ام ہریرہ کی کتاب: رب سے جڑنے کا سفر


 

صنف: ناول
کیٹیگری: اسلامی حلال ناول، ریگولر نہیں سپیشل والا

1۔ تعارف، کہانی کا خلاصہ اور بیانیہ

رب سے جڑنے کا سفر از امِ ہریرہ بظاہر ایک مذہبی روحانی اور اصلاحی ناول ہے، جس میں مرکزی کردار فاطمہ اور قرة العین کے درمیان تعلق کے ذریعے انسان اور خدا کے تعلق، توبہ، ہدایت اور روحانی تبدیلی جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ناول فنی اعتبار سے ادب تو کیا پاپولر فکشن کے کسی معیار پر پورا اترتا ہے نہ ہی یہ ہدایت کے سفر کو ایمان دارانہ انداز سے بیان کرتا ہے، جو اس کا مرکزی خیال ہے۔ مذہبی احکامات انتہائی شدت پسندی اور غیر حساس انداز سے بیان کیے گئے ہیں۔ ناول ابتدائی سطر سے آخری جملے تک قاری کے ذوق اور ضبط کا امتحان ہے۔ یہ فکشن نہیں بلکہ خیالات کا مجموعہ ہے۔ یہ ناول اسی دینی سیریز کا ہے جس کا شکار ہو کر ہر کوئی مذہبی ناول لکھ رہا ہے۔ یہ پہلے لکھے گئے ناولز کی پڈنگ ہے۔

سب سے پہلی بات ناول تین مشہور اُردو ناولوں کا مجموعہ ہے۔ صریح اور واضح بتاؤں تو یہ چوری شدہ مواد سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں اوریجنیلٹی نام کو نہیں۔ یہ ناول مصحف، جنت کے پتے اور صنم سے صمد تک کی منظر سے منظر کاپی ہے۔ مصنفہ کو ایسی بد دیانتی اور چوری پر شرم آنی چاہیے تھی لیکن شاید اسے لگا کہ کیوں کہ وہ دین پھیلا رہی ہیں اس لیے یہ چوری ان کے نامہ اعمال میں ایک نیکی شمار ہوگی۔ کیوں کہ انہوں نے دین میں عقل استعمال کر کے بہتر فیصلے پر پہنچنے کو بدعت سمجھ لیا ہے اور بدعت ایک حرام کام ہے۔ اس لیے انہوں نے پہلے سے موجود کام کو اٹھایا اور بدعت (نئی چیز) سے بچتے ہوئے سب کچھ پچھلا ہی برقرار رکھا۔ یعنی ناول کی ابتدا ہی عقلی اور فنی بے ایمانی سے ہوئی۔ جو لوگ مذکورہ تین ناولز پڑھ چکے ہیں وہ اگر اس ناول کے ابتدائی بیس صفحات پڑھ لیں تو جان جائیں گے کہ کاپی پیسٹ الزام نہیں حقیقت ہے۔

2۔ خلاصہ:

ناول کی کہانی کو اگر اختصار سے بیان کیا جائے تو وہ یہی ہے کہ مرکزی کردار فاطمہ نامحرم سے دوستی رکھنے پر احساس گناہ کا شکار ہو کر توبہ کرتی ہے، اس کی کلاس فیلو قرۃ العین اسے توبہ اور دین داری سکھانے میں پیش پیش ہے۔ فاطمہ اپنے سابقہ سے قطع تعلق ہونے پر دھمکیاں سنتی ہے، وہ اس کی کچھ تصویریں ایڈٹ اور ٹیمپر کر کے اس کے خاندان کے مردوں سے شیئر کر دیتا ہے۔ نتیجتاً اسے گھر والوں سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد ملتا ہے، تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ وہ شرعی پردہ کرنے لگتی ہے اور خاندان کی مخالفت مول لیتی ہے تا کہ اللہ کو راضی کر سکے ساتھ ہی وہ مدرسے جانے لگتی ہے دین سیکھنے لگتی ہے۔ اسی دوران اسے لیور کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ یہ کینسر گھر والوں کے زد و کوب کرنے کے واقعے میں میز سے ٹکرانے کے زخم سے شروع ہوا۔ وہ کینیڈا شفٹ ہوتی ہے، علاج شروع ہوتا ہے۔ وہیں وہ تبلیغی سرگرمیاں بھی جاری رکھتی ہے۔ کینیڈا میں ہی وہ لیور ٹرانسپلانٹ کرواتی ہے۔ ٹرانسپلانٹ سرجری ناکام ہونے کے بعد وہ کینیڈا میں ہی انتقال کر جاتی ہے۔ کہانی کے کرداروں میں فاطمہ کے والدین، دو بھائی، ایک بھابھی ہے۔ قرۃ العین، اس کا بھائی معاذ اور ان کی ماں۔ نائلہ، اس کا بھائی شہریار اور ان دونوں کی والدہ۔ ان کے علاوہ فاطمہ کی ایک کینیڈین کزن بینش اور سسٹر لیزا ہیں۔

قرآن کی تعلیم اور انسانی زندگی میں لاگو کرنے کا تھیم مصحف، شرعی پردے کی تعلیم و ترویج کا تھیم جنت کے پتے اور میز کا کونا چبھو کر کینسر کروانے والا سین اور ہیروئن کو مارنے کا خیال کنیز نبوی کے ناول صنم سے صمد تک سے ماخوذ ہے۔

موضوع اور موقع کے اعتبار سے مسنون دعائیں، احادیث اور قرآنی آیات انہوں نے اسلام تھری سکسٹی ( 360 ) سے نکال لیں۔ تخلیق، تحقیق، غور و فکر، دلائل؟ وہ جائیں بھاڑ میں۔

3۔ فکری، فنی اور تنقیدی جائزہ

اردو نثری ادب میں ناول کو ہمیشہ سے تخلیقی اظہار، معاشرتی عکاسی، اور انسانی نفسیات کے تہہ در تہہ مطالعے کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک خاص قسم کے اسلامی ”تبلیغی فکشن“ نے زور پکڑا ہے، جہاں تخلیقی عمل پر دینی پیغام غالب آ جاتا ہے، ایسے ناولوں میں ہمیں اصلی زندگی کے حالات اور مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں نہ ہی حقیقی کرداروں کو متعارف کرایا جاتا ہے۔ زبردستی کا مذہب کرداروں کی نفسیات اور نشوونما کو ایک طرف کر کے ان کے اور پڑھنے والے کے حلق میں انڈیلا جاتا ہے۔ امِ ہریرہ کا ناول رب سے جڑنے کا سفر اسی نوع کی ایک مثال ہے، جس کا مقصد اصلاحِ نفس ہے، مگر اس عمل میں فنی نزاکتیں، نفسیاتی گہرائی، اور ادبی معیار قربان ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے اس کے فنی تجزیے میں اس کی نکتہ بہ نکتہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے :

1۔ مرکزی خیال:

بظاہر یہ ایک روحانی بیداری کی داستان ہے، جہاں گناہ گار انسان (فاطمہ) ایک نیک کردار (قرة العین) کے ذریعے ہدایت پاتا ہے۔ مگر اس ہدایت کو شدت، خوف اور گلٹ کی نفسیات، اور سیاہ و سفید کی تقسیم میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر گناہ کو نہ صرف شیطانی بلکہ مکمل طور پر ناقابلِ فہم اور شرمندگی کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اسے روح اور ذہن کو انتہائی داغ دار کر دینے والا دکھایا گیا۔ کہیں بھی اسے انسانی فطرت سے منسلک نہیں کیا گیا۔ ہدایت کے راستے کو صرف ایک مخصوص، جامد تصورِ دین سے جوڑ دیا گیا ہے۔

کسی عمل اور ردعمل کے لیے کسی کردار کے عقلی تقاضے کیا ہیں وہ سرے سے فراموش کیے گئے ہیں۔

