پاکستان کی بقا بلوچستان سے جڑی ہے
نوروز خان 1860 کے آخر یا 1870 کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بلوچی بلوچستان کے زرکزئی قبیلے سے تھا جسے زہری بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا علاقہ چار شاہی ریاستوں قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران پر مشتمل تھا۔ یہ ریاستیں کبھی افغانیوں، کبھی ایرانیوں اور کبھی دہلی کے حکمرانوں کی مطیع رہیں۔
1875 یعنی نوروز خان کی پیدائش تک اس علاقے میں امن تھا۔ 1875 میں برطانوی راج کی نظر جیسے ہی اس وسیع علاقے پر پڑی یہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 1887 میں گوروں نے خان آف قلات کے مطالبات کسی حد تک مان لیے لیکن اس کے باوجود مقامی بلوچوں کی برطانوی افسران کے ساتھ گاہے بگاہے مڈبھیڑ ہوتی رہتی۔ جب 1947 میں پاکستان بنا تو خان آف قلات نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا باوجود اس کے کہ انہوں نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی لیکن تقسیم کے بعد پاکستان میں شامل ہونے کی بجائے اپنی آزاد ریاست کی حیثیت برقرار رکھنا چاہی کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ برطانوی راج کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں یعنی ہندوستانی اور پاکستانی حکومتوں کو صرف ان ریاستوں پر اختیار حاصل ہو گا جن کے معاہدے برٹش انڈین گورنمنٹ کے ساتھ ہیں، جبکہ قلات سمیت وہ ریاستیں جن کے معاہدے براہ راست ’وائیٹ ہال‘ یعنی برطانوی حکومت سے ہیں، وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ قلات کے علاوہ نیپال اور بھوٹان کی ریاستوں کا براہ راست معاہدہ برطانوی حکومت سے تھا۔ لیکن 1948 میں خان آف قلات کو گولی دے کر قلات کا پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کیا گیا۔ ٹونی بلیئر کے دور میں لیک ہونے والی برطانوی خفیہ دستاویزات کے مطابق قلات کی حساس جفرافیائی حیثیت کی وجہ سے برطانیہ کو قلات کا آزاد وجود گوارا نہ تھا اس لیے برطانوی راج نے قلات کو زبردستی پاکستان میں شامل کروایا۔ قلات ریاست 1666 میں قائم ہوئی۔ 1835 میں اس ریاست کا کل رقبہ پانچ لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر تھا جو 1940 تک کم ہو کر صرف ایک لاکھ چالیس ہزار مربع کلو میٹر رہ گیا۔ گوروں نے صرف ہندوستان کو تقسیم کرتے وقت پنجاب اور بنگال کے ٹکڑے نہیں کیے بلکہ اس سے قبل وہ بلوچستان کے تین ٹکڑے کر چکے تھے۔ بلوچستان کا وسیع علاقہ ایران کو بطور تحفہ اس وجہ سے دے دیا گیا کہ ایران روس سے دور رہے۔ آج ایران میں یہ علاقہ صوبہ سیستان و بلوچستان کہلاتا ہے جو ایران کے اکتیس صوبوں میں دوسرا بڑا صوبہ ہے اور جس کا دارالحکومت زاہدان ہے۔ بلوچستان کا کچھ علاقہ گوروں نے افغانستان کو بطور تحفہ دے دیا۔ بہت سا علاقہ بلوچستان کی ریاستوں کے حکمرانوں کے ہاتھوں سے افغانی اور ایرانی حکمرانوں نے چھینا۔
خیر جب خان آف قلات نے 1948 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے تو ان کے اپنے ہی بھائی پرنس عبدالکریم نے ان کے اس فیصلے کہ جس میں آل انڈیا ریڈیو نے ایک انتہائی شاطر چال چلی تھی کی مخالفت کرتے ہوئے ہتھیار اٹھا لیے۔ یوں بلوچستان میں ریاست کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوا جو آج 77 سال بعد بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اور شدت آ گئی ہے۔
