خواب، محبت اور زندگی (13)


ٹیچرز ہاسٹل کالونی کے اندر ہی اسکول کے سامنے واقع تھا اور امی کی میری کئی استانیوں سے دوستی ہو گئی تھی۔ ایک مرتبہ اسکول کے ڈرامے میں ایک کردار میرا بھی تھا۔ اسٹیج پر آنے کے بعد میں نے اپنے مکالمے بولنا شروع کیے تھے کہ اچانک میری نظر امی پر پڑی جو پہلی قطار میں صوفے پر استانیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی موجودگی میرے لئے غیر متوقع تھی۔ نروس ہو کے میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا لیکن پھر خود پر قابو پا کے دوبارہ مکالمے بولنا شروع کیے۔ اور باقی ڈرامہ ہنسے بغیر مکمل کیا۔ شادی کے بعد کئی مرتبہ میں نے نوٹس کیا کہ احفاظ پریس کلب کے کسی جلسے میں جوش و خروش سے بڑے اعتماد سے تقریر کر رہے ہوتے مگر سامعین کے درمیان مجھے موجود پا کر اور مجھ پر نظر پڑتے ہی لمحہ بھر کو نروس ہو جاتے۔ اب اس بارے میں ماہرین نفسیات ہی بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
لائلپور کے بازار گھنٹہ گھر کے ارد گرد بنے ہوئے تھے اور ہم امی، ابی یا آپا کے ساتھ وہاں تانگے میں بیٹھ کر جاتے تھے۔ اب تو ان بازاروں میں سے مجھے صرف کچہری بازار کا نام یاد رہ گیا ہے۔ اس زمانے میں ٹیکسیاں اور رکشا تو ہوتے نہیں تھے، اندرون شہر آمدو رفت کا ذریعہ صرف تانگے تھے اور شہر سے باہر لاہور یا دیگر شہروں کے سفر کے لئے بسیں تھیں۔ ذاتی گاڑیاں بہت کم لوگوں کے پاس تھیں۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکی ہوں کہ امی، ابی اور ہماری نانی فلمیں دیکھنے کے بہت شوقین تھے۔ ہم نے بچپن میں ان کے ساتھ بہت فلمیں دیکھیں۔ صبیحہ اور سنتوش کی جوڑی بہت مقبول تھی۔ مسرت نذیر اس دور کی مشہور ترین ہیروئن تھی۔ ہم نے اسلم پرویز اور نور جہاں کی بھی بہت سی فلمیں دیکھیں۔ مجھے سینما گھروں کے نام تو یاد نہیں۔ 1954۔ 1962 کے اخبارات میں ان سینما گھروں کے نام ضرور مل جائیں گے۔

 مروز اردو کا مشہور اخبار تھا لیکن لائلپور میں اردو کے ایک دو اور اخبار بھی مقبول تھے۔ انگریزی کا ایک ہی اخبار مشہور تھا۔ پاکستان ٹائمز
جو ابی نے لگوایا ہوا تھا۔ اس میں انور علی کا کارٹون ’ننھا‘ بے حد مقبول تھا اور ابی روز ہمیں پڑھ کر بتایا کرتے تھے کہ آج ننھے نے کیا کہا۔

Start، My life in letters (آغاز، میری زندگی۔ حرف بے اختیار)

لائلپور میں ہی میں نے اپنی زندگی کی پہلی کہانی لکھی جو ماہنامہ حرم، لاہور میں شائع ہوئی۔ ہوا یوں کہ اس رسالے کی مدیرہ ظہیرہ بدر امی کی سہیلی تھیں۔ ایک مرتبہ جب وہ امی سے ملنے لائلپور آئیں تو میں نے ان سے شکایت کی کہ ان کے رسالے میں بچوں کا صفحہ کیوں نہیں ہوتا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے مہینے سے بچوں کا صفحہ بھی شائع کریں گی۔ اب ہمیں ذمہ داری کا احساس ہوا کہ ہمارے کہنے پر بچوں کا صفحہ شروع ہو رہا ہے تو ہمیں اس کے لئے کچھ لکھنا چاہیے۔ کچھ سوچ بچار کے بعد میں نے ایک کہانی لکھی، لیکن جب میں نے ابی کو وہ کہانی دکھائی تو انہوں نے کہا ’میں مان ہی نہیں سکتا کہ یہ کہانی تم نے لکھی ہے‘ ۔ (اب اس وقت اتنی سمجھدار تو تھی نہیں کہ یہ سمجھ سکتی انہیں کہانی اتنی اچھی لگی تھی کہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک چھوٹی سی بچی نے خود لکھی ہے ) ۔ پہلے تو میں غم و غصہ سے روتی رہی اور پھر کہانی کو پرزے پرزے کر کے پھینکنے کا سوچ رہی تھی کہ ارادہ بدل دیا اور لفافے میں ڈال کر لاہور پوسٹ کر دی۔ اگلے شمارے میں کہانی شائع ہو گئی اور یوں لائلپور میں قلم سے میرا رشتہ جڑا۔ اس کی وجہ گھر میں بڑوں کے لئے آنے والے رسائل اور کتابوں تک رسائی تھی جب کہ میری سہیلیوں کو صرف بچوں کے رسالے پڑھنے کی اجازت تھی۔ کوہ نور کالونی کی ماڈرن سہولیات اور ہمارے شاندار اسکول اور پیاری استانیوں کا بھی اس تخلیقی سفر میں ہاتھ رہا ہو گا۔ بصورت دیگر جیسا کہ ساحر نے کہا: مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے

ایوب خان۔ امریکہ کا پہلا محبوب آمر

میں نو سال کی تھی جب ملک میں ایوب خان کا مارشل لا لگا۔ اس ملک میں لگنے والے بہت سے مارشل لاز میں سے یہ پہلا مارشل لا تھا۔ عوام کو خوش کرنے کے لئے چالاک آمر نے اشیائے ضرورت کی قیمتیں کم کر دیں۔ گوشت اور کھانے پینے کی اشیا کی دکانوں پر جالیاں لگا دی گئیں۔ مجھے یاد ہے ابی جنرل اعظم کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ اک روز امی کو شاپنگ پر ساتھ لے جانے کے لئے اقبال خالہ کی خوبصورت بیٹیاں کالے برقعوں میں ہمارے گھر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراکری اور دیگر چیزیں بہت سستی ہو گئی ہیں، اس لئے خرید لینی چاہئیں۔ ہماری امی کی معصومیت ملاحظہ فرمائیے، کہنے لگیں ”اتنی جلدی کیا ہے، فوج آ گئی ہے، اب چیزیں سستی ہی ملیں گی“ ۔ امی کی خوش گمانی چند مہینوں میں ہی دور ہو گئی اور چیزیں پھر سے مہنگی ہو گئیں۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں آپ کو یو ٹیوب پر ایسی ویڈیوز مل جائیں گی جن میں دکھایا گیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں ایوب خان کے شاہانہ استقبال کے لئے امریکی حکومت نے کس قدر اہتمام کیا تھا۔ پروفیسر چومسکی کے الفاظ میں امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی بدمعاش ریاست ہے، جمہوریت کی تبلیغ صرف اس وقت کرتا ہے جب اسے کسی ملک پر بمباری کرنی ہو اور اسے تباہ کرنا ہو۔ ورنہ وہ ان ہی ڈکٹیٹرز سے محبت کرتا ہے اور ان کے ساتھ پینگیں بڑھاتا ہے جو اس کی پالیسیوں پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہمارے لبرلز (میں لیفٹسٹس کی بات نہیں کر رہی) جن میں سے اکثر نے امریکہ اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی ہے، آج بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں جب کہ آج ایک بچہ بھی امریکی سامراج کے مکروہ چہرے کو اچھی طرح پہچان گیا ہے۔

کیا وہ کبھی جاگیں گے؟ کیا وہ کبھی بھی اپنے آئیوی لیگ الما میٹرز میں ملنے والی برین واشنگ پر قابو پائیں گے؟ کیا وہ مغرب کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں گے اور اس کے بجائے علاقائی، غیر مغربی ممالک سے انسپیریشن لینا شروع کر دیں گے؟ مختصر جواب ہے : کبھی نہیں۔ یہ کام صرف بائیں بازو والے ہی کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بائیں بازو اس وقت کمزور ہے۔ تاہم، اگر تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے، تو وہ یہ ہے کہ چیزیں غیر متوقع طریقوں سے بدل جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS