عثمان قاضی کی کتاب ”سفر و حضر“ پر مختصر تبصرہ


”ہم سب“ سے کچھ اور حاصل ہوا یا نہیں، چند ایسے لکھاریوں سے تعارف ہو گیا جو اس وقت تک اردو اخبارات کی زد سے باہر تھے۔ ان میں سے کچھ، مثلاً حسنین جمال یا فرنود عالم پھر باقاعدہ ”اخباری“ بھی ہوئے لیکن اس انجمن کے باقی ستاروں کی روشنی بھی کم نہیں ہوئی۔ اس فہرست میں عثمان قاضی بھی شامل ہیں۔ ان سے پہلے ہم سب اور پھر سماجی رابطے کے چبوترے (پلیٹ فارم) پر تعلق بنا اور لگ بھگ ایک دہائی قبل ان کی مشہور لائبریری میں قیام کا موقعہ بھی ملا۔ امریکہ روانگی کے بعد وطن واپسی کے مواقع کم ملے لیکن قاضی بھائی سے رابطہ منقطع نہیں ہوا۔ عثمان قاضی کتابوں کے رسیا ہیں اور راقم نے اتنا منہمک قاری ان کے علاوہ شاید صرف وجاہت مسعود (استاد محترم) کو ہی پایا ہے۔ راقم کو بھی بچپن سے یہ خبط رہا لہٰذا ہر نئے ملنے والے کو اسی کسوٹی پر پرکھنے کا شوق برقرار ہے۔

قاضی صاحب اور مجھ میں ایک یا ڈیڑھ اور مشترک خوائص (یا خرابات) بھی ہیں۔ ناقص خیال ہے کہ ان خوائص کو کتب بینی کے ضمنی اثرات مانا جائے۔ کوئز سے مجھے بھی بچپن سے رغبت تھی۔ ”کسوٹی“ ہمارے گھر میں شوق سے دیکھا جاتا تھا۔ کیڈٹ کالج میں دسویں جماعت میں تھا جب ایک قومی مقابلے کا غلغلہ اٹھا، کوئز کے زمرے میں پہلے اندرونی مقابلہ کروا گیا، خاکسار اس میں اول آیا، حاسدین کو لگا کہ کہیں دھاندلی ہوئی ہے، دوبارہ مقابلہ ہوا، نتیجہ پھر وہی۔ فوجی طرز کے ان اداروں میں درجہ بندی (hierarchy) کو میرٹ اور قابلیت پر اکثر فوقیت ملتی ہے، چنانچہ قومی مقابلے کے لئے راقم کے ساتھ بارہویں جماعت کے سینئر کو بھی (بطور نظر بٹو) بھیج دیا گیا۔ اس مقابلے میں بھی اول آیا، پھر میڈیکل کالج کے دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور، کنگ ایڈورڈ کالج اور ایچیسن کالج سے بقول فیض ”ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے“ ۔ اس مختصر احوال کا مقصد خود سرائی نہیں بلکہ شخصِ مضمون سے کچھ راہ نکالنا ہے۔

دوسری (یا ڈیڑھ) قدرِ مشترک قاضی صاحب اور ہمارا دیرینہ سفر کا ہے۔ انہوں نے ملکوں کی خاک چھانی ہے، راقم نے زیادہ تر امریکہ میں ہی یہ شوق پورا کیا ہے۔ کئی سال ہم سب پر ان کی چھپنے والی خوب صورت تحاریر اب ”سفر و حضر“ کے نام سے چھپنے والی کتاب میں میسر ہیں۔

کچھ ماہ قبل برادرم محمود الحسن (جو بذات خود کتب خوانی اور کوئز کے سحر کا شکار ہیں ) کے ذریعے پاکستان سے کچھ کتب منگوائیں، جن میں سفر و حضر شامل تھی۔ گزشتہ ہفتے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا سفر، ”سفر و حضر“ کی ورق گردانی میں گزرا۔ اسے میری نالائقی کہیے یا بدقسمتی کہ فارسی زبان نہیں آتی، اور عربی بھی چھٹی اور ساتویں جماعت کے بعد نہیں سیکھی، اس لئے قاضی صاحب کے درج کردہ کئی اشعار اور حکایات اندازہً ہی سمجھنی پڑیں۔

کتاب میں موجود بہت سی تحاریر ہم سب کے ذریعے پڑھی تھیں لیکن دوبارہ مطالعے کے دوران بھی چاشنی کی مقدار کم نہیں ہوئی۔ کتاب میں پیش کی گئی تحاریر میں سے کئی سفر نامے ہیں تو کچھ تعزیت نامے، کچھ جواب مضمون اور کچھ زبان و بیاں سے متعلق انشائیے۔ زیادہ تر تحاریر میں یوں گمان ہوتا ہے جیسے قاضی صاحب آپ کے سامنے ہی بیٹھے ہیں اور ان کی زبانی آپ جہاں گردی کر رہے ہیں۔ میرے لئے سب سے دلچسپ مضامین کوئٹہ کی علمی اور ثقافتی زندگی کے متعلق تھے، جو کہ ماضی قریب سے ماضی بعید تک پہنچ چکے۔ چونکہ طنز و مزاح میرا مرغوب موضوع ہے، لہٰذا اردن سے تبلیغی بھائیوں کے ہمراہ مصنف کا سفر اس زمرے میں میرا پسندیدہ ہے۔ کتاب کے بنیادی متن اور آخر میں پیش کیے گئے خطوط میں پاکستان کی تاریخ کے کئی پوشیدہ باب دیکھنے کو ملی۔ تشنگی یہ رہ گئی کہ قاضی صاحب نے آپ بیتی کم لکھی اور جگ بیتی زیادہ۔

کتابت کے دوران املا کی کچھ معمولی اغلاط ہوئیں جن کو خاکسار کتاب بینی کے دوران تقریباً لائیو ہی قاضی بھائی تک پہنچاتا رہا۔ کچھ روز قبل ایک لکھاری دوست سے ملاقات ہوئی تو ان سے شکوہ کیا کہ آپ نے فلاں کتاب کا فلیپ لکھا اور اس کتاب کی اچھی خاصی تعریف کی لیکن مجھے تو اس کتاب میں ایسے کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔ ان کا جواب تھا کہ فلیپ غور سے پڑھیں، میں نے کتاب یا مصنف کی تعریف کی تھی، کتاب لینے کی تلقین نہیں۔ ”سفر و حضر“ کا فلیپ لکھنے کا اعزاز مجھے حاصل نہیں ہوا، لیکن میں ہر اچھے قاری کو یہ کتاب پڑھنے، بلکہ خرید کر پڑھنے پر اصرار کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 38 posts and counting.See all posts by abdulmajeed