آئینہ سفاک ہے


گوہر تاج کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے جس نے 70 کے عشرے میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں انقلاب کے خواب دیکھے اور اس خواب کے پورا نہ ہونے کے باوجود زندگی بھر اپنے کام یا اپنی تحریروں کے ذریعے کچلے ہوئے مظلوم طبقات کے لئے آواز اٹھائی۔ گوہر صحیح معنوں میں ایک فائٹر ہیں۔ ابتدا میں ہی انہوں نے اپنے لئے جو راہ متعین کی تھی اور جس منزل کا تعین کیا تھا، اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ گھر والوں کے کہنے پر مائکرو بیالوجی میں ایم ایس سی تو کر لیا اور کراچی کے ایک کالج میں درس و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے لیکن شادی کے کچھ سالوں بعد جب انہوں نے امریکہ ہجرت کی تو سماجی خدمت کے اپنے پرانے خواب کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے سوشل ورک میں ماسٹرز کیا اور منشیات کے عادی افراد کے لئے تھیراپسٹ بھی بنیں اور یوں ان کے پاس کہانیاں جمع ہوتی چلی گئیں جو کتابی صورت میں ہمارے سامنے آتی رہیں۔ امریکی ایشیائی اور خود ہم پاکستانی شہریوں اور دنیا بھر کی خواتین کے مسائل کے بارے میں وہ مسلسل لکھتی رہی ہیں۔

ان کی تازہ ترین کتاب ”آئینہ سفاک ہے“ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اداس کر دینے والی یہ ساری کہانیاں امریکی اور پاکستانی معاشرے کی کہانیاں ہیں۔ جو ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ حقیقت افسانے سے زیادہ افسانوی ہوتی ہے۔ گوہر کی سچی کہانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں۔ امریکہ کے اولڈ ہوم میں رہ کر اپنے بیٹے کا انتظار کرنے والی الزائمر کی شکار بوڑھی عورت کی کہانی ہو یا پاکستان میں ساتویں بیٹی کی آخری چیخ ہو، یا ہکلے نواب کی ادھوری کہانی ہو، ہم خود کو ان کرداروں سے جڑا ہوا پاتے ہیں۔ ”پارو پگلی مٹی میں کیا ڈھونڈتی ہے“ جیسی کہانیوں میں وہ خاندان والوں کی خود غرضی کو بے نقاب کرتی ہیں جو لڑکیوں کی زندگی کے فیصلے اس طرح کرتے ہیں کہ لڑکیوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ”جبر کے دور میں پھیلی وبا کی کہانی“ کا شمار ہمارے عہد کی بہترین کہانیوں میں کیا جا سکتا ہے۔ گوہر کیونکہ امریکہ میں منشیات کے عادی افراد کی تھیراپی کرتی رہی ہیں، ان کی زندگی کے تجربات سنتی رہی ہیں، اس کتاب میں ایسے مریضوں کی کئی کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں جن کو پڑھ کر آپ دل کو مسوس کر رہ جاتے ہیں۔

اس کتاب کو گوہر نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے دو حصے کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ جب کہ تیسرے حصے میں ان کہانیوں میں پیش کیے جانے والے مسائل کے اسباب و علل پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ان کا تجزیہ بھی کیا گیا اور قارئین کو ان کا حل ڈھونڈنے کی طرف راغب کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اس حصے کا پہلا مضمون ”سماج میں ریپ کلچر کس طرح نمو پاتا ہے“ ، صنفی تشدد کے حوالے سے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مضمون اس وقت لکھا گیا جب پاکستان میں موٹر وے پہ ایک خاتون کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعہ پر پورا ملک طیش، صدمے اور بے بسی کے شدید جذبات کے طوفان سے گزر رہا تھا۔ ہر ایک کو اپنی ہی زمین پہ غیر محفوظ ہونے کا احساس شدت سے ہو رہا تھا۔ سنگین سزاؤں کا مطالبہ ہو رہا تھا لیکن گوہر ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے اس مرض کی جڑ تک پہنچنے کی بات کر رہی تھیں۔ وہ یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں کہ ریپ کرنے والے مرد یا ریپسٹ ہوا میں تخلیق نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک مردانہ تسلط اور فیوڈل سماج کی پیداوار ہیں۔ اور ان کا رویہ ہمارے سماج کا عکس ہے۔ اس کے لئے پدرسری اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تعلیمی نصاب میں سیکس ایجوکیشن کو شامل کیا جائے۔ عورت اور مرد کے درمیان صحتمند رشتے کو بچپن سے فروغ دیا جائے۔ ایسے جرائم کے خلاف قانون بنوانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل در آمد بھی کرایا جائے۔ ”می ٹو“ تحریک کے بارے میں اپنے مضمون میں وہ صرف بچیوں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی بات نہیں کرتیں۔ بلکہ پاکستان میں ایک مرد کے دوسرے مرد کے ہاتھوں جنسی استحصال کی کہانی بھی سناتی ہیں۔ اور عورتوں کے ساتھ ساتھ ایسے مردوں کے درد کے مداوا کے بارے میں بھی سوچتی ہیں۔ وہ جدید دور میں جنسی غلامی کی شرم ناک مثال بچہ بازی کے خلاف بھی آواز اٹھاتی ہیں۔

