طالبان کے قدموں تلے کچلا افغانستان


muhammad suban gul

پاکستان کی مقتدرہ نے ہمیشہ افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست ماننے کے بجائے اسے اپنا پانچواں صوبہ سمجھا ہے۔ موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں آدھے تو ضیاء الحق کو اپنا پدر تسلیم کرتے ہی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے پدر خانوں میں بھی ضیاء کا نام دیکھا ہے۔ جو اپنا امام ذوالفقار علی بھٹو کو مانتے ہیں۔
خیر یہ بات کسی سے ڈکی چھپی تھوڑی ہے۔ کہ حکمت یار، ربانی اور مسعود کن کی حکومت کے دوران مملکت خداداد میں جہاد کی تربیت لینے آئے تھے۔ دیکھیے سیکولر بے نظیر کی ہی حکومت تھی کہ جلال آباد پر چڑھائی کی گئی۔

ہر کوئی ہے جو افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے پہ تلا ہوا ہے۔ کابل کے پرل کانٹیننٹل ہوٹل میں کسی جنرل صاحب نے چائے کی پیالی پہلی بار تھوڑی پی ہے۔ یہ تو حمید گل سے لے کر نصیر اللہ بابر تک ان جرنیلوں کا شیوہ رہا ہے۔

اگست 2021 کے وہ دن شاید ہی کسی کے یاد کا حصہ نہ بنے ہوں۔ کابل سقوط کر گیا تھا۔ افغانستان میں ماتم اور پاکستان میں جشن منایا جا رہا تھا۔

تین سال ہونے کو ہیں۔ مجھے اب بھی وہ منظر تکلیف دیتا ہے۔ جب 19 سالہ زکی انوری یو ایس ائر فورس کے بوئنگ سی۔ 17 سے نیچے گر رہا تھا۔ زکی انوری افغانستان قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ زکی انوری اپنا گھر چھوڑ کر پردیس کیوں جانا چاہ رہا تھا؟ انیس سالہ یہ نوجوان افغانستان کا ترنگہ اپنے جسم سے لگائے ہر روز کابل کے کسی پارک میں سپرنٹس لگا رہا ہوتا۔ پھر 15 اگست کو وہ کابل ائرپورٹ کی جانب ہی کیوں دوڑ رہا تھا؟ جس کمرے میں زکی کی ٹرافیاں پڑی تھی۔ جس گھر میں زکی نے پہلا قدم لیا تھا۔ اس کمرے سے، اس گھر سے زکی کو ڈر کیوں لگنے لگا؟ اور جن قدموں کو آگے چل کر بین الاقوامی مقابلوں میں افغان ترنگے کی نمائندگی کرنی تھی، وہ بوئنگ سی۔ 17 سے گر کر چکناچور کیوں ہو گئی؟ 15 اگست کو گھر سے نکلنے سے پہلے، زکی کے کتنے ڈھیر سارے خواب چکنا چور ہوئے ہوں گے۔ آخر زکی کو گھر سے کیا مسئلہ تھا؟ گھر سے خوف کیوں کھانے لگا؟

ایسے ڈھیر سارے سوالوں کے جوابات عزیز اللہ کاروان کے ناول ”پنزمہ صوبہ“ کے صفوں پر بکھرے پڑے ہیں۔ ان صفحوں اور ان لکیروں کے درمیان کتنے ایسے سہانے خواب ہے، جو کبھی تعبیر نہ ہوئے۔

کاروان لکھتا ہے

” گھر اس احساس کا نام ہے۔ جس میں آپ ہنسی خوشی رہتے ہیں۔ زمین کا وہ ٹکڑا جہاں پر آپ کا دل ہنس رہا ہو۔ جہاں امید کی کونپلیں پھوٹتی ہے۔ جہاں خوشیاں آپ کی منتظر ہو اور جہاں سکون آپ کی راہ تکتا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو گھر پر آپ کے نام کی تختی کیوں نہ ہو وہ گھر، آپ کا گھر نہیں ہوتا“

وارسن شائر اپنی شہرہ افاق نظم ”گھر“ میں ایک جگہ لکھتی ہے۔ ”ہم سرحدات کی جانب تب ہی دوڑ لگاتے ہیں جب ساتھ پورا شہر بھاگ رہا ہوں“

تیس سال پہلے نازیہ اور عنایت خان الگ ہوئے تو عنایت خان ایران کی جانب اور نازیہ پشاور کی طرف دوڑ رہی تھی۔ ساتھ مگر پورا شہر دوڑ رہا تھا۔ عنایت خان اور نازیہ دونوں کابل یونیورسٹی کے شعبہ ادبیات سے وابستہ تھے۔ عنایت خان سے سبق چھوٹا تو مالی بن کر پودوں کو سہلانے لگا۔ نازیہ کے آنگن میں پانچ بچے چہکنے لگے۔ شوہر اس کا ملی اردو میں تھا۔ جنگ تیز ہوئی۔ نازیہ کا شوہر شہید ہوا۔ جنگ اور تیز ہوئی۔
نازیہ کے تین بیٹے ایک ایک کر کے جنگ کی نذر ہو گئے۔ تیس سال بعد کابل پھر سے سقوط کرگیا۔ تیس سال بعد نازیہ اور عنایت خان دوبارہ ملے۔ اب کی بار پھر سے پورا شہر دوڑ رہا تھا۔ نازیہ پشاور کی جانب۔
عنایت خان ایران کی جانب۔

