عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم


برادرم یاسر پیرزادہ سے رشتہ مودت پر دو دہائیاں گزر چکیں۔ اچھی دوستی کی بنیادی شرط ہم دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یعنی مجموعہ اضداد۔ یاسر بھائی اعلیٰ سرکاری افسر ہیں، خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار، شگفتہ طبع، دوست نواز، مہمان نواز، صاحب مطالعہ، صاحب فکر، معاملہ فہم، صاحب طرز نثر نگار اور۔۔۔ کشمیری نژاد لاہوری ہونے کے باوصف اچھے پکوان کا ذوق ضرور ہے، اناج کے مگر دشمن نہیں ہیں۔ سررشتہ قضا و قدر نے مقدرات کی تقسیم کے سمے درویش کو ان خوبیوں سے محروم رکھنا مناسب سمجھا۔ نتیجہ یہ کہ ہماری خوب نبھتی ہے۔ بیس برس پر پھیلے اس تعلق میں رنگ آسماں ہی نہیں بدلا، ہم بھی بدلے اور سچ یہ کہ بہت بدلے۔ کہیں یاسر بھائی نے کوئی نئی راہ دریافت کی اور کہیں خاکسار نے پسپائی اختیار کر لی۔ یہ سب تو ہوا لیکن وہ جو ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کہا تھا، ’ہزار ہم سخنی ہو، ہزار ہم نظری / مقام جنبش ابرو نکل ہی آتے ہیں‘ ۔ تاثیر صاحب کی افتاد میں یک گونہ قطعیت پائی جاتی تھی۔ حفیظ ہوشیار پوری نے اسی مضمون میں کیا لطافت پیدا کر دی۔ ’دل سے آتی ہے بات لب پہ حفیظ / بات دل میں کہاں سے آتی ہے‘ ۔ دل تو محض ایک پارہ لحمی ہے۔ رائے، خیال اور اظہار کے جھگڑے کاسہ سر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دانہ گندم کی تہمت سے متصف ہر بندہ خاکی مشاہدے، تجربے، حالات اور واردات کی ایک درون خانہ کائنات کا امانت دار ہے۔ یہ قیاس کرنا بہت دشوار ہے کہ اس کشتِ ہزار رنگ میں کہاں سنبل کی نمود ہوتی ہے اور کہاں ببول سر اٹھاتا ہے۔

گزشتہ کچھ ہفتے ہمارے خطے میں بہت ہنگامہ خیز گزرے۔ دو ہمسایہ ممالک میں دیکھتے ہی دیکھتے درجہ حرارت ایسا بڑھا کہ ناقابل تصور تباہی کے غبار نے پونے دو ارب انسانوں کی حد نظر دھندلا کے رکھ دی۔ سرحد کے دونوں طرف دبے ہوئے تعصبات آتش فشاں بن گئے۔ اخبار والوں کو خامہ فرسائی کے جوہر دکھانے کا خدا ایسا موقع دے۔ اور اب تو بھس میں چنگی ڈالنے کے ہزار راستے نکل آئے ہیں۔ ٹی وی اسکرین کی بھی حاجت نہیں رہی، موبائل فون اٹھایا اور زہر افشانی شروع۔ اب سرحد پار کوئی کلدیپ نیئر ہے اور نہ خوشونت سنگھ جو اشتعال میں توازن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ادھر ہمارے سر پر بھی آئی اے رحمان اور سوبھو گیان چندانی کا سایہ نہیں رہا جو وطن دوستی اور حقائق کے درمیان ہوش مندی کی لکیر مٹنے نہ دیں۔ یہ فرق البتہ تسلیم ہے کہ ہمارے ہاں فرس اظہار کی باگ پر کسی قدر قابو رکھا گیا۔ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران نودولتیا رعونت نے جنم لیا ہے چنانچہ ادھر آگ اگلنے کی دوڑ بگٹٹ رہی۔ اب کچھ تتو تھمبو ہوا ہے تو ہم میں کم ہی جانتے ہیں کہ دونوں ملک کس خوفناک طوفان سے بال بال بچے ہیں۔

اس بیچ یاسر بھائی کے قلم سے بھی کچھ تیز تحریریں نکلیں۔ حضرت دائیں بائیں پٹے کے ہاتھ دکھاتے نکل گئے۔ ادھر والوں پر برسنا تو خیر قابل فہم تھا، اپنے امن پسند نیاز مندوں پر بھی چھینٹے اڑائے۔ ایک تو میرے لیے یہ سمجھنا دشوار ہے کہ حضرت کو دانش اور دانشور کی اصطلاحات سے کیا بیر ہے۔ کیا یاسر بھائی نہیں جانتے کہ اشتراکی آمریتوں سے لے کر امریکی انتہا پسندوں تک intellectualism۔Anti کی ایک باقاعدہ روایت پائی جاتی ہے۔ سٹالن صاحب پاسٹرناک پر طنز فرماتے تھے کہ ’وہ بادلوں میں رہتا ہے‘۔ ماؤزے تنگ کے ’ثقافتی انقلاب‘ میں طفلان گلی کوچہ کو اساتذہ، ادیبوں اور دانشوروں کی تذلیل سونپی گئی تھی۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ میکارتھی ازم میں دانشوروں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جان بولٹن جیسے نمونوں کی اہل دانش سے حقارت سب جانتے ہیں۔ خود ہمارے ملک میں جولائی 1987ء کی اہل قلم کانفرنس میں ضیا الحق نے دانشوروں کو سیم اور تھور قرار دیا تھا۔ وارث میر آمر کی اس ہرزہ سرائی کا جواب لکھتے ہوئے ہی جان کی بازی ہار گئے تھے۔ دانش اپنی اصل میں ہجوم کی کم علمی اور اقتدار کے اختیار کو للکارنے کا نام ہے۔ آپ اپنی تحریروں میں جا بجا ابن رشد، ابن خلدون اور منصور حلاج کے حوالے دیتے ہیں۔ درویش گلیلیو اور برونو گورڈیانی سے روشنی لیتا ہے۔ یہ سب اپنے عہد کے دانشور ہی تھے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ جنگ میں سب سے پہلے سچ کو موت آتی ہے۔ جنگ میں دوسرے سانحہ یہ گزرتا ہے کہ آزادی اظہار کو ان دیکھی زنجیریں پہنا دی جاتی ہے۔ بہادری اور سرفروشی کے بلند بانگ نعروں میں امن کی آواز خاموش ہو جاتی ہے یا سنائی نہیں دیتی۔ جنگ میں سستی حب الوطنی بیچنے والوں کی بن آتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ دانشور کسی نامانوس زاویے سے معاملات دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ مسولینی کی فسطائیت کے حامیوں میں ایذرا پاؤنڈ کا نام بھی آتا ہے۔ یورپ کی سب سے تعلیم یافتہ قوم جرمنی ہٹلر پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ ہم پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ ہمیں کیا خبر کہ ہندوستان میں بسنے والے 22 کروڑ مسلمان کس جانکاہ کشمکش کا شکار ہیں۔ چلیے، آپ ہی کے جد امجد مولانا بہاؤالحق قاسمی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ 1953ء کے ہنگاموں میں مولانا کو لاہور قلعے میں رکھا گیا۔ ایک روز انہیں اذیت دینے پر مامور افسر نے ان کا حوصلہ توڑنے کے لیے ایک عالم دین کو ان کے روبرو کھڑا کر دیا جن کے اعصاب ٹوٹ چکے تھے۔ مولانا بہاؤالحق قاسمی کی عزیمت اور وسعت قلبی دیکھئے کہ انہوں نے کبھی مذکورہ عالم دین کا نام نہیں بتایا۔ فرماتے تھے۔ ’نامعلوم ظالموں نے ان پر کیا قیامت توڑی تھی‘۔ یار عزیز یاسر پیرزادہ کو صرف یہ یاد دلانا مقصود تھا کہ کرہ ارض پر انسانی احترام کا بلند ترین نصب العین امن ہے۔ جنگ صرف ایک صورت میں جائز ہے یعنی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع۔ اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے دفاع میں کھڑے ہونے کی ہمت رکھنے والے جنگ کی آرزو نہیں کیا کرتے۔ تاریخ میں جنگ پسندوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ فیض صاحب نے لینن امن انعام ملنے پر اپنے خطبے میں فرمایا تھا۔ ’امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت ہیں، دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کی ہنسی‘۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم

  • 16/05/2025 at 8:44 شام
    Permalink

    آپ نے خود لکھا کہ سرکاری افسر ہیں تو پھر کیا رہ گیا۔
    ویسے بھی کسی سرکاری افسر کو دوران نوکری لکھنے لکھانے کی اجازت مل جائے تو فدوی اسے سرکاری رشوت سمجھتا ہے۔
    ایک عام سرکاری کلرک شام کو پارٹ ٹائم کرنا چاہے تو سرکاری اجازت ملنا ناممکن لیکن یہ بابو اور ان کے جیسے اوریا مقبول جان، راؤ منظر ہوں یا ذوالفقار چیمہ ان میں سرخاب کے پر لگ جاتے ہیں۔
    کیا کسی عام سے حاضر سروس فوجی افسر کو اس پیمانے پر لکھنے کی اجازت ملی (ماسوائے وہ جو آئی ایس پی آر میں رہے ہوں)۔
    سو جب ڈیڑھ دو لاکھ روپلی ہر مہینے اوپر کی آمدنی آرہی ہو تو
    دلہن وہی جو پیا من بھائے ۔

    • 16/05/2025 at 9:00 شام
      Permalink

      افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ سول سروس کے سرکاری افسر سرکاری نوکری کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی اضافی کمائی کرسکتے ہیں۔
      لیکن ایک پولیس والا دوران ڈیوٹی (جو 24 گھنٹے ہی ہوتی ہے)، ہسپتال کی ایک نرس، ایک کلرک، محاذ پر موجود فوجی، عمومی ہر فوجی یا سرکاری افسر کی بیگم اپنے خاندان کے نان و شبینہ کے لئے پرنٹ میڈیا تو کجا الیکٹرانک (ٹی وی) یا سوشل میڈیا کے ذریعے کمائی نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر برق کے دو اسلام اور دو قرآن کی طرح مملکت خداداد میں موجود ہیں
      دو قانون اور دو انصاف۔

  • 16/05/2025 at 9:50 شام
    Permalink

    بہت خوب سر! جاندار تحریرہے – خاکسار نے بھی یاسر صاحب کی اُس تحریر پر ردِعمل میں چند حرفی جملہ لکھ ڈالا تھا۔

    • 17/05/2025 at 1:34 صبح
      Permalink

      شکوہ تو آپ سے بھی ہے۔ اچھا لکھتے ہیں لیکن تبصرے کی سہولت آپ کے مضامین کے نیچے موجود نہیں ہوتی۔ فیس بک اور ٹوئٹر سے میرا ایک الگ اختلاف ہے۔
      بہرحال آپ اس ناچیز کی کبھی توصیف اور کبھی اعتراض و اصلاح سے محروم ہی رہے۔
      وزیرِاعظم کی مُودی کو للکار اور کاشف مسیح کا نِیلو نِیل بدنمیں بھی کچھ باتیں تھیں لیکن دل میں ہی رہ گئیں۔
      یاسر پیرزادہ جب تک سرکاری نوکر ہیں ان کا مسئلہ سمجھ آجانا چاہئے

Comments are closed.