جناب شیخ کا نقشِ قدم


پہلی ملاقات ایک ادبی کانفرس کے دوران میں ہوئی۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھے اور میں سامعین میں موجود تھا۔ کچھ استثنا کے ساتھ یہ صورت ہنوز برقرار ہے۔ کئی تقاریب میں ہم اکٹھے جاتے ہیں۔ وہ سٹیج پر براجمان ہوتے ہیں اور میں انھیں سامعین میں بیٹھ کر دیکھ دیکھ جیتا ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی ادارے میں کولیگ کی حیثیت سے انھیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ جہاں دیدہ، زیرک، معاملہ فہم اور دور اندیش انسان ہیں۔ جس بات پر میں سخت جذباتی ہوتا ہوں وہ نہایت ٹھنڈے دل و دماغ سے فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک ادیب سے اختلافی نوعیت کے مسئلے پر ارشاد فرمایا: ”بھئی بات تو تمھاری ٹھیک ہے لیکن فریق ثانی کا موقف بھی درست معلوم ہوتا ہے“ ان کے تردید و تائید کے زاویے کو سمجھنے میں ایک عمر کی ریاضت درکار ہے اور میری رفاقت صرف چند برسوں کو محیط ہے۔ ایک کانفرنس میں وہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے فروکش تھے اور میں مقالہ نگاروں میں شامل تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر کہنے لگے ”آج کا میلہ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر اور تم نے لوٹ لیا ہے“ مجھے عالم سرشاری کے صرف چوبیس گھنٹے میسر آئے۔ اگلے دن یونیورسٹی میں ارشاد فرمایا ”کچھ مطالعہ کیا کرو، کب تک ایسا چلے گا“

اگر وہ پروفیسر کے بجائے منصف ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ ان کے فیصلوں سے مجرم اور مدعی دونوں خوش ہوتے۔ ہر فریق یہی سمجھتا کہ فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہے۔ انھوں نے کئی ادبی شخصیات کے مابین تنازعات میں بحیثیت منصف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان پر اعتماد کا یہ عالم ہے کہ جس بات کو انتہائی رازداری سے بتایا جاتا ہے اسے حلقۂ یاراں میں ادبی کوڈ ورڈز میں بتا دیتے ہیں۔ اس طرح شکوے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی ہے۔

ڈاکٹر انوار احمد اور انھیں یک جان دو قالب سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک دل کی دھڑکن میں کمی آتی ہے تو دوسرا دل اپنی رفتار بڑھا دیتا ہے۔ یوں دھڑکن کو اعتدال پر لانے میں مدد ملتی ہے۔ دونوں اساتذہ ”دائیں بائیں“ ہونے کے باوجود ذہنی ہم آہنگی میں ذرا برابر فرق نہیں آنے دیتے ہیں۔ یونیورسٹی اساتذہ یونین کے الیکشن میں ڈاکٹر نجیب جمال نے دائیں بازو میں رہ کر بائیں بازو سے محبت کا کمال ہنر مندی سے عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ اس دوران دونوں اساتذہ میں کبھی ناراضی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ وگرنہ یہاں معمولی مفادات کے لیے تعلقات قربان کر دینے کی مثالیں عام ملتی ہیں۔

ملکی سیاست میں انھیں پیپلز پارٹی سے خاص رغبت ہے۔ بھٹو کے دیوانے، بے نظیر کے شیدائی، زرداری کے مداح اور بلاول کے عاشق شمار ہوتے ہیں۔ اس باب میں کسی دلیل کے روادار نہیں ہیں۔ میں نے انھیں بھٹو کے ذکر پر اداس اور بے نظیر کے ذکر پر آب دیدہ دیکھا ہے۔

ڈاکٹر اسلم انصاری سے خاص تعلق خاطر ہے۔ انھوں نے اسلم انصاری سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اور ڈاکٹر اسلم انصاری نے ان کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈگری حاصل کی ہے۔ علمی و ادبی تاریخ میں ایسی مثالیں نایاب ہیں۔ ”شعر شور انگیز“ پر ڈاکٹر اسلم انصاری کے تنقیدی مضمون میں ڈاکٹر نجیب جمال کی مشاورت بھی شامل ہے۔ وہ اپنے ہر مسودے کی اولین قرآت کے لیے ان سے رابطہ کرتے تھے۔ ڈاکٹر نجیب کا کہنا ہے کہ ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“ کے تجربے کا آغاز ڈاکٹر اسلم انصاری نے غزل لکھ کر کیا تھا۔ ناصر کاظمی کو یہ غزل اتنی پسند آئی کہ انھوں نے اس زمین میں پوری کتاب لکھ لی۔ یوں ”پہلی بارش“ کا کریڈٹ ڈاکٹر اسلم انصاری کو جاتا ہے۔

