رابطوں کے ہجوم میں تنہا انسان


ایک وقت تھا کہ خاندانوں کے اندر خاموش بیٹھ کر چائے پینا، بزرگوں کی باتیں سننا، محلے کے چھوٹے بڑوں سے سلام لینا، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہماری روزمرہ زندگی کا فطری حُسن ہوتا تھا۔ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کا حصہ تھا، اور یہی وہ خوشبو تھی جو ہماری گھریلو فضا میں بکھری ہوتی تھی۔ دلوں میں نرمیاں تھیں، چہروں پر مسکراہٹیں، اور رشتوں میں ایک ان کہی مٹھاس ہوتی تھی۔ مگر آج اگر ہم ان مناظر کو تلاش کریں، تو شاید صرف کسی پرانی فلم، پرانے ڈرامے یا یادداشت کی دھندلی گلیوں میں ہی ان کا سراغ ملے۔ کیونکہ آج ہم ”آن لائن“ ہیں، ”لائیو“ ہوتے ہیں، لیکن اصل زندگی کے تعلقات کہیں گم ہو چکے ہیں۔

سوشل میڈیا جو کبھی علم، رابطے اور اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج ہمارے نوجوانوں کے لیے اضطراب، احساسِ کمتری، مصنوعی زندگی، اور جذباتی بیماریوں کی بنیاد بن چکا ہے۔ اس مصنوعی دنیا نے نہ صرف اصل رشتوں کو کمزور کیا بلکہ ہمارے اندر کا سکون اور قلبی اطمینان بھی چھین لیا ہے۔

آج ہمارے نوجوانوں کی انگلیاں تو دن رات چلتی ہیں، لیکن اُن کا دماغ سوچنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال بے تحاشا بڑھ گیا ہے مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ زیادہ تر نوجوان غیر تربیت یافتہ، اخلاقی شعور سے عاری، اور بغیر کسی رہنمائی کے استعمال کر رہے ہیں۔ ”ٹک ٹاک“ ، ”انسٹاگرام ریلز“ ، اور ”یوٹیوب شارٹس“ کے نشے نے نہ صرف وقت کا قتل کیا ہے بلکہ ذہن، صلاحیت، اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی مسخ کر دیا ہے۔

یہی نوجوان جنہیں کبھی قلم، کتاب، اور تخلیقی صلاحیتوں سے دوستی رکھنی تھی، وہ آج ”ویوز“ اور ”لائکس“ کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھیک صرف توجہ کی نہیں، بلکہ ایک ایسی قبولیت کی ہے جو سستی شہرت کے نشے میں انسان سے اُس کی عزت اور وقار چھین لیتی ہے۔ وہ جھوٹا حسن، بناوٹی چمک، اور پرفیکٹ لائف کی تصاویر دیکھ کر اپنے اصل وجود سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب تک وہ بھی اپنی زندگی کو ویسا نہ دکھائے، وہ ناکام ہے۔ یہ نفسیاتی دیمک ہے جو خاموشی سے اندر سے سب کچھ کھا جاتی ہے۔

ماضی میں ماں باپ کی باتیں سننا، بہن بھائیوں کا آپس میں ہنسنا بولنا، دادا دادی سے قصے سننا، یہ سب بچوں کی تربیت اور محبت کے پل باندھنے کا ذریعہ تھا۔ والدین اور اولاد کے درمیان آنکھوں سے باتیں ہو جاتی تھیں۔ بیٹے کی اداسی ماں کی نظر سے چھپ نہیں سکتی تھی۔ مگر اب بیٹا ماں کے ساتھ بیٹھا ہے، مگر اس کی آنکھیں اسکرین پر جمی ہیں۔ بہن بھائی ایک ہی چھت تلے ہوتے ہوئے بھی، الگ الگ موبائل کی دنیا میں کھوئے ہوتے ہیں۔ دوستوں کی محفلیں اب ”گروپ چیٹ“ میں بدل چکی ہیں۔ ہم نے اصل چہروں کو ”ایموجیز“ سے بدل دیا ہے۔

یہ خاموش تنہائی ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ رشتوں کی وہ خوشبو، وہ درد کو محسوس کرنے والی توانائی اب ہم نے گیجٹس کے بیچ کہیں دفن کر دی ہے۔ ہم سب ”کنیکٹڈ“ ہیں، مگر دل ”ڈس کنیکٹ“ ہو چکے ہیں۔