”آپ کی خوشیوں کی چابی کہاں چھپی ہے“ میں وہ ہارورڈ کی مشہور زمانہ طویل دورانیہ کی تحقیق سے ہمیں متعارف کراتی ہیں جو بتاتی ہے کہ آپ کی پر مسرت، صحت مند اور طویل حیات کا راز کس میں پوشیدہ ہے۔ اس طویل تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ صحتمند، خوشیوں سے بھر پور بڑھاپے کا راز قربت اور محبت سے بھرپور تعلقات میں مضمر ہے۔ وہ رشتہ جو ہم اپنے گھر والوں، دوستوں اور سماج سے قائم کرتے ہیں، وہ ہی ہمارے اندر کی خوشیوں کا ضامن ہے۔ اس کے بر عکس تنہائی نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لئے سم قاتل ہے۔

ویسے تو گوہر کی ساری کہانیاں اور مضامین اہم موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں لیکن میری ذاتی رائے میں حصہ سوم کا سب سے اہم مضمون ’کلٹ گروپس کیوں اور کیسے بنتے ہیں؟ ”جس میں وہ بتاتی ہیں کہ کیسے ان گروپس کے قائد اپنی کرشماتی شخصیت کے سحر میں لاکھوں لوگوں کو جکڑ کر بے بس کر رہے ہیں۔ اور مداری کی طرح اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو نچاتے ہیں۔ کلٹ گروپ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی اور دوسرے مقاصد کے لئے بھی بنائے جاتے ہیں۔ کلٹ کی نفسیات سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بننے کے عمل کو دیکھا جائے جو برین واشنگ یا دماغی تطہیر اور ذہن کو کسی مخصوص سوچ سے وابستہ کر کے قابو کرنے کا طریقہ ہے جو ابتدا میں اسی قسم کی نرگسیت کا شکار شخصیت یا گروپ کے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ اور ظاہر ہے ان کا یہ عمل باقاعدہ شعوری منصوبہ بندی کے تحت اپنے جال میں پھنسانے اور قابو کرنے کا ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو کسی قسم کے خوف یا محرومی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کے اندر کی دنیا میں خالی پن ہوتا ہے، وہ ان پر کشش افراد کے بنائے ہوئے یوٹوپیا میں آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں تا کہ انہیں سکون، آرام اور مالی تحفظ ملے۔ ایسے لوگ اتنے برین واش ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے مرشد کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ اور اپنے مرشد کے خلاف ایک لفظ تک سننے کو تیار نہیں ہوتے اور اس سے اختلاف کرنے والے سے تعلقات توڑ لیتے ہیں۔ ہمیں ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ ہم کسی بظاہر دانا کرشماتی شخصیت کے ہاتھوں اپنی عقل تو نیلام نہیں کر رہے۔

ہمیں امید ہے کہ گوہر اپنے قلمی سفر کو اسی خلوص اور جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گی۔ ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “آئینہ سفاک ہے

  • 14/03/2025 at 3:01 شام
    Permalink

    تھراپسٹ ہونا وہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک ٹرامے سے گزرنے والے لوگوں کی۔۔۔واقعی ایک دل گردے کا کام ہے۔
    جہاں گوہر تاج کو سلام وہاں آپ کو بھی کہ ان کی شخصیت کے اس پہلو سے پرت ہٹائی۔

Comments are closed.