لڑکی کو قتل کر دیا، افسوس ہوا لیکن وہ


 

پڑھنا چاہتی تھی۔
نوکری کرنا چاہتی تھی۔
برقع نہیں پہنتی تھی۔
نقاب نہیں لیتی تھی۔
چادر نہیں لیتی تھی۔
دوپٹہ نہیں لیتی تھی۔
شادی کرنا چاہتی تھی۔
شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اپنی مرضی کی شادی کرنا چاہتی تھی۔
بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا کرتی تھی۔
فیملی پلاننگ کرنا چاہتی تھی۔
طلاق لینا چاہتی تھی۔
شوہر سے مار نہیں کھانا چاہتی تھی۔
شوہر کی عزت نہیں کرتی تھی۔
دوبئی میں رہنے والے شوہر کی عزت کی حفاظت نہیں کر رہی تھی۔
پولیس کے پاس شکایت کرنے گئی تھی۔
انصاف لینے عدالت گئی تھی۔
روٹھ کے میکے آ گئی تھی۔
عورتوں کے شیلٹر ہوم پہنچ گئی تھی۔
علیحدگی کے بعد اپنے بچوں کی کسٹڈی چاہتی تھی۔
این جی او کی ہیلپ لائن پر فون کرتے پکڑی گئی تھی۔
کزن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
منگنی توڑنا چاہتی تھی۔
اپنے بچپن کے منگیتر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مرضی کے لڑکے سے شادی کر چکی تھی۔
میرے ساتھ دوستی/پیار سے انکاری تھی۔
اپنی دوست کی کورٹ میرج کے مشورے میں شامل تھی۔
زمین اور جائیداد میں حصہ مانگتی تھی۔
بیوہ تھی اور اب دوسری شادی کرنا چاہتی تھی۔
چوری چوری موبائل فون رکھا کرتی تھی۔
ٹیکسٹ میسج کرتی تھی۔
فیس بک پر فوٹو لگاتی تھی۔
ٹک ٹاکر تھی۔
سوشل میڈیا پر اپنے گندے فوٹو لگاتی تھی۔
سوشل میڈیا پر اپنی سیکسی ویڈیوز لگاتی تھی۔
قندیل بلوچ بن گئی تھی۔
ایکٹر بننا چاہتی تھی۔
ماڈل بننا چاہتی تھی۔
سنگر بننا چاہتی تھی۔
اخبارات میں اپنے نام سے لکھنا چاہتی تھی۔
یونیورسٹی جانا چاہتی تھی۔
کو ایجوکیشن میں پڑھنا چاہتی تھی۔
مس کال کا جواب دیتی تھی۔
کہیں آنے جانے کے لیے چوری چوری بائیکیا استعمال کرتی تھی۔
اجنبی کے ساتھ موٹر سائیکل پر دیکھی گئی تھی۔
اپنی کزنوں کو ورغلاتی تھی کہ جلدی شادی نہ کریں۔
لڑکے سے دوستی کر بیٹھی تھی۔
ملک سے باہر جانا چاہتی تھی۔
اغواء سے بازیاب ہو کر بھی جینا چاہتی تھی۔
ریپ کے بعد بھی خود کشی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ونی ہونے پر تیار نہیں تھی جب کہ گھر کے مرد جیل میں سڑ رہے تھے۔
شادی سے پہلے حاملہ ہو گئی تھی۔
سگریٹ پیتی تھی۔
شراب پیتی تھی۔
چرس پیتی تھی۔
بال کٹواتی تھی۔
جوائنٹ فیملی میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔
وہ ڈرائیونگ سیکھنا چاہتی تھی۔
اوبر چلاتی تھی۔
این جی او میں نوکری کرتی تھی۔
سیر سپاٹے کرنا چاہتی تھی۔
مادر پدر آزاد تھی۔
اپنی تنخواہ کو اپنا سمجھتی تھی۔
غیر مردوں کو دیکھتی تھی۔
غیر مردوں سے باتیں کرتی تھی۔
غیر مردوں میں دلچسپی رکھتی تھی۔
سسر، دیور یا بہنوئی پر چھیڑنے کا الزام لگاتی تھی۔
ذات برادری سے باہر شادی کرنا چاہتی تھی۔
غیر مسلم مرد سے اس کی دوستی ہو گئی تھی۔
غیر مسلم مرد سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
کورٹ میرج کر کے چلی گئی تھی۔
بیٹی کو پڑھانا چاہتی تھی۔
بیٹی کی ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
بیٹی کو نوکری کرانا چاہتی تھی۔
بیٹی کی مرضی کو سپورٹ کرتی تھی۔
”میرا جسم میری مرضی“ نعرے کی حامی تھی۔
صبح دیر تک سویا کرتی تھی۔
فیشن کرتی تھی۔
چھپ کے جاب کرتی تھی۔
ساس سسر کی خدمت کرنے سے انکار کرتی تھی۔
رسالے پڑھتی تھی۔
پورن دیکھتی تھی۔
لڑکوں کو اپنے شرٹ لیس فوٹو بھیجتی تھی۔
پڑوسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔
بھائی کے دوستوں سے فرینک تھی۔
فلم دیکھنے گئی تھی۔
ڈیٹ پر گئی تھی۔
مشکوک تھی۔

