ننھے فواد کی مسکراہٹ


 

”صاحب! میرا فواد مرجھا گیا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں۔ کوئی سننے والا نہیں۔“

زندگی بعض اوقات ایسی گتھیاں بُن دیتی ہے جنہیں صرف آنسوؤں سے سلجھایا جا سکتا ہے۔ ہرے بھرے باغوں میں بھی کبھی کبھار خزاں اتر آتی ہے اور ماں کی ممتا سے محروم بچے کے لیے تو پوری کائنات ہی سنسان صحرا بن جاتی ہے۔ ایسے ہی کسی دن جب شہر کی عدالت کے در و دیوار پر ویرانی اور امید کی کشمکش بکھری ہوئی تھی، میرے دفتر کا دروازہ ایک تھکی ماندی مگر ہمت سے لبریز بوڑھی عورت نے دھیرے سے کھٹکھٹایا۔

چہرے پر جھریوں کا جال تھا مگر آنکھوں میں ایک چراغ سا جل رہا تھا۔ وہ ننھے فواد کی نانی تھی اور اپنے نواسے کے لیے انصاف مانگنے آئی تھی۔ اس نے لرزتی آواز میں یہ کہا۔ الفاظ جیسے بارش میں بھیگے ہوئے کاغذ تھے جو ٹوٹتے جا رہے تھے۔ میں نے اس کی بات سنی، تفصیلات پوچھی اور جان لیا کہ یہ محض ایک کیس نہیں، یہ ایک دکھی دل کا مقدمہ ہے۔

فواد کی کہانی درد سے لبریز تھی۔ ماں کے جانے کے بعد باپ نے دوبارہ شادی کر لی تھی، شاید اپنی تنہائی کے خوف سے۔ مگر اس فیصلے کا سب سے بڑا نقصان ننھے فواد کو سہنا پڑا۔ سوتیلی ماں، باپ کی غیرموجودگی میں بچے کو مارتی، طعنے دیتی اور ملازموں کو اشاروں کنایوں میں اس پر ظلم کی اجازت دیتی۔ باپ اپنے کاروبار کی دنیا میں ایسا کھویا کہ فواد کی سسکیاں اس تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔ وہ بچہ دنوں تک تنہا، سہما ہوا، کونے میں دبکا روتا رہتا۔

جب میں نے تفصیل سنی تو میرے دل میں بھی ایک چبھن سی اتر گئی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ یہ جنگ محض کاغذی کارروائی نہیں ہو گی۔ یہ ایک معصوم بچپن کی بقا کی جنگ ہو گی۔

عدالت میں کیس دائر کیا گیا۔ ابتدائی چند سماعتوں میں کیس کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ خیر میں نے بھرپور تیاری کے ساتھ بحث کی۔ مخالف وکیل کے دلائل بھی خوب تھے۔ فیصلہ کن سماعت کا دن آیا تو کمرہ عدالت خاموش تھا۔ ایسی خاموشی جیسے طوفان سے پہلے ہوتی ہے۔ فواد اپنی سوتیلی ماں کے ہمراہ عدالت میں آیا۔ دبلا پتلا، نڈھال سا بچہ جس کی آنکھوں میں ہر آنے والے پر عدم اعتماد کی پرچھائیں تھی۔ جج صاحبہ نے خاص شفقت سے فواد کو اپنے پاس بلایا۔ فواد پہلے تو سہما رہا، نظریں جھکائے خاموش کھڑا رہا۔ پھر جب جج صاحبہ نے دھیرے دھیرے سوال کیے اور نرمی سے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ جیسے ٹوٹ سا گیا۔ وہ روتے روتے سب کہنے لگا ”آنٹی مارتے ہیں۔ ملازم تنگ کرتے ہیں۔ بابا تو کبھی آتے ہی نہیں۔“
کمرہ عدالت میں موجود سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ہر لفظ جو ننھے فواد کے ہونٹوں سے نکلا، ایک تیر کی طرح دل میں پیوست ہوتا گیا۔

میں نے اپنے دلائل میں عدالت کے سامنے واضح کیا ”بچپن وہ نرم پودا ہے جسے شفقت اور محبت کی بارش چاہیے۔ اگر اسے نفرت، بدسلوکی اور تنہائی کا زہر دیا جائے تو وہ پودا کبھی پھول نہیں بن سکتا صرف مرجھا سکتا ہے۔“ میں نے شریعت، ملکی قوانین اور نفسیاتی تحقیقات کے حوالوں سے واضح کیا کہ بچے کی پرورش کے لیے جسمانی سلامتی کے ساتھ ساتھ جذباتی تحفظ بھی ضروری ہے۔ دوسری طرف والد کی طرف سے صرف یہ دلیل دی جا رہی تھی کہ وہ باپ ہے اور والدہ موجود نہیں ہے لہذا فطری طور پر کسٹڈی کا حقدار ہے۔ مگر عدالت خون کے رشتے سے زیادہ فلاح و بہبود کو دیکھتی ہے۔

جج صاحبہ نے اپنی آبزرویشن میں کہا ”کسٹڈی صرف رشتہ داری کا حق نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی باپ اپنے بچے کی تکلیف کو نہ سمجھے تو وہ محض نام کا باپ ہے۔“ پھر ایک فیصلہ آیا، ایسا فیصلہ جو کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص کے لیے ایک سکون بھری سانس کی طرح تھا۔

فواد کی کسٹڈی اس کی نانی کو سونپی جاتی ہے۔ فواد کو وہ شفقت اور پیار دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے۔ البتہ باپ جب چاہے اسے مل سکتا ہے روکا نہ جائے گا۔ باپ نے ماہوار مناسب خرچہ دینے کا بھی وعدہ کیا۔ جب نانی نے روتے ہوئے فواد کو سینے سے لگایا تو یوں لگا جیسے کسی صدیوں کے پیاسے کو آبِ حیات مل گیا ہو۔ ننھا فواد بھی پہلی بار بے خوف ہو کر ہنس پڑا۔ ایک ہنسی جو اس کمرہ عدالت کی دیواروں میں ایک مدت تک گونجتی رہی۔ عدالت سے واپسی پر میں نے خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھا۔

کہیں نہ کہیں کوئی ماں اپنی دعا میں شامل کر رہی تھی، کوئی نانی اپنی جان کی قربانی دے رہی تھی اور کوئی بچہ مسکرا رہا تھا۔

Facebook Comments HS