تحریک نظام مصطفیٰ کا شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس


21 مارچ 1977 کو پنجاب کے تاریخی شہر کمالیہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرم ناک مگر شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد بنا رکھی ہیں، لہذا وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آسانی سے یہ انتخابات جیت جائیں گے۔

لیکن جیسے ہی انتخابات کا اعلان ہوا، اپوزیشن کی نو جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئیں، جس کا نام پاکستان قومی اتحاد رکھا گیا۔ اس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام کے مولانا مفتی محمود کے حصے میں آئی، جب کہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے پروفیسر عبدالغفور احمد منتخب ہوئے۔ چونکہ اس اتحاد میں پاکستان کی نو جماعتوں کے انتہائی قد آور سربراہان شامل تھے، اس لئے انہیں نو ستاروں کا نام دیا گیا۔ جن میں میاں طفیل محمد، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، پیر صاحب پگاڑا، ائر مارشل اصغر خان، مظفر علی شمسی، خان عبدالولی خان اور خان اشرف خان شامل تھے۔

جیسے ہی اپوزیشن کا یہ انتہائی موثر اتحاد معرض وجود میں آیا، بھٹو صاحب چکرا کر رہ گئے۔ انہوں نے اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے اپنے آپ کو بلا مقابلہ منتخب کروانے کا انتہائی غلط قدم اٹھایا اور اپنے مقابلے پر لاڑکانہ سے الیکشن میں حصہ لینے والے جماعت اسلامی کے مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کروا دیا اور انہیں اس وقت چھوڑا گیا جب کاغذات نامزدگی داخل کروانے کا وقت گزر چکا تھا۔ بھٹو صاحب کے اس اقدام کی تقلید ان کے وزرائے اعلی نے بھی کی اور اسی طرح کے بھونڈے حربے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے بھی اپنے آپ کو بلا مقابلہ منتخب کروا کر انتخابات میں دھاندلیوں کی ابتدا کر دی۔

پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر شکست کا خوف اس بری طرح طاری تھا کہ سرکاری سطح پر الیکشن کمیشن سے ساز باز کر کے پیپلز پارٹی کے مسلح جیالوں کو سپیشل فورس کا نام دے کر قومی اسمبلی کے انتخابات والے دن ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کر دیا گیا۔ جنہوں نے قومی اتحاد کے امیدواروں اور ان کے پولنگ ایجنٹوں مرد و خواتین کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ملک بھر میں انتخابی دھاندلیوں کے ریکارڈ قائم کر دیے۔

دوسرے مرحلہ میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے پولنگ ہونا تھی، جس کا جب پاکستان قومی اتحاد نے بائیکاٹ کر دیا تو پورے ملک میں اس دن تمام پولنگ اسٹیشنوں پر الو بولتے دیکھے گئے۔ پاکستان قومی اتحاد نے بہت بڑے پیمانے پر کی گئی اس منظم انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کر دی، جو دن بدن زور پکڑتی چلی گئی۔ پھر انتخابی دھاندلیوں کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک نے جب تحریک نظام مصطفی کا نام پایا تو ملک بھر میں عوام سروں پر کفن باندھ کر بھٹو آمریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، بھٹو حکومت نے مظاہرین پر ظلم و تشدد کے وہ پہاڑ توڑے کہ الامان و الحفیظ۔

عوامی مظاہرے اس قدر خوفناک صورتحال اختیار کر گئے کہ بھٹو صاحب کو خدشہ پیدا ہو گیا کہ اب مارشل لا لگا دیا جائے گا، تو انہوں نے بپھرے ہوئے عوام کو ڈرانے دھمکانے کے لیے جنرل ضیاء الحق سے اپنی حمایت میں ایک اخباری بیان بھی جاری کروایا، جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور عوام کا غیظ و غضب آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا، جس سے بھٹو حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو کر رہ گئی۔ مجبوراً لاہور سمیت کئی شہروں کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔

لیکن عوام میں بھٹو حکومت کے خلاف اس قدر شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی کہ نوجوان لاہور کے احتجاجی مظاہروں میں اپنے گریبانوں کو گولیوں کے لیے کھول کر فوج کی طرف سے لگائی گئی ریڈ لائنوں کو بھی عبور کرنے لگے لہذا نوجوانوں کے ان شدید ترین جذبات کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے نہتے عوام پر حکومتی ہدایات کے باوجود گولی چلانے سے صاف انکار کر دیا۔ جو بھٹو حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ عوامی احتجاج کے اس نہ رکنے والے سلسلہ کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب پاکستان قومی اتحاد سے مذاکرات پر مجبور ہو گئے۔

حکومت کی طرف سے بھٹو صاحب خود، مولانا کوثر نیازی اور عبدالحفیظ پیرزادہ جب کہ پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصرااللہ خان اور پروفیسر غفور احمد کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے۔ مذاکرات جب نتیجہ خیز ہونے کے قریب تھے تو بھٹو صاحب کو ہیرو بننے کا شوق پیدا ہوا اور وہ بیرونی دنیا کو اپنی مضبوط کرسی کا تاثر دینے کے لیے مذاکرات کو درمیان میں چھوڑ کر بیرون ملک دورے پر روانہ ہو گئے۔ اس دوران قومی اتحاد کے دیگر قائدین خصوصاً ائر مارشل اصغر خان اور مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنی مذاکراتی ٹیم پر چند تحفظات کا اظہار کر دیا۔

بھٹو صاحب جب وطن واپس لوٹے تو جو مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہونے کے قریب تھے، وہ ناکامی سے دوچار ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے ملک میں مارشل نافذ کر دیا۔ تحریک نظام مصطفی کے دوران میرے آبائی شہر کمالیہ میں پاکستان قومی اتحاد کے کارکنوں اور رہنماؤں پر ظلم و ستم کی ایک ایسی داستان رقم ہوئی، جس نے پاکستان کی عدالتوں سے کمالیہ نکیل کیس کا نام پایا اور جو پورے ملک میں سفاکی، بے حسی اور ظلم و بربریت کی اپنی مثال آپ تھی۔

تفصیل اس کی کچھ یوں ہے کہ میرے ماموں میاں بشیر احمد شمسی کہ جن کی ساری زندگی باطل قوتوں سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے گزری، جماعت اسلامی کمالیہ کے اہم رہنما اور کمالیہ و گرد و نواح میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف چلنے والی پاکستان قومی اتحاد کی اس عظیم الشان تحریک نظام مصطفیٰ کے روح رواں تھے۔ اس تحریک کا مرکز بھی کمالیہ شہر کے عین وسط میں واقع ان کی تاریخی حویلی تھی۔ پاکستان قومی اتحاد کے مرکزی قائدین جب بھی کمالیہ تشریف لاتے تو ان کا قیام اسی حویلی میں ہوتا تھا اور یہ حویلی تحریک نظام مصطفی کے جانثار کارکنان کے لیے ایک پناہ گاہ کا درجہ بھی رکھتی تھی۔

دوران تحریک، پاکستان قومی اتحاد نے فیصلہ کیا کہ اب جیل بھرو تحریک شروع کر دی جائے اور ملک بھر میں پرامن گرفتاریاں دی جائیں۔ لہذا اس سلسلہ میں قومی اتحاد کمالیہ و پیر محل کے چوٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا ایک اہم اجلاس 21 مارچ 1977 کو اس حویلی میں طلب کیا گیا۔ جس کی مخبری پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے فوراً ہی مقامی انتظامیہ اور پولیس کو کر دی گئی۔ لہذا اجلاس والے دن سورج نکلنے سے قبل ہی پولیس کی بھاری نفری اور پیپلز پارٹی کے سر گرم کارکنوں نے حویلی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔

جس کسی پر بھی پاکستان قومی اتحاد کے کارکن ہونے کا شائبہ ہوتا، اس کو دھر لیا جاتا، میرا کم عمری کا دور تھا، میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ حویلی کے ارد گرد کی گلیوں میں حالات کا جائزہ لے رہا تھا کہ ہم دونوں بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے، جنہوں نے ہمیں زبردست زد و کوب کیا۔ قومی اتحاد کے کارکن اور رہنما اس سازش کو بھانپتے ہوئے رات کو ہی حویلی میں ڈیرے ڈال چکے تھے، جن کا اجلاس جاری تھا۔ فیصلے کے مطابق نماز عصر ادا کرنے کے بعد قومی اتحاد کے چھ رہنما اور کارکن جن میں میاں بشیر احمد شمسی، ڈاکٹر نصیر احمد، طالب حسین و دیگر شامل تھے، اپنے گلوں میں قرآن پاک کے نسخے ڈال کر پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے، پرامن گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے، جیسے ہی حویلی سے برآمد ہوئے، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کمالیہ چوہدری محمد صدیق، سب ڈویژنل پولیس افسر کمالیہ راجہ گل انار خان، ایس ایچ او کمالیہ رحمت اللہ نیازی، اے ایس آئی نیازی، ہیڈ کانسٹیبل عبدالرشید اور دیگر پولیس اہلکار، رضا کارانہ گرفتاریاں پیش کرنے والے ان نہتے پر امن کارکنوں پر ٹوٹ پڑے۔

پولیس کی بھاری نفری حویلی کا مین گیٹ توڑ کر اندر داخل ہو گئی اور وہاں رکے ہوئے پرامن کارکنوں میاں ظفر اقبال، رائے عطاء اللہ خان، میرے بڑے بھائی میاں محمد ارشد صابن والے، میاں عبدالرحمن و دیگر کو بدترین تشدد کر کے لہو لہان کر دیا گیا۔ گلوں میں قرآن پاک ڈالے اپنے آپ کو گرفتاریوں کے لیے پیش کرنے والے چھ نہتے لوگ چاروں طرف سے برستی لاٹھیوں مکوں ٹھڈوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بالآخر نڈھال ہو کر قرآن پاک کے نسخوں سمیت زمین پر گر پڑے۔

لیکن ان ناعاقبت اندیش لوگوں نے قرآن پاک کے تقدس کا بھی ذرا خیال نہ کیا۔ کارکنوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے لیے ان کی شلواریں اتار کر انہیں برہنہ کر دیا گیا۔ ہر طرف قیامت صغری کا منظر تھا، دیکھنے اور سننے والے توبہ استغفار کا ورد کرنے لگے۔ پیر محل سے تعلق رکھنے والا قومی اتحاد کا ایک کارکن طالب حسین جو کہ ایتھلیٹ ہونے کے باعث جسم و جان کے اعتبار سے کافی مضبوط تھا اور وہ پوری جواں مردی کے ساتھ اس بے رحمانہ لاٹھی چارج کا سامنا کر رہا تھا، جب پولیس کی برستی لاٹھیاں اس کے حوصلوں کے سامنے بے بس ہو گئیں تو پانچ پولیس اہلکاروں نے اس کو بری طرح جکڑ لیا اور ان کے انچارج راجہ گل انار خان نے گرجدار آواز میں اپنے ماتحتوں کو حکم دیا کہ، پاؤ اینوں نتھ۔

یعنی ڈالو اس کو نکیل۔ جس پر ہیڈ کانسٹیبل عبدالرشید نے اپنی وردی پر اپنے نام کا لگا ہوا بیج اتارا، اس کے پیچھے لگے ہوئے بسکوئے سے کئی پولیس اہلکاروں کے قابو کیے ہوئے طالب حسین کی ناک کے اگلے حصے میں سوراخ کیا اور بسکوئے کو آر پار کر کے بند کر دیا۔ اس کے بعد وقت کے ان فرعونوں نے اس بسکوئے میں ایک رسی ڈالی اور طالب حسین کو کھینچتی اور گلوں میں قرآن پاک کے نسخے ڈال کر گرفتاریاں دینے کے لیے آنے والے کئی برہنہ کارکنوں کو جانوروں کی طرح ہانکتے ہوئے، حویلی سے ملحقہ صدر بازار میں لے گئے۔