پاکستان میں جب کسی عورت یا لڑکی کا قتل ہوتا ہے، جو کہ آئے روز ہوتا ہے، تو ہمیں افسوس ہوتا ہے۔ ہم افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ افسوس کے اظہار کے آخر میں ایک لفظ ”لیکن“ جڑ دیتے ہیں جو اس قتل کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ ”لیکن“ کے بعد اوپر دی گئی لسٹ میں سے ایک یا ایک سے زیادہ فقرے سننے کو ملتے ہیں۔ ہم سب نے ہی سنے ہیں۔

اگر آپ نے اوپر دی گئی لسٹ پڑھی ہے اور اس میں دیے گئے کسی ایک بہانے کو لڑکی کے قتل کے لیے جائز سمجھتے ہیں تو پھر آپ لڑکیوں کے قتل کے حامی ہیں اور اس جرم میں شریک ہیں۔

آپ کی سوچ نے ہی لڑکیوں کے قتل کو آسان بنایا ہوا ہے۔

آپ کی سوچ پرائی لڑکی کے قتل پر آپ کو اندر ہی اندر کہیں خوشی اور اطمینان بھی دیتی ہے۔ کیونکہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس لڑکی کے قتل سے باقی لڑکیاں سبق سیکھیں گی اور شاید آپ کو اپنے گھر کی عورتوں سے کل ایسی کسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آپ کی پدر شاہی سوچ لڑکیوں سے خوف زدہ ہے۔

دیا خان ایک افغان/پاکستان مکس فیملی کی لڑکی تھی جو ناروے میں اپنے والدین کے ساتھ پلی بڑھی۔ بڑے ہو کر وہ ایک اچھی اور بڑی سنگر بن گئی۔ وہ یورپ میں بڑے بڑے کانسرٹ کرتی تھی۔ اسے ناروے میں رہنے والی افغان کمیونٹی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔ اپنی ایک ٹیڈ ٹاک میں وہ کہتی ہیں کہ اسے اپنی کمیونٹی کے ایک عمر رسیدہ مرد نے سڑک پر روک کر کہا کہ کاش وہ اسے قتل کر سکتا۔ اس عمر رسیدہ بزرگ نے مزید کہا کہ اس (دیا خان) کے آزاد ہونے کی وجہ سے ان کی کمیونٹی کی ہر لڑکی یہ سمجھنے لگی ہے کہ وہ بھی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ وہ ناروے میں رہ کر اپنی لڑکیوں سے خوف زدہ تھے کہ کہیں وہ ان کے ”کنٹرول“ سے باہر نہ ہو جائیں۔

ٹیل پیس: اس پوری لسٹ میں اگر لفظ ”تھی“ کو ہٹا کر ”تھا“ لگا دیا جائے تو کیا اس سے مرد کا قتل بھی جائز ہو جائے گا، نہیں ناں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

2 thoughts on “لڑکی کو قتل کر دیا، افسوس ہوا لیکن وہ

  • 12/06/2025 at 5:12 صبح
    Permalink

    ایک اچھی فہرست جس کا لب لباب فیض صاحب نے عرصہ پہلے یوں کیا تھا :

    وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
    وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے

    جہاں تک کسی بھی جان کو قتل کا تعلق ہے تو اس کا حق صرف اور صرف "عدالت” کو حاصل ہے۔
    اور محض کسی شخص کو قتل کرنے والا ہی قابل سزا نہیں بلکہ وہ تمام لوگ بھی ہیں جو کسی دوسرے شخص یا لڑکی / عورت کو قابل قتل یا سزا قرار دیتے ہیں۔

    اسلام کی اصل حقیقت قرآن کی اسی آیت میں پنہاں ہے کہ :
    جس نے کسی ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا ساری کائنات کو مرنے سے بچالیا۔
    اور اسی کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ
    جس نے کسی ناحق یا بے گناہ کو خوامخواہ قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کی جان لے لی۔

    جہاں تک معاشرے کے کمزور افراد پر ظلم یا قتل کی بات ہے۔ پاکستان اس میں تنہا نہیں۔ جنگل ہوں یا ترقی یافتہ ممالک جہاں جہاں طاقت ور کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرنے سے باز نہیں آتا۔
    غزہ، امریکہ اسرائیل اور یورپ کا بھیانک کھیل ایک طرف ۔۔۔ یوکرین اور روس کی لڑائی میں امریکہ اور یورپ کا کردار دوسری طرف دیکھ لیں۔

    محض مہینہ پہلے پاکستان اور انڈیا کی لڑائی شروع ہوتے وقت ہمیں یورپ اور امریکہ جیسے ممالک کا رویہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے جن ہوں نے ہندوستان کی جارحیت کی مذمت کی بجائے یہ پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ قرار دیا تھا یا بس واجبی سا مشورہ دیا تھا۔

    وہ تو جب انڈیا کے میزائیل کریانہ پہاڑی پر لگے ریڈار کی بجائے وہاں موجود ایک ایسی سائٹ پر جاگرے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود نیوکلیئر سائٹس کی فہرست میں موجود تھا تو کھیل ختم ہوگیا تھا کیونکہ اس غلطی کی وجہ سے پاکستان کو یہ حق حاصل ہوگیا تھا کہ وہ انڈیا پر ایٹمی حملہ کرسکے اور اسی پر امریکہ کو درد قولنج شروع ہوگیا تھا۔

    • 14/06/2025 at 11:43 صبح
      Permalink

      اتنے تفصیلی کمنٹ کا بہت شکریہ

Comments are closed.