کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے؟

عالمی یوم نسواں کے حوالے سے احسن بودلہ صاحب کی دی بلیک ہول کی گفتگو اور کتاب کی رونمائی کی ویڈیو کے کچھ اولین لمحات دیکھنے کا موقع ملا۔ اچھی گفتگو تھی، سب کو سننی چاہیے۔ البتہ کچھ چیزیں ناچیز کے ذہن میں آئیں جن پر یہ تحریر لکھنے کی جسارت کرنی پڑی۔
ڈاکٹر روش ندیم نے احسن صاحب سے پوچھا کہ ایک عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کو بہت عزت دے رہا ہے بحیثیت ماں بہن بیٹی، وہی جو ایک عمومی دعوی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی بہت عزت ہے، ان کو آپ کیسے سمجھائیں گے کہ خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے؟ اس سوال کے جواب میں احسن صاحب نے جینڈر گیپ اور پاکستان کی رینکنگ کا ذکر کیا جو ایک سو چھیالیس ممالک میں ایک سو پینتالیسویں نمبر پر بلاشبہ دگرگوں حالت میں کھڑی ہے۔ مگر اول تو آپ کسی عام شخص کو جینڈر گیپ اور رینکنگ سمجھا نہیں سکتے دوسرا وہ سمجھ بھی جائے تو وہ مغرب کی درجہ بندی اور اس کے معیارات کو تسلیم ہی نہیں کرے گا۔ آخر میں اس کا مدعا یہی ہو گا کہ بھئی میرا معیار تو کچھ اور ہے۔
میری ادنی رائے میں اگر مرد یہ سوال پوچھتا ہے تو اس کا تو سیدھا جواب یہ ہے کہ ایک مرد کا یہ دعوی کرنا کہ خواتین بہت خوش ہیں اس بات کی تائید کر رہا ہے کہ برابری نہیں ہے۔ یعنی ایک مرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ خواتین کے جذبات اور احساسات کا ترجمان ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں یا غمگین ہیں۔ بھئی آپ کو کیا علم، آپ ان سے پوچھیں انہیں بتانے دیں جن کی بات ہو رہی ہے۔ ایک صیاد تو یہی کہے گا کہ پنچھی بہت خوش ہے انڈے دے رہا ہے کھانا کھا رہا ہے چہچہا رہا ہے جھولے لے رہا ہے اس کو کیا مسئلہ ہے؟
اب اگر کوئی خاتون یہ دعوی کرتی ہیں کہ ہم تو ان حالات میں بہت خوش ہیں اور سب حقوق مل رہے ہیں تو ان سے یہ عرض کی جا سکتی ہے کہ اول تو آپ کے حالات سب خواتین کے حالات کے ترجمان نہیں ہیں، دوم ہو سکتا ہے آپ خوش ہوں اور آپ کے خاندان کے مرد حضرات بہت اچھے ہوں اور آپ کے حالات بھی بہت بہتر ہوں بہ نسبت تیزاب سے جھلسے ہوئے جسم والی ہزاروں خواتین کے یا چولہا پھٹنے والی تین بچیوں کی ماں کے حالات سے جس نے حال میں ایک بچی کو جنم دیا یا ان خواتین کے جو کاروکاری، ونی/سوارا کی نظر ہو چکی ہیں یا ہونے والی ہیں یا جن کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے یا جن کا شوہر انہیں روز پیٹتا ہے یا جن کے بھائی ان کو قتل کرنے کے لیے ڈھونڈ رہے ہیں یا وہ خواتین جو تعلیمی اداروں، گھروں میں کام کاج کر کے اور دفتروں میں مشکل سے اپنا دامن بچا کر یا نہ بچا کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے وقت گزار رہی ہیں یا جو مجبوری میں نباہ کر رہی ہیں کہ ماں باپ نے کہہ دیا اب سسرال سے تمہاری میت ہی نکلنی چاہیے۔
اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ آپ اپنے باپ بھائی اور شوہر کی توقعات پر پوری اتر رہی ہوں اس لیے آپ کو کسی دشواری کا سامنا نہیں۔ براہ کرم محض تجرباتی طور پر کوئی عمل ان کی توقع سے ہٹ کر کر کے دیکھیے یا صرف ان کی بات سے غیر متفق ہو کر ہی دیکھ لیجیے۔ یا اپنی زندگی اور زندگی کے فیصلوں میں اپنی مرضی کے تول کا موازنہ اپنے باپ بھائی اور شوہر کی زندگی کے فیصلوں میں ان کی مرضی کے تول سے کر کے دیکھیے۔ اس کے بعد دوبارہ یہ دعوی صدق دل سے اپنے سامنے ہی کر کے دیکھیے کہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔
ایک اور اہم مغالطہ اور مبالغہ ہمارے معاشرے میں یہ ہے کہ خواتین کو جتنی عزت ہمارے معاشرے میں دی جاتی ہے کہیں نہیں دی جاتی۔ سب سے پہلے تو یہ جو سیٹ خالی کرنا یا بہن بہن پکارنا ماں کے قدموں تلے جنت اور بہن کا پیار وغیرہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ خواتین کی مدد کرنے کے پیچھے بھی اکثر یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر آپ سے کمتر ہیں۔
اس کے علاوہ بھی یہ بھائی بننا عزت کرنے کے مترادف کم ہی ہوتا ہے یہ بھی میرے سمیت سب کو علم ہے۔ ہاں نیک دل اور خوش اخلاق لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو بغیر جنسی تفریق کے لوگوں سے اچھا رویہ رکھتے ہیں یا مدد کا جذبہ رکھتے ہیں مگر وہ کیا کہتے ہیں کہ کیا آپ انسان کی جبلی اچھائی پر شرط لگانے کو تیار ہیں؟
خیر یہ بحث کہیں اور نکل جائے گی مگر یہ بھی حقیقت ہے چاہے آپ کو برا لگے بلکہ یقیناً لگے گا کہ یہ عزت اس وقت تک ہی ہو رہی ہوتی ہے جب تک خاتون پدرسری معاشرے کی لگائی ہوئی لائن کراس نہیں کرتی اور اس پدرسری معاشرے /مردوں کی توقعات پر پورا اترتی ہے۔
جب ماں یا بہن جائیداد میں حصہ مانگے اس کے بعد دیکھیں کہ بھائی کتنی عزت کرتا ہے۔ آپ نے یقیناً اپنے اردگرد لوگوں کو اپنی بہنوں کو گندی گالیاں نکالتے دیکھا ہو گا۔ ماؤں کی نعشوں سے جائیداد پر انگوٹھے لگوانے کی تو آج کل ویڈیوز عام ہیں۔ ذرا قریبی فیملی اور سول کورٹ میں دو تین دن لگا کر آئیں پتا چل جائے گا خواتین کی اس معاشرے میں عزت کا۔
یہ تو ماں بہن بیٹی کا ذکر ہوا۔ باقی خواتین کو تو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمارا ایک کلاس فیلو تھا اس نے ایک بار یونیورسٹی بس میں لڑکیوں کو بولا کہ میری بہنیں اتنی بے حیا نہیں ہیں کہ گھر سے باہر نکل کر نامحرم مردوں کے ساتھ بسوں میں سفر کریں۔ بعد میں علم ہوا اس کی بڑی بہن نے اسے اور اس کے بھائی کو بچپن سے نوکری کر کے تعلیم دلوائی تھی کیونکہ باپ بیمار اور بستر مرگ پر تھا۔
اسی طرح انٹرنیٹ کو اٹھا کر دیکھیں پوری دنیا میں خواتین کو آن لائن اتنی گندی اور فحش گالیاں نہیں نکالی جاتیں جتنی برصغیر کا مرد نکالتا ہے۔ یقین نہ آئے تو عورت مارچ کی کوئی پوسٹ اٹھا کر اس کے نیچے کمنٹس دیکھ لیں۔
دفتر یا یونیورسٹی میں کسی کولیگ یا ہم جماعت کی پیش قدمی روکنے والی خاتون سے پوچھیں کہ اس کو اس کے بعد کن خطابات سے نوازا جا چکا ہے بجائے شرمندہ ہونے کے یا راستے سے ہٹنے کے۔ کہاں کی عزت دیتا ہے یہ معاشرہ خواتین کو؟
راہ چلتی ہراسانی کو دیکھ لیں۔ کسی بھی خاتون سے پوچھیں کہ کیا اسے زندگی میں کبھی بھی راہ چلتے ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟ چاہے وہ ڈی ایچ اے کراچی سے ہو یا عزت غیرت پر قتل کی دھمکیاں دینے والے دور دراز کے پختون علاقے سے۔ آپ کتنے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ چلیے دس فیصد تو ہوں گی ایسی خواتین؟
میں خواتین کے حقوق کا ترجمان نہیں ہوں نہ اس قابل خود کو سمجھتا ہوں۔ خواتین اپنا اچھا بھلا خود سمجھتی ہیں اور ان میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہے کہ وہ اپنا محاذ خود سنبھال سکیں البتہ ان منطقی مغالطوں پر بات کرنی ضروری تھی۔
یہ ہم نے خواتین کو سب سے زیادہ عزت اور حقوق دیے ہوئے ہیں کا چورن چاٹنا اور چٹوانا بند کریں ہم نے کوئی خواتین کو عزت اور حقوق نہیں دیے ہوئے یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس بات پر یقین کرنے والے مرد اور خواتین اپنے آپ کو اور دوسروں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔
اور ایک اور تلخ بات یہ ہے کہ عزت وغیرہ کے فرسودہ اور رجعت پسند قبائلی تصورات کو چھوڑیں۔ آپ کسی کو عزت نہ دیں۔ بس آپ دوسروں کے حقوق نہ چھینیں، انہیں اپنی طرح برابر کا انسان سمجھیں اور جتنی آزادی آپ کو حاصل ہے اتنی پر ان کا بھی حق سمجھیں چاہے وہ خواتین ہوں اقلیتیں بچے بزرگ بیمار معذور یا پسے ہوئے طبقات۔ بس اتنا کافی ہے۔
مزید براں یہ جس طبقے یعنی خواتین کا معاملہ ہے انہی کی اکثریت کو فیصلہ کرنے دیں کہ انہیں کتنے حقوق اور آزادیاں حاصل ہیں۔ آپ اور میں یہ فیصلہ کرنے کی اہلیت ہرگز نہیں رکھتے۔


Sentence like
سب سے پہلے تو یہ جو سیٹ خالی کرنا یا بہن بہن پکارنا ماں کے قدموں تلے جنت اور بہن کا پیار وغیرہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ خواتین کی مدد کرنے کے پیچھے بھی اکثر یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر آپ سے کمتر ہیں۔
–
Not all fingers are equal, do remember
–
First do decide whether you wanted to analyse the situation from National perspective, religious perspective, tribal / family rituals or man-dominated country
–
Since majority of Pakistanis are Muslim (even if so called or fanatics) the rules / instruction in Quran and guidelines elaborated in Ahadees are going to dominate the society
–
Islam did not stop girls to get education nor stop them from doing business or doing some jobs to earn the livelihood but this is also a fact that earning bread and butter / food / shelter for them is male responsibility (who so ever is around them) but even if they wanted to do by themselves, religion did not stop them
Same is the case of marriage of their choice
No one can force them what to do and what not to do
–
But this is no less than a Blasphemy (insult to Hadees) to declare
ماں کے پیروں تلے جنت محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔
–
Be careful and check your words before imposing what you think about others as well
–
Can a female athelete run 100m in less than 10 seconds, can she throw a Javelin of same size and length to same distance as of their male thrower, answer to both is bigg no because they physiology and anatomy is different from men and it is hard or bitter fact that they are made weaker than men
–
They cannot even perform 5 prayers all days of month or can do fast for complete month
–
Its the God who made them like that they (majority of them) cannot do so
its an honor and neither a punishment nor insult
–
Now look at Afghanistan or ex-Saudia (pre MBS era), whatever restrictions women are / were facing there had nothing to do with Islam but with Tribal restrictions
and for that case
وہ جو کہتے ہیں کہ روم میں رہنا ہے تو وہ کرو جو اہل روما کرتے ہیں اور وہ پہنو جو رومی پہنتے ہیں
اسی طرح اگر آپ نے اپنے خاندان یا قبیلے سے جڑے رہنا ہے تو قبائلی یا خاندانی روایات سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
ورنہ بغاوت کریں۔ چاہے وہ مذہب کی قیود سے آزادی ہو یا قبائلی روایات سے
–
ہم لیکن بغاوت تو بڑے شوق سے کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ بغاوت کے نتیجے میں جہاں روایات کی بندشوں سے آزادی ملتی ہے وہاں باغی کی سزا موت بھی ہوتی ہے۔
–
ویسے تو انارکلی نے یہی گایا تھا۔۔۔پیار کیا تو ڈرنا کیا
ابھے چُپ کر جا بھ کے چولیں نہ بجا۔ دوسرے کے منہ میں اپنی باتیں نہ ڈال۔ باتیں چودنا آسان ہے۔ جو مضمون میں دلیل دی گئی اس کا جواب دو مذہب یہ مذہب وہ کلچر بغاوت کیا ہانک رہے ہو یہ کوئی تبلیغی جماعت کا درس نہیں ہے عقل کی باتیں ہیں۔ وہ استعمال کرو نہیں تو لوگوں کو گمراہ نہ کرو۔ پاوں کے نیچے جنت ہے تو ثابت کرو۔ قبائلیت کی آڑ میں نہ چھپو اور کلچر کوئی جامد نہیں ہوتا۔ تالبان نے پابندی نہیں لگائی ہوئی تعلیم پر تم ان سے زیادہ اسلامی اور مذہبی ہو؟ میٹھا پیے ہپ ہپ کڑوے تھوکے تھو تھو۔