آج کا سوشل میڈیا بے حیائی، بدتمیزی، اور ذہنی آلودگی کا گڑھ بن چکا ہے۔ ایسے مواد کو لاکھوں بار دیکھا جاتا ہے جن میں بے ہودگی، جسمانی نمائش، یا اخلاق سے گری ہوئی باتیں ہوتی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ان مواد کو صرف دیکھتی نہیں، بلکہ اس کی نقالی کرتی ہے۔ وہ ”وائرل ہونے“ کے چکر میں اپنا کردار، اپنی شناخت، اور بعض اوقات اپنی عزت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر گالی دینا، دوسروں کی تذلیل کرنا، ”فیک آئی ڈیز“ سے بلیک میلنگ، مذہبی تضحیک، اور سیاسی گالم گلوچ عام ہو چکی ہے۔ اختلاف کو دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ اب کسی سے اختلاف ہو تو دلیل کی بجائے بدکلامی، اور مکالمے کی جگہ گالی دی جاتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو نوجوانوں کو شدت پسندی، عدم برداشت، اور بدتہذیبی کی راہ پر ڈال رہی ہے۔

اس مسلسل گراوٹ کا ایک اور پہلو نفسیاتی ہے۔ نوجوان جب سوشل میڈیا پر دوسروں کی خوبصورت زندگی دیکھتے ہیں تو اپنی زندگی سے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے چہرے، کپڑوں، اور رہن سہن سے کمتر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اندر ”سیلف ڈاؤٹ“ پیدا ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ”اینزائٹی“ ، ”ڈپریشن“ ، اور بعض صورتوں میں خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ پاکستان میں ہر تیسرا نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہے، اور اس میں سوشل میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔

ہمارا معاشرہ جو کبھی تمیز، لحاظ، اور ادب کی بنیاد پر کھڑا تھا، اب وہاں عمر کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ نوجوان بزرگوں سے ایسے لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کوئی عام ”فالوور“ ہو۔ ہمیں یاد ہے کہ ماضی میں جب ٹی وی پر ڈرامے ”وارث“ ، ”دھند“ ، ”تنہائیاں“ ، ”دھوپ کنارے“ جیسے آتے تھے تو وہ صرف تفریح نہیں دیتے تھے بلکہ کردار کی بلندی، رشتوں کی اہمیت اور تہذیب سکھاتے تھے۔

فلموں میں ”انصاف اور قانون“ ، ”دوستی“ ، ”بہارو پھول برساؤ“ ، ”رنگیلا“ ، اور دیگر ایسی فلمیں بھی آتی تھیں جو سماج کے آئینہ دار تھیں۔ لیکن آج کا میڈیا محض سنسنی، ”وَلہ گیری“ ، اور پیسہ کمانے کے چکر میں ہے۔ اب کردار نہیں بیچے جاتے، صرف جسم بیچے جاتے ہیں۔ ”انٹرٹینمنٹ“ اب انسان کو سکون دینے کی بجائے اسے بے حس، پراگندہ اور لالچی بنا رہی ہے۔ بچے ”کارٹونز“ میں بھی تشدد، آواز کی چیخ و پکار اور عجیب و غریب حرکات دیکھتے ہیں، جس سے ان کے اخلاق پر منفی اثر پڑتا ہے۔

ماضی میں محلے کے ایک بزرگ کی ایک نظر بچوں کے لیے پیغام بن جاتی تھی۔ آج ایسے بزرگ بھی ”فنی فلٹر“ سے تصاویر اپلوڈ کرتے ہیں تاکہ وہ بھی ”ویوز“ کی دوڑ میں پیچھے نہ رہیں۔ ہم نے عمر، مقام، رشتہ، اور ادب سب ”ورچوئل لائکس“ کے پیچھے قربان کر دیے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کا حل ممکن ہے؟ تو جواب ہے : ”ہاں“ ، لیکن شرط یہ ہے کہ ہم خلوصِ نیت سے اپنا رخ موڑیں۔ ہمیں تعلیمی نظام میں ”ڈیجیٹل اخلاقیات“ کو شامل کرنا ہو گا۔ والدین کو صرف موبائل لینے سے نہیں، بلکہ بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے دلچسپی لینی ہو گی۔ ہمیں ”اسکرین ٹائم“ کے ساتھ ساتھ ”دل کا وقت“ بھی دینا ہو گا۔

حکومت اور میڈیا ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ فحش، متشدد، اور بے ہودہ مواد پر سخت پابندیاں لگائیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مواد کی نگرانی میں اخلاقی خطوط شامل کریں۔

ہمیں خود سے بھی یہ سوال کرنا ہو گا:
کیا ہم اپنے رشتوں کو ایک ”اسٹیٹس اپڈیٹ“ سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں؟

کیا ہم اپنے بچوں کو ایسی دنیا دینا چاہتے ہیں جہاں صرف ”نوٹیفیکیشنز“ ہوں، یا ایسی دنیا جہاں دعائیں، باتیں، اور حقیقی محبت ہو؟

اب وقت ہے کہ ہم واپس اپنے دل، اپنے گھروں، اور اپنی اصل پہچان کی طرف پلٹیں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کریں، لیکن اپنی اصل زندگی کو مت چھوڑیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوا، تو ہم ایک ایسے معاشرے میں بدل جائیں گے جہاں سب ”کنیکٹڈ“ ہوں گے، مگر کوئی بھی واقعی ”کنیکٹڈ“ نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS