ نبیلہ فضل نے شیراز طاہر کی کچھ پوٹھوہاری نظموں، شمسہ نورین کی ایک پوٹھوہاری نعت (چواں پاسے پھرنی گسنی رحمت کملی آلے نی، کالی راتی لو پئی دینڑیں صورت کملی آلے نی) اور ایک پوٹھوہاری غزل (اے چہھاکا تے لاہنڑاں پیسی۔ پہلا قدم تے چانڑاں پیسی) کا بھی انگریزی میں ترجمہ کر رکھا ہے۔ فرحان خالد کیانی نے داغ دہلوی، احمد فراز اور محسن نقوی کی ایک ایک اردو غزل کا پوٹھوہاری ترجمہ کر رکھا ہے۔
٭سہ ماہی ”ادبیات“ میں شائع ہونے والے نثری تراجم٭
اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی مجلہ ”ادبیات“ کے خصوصی شمارہ اپریل تا ستمبر 2008 ء کے صفحہ 34 پر امتیاز گلیانوی کے پوٹھوہاری افسانے ”بندہ اور کتا“ کا اردو ترجمہ شیراز طاہر نے کیا۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے شمارہ نمبر 102 جولائی تا دسمبر 2014 ء کے صفحہ نمبر 295 پر شیراز طاہر کی تخلیق و ترجمہ ”چھوٹے قد کی بڑی عورت“ شائع ہوئی، سہ ماہی ادبیات کے جولائی تا ستمبر 2016 کے شمارے میں پوٹھوہاری ادب کا خصوصی گوشہ شائع ہوا جس میں شائع ہونے والے پوٹھوہاری افسانوں اور شاعری کے تراجم کی تفصیل حسب ذیل ہے، افسانوی تراجم کی بات کریں تو ”لمحے بُنتی اجرک“ (تخلیق ڈاکٹر رشید نثار/ترجمہ شعیب خالق) ، ”زخمِ حجم“ (تخلیق و ترجمہ شعیب خالق) ، ”کُتے“ (تخلیق شیراز طاہر/ترجمہ اختر رضا سلیمی) ، ”ایک چھوٹی سی بڑی کہانی“ (تخلیق علی عدالت/ترجمہ شیراز طاہر) ، ”یادوں کا دریچہ“ (تخلیق ارشد چہال/ترجمہ اختر رضا سلیمی) ، ”نمرود کی آنکھ“ (تخلیق و ترجمہ قمر عبداللہ) ، ”نقاب زادی“ (تخلیق و ترجمہ ماجد وفا عابدی) ، ”سُونے آنگن“ (تخلیق ثاقب امام رضوی/ترجمہ جہانگیر عمران) ، ”روشن شیشے پر آنکھ“ (تخلیق شاہد لطیف ہاشمی/ترجمہ شیراز طاہر) ، ڈر (تخلیق شیراز اختر مغل/ترجمہ شیراز طاہر) ، ”ڈنگر اور ڈنگر سوچ“ (تخلیق منور حسین عاصی/ترجمہ مریم حیات ناگی) ، ”رُکی سانسیں“ (تخلیق و ترجمہ نعیم اختر اعوان) شامل تھے۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے جولائی تا ستمبر 2022 کے شمارے میں عرفان بیگ کے پوٹھوہاری افسانے ”پتھر کا بُت“ کا اردو ترجمہ نعمان رزاق نے کیا۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے اکتوبر تا دسمبر 2022 کے شمارے میں پوٹھوہاری افسانہ ”سکول بیگ“ کا ترجمہ شائع ہوا جو نعمان رزاق کا تخلیق و ترجمہ شدہ تھا۔ ”ادبیات“ کے نسل نو خصوصی شمارہ 137۔ 138 میں صفحہ نمبر 487 سے صفحہ نمبر 501 تک پوٹھوہاری ادب کے اردو تراجم کے باب میں نکتہ چینی (تخلیق و ترجمہ جنید غنی راجہ) ، فرمائش (تخلیق حافظ نعمان علی، ترجمہ ذوالقرنین رئیس) ، پٹکار (تخلیق ذوالقرنین رئیس، ترجمہ حافظ نعمان علی) ، خواہشوں کا سیلاب ( (تخلیق راشد محمود شام، ترجمہ رضا اللہ سعدی) ، مٹی کی ڈھیریاں (تخلیق فرزند علی ہاشمی، ترجمہ اقدس علی ہاشمی) ، حصہ (تخلیق و ترجمہ فرزند علی ہاشمی) ، دولت (تخلیق و ترجمہ محمد انوار الحق) کے افسانے شامل ہیں۔
٭سہ ماہی ”ادبیات“ میں شائع ہونے والے شعری تراجم٭
