ارتقا کا سفر بہت سست رو ہے


ڈاکٹر شفاعت علی کا خط

محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آداب!

آپ سے میرا تعارف تو ”ہم سب“ کے ذریعے ہوا مگر میرے خود سے تعارف کے جاری سفر میں آپ کی تحاریر بشمول آپ کی کتب بلامبالغہ اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ ایسی علم دوست اور انسان دوست شخصیت سے میری نسبت میرے لیے باعث مسرت اور فخر ہے۔ آپ کے تحریری الفاظ کی توسط سے تو آپ کے خیالات اور نظریات سے رابطہ رہتا ہی ہے کہ مگر بذریعہ ٹیلی فون کال آپ کے رابطہ نے یہ حوصلہ بخشا کہ کہ چند سطور ایک خط کی صورت میں آپ کو ارسال کر سکوں تاکہ شاید میرا بھی کہیں آپ کے دوستوں کی فہرست میں شمار ہو سکے۔

ڈاکٹر صاحب جس متعفن اور گھٹن زدہ ماحول میں ہم ایسے لوگ پرورش پاتے ہیں وہاں ذہنوں کو لگے زنگ آلود تالے کھولنا کسی بھی طرح سے آسان کام نہیں، یہاں ان تالوں کو کھولنا تو دور کی بات ان کو کھولنے کی غرض سے دیکھنا بھی سنگین جرم بنا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اکثر ان تالوں کو کھولنے کے متمنی یہ حسرت دل میں لیے ہی جہان فانی سے خود کوچ کر جاتے ہیں یا ان کے ناپاک جسم اور ذہن کو ختم کر کے ”پاکیزہ“ معاشرے کے باسی اپنا فریضہ خوب ادا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں زبان کھولنا تو دور کی بات کسی آزاد سوچ کو آنا بھی مشکل ہے۔ میرے خیال میں ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں پر تقلید کو ہی عقل مانا جاتا ہے اور سوال کو کرنے والے کو اس دائرہ سے ہی نکال باہر کیا جاتا ہے۔ تقلید چاہے ذات، نسل، رنگ، عہدے، مذہب یا عقیدت کی بنیاد پر ہو ہم کسی کے پیروکار بن کر دوسروں کی پیروی میں ہی اپنی ”نجات“ سمجھتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں کمزور اور مجبور لوگ آزاد سوچنے کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس سوچ کی قیمت ادا کرنا ہم ایسے کمزور لوگوں کے بس کی بات نہیں۔

ڈاکٹر صاحب میرا شعوری سفر تو جاری تھا اور لاہور میں ایک دوست ایچ ملک جو بنیادی طور پر آئی ٹی کے شعبہ سے وابستہ ہیں مگر انہوں نے بند ذہن کے دریچے کھولنے اور سوچوں کو نیا دھارا دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں وہ واحد دوست ہیں جن کے ساتھ شعور کا سفر طے کیا۔ اس کے بعد آپ کی تحاریر نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی کتب پڑھ کر ایسے لگا کہ یہ میری ہی کہانی ہے اور آپ نے بس ان کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یہاں ایک اور قلمی دوست عبدالستار میاں چنوں والے کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جن کی ہمت کو داد سے کچھ زیادہ دینے کو ہی دل کرتا ہے جس بے باکی کے ساتھ وہ صاف گوئی سے کام لیتے ہیں یہ ان کا ہی خاصا ہے۔

ڈاکٹر صاحب آپ اور ایسے دوستوں سے وابستگی، بیٹھک اور تحاریر پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ دنیا میں حتمی کچھ نہیں اور شعوری سفر ایسا سفر ہے جس کی شاید کوئی منزل نہیں مگر یہ سفر اتنا خوبصورت ضرور ہے کہ جیسے جسے آپ آگے بڑھتے ہیں منظر اور بھی حسین ہوتا جاتا ہے اور وہ زندگی جو عقیدت اور تقلید کے بوجھ تلے دبی سانس بھی مشکل سے لے پاتی ہے وہ ہلکی پھلکی اور آسان ہوتی جاتی ہے۔

محترم خالد سہیل صاحب میں نفسیات کا طلب علم نہیں رہا مگر مجھے انسانی ذہن کے وزن کی اہمیت کا اندازہ اور اتنا ادراک ہے کہ ہمارے تمام اعمال و افعال سرزد ہونے کی وجہ ذہن میں موجود مواد ہے۔ زندگی، مخلوقات اور مخلوقات بشمول انسانوں کے رویے میرا پسندیدہ موضوع ہیں۔ اب ان پر فلسفہ بات کرے، سائنس یا نفسیات مجھے اس کے بارے میں جاننا اچھا لگتا ہے۔ سر میں آپ کی فون کال پر آپ کا مشکور اور بذریعہ خط آپ سے رابطے پر ممنون بھی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ قلمی دوستی اور ذہنی آسودگی کا یہ سلسلہ برقرار رہے۔ کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے مگر آپ کی مصروفیات اور غالباً اس خط کی کسی بھی جگہ اشاعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فی الحال اسی پر اکتفا کروں گا۔

ڈاکٹر صاحب اکثر لوگ آپ سے سوالات پوچھتے رہتے ہیں تو اس خط کی توسط سے میں بھی یہ جسارت کر رہا ہوں کہ انسان جو محض ایک مخلوق ہے اس کو اپنے ہم مخلوق اور دیگر مخلوقات کا ہمدرد کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ انسانی رویوں مطلب انسان کے اعمال و افعال میں کیا چیز بنیادی کردار ادا کرتی ہے؟ کیوں انسان محض کسی ضرورت، مفاد یا ترجیح کی بنیاد پر ہی دوسرے کو انسان سمجھتے ہیں؟ کیوں تعلق کو کوئی مادی یا جذباتی وجہ دینا ہی ضروری ہے؟ تعلق بلاوجہ کیوں نہیں ہو سکتے؟

آپ کا دوست ( میں تو خود کو آپ کے دوستوں میں شمار کرتا ہوں )
ڈاکٹر شفاعت علی
پی ایچ ڈی ابلاغیات لاہور
۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترم دوست ڈاکٹر شفاعت علی صاحب!
آپ کا محبت نامہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنے دو اشعار یاد آئے۔ امید ہے پسند آئیں گے
حدیث کرب نہاں اب کرے بیاں کوئی
سنائے جبر مسلسل کی داستاں کوئی
ہمارے بچوں کی سوچوں پہ کب سے پہرے ہیں
کہاں سے آئے گا آزاد نوجواں کوئی

یہ میری تخلیقات گزارشات اور معروضات کی خوش بختی ہے کہ انہیں آپ جیسا ذہین قاری ملا اور یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ ہماری کہانیوں میں مماثلت ہے۔

آپ نے جو سوال پوچھے ہیں ان کا تسلی بخش اور تفصیلی جواب لکھنے کے لیے پوری کتاب درکار ہے کیونکہ ان میں انسانی نفسیات و سماجیات کے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔ میں یہاں اختصار سے کام لوں گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ انسان جس خاندان اور معاشرے میں پیدا ہوتا ہے وہ اس معاشرے کی زبان اور مذہب کے ساتھ ساتھ اس سماج کی روایات اور نظریات بھی اپناتا ہے۔

بدقسمتی سے مشرق میں آج بھی بہت سے ممالک اور معاشرے ایسے ہیں جہاں منافقت کا دور دورہ ہے۔ جب بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو ’جو ان کے رول ماڈل ہوتے ہیں‘

جھوٹ بولتے
دھوکہ دیتے
نفرت کرتے
دیکھتے ہیں تو وہ ان کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ انہیں برا تک نہیں سمجھتے۔ بقول اقبال
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
بچپن میں تو بچے والدین اور اساتذہ کو جھوٹ بولتے دیکھتے ہیں

جوان ہوتے ہیں تو اپنے ملک اور معاشرے کے مذہبی سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو ایک دوسرے سے بدلہ لیتے دیکھتے ہیں۔ ایسے منتقم مزاج لیڈروں سے نوجوان بہت بددل ہوتے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں عالمی سیاست میں بھی اچھے رول ماڈل دکھائی نہیں دیتے۔

آج کے دور کے نوجوان عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ ’ولادمیر پیوٹن اور بنجامین نیٹن یاہو جیسے رہنماؤں سے بھلا کیا سیکھیں گے؟

نفسیات کی زبان میں ہم ایسے رہنماؤں کو سائیکو پیتھ کہتے ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں اور دل پتھر کے ہو چکے ہیں۔ ایسے رہنما انسانیت اور امن کے لیے ایک خطرہ بن جاتے ہیں۔

آپ سوچیں گے میں مایوسی اور نا امیدی کی بات کر رہا ہوں۔
بدقسمتی سے یہ انسانی تاریخ کا تاریک رخ ہے

خوش قسمتی سے انسانی تاریخ کا ایک روشن رخ بھی ہے اور وہ روشن رخ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر معاشرے میں بے لوث اور مخلص رہنما بھی پائے جاتے ہیں لیکن وہ اقلیت میں ہوتے ہیں ان رہنماؤں میں

ادیب بھی ہوتے ہیں شاعر بھی
فنکار بھی ہوتے ہیں دانشور بھی
سائنسدان بھی ہوتے ہیں سکالر بھی
سیاسی کارکن بھی ہوتے ہیں سماجی کارکن بھی

پاکستان میں ایسے مخلص کارکن کی عمدہ مثال عبدالستار ایدھی تھے جن کی ایمبولنس کی سروس ساری دنیا میں مشہور تھی۔ ایدھی نے انسانیت کی رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر خدمت کی۔

انسانیت کی بے لوث خدمت ہی وہ پیمانہ ہے جس پر ہم کسی رہنما کی خدمات کو پرکھ سکتے ہیں۔

کچھ رہنما انسانوں سے بھی اوپر اٹھ جاتے ہیں وہ سب جانداروں کے بارے میں سوچتے ہیں جن میں مچھلیاں پرندے اور جانور بھی شامل ہوتے ہیں۔ سرخ فام قبیلوں کے سردار چیف سئیٹل کی طرح وہ ان مچھلیوں پرندوں اور جانوروں کو بھی اپنے بہن بھائی سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

ڈاکٹر شفاعت علی صاحب!

انسان کی طبعی عمر صرف ستر برس ہے لیکن انسانی ارتقا میں تبدیلیاں صدیوں میں آتی ہیں اور اس ارتقا کے سفر میں عروج بھی آتے ہیں زوال بھی۔

بعض دفعہ انسانوں کو صبح کے انتظار کے لیے لمبی رات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اگر ہم انسانی تارخ کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ پچھلے تین ہزار سالوں میں انسانوں نے سماجی حوالے سے بہت ترقی کی ہے۔ انسانوں کے

فلسفہ
سائنس
ادب
نفسیات
اور
سماجیات
کے علوم میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

ساری دنیا کے انسان انسانی حقوق سے واقف ہوئے ہیں اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ جلد یا بدیر وہ حقوق حاصل کر کے رہیں گے۔ ارتقا پر یقین رکھنے والے عوام و خواص پرامید رہتے ہیں۔

جوں جوں عوام کا سماجی شعور بڑھے گا وہ بہتر انسان بننے کی اور پر امن معاشرے قائم کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔

نہیں ایسی کوئی بھی رات جس کا
کہیں سورج کوئی نہ منتظر ہو

اخلاص اور امید کے ساتھ
خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail