آخری اچھا مرد
بھارت کے آنجہانی ستیش کوشک کیا کچھ نہ تھے۔ اداکار، کامیڈین، رائٹر، پروڈیوسر ڈائریکٹر اور ایک بہت نفیس انسان۔ سونے کے دل والے۔ ہماری دوست کامیا پٹیل امریکی شہری قیام نیو جرسی مگر وہاں قیام صرف گرمیوں کے چند ماہ اور میں کم مگر ناسک اور ممبئی میں زیادہ قیام زیادہ رہتا ہے، اصل میں گجراتی طلاق کی وکیل اور سائیں بابا کی بھگتن۔ ستیش کوشک کو مدر تھریسا سے زیادہ مہان اور نمبر ون مانتی ہے۔ وہ اس جھگڑے میں بھی نہیں پڑتی کہ سائیں بابا مسلمان تھے کہ ہندو۔ وہ عقیدے کو بہت Fluid، Unstructured اور کتاب سے ورے رکھتی ہے۔
سو صوفیا کے مزار پر بھی آوک جاوک رہتی ہے بستی نظام الدین دہلی کے قوال تو اس کے چرن چھوتے ہیں۔ مزارات وہاں کی قوالیاں مندروں کے بھجن، جگ رتے اس کے من بھاتے مشاغل ہیں
اسرائیل پاکستان بھارت میں ان کے خفیہ ادارے ہوں تو لمبر ون کے بہت جھگڑے رہتے ہیں وجنتی مالا ہو کہ نرگس، میرا ہو کہ ریما، راج کپور ہو کہ دلیپ کمار ان کو لمبر ون کے سنگھاسن پر بٹھانا ان کے پرستاروں کا محبوب مشغلہ ہے۔ باقی دنیا اس جھنجٹ میں نہیں پڑتی۔ دنیا کے دو مالدار ترین افراد ایلان مسک اور جیف بیزو اگر کھانے پر کسی ہوٹل میں جائیں تو وہاں جھگڑا یہ نہیں ہوتا کہ بل کون دے گا بلکہ اصل بحث اس بات پر ہوتی ہے کہ اٹھلاتی بل کھاتی طالب علم ویٹریس کے لیے رکابی میں کتنی ٹپ چھوڑی جائے۔
کامیا پاٹل ان دنوں نیوجرسی میں تھی جب آج سے دو برس قبل ستیش کوشک کا نو مارچ کو گڑگاؤں ہریانہ میں حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال ہوا۔ گرؤ و اسٹریٹ نیوجرسی کے ”لاری۔ اڈہ“ نامی ریستوراں میں کف افسوس مل کر کہنے لگی پاکستانی نہ ہوتے تو تمہارے بارے میں کچھ سوچا جاسکتا تھا مگر اب ایسا ہے دنیا کے جتنے بھی اچھے مرد ہیں وہ یا تو کسی قبرستان میں پڑے ہیں یا پھانسی کی سزا کے منتظر ہیں یا پھر GAY ہیں۔ کامیا پاٹل طلاق کی وکیل ہونے کے ناتے مردوں کو صرف دو کیٹگریز میں رکھتی ہے۔ ہینڈ سم اور اکثریت۔ خود Gender۔ Fluid ہے یعنی مرد ہے کہ عورت یہ موڈ اور موقع طے کرے گا یوں کبھی دل دولہا کبھی دل دلہن ہو کا ترانہ خواب گاہ بے نشاں میں ہر وقت بجتا رہتا ہے۔
ہم نے اس کی مہمانداری کا سواد لیتے ہوئے پوچھ لیا کہ اچھے مردوں کا کسی قبرستان میں دبا پڑا ہونا یا پھانسی کی سزا کا منتظر ہونا تو سمجھ میں آتا ہے مگر گے ہونا۔ وہ تیری لسٹ میں لمبر ون کیسے ہو گئے۔ کہنے لگی منیش ملہوترا کرن جوہر تو ری لیشن شپ میں تھے۔ (منیش بھارت کے مشہور فیشن ڈی زائینر، کرن فلم اداکار ڈائریکٹر پروڈیوسر) ہمارے ٹاپ ٹی وی ہوسٹ ششانت دیو گی کار، ہمارے ایک مشہور ناول نگار وکرم سیٹھ، اسرائیل کے مشہور مصنف یووال ہریری، سر ایلٹن جان سب سالے گے ہیں۔ ہم سے پاکستان والوں کا پوچھا تو ہم نے بتا دیا کہ ایک مولانا کا نام بہت مشہور تھا مگر عطار کے جس لونڈے سے دوائی لینے میر کا روپ دھار کر نکلے وہ سسرا ایسا قصائی نکلا کہ ان کی اولاد کو پوسٹ مارٹم کرانے کا بھی موقع نہ ملا۔
کامیا پاٹل آئس کافی پیتے ہوئے کہنے لگی یار یہ جو صوفی لوگ ہوتے ہیں یہ بہت انوکھے ہوتے ہیں مجھے لگتا ہے کہ ستیش کوشک بھی صوفی تھا۔ ہم نے کہا بھوتنی کی بھانجی۔ ایکٹر کہاں سے صوفی ہوتے ہیں۔ کامیا کہنے لگی تم پاکستانی اندھے لوگ کی طرح ہاتھی کو چھو کر جج کرنے کے عادی ہو۔ جو پارٹ ہاتھ لگا وہی تم لوگ کا حتمی سچ ہے۔ ستیش بھی صوفی تھا ملامتی صوفی، اور ہماری عالیہ بھٹ بھی صوفی ہے۔ کہتی ہے مجھے ADHD ہے یعنی (Attention deficit hyperactivity disorder) کسی چیز پر توجہ ہی نہیں دے پاتی۔ اس وجہ سے اس کا مذاق بھی بہت اڑتا ہے مگر یہ ہی تو ملامت ہے۔ وہ اس نفسیاتی عارضے کے حوالے سے High Spectrum Range میں شمار ہوتی ہے ہر وقت دم گٹکوں ہوتی ہے۔ اکثر زون۔ آئوٹ ہوجاتی ہے۔ مگر کیمرے کے سامنے وہ اپنے کردار کے حوالے سے most Present ہوتی ہے۔ لمحۂ موجود ہی اصل سچ ہے۔ کہہ رہی تھی تم لوگ کی کتاب میں بھی لکھا ہے اللہ کے دوستوں کو نہ ملال ہوتا ہے نہ خوف۔ ملال ماضی کا اور خوف مستقبل کا۔ سو عالیہ بھٹ کی طرح جو ہے۔ وہ ابھی ہے۔ اس کو مان کر جی لو۔
ہم سے پوچھنے لگی ملامتیوں کا پتہ ہے۔ ہم نے سمجھایا۔ ملامت کے حوالے سے داتا گنج بخش اپنی کتاب کشف المحجوب میں رقم طراز ہیں کہ اس کا باقاعدہ سلسلہ سیدنا شیخ ابو حمدونؓ نے وضع کیا۔ وہ کہتے تھے کہ ملامت میں سلامتی ہے۔ مخلوق سے وابستگی اور عوام میں مقبولیت اور چاہا جانا بربادی کی راہ ہے۔ جو زبان تعریف کرے گی وہی دشنام طرازی بھی کرے گی۔ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگتی ہے ہم نے مزید کہا۔ سیدنا عثمان علی ہجویری بھی اکثر و بیشتر ملامتیوں کے نرغے میں میں پھنس جاتے تھے
محمود غزنوی کے پڑوسی بھی تھے اسی کے زمانے میں مرشد کے حکم پر بھاری دل سے ہجویر غزنی سے لاہور آتے تھے کہ راستے میں مخالف سمت سے آتے کچھ درویش کے حلیے میں میں مسخرے دکھائی دیے۔ گدھوں پر سوار، کابل کی طرف رواں دواں، ٹھٹھول کرتے، تربوز کھاتے۔ چھلکے ادھر ادھر راہ میں اچھالتے۔ سیدنا عثمان ؓ کے دل میں خیال آیا کہ کیسے لوگ ہیں ان کی وجہ سے دین دار، صوفی منش لوگ بدنام ہیں۔ داتا جب اٹک کے قریب پہنچے تو ان میں سے ایک بزرگ ان کا منتظر تھا۔ بہت حیرت ہوئی کہ یہاں کیسے آ گیا۔ یہ تو مخالف سمت میں عازم مسافت تھا۔ علیک سلیک کے بعد کہنے لگا ہم نے کب کہا تھا کہ ہم ملامتیوں کو آپ بزرگ سمجھیں۔
ہم نے انہیں بزرگ تو نہیں مانا مگر ہمارے قدرت اللہ شہاب صاحب نے اپنی شہرہ آفاق کتاب شہاب نامہ میں 59 باب لکھے۔ اس کے تین باب جس میں ایک یعنی آخری والا ان کے اپنے وظائف اور دعائیں ہیں۔ ایک کٹک اڑیسہ کی آسیب زدہ کوٹھی چار کٹک روڈ کی سرکاری رہائش گاہ کی وارداتیں ہیں۔ جس کے بارے میں گورنر سر کشن پرتاب نے انہیں آگاہ کر دیا تھا۔ نقطۂ توجہ یہ ہے کہ کٹک اڑیسہ میں سن 1944 میں آئی سی ایس افسر ایسے طاقتور تھے کہ گورنر سے ملنا کوئی دشوار نہ تھا۔ شہاب نامہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے مگر لوگوں کی آنکھ میں بے جا تنقید و اعتراض کا سرمہ سارا منظر دھندلا دیتا ہے اسے مقامی کلچر اور فوک لور کے رنگ میں دیکھیں تو کچھ اور بات ہے مگر یہ سوانح عمری میں لازمی ایک شک کا زیرہ ڈالتا ہے۔
ایسا ہی باب نائنٹی کے حوالے سے ہے۔ اب یہ باتیں عجیب لگتی ہیں۔ سو ملامت کا ایک طومار جاری ہوجاتا ہے گو یہ کتاب سوانح عمری کے حساب سے اردو کی سب سے مقبول کتاب ہے بزرگان ملامت کا ایک اہم نام لاہور میں ایک بزرگ سید صفدر علی شاہ صاحب تھے۔ ہر وقت اچھی بری خواتین کے جھرمٹ میں رہتے تھے۔ ہمیں خود بتایا تھا کہ کوئی رخسانہ نامی طوائف تھی جس نے ان کا حال ایسے ہی لوٹ لیا تھا جیسے ایک بڑے قصوری بزرگ کا حال گم ہو گیا تھا۔ جب تک گھنگھرو پہن تھیا تھیا کر کے مرشد کو نہیں منایا قلب بے تاب و بے نشان کو قرار نہیں آیا۔ انہیں ملامت کے طور پر پیر کاکی تاڑ کہا جاتا تھا۔ یہ ایسا لفظ ہے کہ پاکستان کے ایک آدھ وزیر اعظم کو اس لقب سے پکارا جائے تو تاؤ کھا کے پیکا ایکٹ میں اندر کرا دیں گے۔
کامیا پوچھنے لگی یار تمہارے قلندری بزرگ اور ملامتی بزرگ کا کیا فرق ہے۔ ؟ یاد رہے کہ کامیا سے بات ستیش کوشک سے شروع ہوئی تھی۔ یہ تھریڈ آپ نے پکڑے رہنا ہے۔ ہم نے سمجھایا ہم جیسے سالکان راہ کے لیے قلندر اور ملامتی ایک ہیں۔ ملامتی سلسلہ الزام کو راہ سلوک میں فنا فی ذات اور رسائی کے لیے لازم جانتے ہیں۔ قلندر اس میں بلیک بیلٹ ہوتے ہیں وہ الزام کی طلب کو بھی راہ سلوک میں رکاوٹ مانتے ہیں۔ حصول و مقام کی طلب سے ماورا و بے نیاز ہوتے ہیں۔ وہ راہ سلوک کے مسافر تو ہوتے ہیں مگر منزل کے متلاشی نہیں۔
They are free from all bondages and are not seekers of the path.
کہنے لگی ہمارے ستیش کوشک جی بھی ملامتی تھے۔
وہ کیسے کامیا پاٹل اور ہم اب ایک پارک کی بینچ پر آن بیٹھے تھے۔ فضا میں مارچ کی خنکی تو تھی مگر گوارا تھی۔ کہنے لگی یار تم مرد لوگ بہت اچھے ہوتے ہو۔ مرد عشق میں عموماً درویش اور سخی ہوتے ہیں بادشاہ مزاج، لالن پالن کرنے والے۔ جب ہی تو دہلی کی عورتیں کنواری بالیوں کو سمجھاتی تھیں کہ ”مرد کی محبت راج کراتی ہے عورت کی محبت آنسو رلاتی ہے“
ہم نے پھر پوچھا مگر یہ ستیش کوشک کا ملامتی ہونا۔ بات بھیجے میں فٹ نہیں ہو رہی۔ ہنس کر کہنے لگی تو نے جن دو بزرگ کا نام لیا ان کے مقابلے میں ستیش جی کا اسٹائیل۔ ممکن ہے کسی چھوٹے تالاب کی مچھلی جیسا ہو۔ اب اس کی دو فلمیں تھیں مسٹر انڈیا دیوانہ مستانہ اس میں یہ چاہتا تو نہاتی دھوتی سری دیوی کے ساتھ انیل کپور کی جگہ خود کو بطور پروڈیوسر ڈائریکٹر ایکٹر خود کو ڈال لیتا مگر یہ فلم میں کلینڈر کے مسخرے کک کے کردار میں خوش رہا اسی طرح ایک اور ہٹ دیوانہ مستانہ میں پپو پیجر بن کر مست رہا تو نے اسٹیون اسپل برگ اور فرانس کپولا کو کبھی ایسی ملامت اٹھاتے دیکھا
تیرے کو ایک ٹاپ سیکریٹ بات بتاؤں۔ ہم نے کہا تم لوگ کی لمبر ون ایجنسی را کے فائل سے لائی ہے۔ ہنس کر کہنے لگی نو یار یہ سینہ گزٹ ہے بغیر وکٹوریہ سیکریٹ والا۔ یہ اور نینا دونوں ہائی برڈ پنجابی۔ دونوں کالج کے زمانے کے دوست تھے مگر ہم لڑکی لوگ کا ایک مسئلہ ہے۔ کامیا نے اپنا بیان جاری رکھا۔ ہم دیوتاؤں کی تلاش میں انسانوں کو اگنور کرتی ہیں بعد میں وقت گزر جاتا ہے تو پھر بال نوچتی ہیں۔ نینا گپتا بھی سالی ایسی ہی گھیلی (گجراتی میں پاگل) نکلی۔
ایکٹر ستیش کوشک جی کی بہت عرصے سے ابھی نیتیری نینا گپتا پر نظر تھی 1975 سے دھیان میں وہ بھی رکھتی تھیں مگر دوست اور یو پی ایس کے حساب سے بجلی جائے گی تو استعمال ہو گا۔ جوانی میں کس کی بجلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یو پی ایس بے چارہ شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز اپنی ہی آگ میں جلتا رہا۔
پھر یوں ہوا کہ کھلاڑی Viv Richard آ گیا کیا بیٹسمین تھا کھڑے کھڑے Wrist Flick سے بائونڈری ٹھوک دیتا تھا اس سے افیئر چلا تو اس چکر میں نینا گپتا ماں بن گئی بہت پریشان تھی افیئر یارانے کے چرچے تھے۔ کوشک جی بھی دل کو کباب مان کر یہ گوسپ جو سچ سے بڑھ کر سچ تھی کہ نینا کا پیٹ سامنے تھا۔ سنتے تھے
نینا نے ایک دن کوشک جی کے گھر رجما چاول اور دارو پی کر کندھے پر سر رکھ کر بولا یہ بچہ کالا کالا سا، یہ کالا سا مٹیالا سا۔ ستو جی، میں وویوکے بچے کی ماں بننے والی ہوں ہائے رام میرا کیا ہو گا؟ ستو جمانہ کھراب ہے بن شادی کی ماں۔ کوئی باپ نہ زچہ۔
ستو جی بولے تیرے سے ہم کو مطلب، بچے کا کیا کرنا۔
میرا آئیڈیل مرد محمد بن قاسم تھا۔ عورت پریشان ہوتی تو دمشق سے دادو پہنچ جاتا۔
چنتا مت کر میرے ساتھ پھیرے مار لے میں بھی کالا، تیرا پریمی ویو رچرڈب ھی کالا، بچہ بھی کالا، سمجھ کام ہو گیا۔ سن 1989 میں اس سنجوگ کے کارن مسابا پیدا ہوئی۔ اس تمام بات کا ذکر نینا گپتا نے اپنی ہندی کی کتاب ”سچ کہوں تو“ میں کیا ہے۔ مسابا کا ایک بڑا فیشن ہاؤس ہے۔ زندگی بالی ووڈ کی فلم کی طرح ہے۔ اینڈ تک سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔ مسابا اور ویو اب باپ بیٹی کے طور پر بہت قریب ہیں
رہ گئے ستیش کوشک جی تو ان کے لیے احمد فراز نے کہا تھا
مگر کسی نے ہمیں ہم سفر نہیں جانا
یہ اور بات کہ ہم ساتھ ساتھ سب کے گئے۔
کل دنیا سے آخری اچھا مرد چلا گیا











اقبال دیوان کی تحریر ساتھ تصویر بھی مگر نام محرر بھائی وجاہت مسعود
لگتا ہے آپ لوڈنگ میں گڑبڑہوگئی۔
ایک اہم بات
اقبال دیوان کی چسکے دار اور چس والی تحریروں کا مزا اس وقت خراب ہوجاتا ہے جب صحیح تصویر غلط جگہ نظر آتی ہے۔ وہ بھی انتہائی بے تکے طریقے سے۔
کاکی تاڑ دیکھنے میں سائیں بابا دکھتے ہیں
مسابا کون اور سری دیوی اور عالیہ بھٹ میں فرق بھی کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔
نینا گپتا کی ویسے بات ہو اور مادھوری کی چولی کے پیچھے کیا ہے کا شور نہ اٹھے تو بات نہیں بنتی۔
یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس گانے کے بعد مادھوری کی چولی زیادہ جھانکی گئی یا نینا گپتا کی۔
سر ویوین رچرڈز ویسے صرف گراؤنڈ میں ہی چھکے نہیں مارتے تھے بلکہ کمروں اور بستروں کے بھی پیٹر پین تھے۔
کہتے ہیں جس جس سیاہ فام ملک میں کرکٹ کی دیوانیاں موجود ہیں وہاں وہاں رچرڈز کے بچے بھی آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ کوئی ان کی تعداد 14 بتاتا ہے تو کوئی کچھ اور۔
–
آج ایلون مسک اور رچرڈز میں سے کس کی اولادیں زیادہ ہیں فیصلہ کرنا مشکل ہے۔
آنجہانی ستیش کوشک اور نینا کی دوستی پکی تھی اور جس لمحے نینا نے واقعی یہ دکھ ستیش سے شیئر کیا وہ 1985 میں ششی کوشک سے شادی کرچکا تھا۔ اور نینا جانتی تھی کہ ستیش اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے اور یہ اظہار علامت ہے کہ وہ اپنے دوست کو مشکل سے نکالنے میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔
–
نینا نے بہرحال 1989 میں مباسا کی پیدائش کے بعد اسے پالا پوسا اور پھر جب بچی نے پہلی بار چھتری استعمال کرنا سیکھ لی تو خود بھی انڈیا کے ایک مشہور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یعنی منعم جی کہہ لیں یا منشی سے 2008 میں شادی کرلی نام ہے "وویک مہرہ”۔
–
پاکستان میں ویسے تو ملامتیوں کی بات ہو تو عام آدمی سیاستدانوں کو گالیاں دینے لگتے ہیں جب کہ پی ٹی آئی والے فوج کو۔ مگر اہل تصوف میں فرقہ ملامتیہ کے لوگوں کی یونیفارم کالے کپڑے ہوتے ہیں اور اس کی سب سے اچھی مارکیٹنگ بابا یحیی محمد خان نے کی۔
ان کی آنکھ میں کالے سرمے کے ڈوروں کی طرح ان کی کتابیں بھی کالی ہی ہیں۔
پیا رنگ کالا۔۔۔۔کاجل کوٹھا۔۔۔شب دیدہ
آخر کتاب لے بابا ابابیل کچھ مختلف رہی کیا پتہ تصوف میں ابابیل کا رنگ بھی کالا ہوتا ہو۔
–
9 مارچ کو کیلنڈر یعنی ستیش کی دوسری برسی تھی۔