انھوں نے قدیم، جدید اور معاصر ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ سیکڑوں شعر زبانی یاد ہیں اور موقع کی مناسبت سے سناتے بھی ہیں۔ عروض پر کامل دسترس رکھتے ہیں مگر اپنی شاعری چھپا کر رکھتے ہیں۔ میری ہر تازہ غزل کے اولین سامع ہوتے ہیں۔ اس دوران میں پہلو بدلتے ہیں، دائیں بائیں دیکھتے ہیں، موبائل پر ٹائم کا اندازہ لگاتے ہیں، مقطع سننے کے بعد گہری سانس لیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بہت اچھے سامع ہیں۔

ڈاکٹر اختر شمار مرحوم صدر شعبہ اردو تھے۔ ہم تینوں روزانہ ایچ او ڈی آفس میں نشست کرتے تھے۔ وہ لاہور کی ادبی تاریخ کے عینی شاہد تھے۔ حد درجہ خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کے پاس شعرا کے دلچسپ واقعات کا خاصا ذخیرہ تھا۔ وہ ڈیپارٹمنٹ کے معاملات میں ڈاکٹر نجیب جمال سے مشاورت کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے ”اگر ڈاکٹر نجیب جمال نہ ہوتے تو مجھے شعبے کے معاملات چلانے میں کتنی دقت پیش آتی“ ڈاکٹر اختر شمار کو کون بتائے کہ ان کی عدم موجودگی کے باعث دوستوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہے۔

کرکٹ کے شیدائی ہیں۔ مختلف ممالک سے پاکستانی ٹیم کی ہار جیت سے متعلق نہایت ماہرانہ رائے دیتے ہیں۔ یوں ان کی تنقیدی بصیرت کا غیر معمولی نمونہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اگر وہ ادبی فن پاروں پر بھی یہی زاویہ نگاہ آزمائیں تو کئی شملے اچھلتے نظر آئیں اور مسند نشین راندۂ درگاہ ہو جائیں۔ مجھے تنقید میں رعایتی نمبر کی روایت کے اولین نقاد کا علم نہیں ہے البتہ فیل شدگان کو درجہ اؤل میں کامیابی کا سرٹیفیکیٹ صرف ان سے ملتا ہے۔ سو سے زائد کتابوں کے دیباچوں اور تنقیدی مضامین کو کتابی شکل دینے میں یہی امر مانع ہے۔

وہ زمانہ شناس ہیں اور دست شناسی کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی انگلیوں کی لکیریں مدھم پڑ گئی ہیں۔ انگوٹھے کا نشان کاغذ پر لکیروں کے بجائے گھومڑ سا بنا دیتا ہے۔ جس تخلیق پر یہ گھومڑ بن جائے وہ معتبر ہو جاتی ہے۔ ایک شاعر کے مجموعے کا دیباچہ لکھا۔ اس نے کمال چالاکی سے کتاب کی اشاعت سے پہلے دیباچہ ایک ادبی رسالے میں شایع کروا دیا۔ شدید غصے میں کہنے لگے ”لوگ کیا کہیں گے کہ میں ایسے شعرا پر رسائل میں مضامین لکھتا ہوں“ میں نے کہا ”تسلی رکھیں، وہ دیباچہ ملک کے تمام صف اول کے ادیبوں کو وٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گا اور آپ کی دستخط شدہ سند دکھا دکھا کر اپنے ہم عصروں پر رعب جھاڑے گا“ اصغر ندیم سید اس وجہ سے نالاں رہتے ہیں۔