ان معزز کارکنوں کی عزت نفس مجروح کرنے اور انہیں نشان عبرت بنانے کے لیے، ان کو بازار میں لاٹھیاں مار مار کر برہنہ حالت میں بھگانے کے بعد بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ انسان نما درندے طالب حسین کی نکیل کی رسی کو بار بار کھینچتے اور لوگوں کو باآواز بلند بندر اور ریچھ کا تماشا دیکھنے کی دعوت دیتے۔ اس دور میں تحریک نظام مصطفی سے آگاہی حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ اخبارات ہی ہوا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا کا تو کہیں نام و نشان بھی نہ تھا۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں ہونے کے باعث تحریک کی کوئی خبر نشر نہیں ہوتی تھی۔ لیکن بی بی سی کے اس وقت کے نمائندہ پاکستان مارک ٹیلی نے ظلم و بربریت کی اس وحشیانہ داستان کو رپورٹ کر دیا۔ جس پر پورے ملک میں قومی اتحاد کے کارکنوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی اور تحریک میں مزید تیزی آ گئی۔ بالآخر عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے جنرل محمد ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل نافذ کر دیا۔

بھٹو صاحب کہا کرتے تھے کہ میرے جانے پر کوہ ہمالیہ روئے گا، لیکن دنیا نے دیکھا کہ پورے ملک میں کہیں کسی چڑیا نے بھی پر نہیں مارا بلکہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا لگانے پر پورے ملک میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی اور ہزاروں من حلوہ تقسیم کیا گیا۔ بعد ازاں میاں بشیر احمد شمسی نے اپنے قریبی دوست چوہدری حبیب الرحمن ایڈووکیٹ اور دیگر دوستوں کی بھرپور معاونت سے اپنی حویلی کے اندر اور باہر ظلم و ستم اور بربریت کی اس داستان خونچکاں کو رقم کرنے والے انسان نما درندوں کے خلاف سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک سولہ سال انتہائی جرات و استقامت کے ساتھ مقدمات کی پیروی کی۔

میاں بشیر احمد شمسی کا چونکہ جماعت اسلامی سے بہت گہرا تعلق تھا، اس لیے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے والے یہ مجرمان کسی حوالے سے سید ابوالاعلی مودودی کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور معافی کی درخواست کی، لیکن سید مودودی نے جماعت اسلامی کمالیہ کے امیر کو صرف اتنا پیغام دیا کہ اگر مظلوم ان ظالموں کو معاف کر دیں، تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ پھر اپنے وقت کے یہ فرعون سارا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالتے ہوئے متعدد بار اسی حویلی میں اپنی جاں خلاصی کے لئے دست بستہ حاضر بھی ہوتے رہے، لیکن مظلوموں نے انہیں معاف کرنے سے انکار کر دیا۔

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے، کے مصداق ظلم و ستم کی اس داستان کا ایک ظالم ترین کردار جو قرآن پاک کی بے حرمتی میں سب سے زیادہ ملوث تھا، ایس ایچ او رحمت اللہ نیازی، جو بعد میں ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی کر گیا تھا، کی کار ایک ٹرک سے اس خوفناک انداز سے ٹکرائی کہ وہ کار کے اندر ہی پچک کر رہ گیا اور اس کی نعش بھی قابل شناخت نہ رہی۔ اسی طرح باقی کئی کرداروں کا انجام بھی عبرت ناک ہوا۔ قرآن پاک کی توہین کے مرتکب اور اپنے گھناؤنے کردار سے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دینے والے، ان انسان نما درندوں کا کردار تاریخ میں ہمیشہ سیاہ حروف سے لکھا جائے گا اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے کرائے کی غنڈوں کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود سولہ برس تک پاکستان کی عدالتوں میں پوری جرآت اور ثابت قدمی سے انصاف کے حصول کی جدوجہد کے لیے کھڑے رہنے والوں پر، اللہ تعالی کی رحمتیں ہمیشہ نازل ہوتی رہیں گی۔ خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را۔

Facebook Comments HS