غصے کی خود کاشتہ فصل


اسد محمد خان بے شک اس عہد کم کمال میں اردو ادب کے ترکش کا خدنگ آخریں ہیں۔ کراچی میں مقیم اس مشت لعل و جواہر سے تعلق آشکار یا ربط دروں نہ رکھنے والے بدنصیب کو بلاتاخیر کور چشم اور کم سواد ننگ اسلاف کی فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔ اسد محمد خان نے کہانی کی بنت میں ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے کہ وہی اس رنگ کے خاتم ہیں۔ برصغیر کے دور دراز منطقوں کے جغرافیے کے پیچ و خم، لہجے کی لٹک اور مقامی رہن سہن کی باریکیوں کو بے کھٹک اپنے بیان میں سموتے چلے جاتے ہیں۔ لفظ کی کیفیت تو بہت سوں کو نصیب ہو جاتی ہے، خان صاحب خود لفظ تخلیق فرماتے ہیں اور لطف یہ کہ ان کی کلک گہر آفریں سے ٹپکنے والے لفظ معنی کی روشنی لیے کاغذ پر نمودار ہوتے ہیں۔ کردار سازی کی کیا پوچھتے ہیں۔ قبلہ اسد محمد خان کے کرداروں کی داخلی کائنات کا جوار بھاٹا پڑھنے والے کے کاسہ مغز میں پھیلی لال گلابی لکیروں کا نقشہ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ باسودے کی مریم، مئی دادا، حافظ شاکر اللہ گینڈا۔ لاجی بائی اور محترمہ در شہوار نصیر جیسے ان گنت کردار اسد محمد کے فکشن میں پیتل کے کٹورے کے مافک کھنکتے ہیں۔ فکشن ہی پر کیا موقوف، خان صاحب مصور ہیں۔ ڈرامہ اور فیچر ان کی انگلیوں پر نرت کرتے ہیں۔ ابھی ’جنگل‘ کے عنوان سے ایک ناول منصہ شہود پر آیا ہے۔ ’رکے ہوئے ساون‘ شاعری کا مجموعہ ہے۔ موسیقی کے تان پلٹے اور تاریخ کے پیچ و خم اسد محمد خان کے ہاتھ بندھے غلام ہیں۔ اسد محمد خان کا قلم سادھارن مخلوق کے آلام، انسانوں کے حمق، ریاکاری کے پردے چاک کرتے طنز اور نعرے کا تکلف کیے بغیر ہم عصر سیاسی شعور کے مرقع کھینچتا چلا جاتا ہے۔ اسد محمد خان کے ایک معروف افسانے ’غصے کی نئی فصل‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

’چالیس سے پچاس کی تعداد میں عورت مرد دائرہ بنائے بیٹھے ہیں اور حلق سے غیظ و غضب کی آوازیں نکالتے ہیں۔ کبھی تو ایسا لگتا تھا جیسے اب اٹھیں گے اور ایک دوسرے کو پھاڑ کھائیں گے۔ مگر اس طیش، اتنے غضب کے باوجود کوئی بھی اپنی جگہ سے ہلتا تک نہیں، دوسرے پر حملہ نہیں کرتا۔ بس اپنے سامنے بیٹھے مرد یا عورت کو غصے کی آوازیں کر کے آنکھیں نکال نکال کے دانت نکوستے ہوئے دہلائے جاتا ہے۔ ‘

اس افسانے میں اسد محمد خاں نے ایک تخیلاتی گروہ تخلیق کیا ہے جو دن بھر مکمل شانت رہتے ہوئے غصے اور اضطراب کو اپنے اندر جمع کرتا ہے اور پھر رات کسی پہر آمنے سامنے بیٹھ کے اس دبائے ہوئے رنج و غضب کو بآواز بلند اذن اظہار دیتا ہے۔ اس گروہ کا عقیدہ ہے کہ ’غصہ آدمی میں ساری زندگی موجود، مگر پوشیدہ رہتا ہے۔ تاہم اگر دن کے خاتمے پر اسے ظاہر ہونے، یعنی خارج ہونے کا موقع دیا جائے تو ایک دن ایسا آئے گا کہ آدمی غصے اور نفرت سے پوری طرح خالی ہو جائے گا۔ (یہ لوگ) اس کیفیت کو تکمیل کا نام دیتے ہیں‘ ۔

