”رف رف رفتن“ کا راشد جاوید


فنکار غبارے میں ہوا کی طرح آسمان پر سفر کرتا ہے۔ تحریر کا وزن اس کے تخلیقی سفر کا اعادہ کرتا ہے۔ راشد جاوید بھی جس غبارے میں سوار ہیں اس کی ہوا خاصی مضبوط اور گرہ سخت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ”رف رف رفتن“ پڑھ کر ہوا۔ اس سے قبل ان کے پنجابی کے دو افسانوی مجموعے ”مٹی اتے لیک“ اور ”جنگل اگی چپ“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی کہانیوں کا مجموعہ ”Fructured Silence“  بھی چھپ چکا ہے۔ گویا راشد جاوید کے بارے میں ایک مجموعی تاثر قائم کرنے میں دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ وہ ادبا کے کس قبیلے اور قماش سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو لکھاری تین زبانوں میں اپنے فن کو نتھارنے کا ہنر جانتا ہو وہ کسی تعریف کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کی تحریر چاہے دل پر اثر قائم کرے یا نہ کرے لیکن اس کے وچار معاشرے کو کنگھال کر رکھ دیتے ہیں۔

” رف رف رفتن“ میں کل بیس کہانیاں ہیں۔ دراصل یہ بیس چہرے ہیں جو کہیں تو کمیونزم کی دوڑ میں آگے آگے نظر آتے ہیں۔ کہیں معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کے شکار افراد کو بے نقاب کرتے ہیں اور کہیں خوابوں کی گٹھری اٹھانے والوں پر ہنستے ہوئے آگے نکل جاتے ہیں۔ کتاب کا پہلا افسانہ ”سرخ گلابوں کے موسم میں“ فلارسٹ شاپ کے ملازم کی کہانی ہے۔ جس کی بیمار بیوی ہسپتال میں پڑی ہے اور وہ اپنے گاہکوں کو پھول پہنچانے پر مجبور ہے۔ ان گاہکوں میں میاں بیوی بھی ہیں اور جوان جوڑے بھی۔ ایسے میں ایک بوڑھی عورت تک گلدستہ پہنچانا اور پھر وہاں جا کر معلوم ہونا کہ وہ خاتون ایک ماہ قبل انتقال کر گئی۔ ملازم کے لیے صدمے سے کم نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ گلدستہ کسی طرح اپنی بیمار بیوی کے پاس لے جائے لیکن استحصالی معاشرے میں رہنے والے لوگ جانور اور چارے کی طرح ہوتے ہیں۔ یہاں پیسہ اور ذرائع آمدن چارہ ہیں جو غریب طبقے کو جانور سمجھ کر ان کی ہڈیاں چچوڑ رہے ہیں۔ افسانے کے اختتام میں مالک کا ملازم کو گلدستے میں سے صرف ایک پھول دینا سرمایہ دارانہ نظام کے منہ پر تھپڑ ہے۔ جس کی گونج محض غلام یا غریب انسان ہی سن سکتا ہے۔ سرخ گلابوں کا موسم اس ملازم کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ گاہکوں کی تفریحِ طبع کے لیے ٹانک ہے جسے معاشرہ پی رہا ہے۔

” صرف ایک زمین“ ایسے ہی معاشرے کے پسے ہوئے فرد کی کہانی ہے۔ جس کی زندگی غلاظت صاف کرنے میں گزر رہی ہے۔ اس کے پاس زندگی گزارنے کا کلیہ صرف اور صرف محنت ہے۔ ”روٹی چنگیر میں رکھی ہے گلزار“ ، افسانے میں دو مرتبہ اس جملے کا دہرایا جانا قاری کو ٹھٹکنے پر مجبور کرتا ہے۔ گندگی سے بھرا تھیلا پھٹ جاتا ہے لیکن اس میں سے نکلنے والی غلاظت معاشرے کے وہ افراد ہیں جو دور بیٹھے اس کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ غلاظت صاف کرنے والے نے صاف راجباہ کو گندا کر دیا ہے۔ سبزی والا، مٹھائی والا اور رحمت سائیکل ورکس والا بھی نچلے طبقے کے لوگ ہیں۔ ان کا طرزِ عمل معاشرے کے ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی پیدا کرتا ہے جو ان سے بھی نچلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں اس سوچ کی نفی ہو جاتی ہے کہ استحصال صرف امراء کرتے ہیں۔ یہاں جس کے پاس اختیارات ہیں اور جیب تھوڑی سی بھاری ہے وہ اپنے سے کم تر پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں ہے۔ راشد جاوید کے اس افسانے کو سمجھنے کے لیے قاری کو کہانی دو یا تین مرتبہ پڑھنا پڑتی ہے۔ تب کہیں جا کر مفہوم واضح ہوتا ہے اور شاید یہی افسانہ نگار کا کمال ہے کہ اس کی سوچ تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔

” رف رف رفتن“ کتاب کا ٹائٹل افسانہ بھی ہے۔ یہ امیر خسرو کی خوبصورت رباعی ہے یا خیال لیکن اسے راشد جاوید نے بڑے کینوس پر سجایا ہے۔ افسانہ ایک جمالیات اور تخیلاتی وادی میں رہنے والی لڑکی کی کہانی ہے جسے مفلر بننا ہے۔ یہ مفلر کسی مرد کی گردن کی زینت بننا چاہتا ہے۔ مگر وہ مرد کون ہو گا اس کی جستجو بالآخر اسے موت سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ جوان جذبے وقت کی بے رحمی اور موت کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کھڈی کی کھٹا کھٹ نے اس جوان لڑکی کو مردانہ مفلر بُننے کی ترغیب دی تھی۔ یہاں ایک کومل جذبے رکھنے والی عورت کے احساسات کی موت دکھائی گئی ہے۔ مردوں کے معاشرے میں رہنے والی نازک اندام اور بھولی بھالی لڑکی، جسے ابھی اپنے کومل جذبوں کی آنچ کا اندازہ ہی نہیں۔ ایک سفاک انجام سے دوچار ہو جاتی ہے۔ جمالیاتی احساسات اس کی موت پر نادم ہیں۔ امیر خسرو کی اس رباعی کو راشد جاوید جب قلم بند کرتے ہیں تو محبت کی داستان رقم ہوتی ہے۔

درپئے جاناں جاں ہم رفت، جاں ہم رفت، جاں ہم رفت
رف رف رف، رفتن جاں ہم رفت، ایں ہم رفت و آں ہم رفت
اینہم آنہم رفتن دہ، رفتن دہ، رفتن دہ رف، رف، رف، رفتن دہ

”نئی زبان“ ، ”بستی بے داد گراں“ اور ”موسم“ سماج کے ان طبقوں کا احاطہ کرنے والے افسانے ہیں جن میں بغاوت اور استحصال کا مادہ اپنی حدیں پار کر چکا ہے۔ ”نئی زبان“ میں استعماری طاقتوں کی من مانیاں اور تیسری دنیا کے لوگوں کا انجام دیکھا جا سکتا ہے۔ سپر پاورز اور ان سے دبنے والے بے شمار انسانوں کی کہانی میں نتیجہ صفر پہ جا کر ختم ہوتا ہے۔ ”بستی بے داد گراں“ کا واحد متکلم پابندیوں کے خلاف ہے۔ وہ ادب اور نفسیات کا گہرا مشاہدہ کر چکا ہے۔ اسے سوسائٹی سے انصاف کی امید ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ کوئی منصف نہیں ہے۔ ”موسم“ میں ہجوم اور شعور کی جنگ موجود ہے۔ افسانہ نگار کے خیال میں مجمع انقلاب اور تبدیلی تو چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ہمت جمع نہیں کر پاتا۔ وہ کس کے کہنے پہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور کیوں ہو رہے ہیں۔ ان تمام سوالوں کے جواب بھی مجمع کے پاس نہیں ہیں۔ موسم کی سختی سہنے والوں کا غصہ نفرت بھری آنکھوں میں سمٹ آیا ہے۔ اسی لیے وہ ائر کنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں بیٹھنے والوں کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ ”جزیرہ کہانی“ راج ہنس کی خوبصورت علامت کا مظہر ہے۔ جو طلسماتی فضا میں سانس لے رہا ہے۔ اس افسانے میں راشد جاوید کی جذباتی اور رومانوی اپروچ قابل دید ہے۔ جزیرہ خواب دیکھنے والوں کی آماجگاہ ہے۔ لفظیات کی دنیا میں قید چند مثالیں ملاحظہ ہوں :