کابل کے شہرِنو میں چہل قدمی کرتے ہوئے یا کسی کافی شاپ میں بیٹھے کافی کی آخری گھونٹ پیتے ہوئے محبتوں پہ کیا گزری ہوگی؟

” پانچواں صوبہ۔ محبت، سیاست اور جنگ“ جیسے نام سے واضح ہے۔ ان حالات کا نقشہ کھینچتی ہے۔

مردان کی فیض النساء اور کنڑ کے سمسور خان کے پیار کی داستان کابل شہر کی داستان سے کیوں کر مختلف ہوگی۔ جس شکست و ریخت سے ان دو کرداروں کی داستان عشق گزری ہے۔ اس درد و کرب سے گزرنے پر بھی گر آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے۔ اپنی ایک ای میل میں ڈاکٹر سمسور ڈاکٹر زیب النسا کو لکھتا ہے
” پیاری ڈاکٹر

افغانستان پر طالبان نے قبضہ جمالیا ہے۔ نہیں معلوم کہ اشرف غنی نے کابل کی بادشاہی کھودی یا میں نے اپنے دل کی۔ ٹھیک ہے۔ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں افغانستان نہیں آنے دے رہے۔ جامعات ویسے بھی ساری مقفل ہیں۔ کابل اُجڑ چکا ہے۔ ہر طرف وحشت اور دہشت کا راج ہے۔ ہر کوئی اپنے سر کی سلامتی چاہتا ہے مگر مجھے اپنے پیار کی پڑی ہے۔ دل پھٹا جا رہا ہے۔ نہیں پتہ کیا کروں۔ خدا کے لیے ایک دفعہ اپنا احوال دو۔

ڈھیر سارا پیار
تمہارا سمسور ”

ای میل دیکھنے پر بھی وہ جواب نہ دیتی۔ کیونکہ ڈاکٹرفیض النسا سمجھتی تھی کہ طب اور سمسور ایسے دو خواب ہیں جو طالبان کے آنے کے بعد اب کبھی تعبیر نہ پا سکیں گے۔

مگر

” وہ جتنا بھی بھاری پتھر دل پہ رکھ لیتی، کہیں نہ کہیں سے ہوا، کابل اور سمسور کی یاد لے آتی۔ ڈاکٹرفیض النسا جہاں کہیں ہوتی۔ جو کچھ بھی کر رہی ہوتی۔ آنکھوں سے آنسو چھلک ہی اُٹھتے“

اب جب کہ یہ بات تسلیم شد ہے۔ کہ انسانی رشتوں میں درد کا رشتہ سب سے بڑھ کر ہے۔ تو عزیز اللہ کاروان آپ کو کچھ اور کرداروں کے ذریعے افغان وطن کا درد کھینچتا ہے۔

جنگ کی جو بھی شکل ہو، ہر شکل انتہائی بد صورت ہوتی ہے۔ سید افضل کاکا کے گھرانے پہ جو کچھ گزری سو گزری مگر ان کے اشک بھی تو باقی افغانوں کی عاقبت نہ سنوار سکے۔

جنگ زدہ افغانستان میں زندگی کے ہر موڑ پر موت اپنا بدصورت ناچ ناچ رہی ہوتی ہے۔

ابھی پشمینہ (سیدافضل کاکا کی بیٹی) کی عمر پندرہ سولہ برس ہی ہوئی ہوگی، کہ موت نے اسے ایک سوالنامہ تھما کر کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔

موت نے پوچھا ہو گا۔ کہ اپنے والد، والدہ، چھوٹے بھائی اور چھوٹی بہن کے بعد تمہیں زندہ رہنے کا حق کیونکر ہو۔

کاروان نے کچھ یوں لکھا ہے۔

” خودکشی بہت مشکل رہی ہوگی۔ مگر کتنی؟ سوچو تمہارے پاس پیسہ، پیار، خوشی، سیر سپاٹے، اعلیٰ تعلیم، ایک بہترین کاروبار اور ہر وہ چیز جس کی کبھی تم نے خواہش کی ہو، موجود ہو تو خود کشی پاگل پن اور ناممکن ہو گی۔

مگر پشمینہ کی جگہ خود کو رکھو۔ ضمیر نہیں رہا۔ زرین گھر سے بھاگ چکا ہے۔ اماں بھی ہسپتال پہنچنے سے پہلے انتقال کر گئی۔ اس حال میں خودکشی مشکل ہو گی کہ روح کی تسکین کا واحد حل ”

انسان اور درد کے رشتے میں ایک تیسرا شخص بھی کھڑا ملتا ہے۔
سانس۔
اگر سانس کی لے کو ہی توڑا جائے۔
تو درد کاہے کا۔
اذیت کس بھلا کا نام؟
تکلیف کس کو ہوگی؟
کون ہے جو کرب سے گزرے گا؟
شاید پشمینہ نے بھی یہی سوچا ہو گا۔