2۔ ہدایت بمقابلہ آزاد و خودمختار عقل:

ناول کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نجات صرف اُس وقت ممکن ہے جب انسان مکمل طور پر اپنے آپ کو ایک مخصوص مذہبی سانچے میں ڈھال لے۔ کردار قرة العین کی صورت میں ہمیں ایک نمونہ کاملہ (مثالی مذہبی عورت) دکھائی جاتی ہے جو نیک، پردہ دار اور واعظہ ہے۔ یہ تصور اس حد تک بڑھایا گیا ہے کہ فاطمہ کی مکمل روحانی بیداری صرف اسی کی رہنمائی سے ممکن ہو پاتی ہے۔

یہ بیانیہ عقلیت، غور و فکر، اور انسان کی اندرونی لڑائی کو کمزور کرتا ہے۔ فاطمہ کا ”سفر“ بہت جلد ایک احساسِ گناہ، شرمندگی اور جذباتی توڑ پھوڑ میں بدل جاتا ہے۔ ہدایت کا حصول ایک عقلی جستجو کے بجائے جذباتی ڈھلوان پر کھسکنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ جس میں میچورٹی اور غور و فکر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ہدایت کی چاہ صرف اور صرف گلٹ کے خاتمے کے لیے ہوتی ہے نہ کہ انسان کا فطری و عقلی تقاضا۔

3۔ مذہبی اجارہ داری:

ناول میں ہدایت کے لیے جو معیار قائم کیا گیا ہے، وہ صرف ایک مخصوص مذہبی عمل سے وابستہ ہے :

مکمل پردہ (بالخصوص چہرے کا پردہ جو کئی سکالرز کے نزدیک دینی فرائض میں شامل ہی نہیں ہے )
غیر مردوں سے مکمل اجتناب
امور دنیا سے بے زاری اور لذتوں سے نفرت
ہر غلطی کو شدید گناہ سمجھنا

ایسا بیانیہ قاری کو یا تو شدت پسندی کی طرف لے جاتا ہے یا احساسِ گناہ کے بوجھ تلے دبنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہاں ”رب سے جڑنا“ ایک خوفناک اور مذمت بھرا سفر بن جاتا ہے، نہ کہ محبت آمیز اور داخلی روشنی کا تجربہ۔ ایک سالک یا صوفی خدا کی عبادت، اس کی صفات سے آشنائی، اس کی کائنات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق سے بنا تعصب محبت کے ذریعے خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔ اس ناول میں ان تمام پہلوؤں پر لکیر پھیر کر ہدایت کو صرف اور صرف رونے، گڑگڑانے، نماز، پردے، مردوں سے میل جول کے ترک کرنے میں سمو دیا گیا ہے۔ جیسے یہی کل دین ہے۔

4۔ معروضیت کی نظر اندازی:

”ہدایت“ کو جس انداز سے صرف نقاب، مخصوص لباس، سماجی میل جول سے اجتناب اور ”غیر محرم سے مکمل اجتناب“ میں مقید کر دیا گیا ہے، وہ واضح طور پر شدت پسندانہ نظریات پر مبنی ہے۔

قرة العین کا کردار کچھ یوں پیش کیا گیا ہے جیسے وہی ہدایت اور نیکی کی نمائندہ ہو، اور باقی سب گم راہ ہوں۔

5۔ اسلوب:

مکالمے حد درجہ تبلیغی ہیں، فطری انداز سے دور۔ جن میں دلیل اور عقل کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ:

”تمھیں اپنی تڑپ دکھانی ہو گی، فاطمہ! ورنہ ہدایت نہیں ملے گی۔“ (کیا واقعی ایسا ہے؟ ہدایت صرف تڑپ تڑپ کر ملتی ہے یا خدا کی رضا اور مرضی سے یا نصیب سے؟ یا ان سب سے؟ )

”اللہ تعالیٰ پلیز مجھے قرۃ العین جیسا بنا دیں۔“ (فاطمہ کے پاس کوئی سند آئی ہے کہ قرۃ العین جیسا بننا ہی اس کی نجات کا راستہ ہے؟ )

6۔ کردار نگاری:

کرداروں میں اندرونی پیچیدگی نہیں۔ وہ یا تو مکمل نیک ہیں یا مکمل گناہ گار۔ جب کہ اصل زندگی میں انسان فطری ہوتے ہیں۔ جبلت نامی چیز بھی ہوتی ہے۔ وہ گناہوں ثوابوں، اچھی اور بری عادات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔

فاطمہ کا کردار نفسیاتی تبدیلی کے عمل سے نہیں گزرتا بلکہ فوری جذباتی ردعمل سے بدل جاتا ہے۔

قرة العین کا کردار ایسا مصنوعی کامل نمونہ ہے جس سے قاری جذباتی طور پر تو متاثر ہو سکتا ہے، مگر تخلیقی سطح پر اس کا وجود غیر حقیقی ہے۔ ان کو پڑھتے ہوئے بہت روبوٹک، مصنوعی پن اور مشینی قسم کا احساس ہوتا ہے۔

7۔ پلاٹ اور بیانیہ:

پلاٹ سیدھا، سطحی اور جذباتی ردعمل پر مبنی ہے، جس میں انفرادی یا اجتماعی نفسیات اور اندرونی کشمکش کی حقیقی گہرائی نہیں ہے۔ کہانی ایسی ہے کہ قاری کو ابتدا ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ انجام کیا ہو گا۔

کردار ایک دوسرے کے ساتھ مکالموں کے ذریعے تبلیغی طرزِ بیان اختیار کرتے ہیں، جس سے ناول کا فنی قتل ہو جاتا ہے۔ ہر جملے اور منظر سے وعظ چھلک رہا ہے۔

سچ بات یہ ہے کہ مصنفہ نے اپنے فہم کی بنیاد پر دو موضوعات پر خطبے تحریر کیے اور ان خطبات کے اندر کہیں کہیں ذرا سی کہانی (جو کہ مسروقہ ہے ) ڈال دی۔

کہانی کی روانی خطبات اور قرآن کی آیات کے ترجمے سے بار بار منقطع ہوتی ہے، جس سے ناول ایک ادبی تخلیق سے زیادہ تبلیغی کتابچہ بن جاتا ہے۔

8۔ زبان و بیان:

ناول میں لکھی جانے والی اُردو کو کسی طور بھی ادبی نثر نہیں کہا جا سکتا۔ زبان اتنی بھونڈی ہے کہ میرا ماننا ہے کہ دو پڑھے لکھے لوگ اپنی وٹس ایپ چیٹ میں اس سے بہتر الفاظ کا چناؤ کر کے پیغام لکھتے ہیں۔ مصنفہ زبان جانتی ہیں نہ ہی انہیں لغت سے کوئی سروکار ہے، نہ ان کی گرائمر ٹھیک ہے۔ وہ ”قرب“ اور ”کرب“ کے فرق تک سے نا واقف ہیں۔ ”تیرے“ اور ”تجھے“ جیسے صیغوں کی اتنی بھرمار ہے کہ ایسا لگتا ہے یہ ناول کے مکالمے نہیں ”سلینگز“ ہیں۔ الفاظ میں تکرار، مبالغہ آمیز اور سطحی جذبات نگاری اتنی نمایاں ہے کہ طبیعت اچاٹ ہو جاتی ہے۔ اس ناول کے مقابلے میں گلیوں میں بندر اور بکرے کے تماشے دکھانے والے مداری کے جملے زیادہ بر محل اور مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک ایک مکالمہ ایسا بے جان اور مصنوعی ہے کہ گماں گزرتا ہے لکھنے والے کی پیدائش روس میں ہوئی جسے اُردو سے کوئی آشنائی نہیں ہوئی ہے۔

 

Facebook Comments HS