” راج ہنس جزیرے کے اس پار ہے اور اس پار پیلے سانپوں کا گھنا جنگل۔ ہوا ناراض ہے، کھڑکیوں پر حبس ہے، دروازہ چہرے سے خالی ہے۔ “

” دن کیچوے کی طرح چلتا ہے، وہ سوچتی ہے۔ جب چلتا ہے تو کلیجہ مٹھی میں آیا رہتا ہے، کچھ حلق میں اٹکا رہتا ہے۔ کیچوا جو چلتا بھی ہے اور بھی چلتا، آہستہ بہت آہستہ، لچکدار بے رنگ پانی کی لکیر چھوڑتا جو جلد ہی مٹ جاتی ہے۔ دن ایک بیلنا ہے۔ وہ سوچتی ہے۔ جس میں وہ نچوڑی جا رہی ہے۔“

” آدھی کھڑکی“ علامتی کہانی ہے۔ جس میں کہانی سے زیادہ کرداروں کی کیفیات پوشیدہ ہیں۔ کمرے کا منظر، بچے کی قلقاری، مہندی لگے سانولے ہاتھ، چہرے پر پھیلا جبر، شہر کے بڑے چوک، ہونٹوں پر جبر اور آدھے پردے کا گرنا عورت کی آزادی کی جانب اٹھنے کے اشارے ہیں۔ تبھی ایک اور اشارہ ملتا ہے کہ میں نے اس مہاندرے کو پہچان لیا ہے۔ عورت کی ہلکی سی شبیہ نے جو ابہام پیدا کیا ہے وہ قاری کا ذہن قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اس سے افسانہ نگار کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ ”پردہ ضرور گرے گا“ شاید کوئی ایسی علامت ہے جو قاری کو سمجھنے کی سہولت نہیں دیتی۔ یہ کتاب کا سب سے مشکل افسانہ ہے۔ اگر اسے کچھ استعاروں اور علامتوں کے بجائے تھوڑی کردار سازی کے ساتھ بیان کیا جاتا تو قاری تشنگی محسوس نہ کرتا۔ بہرحال آدھی کھڑکی ہمارے شعور کے بند دریچوں کی جانب پٹ کھولے کھڑی ہے۔

” بوری بند“ معاشرے کے تعفن زدہ رویوں کی کہانی ہے۔ جس میں ایک ڈھولچی کا بیٹا بابو بننے کے خواب تو دیکھ سکتا ہے لیکن زندگی اسے ڈھول بنا کر بجاتی رہتی ہے۔ محکمہ خوراک کا ٹائپسٹ اپنے لیے ایک گرم سوٹ نہیں سلوا پاتا۔ سماج کے ٹھیکیدار اسے بوسیدہ کپڑوں میں دیکھ کر مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ بالآخر وہ نیا سوٹ تو سلوا لیتا ہے لیکن لوگوں کی نظروں کی تپش اور ہنسی اسے اندر تک سلگا دیتی ہے۔ اس کا نئے سوٹ کو جلا کر بوری باندھ کے بھاگ جانا فرار کی حالت ہے۔ سال بعد وہ میلے کچیلے حلیے میں بازیافت ہوتا ہے۔ اس کے گرد ایک بوری لپٹی ہے اور لوگ اس کے گندے ہاتھوں کے بوسے لے رہے ہیں۔ جبکہ وہ ”آگ لگا دو، آگ لگا دو“ کے نعرے لگاتا ہے۔ جو آگ اس نے اپنے نئے سوٹ کو لگائی تھی وہی آگ اس کے شعور میں سلگ رہی تھی۔ جس میں وہ پورے معاشرے کو جلا کر بھسم کرنا چاہتا ہے۔ سماج کے خلاف ایسی نفرت کا اظہار مختلف افسانہ نگاروں کے ہاں بھی ملتا ہے۔ اکرام اللہ کا افسانہ ”اتم چند“ اس کی بہترین مثال ہے لیکن وہاں اتم چند اپنی بدصورتی کا بدلہ معصوم بچی سے زیادتی کر کے لیتا ہے۔ بوری بند ڈھولچی کا بیٹا اپنی بوری میں پورے معاشرے کی نفرت سمیٹ کر سوال اٹھاتا ہے۔ یہی وہ معاشرہ ہے جو ایک معزز آدمی کو فقط بوسیدہ سوٹ پر نفرت کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ جب وہی بوری بند ننگ دھڑنگ باہر نکلتا ہے تو لوگ اسے اپنی ضعیف العتقادی کے بل بوتے پر چومتے ہیں۔ معاشرے کی یہ بوری بند لاش تعفن زدہ اور قابل رحم ہے۔

کتاب کے دیگر افسانے بھی قابل فہم اور ادراکی شعور رکھتے ہیں۔ جن میں ”بارہ منٹ“ ، ”عینی شاہد“ ، ”عندلیب جاں“ ، ”وارفتگی دل“ ، ”گرے شرٹ“ اور ”سفید دھاگہ“ شامل ہیں۔ ”بارہ منٹ“ موت کی کہانی ہے۔ یعنی زندگی سے کسی پیارے کا چلے جانا جیتے جاگتے انسان کے لیے صدماتی کیفیت کا ہی نام نہیں بلکہ اکیلے پن کی داستان بھی ہے۔ راشد جاوید نے اپنی موت کو خود تخلیق کرنے کا فن دکھایا ہے۔ یہ قاری کی سماعت اور بصارت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ اگر کوئی اپنی مرضی سے موت طاری کر لے تو آس پاس کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ ”عینی شاہد“ بھی کم و بیش اکیلے پن کا نوحہ ہے۔ جیسے کسی کا زندگی سے جانا اپنی ذات کے گم ہونے کے برابر ہے۔ ”عندلیب جاں“ باپ کی محبت اور ماں کی مامتا پر سوال اٹھاتا ہے۔ ایک لے پالک بیٹی کے لیے ماں کی ممتا مر چکی ہے لیکن باپ اپنی بیٹی کو کہیں ٹوٹنے نہیں دیتا۔ ”وارفتگی دل“ صدیوں سے چلی آ رہی حقیقت کا شاخسانہ ہے۔ یعنی عورت کو جب بھی اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا ہو تو مرد سیڑھی بن جاتا ہے۔ اب یہ سیڑھی تحفظات کی بھی ہو سکتی ہے اور خودغرضی سے بھی عبارت ہے۔ نرس اپنے رشتے کے لیے ملاقاتی کو ملنے کے لیے بے قرار ہے۔ اجازت صرف ڈاکٹر ارسلان کی ایک خواہش کے فاصلے پر ہے۔ یہاں بدنی تقاضے ایک ہو جاتے ہیں اور افسانہ نگار کو کہنا پڑتا:

” چند منٹ بعد وہ ہسپتال کے تیسرے فلور پر ڈاکٹر ارسلان کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی کہ واقعی کچھ کام طے شدہ وقت پر نہ ہوں تو کبھی نہیں ہوتے۔ “

” گرے شرٹ“ کا فنی اور اسلوبیاتی بیان کافی مختلف ہے۔ یہ ایک خوبرو نوجوان اور جدید نظریات کی حامل لڑکی کے جذبات کے گرد گھومتی ہوئی کہانی ہے۔ نور بانو اور باسل احمد دونوں شہرت کے افق پر ہیں۔ وہ اپنے کینوس پر بے شمار رنگ سجائے ہوئے ہے لیکن درمیان میں گرے شرٹ آ جاتی ہے۔ یہ رنگ صرف جنسی آزادی کی ہی علامت نہیں بلکہ خودغرضی کا بھی استعارہ ہے۔ دونوں ایک ہوٹل کے کمرے میں ملتے ہیں۔ ان کے نظریات متصادم ہیں بالکل اسی طرح جیسے وہ ایک دوسرے سے جسمانی جنگ کر رہے ہوں۔ نور بانو مصورہ ہے اور باسل فوٹوگرافر، اسی لیے ان کے درمیان مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ کیمرے کی آنکھ کیسے کینوس کے رنگوں کو سمجھ سکتی ہے۔ نور بانو خود کو منوانے پر مصر ہے جبکہ باسل بھی ضد پر قائم رہتا ہے کہ وہ بڑی مصورہ نہیں ہے۔ اس کھینچا تانی کا انجام جسمانی تلذذ پر منتج ہے۔

عورت جیسی بھی معنی خیز تصویر بنا لے، سٹروکس لگا لے یا کینوس کا منظر ہی بدل دے۔ مرد کی گرفت کے آگے ہیچ ہو جاتی ہے۔ اس کی تمام انانیت اور خودداری، غصہ یا نفرت بھک سے اڑ سکتے ہیں۔ اس کی ہیجانی کیفیت کو باسل نے اپنی مردانگی سے قابو کیا اور جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کی گرے شرٹ تار تار تھی۔ یہ ایک فکری اور تاثراتی افسانہ ہے۔ جس میں تعلق میں رہنے والے مرد و عورت کی ذہنی حالت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہانی کے اختتام میں نور بانو مسکراتے ہوئے واپس چلی جاتی ہے۔ باسل کو اس کی گرے شرٹ پسند ہی نہیں تھی اس لیے اس کھینچاتانی میں اس کی شرٹ کا پھٹنا بھی علامتی ہے۔ محبت کی جنگ میں جیت کس کی ہوئی اور ہارا کون؟ اس میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ قاری کے لیے یہی سوچنے کا مقام ہے کہ افسانہ نگار نے اسے گرے شرٹ کا عنوان کیوں دیا۔ راشد جاوید جب اپنے پڑھنے والوں کی جانب بال پھینکتے ہیں تو آؤٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس مجموعے کا آخری افسانہ ”سفید دھاگہ“ اپنی کہانی، پلاٹ، کلائمکس، ترتیب، جمالیات، خیال اور تکنیک کے اعتبار سے شاہکار ہے۔ سفید دھاگہ ایک خیال کی گتھی ہے جسے سلجھانے والی کے پاس اوڑھنے کو کچھ نہیں ہے۔ ایک مصروف عمل عورت شاپنگ بیگز دونوں ہاتھوں میں پکڑے فلیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ اچانک اس کی نظر ڈور میٹ پر پڑی جس پر ایک لمبا سا دھاگہ باہر کو منہ نکالے کھڑا تھا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس نے افسانے کی بنیاد رکھی۔ کبھی کبھار ہم انسانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ گزرتا ہے۔ جہاں نظر رک جاتی ہے اور ہاتھ بے بس ہو جاتے ہیں۔ وہ سفید دھاگہ اس کے لیے پریشانی کا باعث بن چکا تھا۔ وہ اس دھاگے کو توڑ کر یا ڈور میٹ جھاڑ کر نکالنا چاہتی تھی۔ دھاگہ پھانس بن کر اس کے دل میں چبھ گیا تھا جسے نکالنا بہت ضروری تھا۔ وہ اپنی خوابگاہ میں کپڑے اتار کر تازہ دم ہونا چاہتی تھی۔ قمیض کے بنا پاجامے میں ملبوس اس کا خیال اسے فلیٹ سے باہر لے جاتا ہے۔ آندھی سے بند ہونے والے دروازے سے باہر وہ ننگ دھڑنگ خوفزدہ کھڑی ہے۔ یہاں خوف کا عالم اس نامعلوم عورت کو درپیش نہیں بلکہ قاری کو بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ اسے بنا لباس کے دیکھے جانے اور تماشا بننے کے اس ڈر نے لرزنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اچانک دوبارہ ہوا کے زور سے دروازے کا کھلنا اور اس کا دوڑ کر فلیٹ میں گھسنا سکون کا باعث ہے۔ یہاں قاری تذبذب کا شکار ہے کہ کیا سفید دھاگہ واقعی ایک علامت تھی یا حقیقت۔ اس بارے میں خود راشد جاوید کا کہنا ہے کہ یہ میجکل ریئلزم ہے جس میں فرد کے اندر کا خوف باہر نکل کر بھوت بن جاتا ہے۔ انسان کتنی بھی کوشش کر لے اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

اس تناظر میں ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ ”سفید دھاگہ“ جادوئی حقیقت کا پَرتو ہے جسے سمجھنے کے لیے ادب کی نئی تحریک کا مطالعہ ضروری ہے۔ بہرطور کہانی اور پلاٹ نے جس دلچسپی کو قائم رکھا ہے وہ افسانہ نگار کی کامیابی کی دلیل ہے۔ جدید افسانے کے منظرنامے میں راشد جاوید کا نام نیا نہ سہی لیکن ابھی اس پہچان سے دور ہے جو ان کا حق ہے۔ لائم لائٹ سے دور یہ کہانی کار اپنی تخلیق کو منوانے کا شوق نہیں رکھتا۔ اسی لیے رف رف رفتن بام عروج پر پہنچنے کے بجائے طاق پر رکھے چراغ کی طرح ہے۔ جس کی روشنی نیا ادب پڑھنے والوں کے ذوق کو ضرور دعوت دیتی رہے گی۔

Facebook Comments HS