امریکہ کا بھارت کو حیران و پریشان کرنے والا مشورہ
غالب کا ’’ہم کہاں کے دانا تھے…؟‘‘ والا سوال عرصہ ہوا اپنی جبلت کا حصہ بنا لیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے میرا نہ ہونے کے برابر ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ کے نام سے چلایا یوٹیوب چینل بند ہوا تو خیال آیا کہ کسی نہ کسی کے دل میں کہیں نہ کہیں میرے بیان کردہ خیالات اب بھی کانٹے کی طرح چبھ جاتے ہیں۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت مجھ کو میسر نہیں۔ وہ مل بھی گئی تو شاید یہ دریافت نہ کر پائوں کہ اوسطاََ تین سے پانچ ہزار کے درمیان جو لوگ ’’نصرت جاوید آفیشل‘‘ نامی یوٹیوب کے ذریعے مجھے سنتے رہے ہیں ان میں سے کتنے فی صد بھارت میں مقیم ہیں۔ ٹھوس اعداد و شمار کی عدم موجودگی کے باوجود دیانت داری سے یہ سوچتا ہوں کہ شاید دو یا تین سو سے زیادہ بھارتی شہری میرے ’’گراں قدر‘‘ خیالا ت سے آگاہ رہنا لازم نہ سمجھتے ہوں گے۔ متعصبانہ طیش کے عالم میں لیکن بھارت نے پہل گام میں ہوئے واقعہ کا ’’بدلہ‘‘ لینے کے لئے پاکستان سے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود اہم ترین پاکستانیوں کے ساتھ مجھ جیسے ایرے،غیرے، نتھو، خیرے لوگوں کی بھی بھارت کے عوام تک رسائی ناممکن بنا دی۔ ’’شریکوں‘‘ میں کھڑا کر دینے سے ’’ازلی دشمن‘‘ نے یوں جی خوش کر دیا۔
خوشی کے ان لمحات میں ایچ کے برکی بہت یاد آتے رہے۔ ہماری نوجوان ترین نسل (Gen-Z) کے لئے وہ قطعاََ اجنبی شخصیت ہوں گے۔ میری جوانی کے دنوں میں لیکن وہ صحافیوں کے لئے قابل تقلید افراد کی فہرست میں نمایاں ترین تھے۔ ان کی تحریر رواں ہونے کے علاوہ سفید کو نہایت جرات سے سفید اور سیاہ کو سیاہ ہی پکارتی۔ غالباََ ان کا نام حمید اللہ خان برکی تھا۔ لکھتے مگر ایچ کے برکی کے نام سے تھے۔’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں سفارتی معاملات پر کالم لکھا کرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ان کی شناسائی 1960ء کی دہائی میں شروع ہو گئی تھی جب وہ ایوب خان کے وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے۔ 1960ء میں قائم ہوئے تعلق کی وجہ سے بھٹو صاحب نے 1970ء کی دہائی میں پہلے صدر اور بعدازاں وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کے بعد برکی صاحب کو اپنے ہر غیر ملکی دورے میں ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے قبل وہ برکی صاحب کے ساتھ اس حوالے سے طویل مشاورت کی گنجائش بھی نکال لیتے۔
صحافیوں کے ساتھ ایسی مشاورت کا سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی جاری رکھا۔ مرحوم سردار آصف احمد علی صاحب کے بعد خورشید قصوری صاحب نے بھی بطور وزیر خارجہ یہ روایات برقرار رکھی۔ اتفاقاََ ان دونوں نے میرے ساتھ ہمیشہ کمال شفقت کا مظاہرہ کیا۔ قصوری صاحب اس کی وجہ سے مزید قابل ستائش ہیں کیونکہ میں جنرل مشرف کا مستقل ناقد تھا۔ وہ مگر فوجی آمر کو ازخود یہ بتا کر مجھے اہم عالمی امور کے بارے میں پاکستان کی جانب سے ہوئی پیش رفت سے آگاہ رکھتے کہ میرے انگریزی میں لکھے کالم سفارت کار غور سے پڑھتے ہیں۔ انہیں میری ’’ضرورت‘‘ ہے۔ ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ فوجی آمر ہوتے ہوئے بھی جنرل مشرف نے خوش دلی سے میرے اور خورشید صاحب کے تعلق کو برداشت کیا۔