ریاست نے 1948 سے لے کر 2025 تک بلوچوں کی محرومیاں دور کرنے اور ان کے زخم بھرنے کی بجائے الٹا نفرت کی آگ پر تیل چھڑکا۔ نوروز خان جسے بلوچی دادا کہتے ہیں نے پہلے فوجی آمر ایوب خان کی آمریت کے خلاف 1958 میں اس وقت ہتھیار اٹھائے جب ایوب خان نے ون یونٹ بنا کر بلوچستان کو تختِ لاہور کے تابع کر دیا۔ یوں بلوچوں کے دل میں پنجاب کے خلاف نفرت کا بیج بھی بو دیا گیا۔ دادا نوروز خان اور اس کے ساتھیوں نے ریاست کے خلاف پہاڑوں پر چڑھ کر گوریلا جنگ شروع کردی۔ ریاست نے نوروز خان کو قرآن کا واسطہ دے کر پہاڑوں سے نیچے اتارا کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ نوروز خان نے 15 مئی 1959 کو ہتھیار ڈال دیے لیکن جیسے ہی پہاڑوں سے نیچے اترا تو اسے اور اس کے 150 ساتھیوں کو گرفتار کر کے حیدر آباد جیل میں ڈال دیا گیا۔ ملٹری ٹرائل ہوا اور 15 جولائی 1960 کو نوروز خان کے سات ساتھیوں جن میں ان کا بیٹا سردار باتے خان اور چار بھتیجے بھی شامل تھے کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ نوروز خان کی عمر اس وقت بانوے سال کے لگ بھگ تھی اور پیرانہ سالی کی وجہ سے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔ نوروز خان 1964 میں کوہلو جیل میں انتقال کر گئے۔
یحییٰ خان کے ہزار گناہ ہوں گے لیکن یہ جنرل یحییٰ ہی تھا جس نے ون یونٹ کو ختم کیا اور بلوچستان کو باقاعدہ ایک صوبے کا درجہ دیا۔ لیکن اس سے پہلے گوریلا جنگ جو بلوچی سرداروں نے شروع کر رکھی تھی کو روکنے کے لیے بلوچستان میں فوجی اڈے بننا شروع ہو گئے تھے۔ بلوچی سرداروں کا یہ مطالبہ تھا کہ ان کے صوبے سے نکلنے والے ذخائر خاص طور پر گیس پر ان کا حق ہے لیکن ریاست یہ نہ سمجھ سکی۔ چکوال کے دیہات تک تو گیس آ گئی لیکن بلوچستان کے قصبے اپنی ہی نعمت سے محروم رہے۔ مری اور مینگل قبائل نے ریاست کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جہاں اکبر بگٹی کے ساتھ مل کر سگار سلگاتے رہے وہاں بلوچستان میں بڑھتی ہوئی خانہ جنگی کی آگ کو بھی سلگاتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کو برطرف کر کے مارشل لا نافذ کر دیا۔ بھٹو دور میں بلوچستان میں ایک بڑا فوجی آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں بغاوت کو تو وقتی طور پر دبا دیا گیا لیکن بلوچوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے۔
حالیہ کشیدگی کی ابتدا پرویز مشرف کے دور میں ہوئی جب جنوری 2005 کو ڈاکٹر شازیہ خالد جو پاکستان پٹرولیم کی ملازمہ تھی اور سوئی کے ایک ہسپتال میں تعینات تھیں کو سوتے ہوئے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ الزام ایک فوجی افسر پر لگا لیکن وقت کے آمر نے شازیہ خالد کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے اپنے پیٹی بھائی کی حمایت کی۔ ڈاکٹر شازیہ کو گھر میں بند کر دیا گیا۔ وہ بیچاری آخر کار ملک چھوڑ کر چلی گئی۔ شازیہ خالد کا تعلق نواب اکبر بگٹی کے علاقے سوئی سے تھا۔ بگٹیوں نے ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ہونے والی درندگی کو اپنی عزت اور غیرت پر حملہ تصور کیا اور نواب اکبر بگٹی کی قیادت میں ریاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ وقت کے آمر نے ان ناراض بلوچوں کو راضی کرنے کی بجائے یہ بھڑک ماری کہ ہم تم کو وہاں سے ہٹ کریں گے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ 2006 میں ایاز امیر نے ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ریاست نے جتنی لچک بھارت کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے دکھائی ہے اس کا اگر چوتھا حصہ بلوچوں کی داد رسی کرنے کے لیے دکھایا جاتا تو بلوچستان کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔
اب بلوچستان ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ اس جنگ میں ایک طرف ریاستِ پاکستان ہے تو دوسری طرف سامنے بلوچ علیحدگی پسند ہیں لیکن ان کے پیچھے پاکستان کے بیرونی دشمن ہیں جو گوادر بندرگاہ اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کو کسی قیمت پر بھی کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ چائنہ ان منصوبوں کا پھل زیادہ سمیٹے گا۔ اب چائنہ بطور ورلڈ لیڈر نہ امریکہ کو منظور ہے نہ بھارت کو اور پاکستان کا استحکام نہ بھارت کو گوارا ہے نہ ہمارے اپنے مسلمان پڑوسیوں کو۔ گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے ہمارے دشمنوں نے ہر چال چلنی ہے۔ بلوچوں کو ناراض کرنے کا سلسلہ ہم نے جو 77 سال پہلے شروع کیا تھا اس کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ بیرونی دشمنوں کو ہم نے اپنے خلاف وار کرنے کے لیے خود ہی بلوچوں کا کندھا فراہم کر دیا ہے۔
جعفر ایکسپریس کی حالیہ ہائی جیکنگ سے ایک بات ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ بلوچ لبریشن آرمی ایک مضبوط اور خطرناک گروہ بن چکا ہے جس کے پاس نہ صرف جدید اسلحہ ہے بلکہ جدید انٹیلی جینس کے ذرائع بھی ہیں۔ حالیہ واقع کیسے ہوا، آپریشن میں کیا ہوا، یہ ہمیں حتمی طور پر معلوم نہیں کہ میڈیا کی رسائی وہاں تک ممکن نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی ان حالات میں بی بی سی اردو اور ڈان اخبار میں بہترین اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہوئی کہ ان دونوں اداروں کے نمائندگان سالوں سے بلوچستان میں تعینات ہیں۔ ڈان نے تو کل اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ ڈان فوجی آپریشن کی حساس تفصیلات کو اس وقت تک رپورٹ نہیں کرے گا جب تک صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی۔ لیکن ہمیں 33 دہشت گردوں کے مارے جانے پر زیادہ خوش اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ وہ 33 بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے فدائین تھے۔ مجید بریگیڈ کا ہر رکن خودکش بمبار ہوتا ہے۔ یہ 33 مرنے کے لیے ہی آئے تھے اسی لیے بی ایل اے کے باقی دہشت گرد جو ایک سو سے زائد تھے ان 33 کو چھوڑ کر خود بھاگ گئے تھے۔ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ ہمارے چار فوجی جوان اور اکیس شہری شہید ہوئے ہیں لیکن بی ایل اے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے ایک سو کے لگ بھگ اہلکاروں کو مارا ہے اور اس کے تین جانباز شہید ہوئے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگ لڑنے والے دونوں فریق نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ دونوں اس جنگ میں مرنے والے اپنے سپاہیوں کو شہید کہتے ہیں۔ اس سے زیادہ سنگین صورتحال یہ ہے کہ اب پڑھے لکھے حتیٰ کہ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل بلوچی بھی بی ایل اے کا حصہ بن رہے ہیں۔ کیا ہمارے سامنے ماہل بلوچ اور شری بلوچ کی مثالیں نہیں؟ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کو ہم جتنا بھی کوستے رہیں وہ اب بلوچستان کی دھڑکن بن چکی ہے اور دنیا اسے نوبل انعام دینے کا سوچ رہی ہے اور ہم نے جو ہاتھ آج سے ستر برس قبل دادا نوروز خان پر رکھا تھا اور جو 2006 میں اکبر بگٹی پر رکھا تھا وہی ماہ رنگ بلوچ پر رکھ رہے ہیں۔ اب بلوچی سرداروں کی نہیں ماہ رنگ بلوچ کی سنتے ہیں۔ ریاست اگر چاہے تو ماہ رنگ بلوچ سے بات کر سکتی ہے۔ بلوچیوں کو ان کا حق ملے۔ اگر حق سے زیادہ بھی دینا پڑ جائے تو یہ سودا پاکستان کی سلامتی سے بڑھ کر تو نہیں ہو سکتا۔
آپ سوچیں اس وقت بلوچستان کا کل رقبہ تین لاکھ سینتالیس ہزار ایک سو نوے مربع کلو میٹر ہے اور اس کی آبادی ایک کروڑ اکتالیس لاکھ ہے۔ دوسری طرف پنجاب کا رقبہ دو لاکھ پانچ ہزار تین سو چوالیس مربع کلو میٹر ہے اور آبادی تیرہ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ سندھ کا رقبہ ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو چودہ مربع کلو میٹر ہے اور آبادی پانچ کروڑ اکاون لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یعنی پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں کا رقبہ ملا بھی لیں پھر بھی بلوچستان کا رقبہ زیادہ ہے۔ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے لیکن اتنے بڑے صوبے میں امن نہیں۔ گوادر اور سی پیک جیسے منصوبوں اور معدنیات کے وسیع ذخائر کی وجہ سے پاکستان کی بقا اب بلوچستان میں امن کے ساتھ جڑی ہے۔ پتہ نہیں ہمارے حاکموں کو اتنی سی بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی حالانکہ ہم اکہتر بھگت چکے ہیں۔