کچھ برسوں سے وطن عزیز بھی ایسی ہی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ گلا پھاڑ کر چیخنے چلانے والوں نے دن رات میں کسی وقت کی تخصیص رکھی ہے اور نہ اپنے شغل ژاژ خائی کے لئے کوئی مقام متعین کیا ہے۔ اخبار کا صفحہ ہو یا سوشل میڈیا، کہیں چار لوگ مل بیٹھے یا فون پر بات ہوئی، آٹھوں پہر گالی گفتار، بھیانک غراہٹیں، باہم تذلیل، تعصب، بغض، بے سر و پا الزامات، جھوٹ کے طومار، روٹی بیٹی کا محاورہ، علم اعضا کی تشریح، ابتذال، مکروہ لہجہ، کریہہ آوازیں، دلیل سے نفور، رگیں پھولی ہوئیں، آنکھیں سرخ۔ مرغی کے انڈے برابر تاریخ اور چوپال کی سر پھٹول۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ درویش اب صرف خبریں سنتا ہے۔ سوشل میڈیا پر تبصرے ہرگز نہیں پڑھتا۔ خوش قسمتی سے مجھے کم کم ہی کوئی منفی تبصرہ ملتا ہے اور وہ بھی کسی بے چہرہ کارندے کی گوہر افشانی۔ تاہم زبان ایسی ژولیدہ ہوتی ہے کہ اس تلخ کامی سے گریز ہی مناسب سمجھتا ہوں۔ لطف یہ ہے کہ رنگ فلک کی مناسبت سے لکھنے والوں کا صید ناوک بدلتا رہتا ہے۔ آخر کو تھالی کے بینگن ہیں۔ لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوتا۔ کیوں نہ ہو، نسلوں سے تالاب گدلا کیا گیا ہے۔ کبھی جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کی صحافت میں ایسا ہی یدھ پڑتا تھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کارٹون پر دوپٹہ ڈالا گیا۔ خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے پیروں میں گھنگرو باندھے گئے۔ بھٹو صاحب کو گھاسی رام کہا گیا۔ آصف علی زرداری پاکستان کے غالباً واحد سیاست دان ہیں جنہیں اتنی طویل مدت تک اس تسلسل سے کردار کشی کا نشانہ بنایا گیا کہ اب ان کی تعریف تک قابل طعن ٹھہری ہے۔ ہمارے نوجوان اہل وطن کا معاملہ عجیب ہے۔ انہیں کسی اور کی تحسین یا تنقید سے غرض نہیں۔ وہ تو اپنے ممدوح کا قصیدہ چاہتے ہیں۔ یہ معصوم نہیں جانتے کہ ہم سامری کے اس بچھڑے کا مکتب اور اس کے اتالیق بھی جانتے ہیں۔ ہمیں عمران خان سے غرض نہیں۔ عمران خان تو ایک بڑے کھیل کا لمحہ مستعجل ہیں۔ ہمارا نزاع بہت پیچھے جاتا ہے۔

نیازمند نے ’غصے کی نئی فصل‘ میں ’خود کاشتہ فصل‘ کی تحریف کی ہے۔ ننگ گفتار کی یہ روایت ہمارے لیے نئی نہیں، علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر گستاخ لڑکوں نے ابوالکلام آزاد کی ریش مبارک سے دراز دستی کی تھی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں لیاقت علی نے سہروردی کو ایک چوپائے کا نام دیا تھا۔ تحریک آزادی کے مجاہد عبدالغفار خان اور قرارداد پاکستان پیش کرنے والے فضل الحق کو غدار کہا گیا تھا۔ مادر ملت کے لیے ناقابل اشاعت الفاظ برتے گئے۔ ملک کی پہلی منتخب پارلیمنٹ سے حزب اختلاف کو ڈنڈا ڈولی کر کے ایوان سے باہر پھینکا گیا۔ جمہوری کارکنوں کو تخریب کار اور ڈاکو قرار دیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ نصرت بھٹو اور بینظیر شہید کی جعلی تصویریں کس نے تیار کروائی تھیں۔ فرحت اللہ بابر کی تصنیف شائع ہو گئی ہے۔ الحمدللہ! اُس عہد بے نور میں لکھنے والوں کو عینی شہادت میسر آ گئی ہے۔ مردان کے گڑ والی چائے پر سبع المعلقات تصنیف کرنے والے گونگے کا گڑ کھائے بیٹھے ہیں۔ ان دنوں وطن عزیز میں تحسین باہمی کا غلغلہ ہے۔ دو ہفتے بعد بجٹ آئے گا تو قائم چاند پوری کا شعر پھر سے زندہ ہو گا۔

عوض طرب کے گزشتوں کی ہم نے غم کھینچا
شراب اور نے پی اور خمار ہم کھینچا

Facebook Comments HS

7 thoughts on “غصے کی خود کاشتہ فصل

  • 03/06/2025 at 10:18 شام
    Permalink

    ارے جناب مٹی ڈالیں سیاست دانوں اور ان کے پیچھے چلنے والے شاہ دولہ کے چوہوں پر۔

    کیا بچپن کی سنہری یادیں تازہ کی ہیں۔ کوئی چالیس برس پہلے محترم اسد محمد خاں سے کراچی ٹی وی پر ملاقات ہوئی۔ اور وہیں پتہ چلا کہ ٹی وی پر جو چند پہلی خوش گلو اور خوش شکل گلوکارائیں دیکھی تھیں ان کے کمال کام کی شاعری اسد صاحب کی تھی۔

    سن 2006 میں وفات پانے والی روبینہ بدر کا لافانی گانا ۔۔۔۔۔۔۔ تم سنگ نیناں لاگے مانے نہ رے جی یارا۔ شاعر کو امر کرتا یا نہ کرتا روبینہ بدر کو امر کرگیا تھا۔

    پھر ریڈیو پر حسن شہید مرزا نے بتایا کہ بلقیس خانم کا شہرہ آفاق گیت جو اردو میں اب محاورہ بن چکا ۔۔۔۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند بھی اسد صاحب کا کارنامہ ہے۔

    اور اسد صاحب میرے لئے اس وقت رشک قمر ہوگئے جب پتہ چلا کہ محمد افراہیم کا گایا قومی نغمہ "زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے” اسد صاحب کا کارنامہ ہے۔

    پی ٹی وی کے لئے لکھے ان کے کھیلوں کی ایک الگ فہرست ہے اب چوں کہ نہ پی ٹی وی رہا اور نہ وہ معیار تو 93 سالہ اسد صاحب سچ مانیں تو ہم میں ان کی موجودگی دل کو ڈھارس بندھاتی ہے۔


    شاعری کی جتنی سمجھ ہے قائم چاند پوری ایک اچھے بھلے اپنے وقت کے غزل گو شاعر تھے۔
    جلوہ کس جا پہ نہیں اس بت ہر جائی کا
    یہ پریشاں نظری جرم ہے بینائی کا

    جیسے اشعار میں کبھی کبھار بے وزنی محسوس ضرور ہوتی تھی لیکن آپ نے جو کچھ شعر لکھا "درست ہی ہوگا” لیکن در حقیقت ہضم نہیں ہورہا، اتنا بے وزنی محسوس ہورہا ہے !

    • 03/06/2025 at 11:17 شام
      Permalink

      شعر درست ہے۔ قائم چاند پوری کے دیوان کی پانچوں جلدیں مجلس ترقی ادب نے شائع کر رکھی ہیں۔ دراصل یہ بحر قدرے نامانوس ہے

    • 03/06/2025 at 11:26 شام
      Permalink

      البتہ حسرت موہانی نے ’دیوان قائم‘ مرتب کرتے ہوئے مصرع اولیٰ یوں لکھا ہے

      عوض طرب کے گزشتوں کا ہم نے غم کھینچا

      اس میں دقت یہ کہ مصرع ثانی اپنا معنی کھو بیٹھتا ہے

    • 04/06/2025 at 3:13 صبح
      Permalink

      قائم چاندپوری مير تقی میر، خواجہ میر درد، مرزا رفیع سودا، شیخ قلندر بخش جرات اور مصحفی کے ہم عصر تھے۔ انہیں معمولی شاعر سجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ قائم چاندپوری کی تصنیف ’تذکرہ مخزن نکات‘ قدیم اردو شاعری کی تاریخ کا اہم ترین مآخذ سمجھی جاتی ہے۔ 

    • 04/06/2025 at 8:18 شام
      Permalink

      آپ جانتے ہی ہیں میری عادتیں میں ان کے مقام اور ہم عصر وں سے واقف۔۔۔۔مگر سچ یہی تھا کہ اس دور میں عجیب سا لگا جیسے کچھ گڑبڑ ہے لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ نے لکھا تو درست ہی ہوگا اسی لئے اس کا اقرار بھی کیا۔
      سچ تو یہ کہ اگر محض مصرع ثانی ہی کہہ دیا جائے تو اپنی جگہ ضرب المثل سے کم نہیں۔
      لیکن آپ نے ایک سادہ سی بات لکھ کر قلم توڑدیا کہ ۔۔۔۔۔شاعری کی یہ صنف منفرد اور بحر قدرے نامانوس ہے۔ گویا۔۔۔بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔
      ۔
      شکریہ قائم چاند پوری کو یاد رکھنے کا اور اسد صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کا۔

    • 05/06/2025 at 1:55 صبح
      Permalink

      سلامت رہیے

    • 05/06/2025 at 1:37 شام
      Permalink

      وعلیکم السلام

Comments are closed.