جنرل ضیاء کا دل مگر بڑا نہیں تھا۔ جولائی 1977ء کا مارشل لاء لگاتے ہی انہوں نے نیشنل پریس ٹرسٹ کی تحویل میں گئے ’’پاکستان ٹائمز‘‘سے برکی صاحب کو فارغ کروا دیا۔ اس کے علاوہ خوجہ آصف صاحب کو بھی گھر بھیج دیا گیا۔ خواجہ آصف مشہور میوزک ڈائریکٹر خورشید انور صاحب کے بھائی تھے۔ نہایت خاموش طبع اور کم گو شخص۔ ہمارے صحافی بزرگوں کی اکثریت مگر یہ تسلیم کرتی ہے کہ انگریزی اخبارات کے لئے لکھنے والوں کو ان سے بہتر ایڈیٹر نصیب نہیں ہوا۔
’’پاکستان ٹائمز‘‘ سے فارغ کر دئیے جانے کے بعد خواجہ صاحب کو رزق کمانے کے لئے اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ ’’دی مسلم‘‘ میں نوکری مل گئی۔ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر رہے۔ خواجہ صاحب نہایت خاموشی سے نیوز ڈیسک کے قریب لگی ایک میز پر سر جھکائے ہم جیسوں کی لکھی غلط سلط انگریزی درست کرنے میں مصروف رہتے۔ برکی صاحب ان کے دیرینہ دوست تھے۔ وہ عصر کے بعد تھوڑی واک کرتے اور ’’نیوز روم‘‘ کی خوشبو اور ماحول میں سانس لینے کے لئے ’’دی مسلم‘‘ کے دفتر آ جاتے۔
برکی صاحب صحافت میں آنے سے قبل برطانوی نیوی میں شامل رہے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد غالباََ کچھ عرصے کے لئے ہماری قومی ہاکی ٹیم کے کپتان بھی رہے۔ اسی باعث ان کے پرانے دوست انہیں ’’کپتان صاحب‘‘ بھی پکارتے تھے۔ وجیہ اور دراز قد برکی صاحب کی شخصیت بہت رعب داب والی تھی۔ صحافیوں کی اکثریت انہیں سلام کرنے سے بھی گھبراتی۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ نہایت مغرور ہونے کے علاوہ منہ پھٹ بھی ہیں۔ 1983ء کے بعد جب ضیاء دور میں انگریزی اخباروں کے لئے ذرا نرمی اختیار ہوئی تب بھی برکی صاحب نے کسی اخبار کے لئے پرکشش دعوت کے باوجود یہ لکھتے ہوئے انکار کر دیا کہ ’’میرا لکھا نہ تمہارا اخباربرداشت کر پائے گا نہ ہی جنرل ضیاء‘‘۔
میں برکی صاحب سے دبتا تو نہیں تھا مگر انہیں دیکھ کر اپنے کام میں مصروف رہتا۔ ایک روز میں ٹائپ رائٹر سامنے رکھے بغیرمیز پر بیٹھا تھا تو نیوز ایڈیٹر کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھے برکی صاحب ازخود اٹھ کر میرے پاس آئے۔ میں ادب سے کھڑا ہو گیا توانہوں نے بے تکلف پنجابی میں استفسار کیا کہ ’’اج کوئی چول نہیں مارنی‘‘ (تم نے آج کسی بے ہودگی کا ارتکاب نہیں کرنا؟)‘‘۔ ان کے سوال نے مجھے عندیہ دیا کہ میری لکھی خبر یا کالم چھپنے سے پہلے وہ بھی اس پرنگاہ ڈالتے ہیں۔ شاید میری تحریر کے منتظر بھی رہتے ہیں۔ کاملاََ مغرور تصور ہوتے برکی صاحب کے سوال نے لہٰذا میرا دل بڑھا دیا۔ اس دن واقعتاً میرے پاس لکھنے کو مناسب مواد موجود نہیں تھا۔ برکی صاحب کے سوال نے جی خوش کیا تواِدھراْدھر فون گھما کر ان دنوں کے سیکرٹری برائے خارجہ سے ملنے چلا گیا۔ ان سے ملنے کے بعد جب خبر لکھی تو وہ دوسرے روز صفحہ اوّل پر نمایاں انداز میں چھپی تھی۔ برکی صاحب شام کو تشریف لائے تو مجھے دیکھتے ہی کہا کہ ’’تم نے جلدی میں فلاں فلاں پہلو مس کر دیا‘‘۔ اخبار نویس کو بڑی خبر ملنے کے بعد ٹھنڈے انداز میں ایک مفصل اور جامع خبر لکھنا چاہیے۔ یہ کہتے ہوئے جو’’بے عزتی‘‘ انہوں نے فرمائی ہر حوالے سے میرے لئے مشفقانہ رہ نمائی تھی۔