قاری جمعہ گل کی شخصیت باقی کرداروں سے حد درجہ پیچیدہ ہے۔ جب کوئٹہ شوریٰ سے حکم ملا کہ فلاں دن فلاں چیک پوسٹ پر حملہ کیا جائے۔ تو جواب میں کہتا ہے۔

” ملی اردو کی چیک پوسٹ پر حملے سے آپ کیا ہی فتح کر لو گے۔ اپنی ہی ماؤں کو بیوہ اور اپنے ہی بھتیجوں کو یتیم کرنے سے کیا ملے گا۔ اس چیک پوسٹ میں تو امریکی جوان کیا۔ ایک امریکی کتا بھی نہیں ہوتا“

قاری جمعہ گل خود برین واشڈ ہے۔ مگر دوسروں کو جب اس ڈالری جنگ میں کودتے دیکھتا ہے۔ تو عجیب دکھ سے آشنا ہوتا ہے۔ قاری جمعہ گل امریکی افواج پر کنڑ کے دروازے تو بند کر لیتا ہے۔ مگر ملی اردو یا کسی سکول کالج پر حملہ اپنے افغانیت کے خلاف سمجھتا ہے۔

لکھاری اس کردار کے ذریعے امریکی افواج اور افغانوں کے درمیان ثقافتی، لسانی اور مذہبی دوریوں پر رقم طراز ہے۔ اگر نیٹو افواج مقامی لوگوں سے اپنا رشتہ برابری کی بنیادوں پر استوار کر لیتی تو نہ طالبان دوبارہ سر اٹھاتے نہ ہی قاری جمعہ گل جیسے لوگ طالبان کی نذر ہوتے۔

مگر یہ جنگ ڈونلڈ رمزفیلڈ کے سکرپٹ کے مطابق ہی لڑی گئی۔ جب کابل میں تھرل نہیں رہا تو اپنی پرانے تنخواہ داروں کے حوالے کر کے یوکرین اور غزیٰ کا رخ کر لیا۔

آپ نے وحشت سے تہذیب کا سفر پڑھا ہو گا۔ جنگلوں سے تمدن تک آپ نے فلموں میں دیکھا ہو گا۔ کاروان آپ کو ایک کردار سے ملاتا ہے، جس کے ساتھ الٹا ہوا۔ شہید سید افضل کا بیٹا زرین خان اپنے باپ کو مرتد سمجھتا ہے۔

یہ وہی زرین خان ہے۔ جس نے جلال آباد بنک میں دھماکے کے بعد باپ کو نہ ملنے پر اتنی تیز چیخ لگائی تھی کہ خدآوند نے عزرائیل کو کچھ لمحوں کے لیے سید افضل کاکا کی روح قبض کرنے سے روکا۔ یہ چیخ اتنی تیز تھی کہ جلال آباد کی ہواؤں کو چیرتی ہوئی سیدھا عرش ہلا گئی تھی۔

میرے پیارے دوستو! یقین مانیے۔ یہ وہی زرین ہے کہ جب آدھی رات کو سمسور اسے جہادیوں کی وحشت کے قصے سنا رہا تھا۔ تو آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے۔ جو رات کی تاریکی میں نوجوان زرین خان کی پرخم داڑھی میں کہیں کھو گئے تھے۔

آپ مانیں گے نہیں مگر یہ وہی زرین ہے کہ بقول سمسور اپنی کلاس کا سب سے حوصلہ مند اور ہونہار بچہ تھا۔ مگر اس سے کیا ہوا یہ لوگوں کی زندگیوں کے درپے کیوں ہو گیا۔
اس نے تو ڈیوہ سے پیار نہیں کیا تھا۔ ہاں کیا تھا۔ تو اب اس نے اپنے پیار پر بندوق کیوں تانی ہے؟
یہ تو بڑا شریف بچہ تھا نا۔ ہاں بالکل تھا۔ تو اب ماں کو گالی کیوں دے رہا ہے؟
یہ تو خود افغانستان کے مشکل ترین امتحان کانکور میں بیٹھنے والا بچہ تھا نا۔
ہاں بالکل تھا۔
تو یہ اب بموں سے سکول کالجز کیوں اڑا رہا ہے۔
بھئی ہم کیا بتائیں۔ کاروان کیا بتا سکے گا۔ ایسا ہی تو ہو رہا ہے جوانیوں کے ساتھ، افغانستان میں۔
پہلے تو جوانی سے پہلے ہی کوئی آپ کو جہنم اور خود کو جنت پہنچا کر آ جاتا ہے۔

اگر جوانی رہی بھی تو زرین کے ساتھ جو ہوا وہی آپ کا مقدر ہے۔ ہاں اگر کچھ زیادہ ہی باصلاحیت ہوئی تو آپ کی موت بوئنگ سی۔ 17 سے گرتے گرتے واقع ہو جائے گی۔

اور شاید آپ ان دونوں صورتوں سے بچ جائیں تو پشاور میں آ کر کاروان کی طرح درد کا نوحہ ہی لکھ لیں گے۔

Facebook Comments HS