عمران خان کب رہا ہوں گے؟


امریکی کانگریس مینوں کا دورہ پاکستان ہو یا حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے پانچ رکنی پاکستانی نژاد امریکیوں کا دورہ۔ اعظم سواتی کے اعترافی بیانات ہوں یا علی امین غنڈہ پور کی اسلام آباد آنیاں جانیاں اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کے مفاہمتی بیانات۔ امریکہ میں پاکستان میں جمہوریت سے متعلق پیش کیے جانے والا بل ہو یا یک دم پاکستان میں برآمد ہونے والی معدنیات۔ ایسے میں کوئی جتنا بھی حقیقت پسند ہو، سوچتا ضرور ہے کہ ان تمام اتفاقات کے پسِ پردہ کہیں نہ کہیں عمران خان کی رہائی ان محرکات سے منسلک لگتی ہے۔

حالیہ دنوں میں عید ملن پارٹیاں ہوں یا عید کے بعد شروع ہونے والا شادیوں کا سیزن۔ رسمِ قل کا موقع ہو یا پھر رسمِ حِنا کا۔ ہر کوئی ایک ہی سوال پوچھتا سنائی دیتا ہے، خان کب رہا ہو گا؟

شعبۂ صحافت سے تعلق ہونے کی وجہ سے رشتے دار قریب کا ہو یا دائیں بائیں مڑ کر دور کا۔ یہ سوال پوچھنے والوں کی اکثریت تو عمران خان کی سپورٹر پلس ووٹرز کی ہوتی ہے تاہم جو بانی کے ووٹر تو دور کی بات سپورٹر بھی نہیں ہوتے، وہ اس شش و پنج میں مبتلا ہو کر مذکورہ سوال پوچھتے ہیں کہ کہیں خان کے آنے سے کامیابی سے استحکام کی جانب بڑھتا یہ ملک (ان کے بقول) دھڑام سے گر نہ جائے۔ ان کے بقول اب کہیں جا کر کامیابیاں ملنا شروع ہوئی ہیں جن کا ڈھنڈورا روز کے اخبارات میں چھپنے والے اشتہارات اور نیوز چینلز پر چلنے والی مہمات میں پیٹا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ نظام کے بالواسطہ یا بلا واسطہ فائدہ اٹھانے والوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوتا کہ اگر یہ نظام اتنی ہی کامیابی سے چل رہا ہے تو پھر حکومت کو کیا پڑی کہ وہ آئے دن عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دیتی ہے؟ کیا وجہ سے حکومت عمران خان کو عدالتی احکامات کے باوجود عدالتوں میں پیش کرنے سے کتراتی ہے؟ خان کے پاس کون سا نسخہ کیمیا ہے جس کے باہر آنے سے امریکہ پاکستان پر جوہری پابندیاں لگا دے گا۔

جہاں تک رہ گیا بنیادی سوال کہ عمران خان کی رہائی کب تک ہو گی تو اس سوال کے جواب دینے کا ٹھیکہ تو ان ولاگرز نے اٹھا رکھا ہے جو پانچ اگست 2023 کو خان کی گرفتاری کے بعد انہیں ہر روز رہا کروانے کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر دیکھنے والے ہر بار اس سوال کا جواب جاننے سے متعلق تھمب نیل دیکھنے کے بعد ویڈیو پر کلک کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ولاگرز کے اکاؤنٹ میں ڈالر گرتے ہیں اور دیکھنے والوں کا بلڈ پریشر۔

اگر دیکھا جائے تو اس سوال کا جواب جاننے والے ہر پاکستانی کے پاس موجود ہے اور وہ جانتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی لیڈران کے خلاف عدالتی فیصلے آنے کا موسم کب شروع ہوتا ہے اور کب عدالتیں اپنے ہی دیے گئے فیصلوں کو رات و رات کالعدم قرار دے دیتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ جب ہوائیں بدلتی ہیں تو اپوزیشن میں بیٹھے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے مصباح الحق کی طرح تُک ٹُک کرنے لگتے ہیں اور صاحبانِ اقتدار کی شکلیں جاتے پھلوں کی طرح مرجھانے لگتی ہیں اور وہ امپائر کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر گنگنانے لگتے ہیں کہ ’کبھی تم کو بھی ہم سے پیار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘ ۔

اس سوال کا جواب جاننے والوں کے لیے بس ایک ہی مشورہ ہے کہ وہ امریکہ سے پاکستان آنے والوں کی آنیاں جانیاں دیکھیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد بیرون ملک بیٹھے ہزاروں ڈالرز ماہانہ کمانے والے ولاگرز کے آج کل آنے والے شکایتی ولاگز دیکھیں۔ ان ولاگرز کے پاکستان کا دورہ کرنے والے پاکستانی نژاد امریکیوں کو دیے جانے والے طعنے دیکھیں۔

سمجھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کیا وجہ ہے (انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق) خان کی ہدایت پر بیرسٹر گوہر نے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹیوں کو تحلیل کیوں کر دیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ خان نے بیرسٹر گوہر کو کمیٹیاں تحلیل کرنے کی ہدایت دی؟ کیا خان یا بیرسٹر گوہر کی پاکستان کا دورہ کرنے والے پاکستان نژاد امریکیوں میں سے کسی سے ملاقات ہوئی، نہیں تو پھر آخر کیوں کمیٹیاں تحلیل کی گئیں؟

سب سے بڑھ کر خان کی رہائی کی اہم ترین نشانی تب آشکار ہو گی جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں پینڈنگ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کو دی گئی سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی جائے گی تاکہ اگر فیصلہ کنندگان کے خان کے امریکی نژاد پاکستانیوں سے معاملات طے پاتے ہیں تو خان کو ابتدائی طور پر کسی نہ کسی قسم کا ریلیف (ضمانت یا کہیں نظر بندی کی صورت میں ) دیا جائے۔

آخر میں اس سوال کے متمنی یہ سوال پوچھ کر اپنا اور سوال کا صحیح جواب نہ جاننے والوں کا وقت ضائع نہ کریں بلکہ اس سوال کا جواب ان نشانیوں میں ڈھونڈیں جو بیان کی گئیں ہیں اور آئے روز آشکار ہو رہی ہیں۔ بے شک یہ سب نشانیاں ہیں سمجھنے والوں کے لیے اگر وہ سمجھنا چاہیں۔

اختتامی تنبیہ: ان نشانیوں کے بعد اگر پھر بھی خان رہا نہ ہوا تو مزید نشانیوں کا انتظار کریں کیونکہ ہمارے پاس انتظار کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن تو ہے نہیں۔

Facebook Comments HS