1980ء کی دہائی ختم ہو گئی تو نوائے وقت کے انگریزی ساتھی ’’دی نیشن‘‘ سے ہوتے ہوئے میں انگریزی کے ایک اور اخبار میں چلا گیا۔ برکی صاحب سے اب کبھی کبھار راولپنڈی کے جید سیاسی کارکن مرحوم سید کبیرعلی واسطی صاحب کے گھر سجائی محفل میں ملاقات ہوتی۔ وہاں موجود ہر شخص برکی صاحب سے خارجہ امور کے بارے میں نئے پہلو دریافت کرنے کی کوشش کرتا۔ بھٹو صاحب کی بین الاقوامی امور کے بارے میں سوچ اور اس تناظر میں عالمی رہ نماوں سے ہوئی ملاقاتوں کی تفصیل بھی اس کی بدولت سننے کو مل جاتی۔
جنرل مشرف کا مارشل لاء لگا تو میرے اخبار نے مجھے بھارت تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں بیوی اور کم سن بچیوں سمیت وہاں منتقل ہونے کو آمادہ نہیں تھا۔ بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ میں سال میں دو بار تین تین ماہ کے لئے دلی میں رہ کر خبریں اور کالم وغیرہ بھیجا کروں گا۔ ایسے تین ماہ گزارنے کے بعد غالباََ 2000ء کے اگست ستمبر میں پاکستان آیا تو واسطی صاحب نے اپنے ہاں بلا لیا۔ برکی صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے اعلان کیا کہ آج سوالات ان سے نہیں بلکہ مجھ سے ہوں گے اور مجھ سے سب سے زیادہ سوالات برکی صاحب کی جانب سے پوچھے گئے۔
اپنی گفتگومیں فکرمندی کے ساتھ میں یہ تھیوری گھڑنے میں مصروف رہا کہ مشرف کے دنوں میں پاکستان امریکہ کا ’’نیٹو جیسا‘‘ اتحادی نظر آ رہا ہے۔ بھارت میں لیکن میرا قیام واضح عندیہ دے رہا ہے کہ وہ اورامریکہ ایک دوسرے کے بہت قریب آ رہے ہیں۔اپنی بات ثابت کرنے کے لئے کئی واقعات بھی سنائے۔ میری فکر مندانہ گفتگو سن کر ’’کپتان صاحب‘‘ نے کمال بے اعتنائی سے پنجابی میں کہا کہ ’’فکرمند ہونے کے بجائے خدا سے دعا مانگو کہ بھارت جلد از جلد امریکہ کا قریب ترین دوست بن جائے۔ امریکہ سے اپنے تئیں گہری دوستی قائم کر لینے کے بعد ہندوستان ایک دن دریافت کر لے گا کہ یہ ملک کسی کا بھی دوست نہیں ہے‘‘۔
آج سے 25 برس قبل کہی برکی صاحب کی یہ بات مجھے پہل گام واقعہ کے بعد سے بھارتی چینلوں پر رونما ہوتے ’’ماہرین‘‘ امور خارجہ و دفاعی امور کے ’’تجزیے‘‘ سننے کے بعد شدت سے یاد آتی رہی ہے۔ یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ پاک- بھارت جنگ ابھی تک ٹلی ہوئی ہے تو کلیدی وجہ اس کی امریکہ کا بھارت کو ’’پاکستان کے ساتھ‘‘ مل کر پہل گام واقعہ کے ذمہ داروں کا ’’سراغ لگانے‘‘والا مشورہ ہے۔ اس مشورے نے بھارت کو حیران و پریشان کر دیا ہے اور میں برکی صاحب کی دور اندیشی کو سلام عقیدت پیش کرنے کو مجبورمحسوس کر رہا ہوں۔
(بشکریہ نوائے وقت)