وہ کئی اداروں کی جانب سے انعامی کتب کے لیے منصف مقرر کیے جاتے ہیں۔ نہایت ذمہ داری سے فیصلہ کرتے ہیں۔ ورنہ اس باب میں بد دیانتی کی مثالیں عام ہیں۔ منصفین کے ناموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والوں کا اپنا کردار کتنا گھناؤنا ہے۔ ایک کتاب پر انعامی تقریب میں منصفین کے ناموں کا اعلان سن کر کہنے لگے ”اگر سٹیج سے بحیثیت منصف میرے نام کا اعلان نہ ہوتا تو مجھے بھی پتا نہ چلتا کہ میں اس کتاب کو انعام دینے والے منصفین میں شامل ہوں“ سوچتا ہوں کہ دوست کس اعتماد سے ان کا نام ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور وہ نجیب الطرفین اپنی فطری جمالیات سے باہر نکل کر احتجاج بھی نہیں کر پاتے ہیں۔

نہایت عمدہ اور شائستہ گفتگو کرتے ہیں۔ وسیع المطالعہ ہونے کی بنا پر جا بجا علمی نکات اٹھاتے ہیں۔ ستیا پال آنند کا کہنا ہے کہ مجھے پوری دنیا میں دو شخصیات سے بات کرنا مشکل لگتا ہے۔ ایک انڈیا میں گوپی چند نارنگ اور پاکستان میں ڈاکٹر نجیب جمال، ان دونوں حضرات کی گفتگو اتنی مسحور کن ہوتی ہے کہ ان کے بعد کسی بولنے والے کا چراغ نہیں جلتا ہے۔

کچھ صفات ایسی بھی ہیں جو فی زمانہ ناپید ہو گئی ہیں۔ ایک وفاقی وزیر کی جانب سے انھیں اُردو لغت بورڈ کی چیئرمینی کے لیے کراچی بلایا گیا تھا اور انھوں نے یہ کہتے ہوئے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ اس عہدے پر کراچی کے اہل قلم کا حق ہے۔

ڈاکٹر نجیب جمال اور پروفیسر غلام حسین کا تعلق ملتان سے ہے۔ دونوں ہم عمر اور ہم عصر ہیں۔ ساجد صاحب عمر میں ایک دن بڑے ہیں۔ وہ علمی و ادبی اعتبار سے اتنے قد آور ہیں کہ ان کے فکر و فن پر کئی پی ایچ ڈی مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ جانے جی میں کیا آئی کہ انھوں نے پی ایچ ڈی کا ارادہ کر لیا۔ خاکہ تیار کیا اور ڈاکٹر نجیب جمال کو نگران بنانے کی خواہش کے ساتھ جمع کروا دیا۔ ڈاکٹر نجیب جمال تدریسی سلسلے میں مصر چلے گئے۔ صدر شعبہ اردو نے غلام حسین ساجد کو نئے مجوزہ نگران کے ساتھ کام کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے جواب دیا ”میں پی ایچ ڈی صرف ڈاکٹر نجیب جمال کی نگرانی میں کروں گا ورنہ مجھے اس ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔“ ایک سینئر استاد نے خاکے کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا ”غلام حسین ساجد کا خاکہ اتنا جامع اور معیاری ہے کہ اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جا سکتی ہے۔“

ڈاکٹر نجیب جمال کو ملک بھر سے یونیورسٹیوں میں بحیثیت ممتحن مدعو کیا جاتا ہے۔ زبانی امتحانات کے تجربات اپنی جگہ دلچسپ ہوتے ہیں۔ انھیں معیار پر سمجھوتا نہ کرنے کی بنا پر بسا اوقات اساتذہ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک پی ایچ ڈی کے زبانی امتحان کے دوران میں نگران مقالہ اپنے ہی سٹوڈنٹ کو فیل کرنے پر زور دیتا رہا۔ حتیٰ کہ اس نے کہا کہ مقالہ میں نے لکھ کر دیا ہے۔ نگران مقالہ کی اپنے ہی سٹوڈنٹ کو فیل کرنے کی وجوہات سے قطع نظر انھوں نے درست جوابات کی بنا پر سٹوڈنٹ کو زبانی امتحان میں کامیاب قرار دے دیا۔ تحقیق کی دنیا میں اقربا پروری اور بد دیانتی کا چلن عام دیکھنے میں آتا ہے مگر اس نوع کی مثال نہیں ملتی ہے۔ تحقیق کے معاملات کی تفتیش کی جائے تو کئی برگزیدہ ہستیاں سر تا پا برہنہ نظر آئیں۔ میں نے اس مسئلے پر ایک نظم بعنوان ”تھیسس“ لکھی ہے۔ جسے احباب نے اس موضوع پر اُردو کی پہلی نظم قرار دیا ہے۔

وہ ہر سال اندرون اور بیرون ملک سیمینارز، کانفرنسز، ورکشاپس اور ادبی تقاریب میں مدعو کیے جاتے ہیں۔ درجن بھر ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ واقعات، تجربات اور مشاہدات کا وسیع ذخیرہ رکھتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں منعقدہ کانفرنس کے دوران کشور ناہید نے ایک پاکستانی شاعرہ کی خود ساختہ جلا وطنی اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی بنا پر اُسے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ کشور ناہید کی پاکستانیت کا یہ خوش گوار پہلو کم لوگ جانتے ہیں۔

کبھی کبھی بے اعتنائی، بے توجہی اور لاتعلقی حیران کر دیتی ہے۔ عموماً ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ان کی توجہ کا مرکز کوئی اور ہوتا ہے۔ البتہ چند قریبی دوست جانتے ہیں کہ انھیں توجہ کا مرکز رہنا ہی زیبا ہے۔ جن دنوں وہ چائنا میں اردو چینی لغت کی تیاری میں مگن تھے۔ کوئی انھیں دیکھنے میں مگن رہتی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو پائے وگرنہ بصورت دیگر پاکستان اور چین کے مابین رشتے کے نتیجے میں اینگلو انڈین طرز پر ”پکچینین“ نسل کا آغاز ہو سکتا تھا۔

ہر سال امریکہ بیٹیوں سے ملنے جاتے ہیں اور واپسی پر نت نئی چیزیں لاتے ہیں۔ جن میں پینٹ، شرٹ، مفلر، عینک، شوز، قلم وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ایک ایک چیز کا برینڈ اور قیمت بتاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ میری طرف دیکھتے جاتے ہیں گویا پوچھتے ہیں کہ یہ تم نے کیا پہن رکھا ہے؟

انھوں نے ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی نگرانی میں یگانہ کے فن و شخصیت پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل ہے۔ جب پہلا باب لکھ کر چیک کروانے کے لیے لائے تو انھوں نے چند صفحات پڑھنے کے بعد کہا کہ پورا مقالہ لکھ کر لے آئیں۔ بعد میں اپنے ایک پی ایچ ڈی سکالر کو ان کی نگرانی میں دے دیا کہ اس کا تھیسس بھی تم چیک کرو۔

وہ برصغیر کی فلمی روایت کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ پرانی فلموں کے اداکاروں، فلم سازوں، ہدایت کاروں، کہانی نویسوں، گیت نگاروں اور موسیقاروں کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ خاموش فلموں کے گیت نگاروں اور موسیقاروں کی بابت بھی آگاہ ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں جناب شیخ کا نقشِ قدم ہیں۔ ”یوں بھی ہے اور یوں بھی“ سے بھرپور ایسی شخصیت کم کم ملتی ہے۔ مثلاً بظاہر نہایت خوش خط لکھتے ہیں مگر کمپوزر کی غلطیوں پر اسے کوستے ہیں کہ میرا لکھا ہوا پڑھا کیوں نہیں جاتا ہے۔

جس دن آپ توقع رکھتے ہیں کہ وقت اور صورت حال کے مطابق آج کھانے کی دعوت دیں گے۔ وہ الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔

کسی تقریب سے واپسی پر خوش دلی سے گھر پہنچانے کے لیے ساتھ بٹھا لیتے ہیں اور گھر سے دور مین روڈ پر اتارنے کے بعد چہل قدمی کے فوائد بیان کرتے ہوئے روانہ ہو جاتے ہیں۔

اپنے مضامین کے بعض جملوں پر خود ہی کہتے ہیں کہ دیکھو یہ میں نے کیا لکھ دیا ہے۔

میں جناب شیخ کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا ہوں مگر اپنے ساتھ ”یوں بھی ہو سکتا ہے اور یوں بھی“ کے خدشات کی وجہ سے مزید کچھ لکھنے سے قاصر ہوں۔ آخر میں ایک ترمیم کے ساتھ اسلم انصاری کا شعر ملاحظہ کیجیے۔

جمال ”شیخ“ کو اک عمر کا ریاض ہے شرط
یہ ہر نوائے خروشاں کی دسترس میں نہیں

 

Facebook Comments HS