سہ ماہی ”ادبیات“ کے خصوصی شمارہ اپریل تا ستمبر 2008 ء کے صفحہ نمبر 259 پر نثری نظم ”آنسو“ (تخلیق آل عمران۔ ترجمہ نزہت یاسمین) ، 266 پر دو نظمیں (تخلیق اختر امام رضوی۔ ترجمہ شیراز طاہر) ، 306 پر نثری نظم ”تپش“ (تخلیق شاہد لطیف ہاشمی۔ ترجمہ شیراز طاہر) اور 358 پر ”کچا دھاگہ“ (تخلیق یاسر کیانی۔ ترجمہ غزالہ تسنیم) شامل ہیں۔ سن 2008 میں بینظیر بھٹو شہید کی پہلی برسی کے موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام شاکر حسین شاکر، سحر صدیقی اور وقار فانی نے ”شہید بینظیر بھٹو“ کے نام سے کتاب مرتب کی جس میں بی بی شہید کے لئے منظوم خراج عقیدت شامل تھا، اس کتاب کے صفحہ نمبر 109 پر دلپذیر شاد کی پوٹھوہاری نظم ”اونچی شانوں والی بے نظیر“ ، صفحہ نمبر 202 پر عابد حسین جنجوعہ کی پوٹھوہاری نظم ”دختر مشرق کے نام“ اور صفحہ نمبر 249 پر عظمت مغل کی پوٹھوہاری نظم ”بے نظیر“ کو افضال شاہد نے اردو قالب میں ڈھالا۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے شمارہ نمبر 100 جولائی تا دسمبر 2013 ء کے صفحہ نمبر 586 پر شیراز اختر مغل کی تخلیق و ترجمہ ”بیٹی“ اور صفحہ نمبر 587 پر شکور احسن کی تخلیق و ترجمہ ”آج اور کل“ شائع ہوئی۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے شمارہ نمبر 102 جولائی تا دسمبر 2014 ء کے صفحہ نمبر 299 پر فیصل عرفان کی تخلیق و ترجمہ ”تبدیلی“ شائع ہوئی۔ سہ ماہی ادبیات کے جولائی تا ستمبر 2016 کے شمارے میں پوٹھوہاری ادب کا خصوصی گوشہ شائع ہوا جس میں شائع ہونے والے شعری تراجم کی تفصیل حسب ذیل ہے :جوبن (باقی صدیقی/شیراز طاہر) ، کل (باقی صدیقی/شیراز طاہر) ، پُرا (اختر امام رضوی/شیراز طاہر) ، بجھارت (سید طارق مسعود/شیراز طاہر) ، اُس رات (شیراز طاہر/شاہد لطیف ہاشمی) ، مان (یاسر کیانی/شاہد لطیف ہاشمی) ، چیخیں (علی ارمان/شیراز طاہر) ، ڈرتے ڈرتے کب تک جیتے رہیں گے ہم (تخلیق و ترجمہ جہانگیر عمران) ، آس (شاہد لطیف ہاشمی/شیراز طاہر) ، اللہ (آل عمران/شیراز طاہر) ، جلتی ہتھیلی (شیراز اختر مغل/شیراز طاہر) ، یاد (مختار کر بلائی/شیراز طاہر) ، نوحہ (حمید کامران/نعمان رزاق) ، دائرے (شکور احسن/شیراز طاہر) ، نئے نویلے کپڑے لوگ پہنتے ہیں (عمران عامی/رفاقت رازی) ، خوابوں کی گٹھڑی (تخلیق و ترجمہ فیصل عرفان) ، مست جوانی (اختر رضا سلیمی/شیراز طاہر) ، صوفی اور شاعر (تخلیق و ترجمہ اختر رضا سلیمی) شامل ہیں۔
سہ ماہی مجلہ ”ادبیات“ کے شمارہ نمبر 118، اکتوبر تا دسمبر 2018 میں راقم کی پوٹھوہاری نظم ”ماء مرسی تے جیساں کِس رے“ کا راقم کا ہی کیا ہوا اردو ترجمہ شائع ہوا، سہ ماہی مجلہ ”ادبیات“ کے شمارہ نمبر 126۔ 27 میں صفحہ نمبر 464 پر ماجد وفا عابدی کی پوٹھوہاری نظم ”بے موت مرے پرندے“ کا شیراز طاہر کا کیا ہوا اردو ترجمہ اور صفحہ نمبر 466 پر راقم کی پوٹھوہاری نظم ”پیہھالی“ کا راقم کا ہی کیا گیا اردو ترجمہ شائع ہوا۔ سہ ماہی ”ادبیات“ کے خصوصی شمارہ فلسطین نمبر جلد دوئم اپریل تا جون 2024 ء کے پوٹھوہاری سیکشن میں صفحہ نمبر 316 تا 321 پر پوٹھوہاری نظموں ”آہ“ (تخلیق عبدالرحمن واصف۔ ترجمہ جواد اقبال) ، ”چوکاٹھ“ (تخلیق شکور احسن، ترجمہ جواد اقبال) ، ”آس“ (تخلیق علی عمران کاظمی۔ ترجمہ راجہ عبدالقیوم) ، ”فلسطینی مظلوموں کی آواز“ (تخلیق جواد اقبال۔ ترجمہ راجہ عبدالقیوم) اور ”جاگ“ (تخلیق و ترجمہ جنید غنی راجا) شامل ہیں۔
٭اخبارات کے ادبی صفحات پر شائع ہونے والے انفرادی شعری تراجم ٭
راقم کی پوٹھوہاری نظم ”پُہکھے نی فریاد“ روزنامہ پاکستان (نیازی گروپ) اسلام آباد کے ادبی ایڈیشن میں راقم کے ہی اردو ترجمہ کے ساتھ 20 جون 2024 ء کو شائع ہوئی۔ پوٹھوہاری ترجمہ نگاری کا یہ تسلسل اگر برقرار رہا تو آنے والے وقتوں میں پوٹھوہاری زبان دیگر عالمی، قومی اور علاقائی زبانوں کے شانہ بشانہ موجود ہوگی۔

