ایک شخصیت دو نسبتیں


پاکستان میں صنفی تفریق محض گھریلو یا سماجی مسئلہ نہیں، ایک ریاستی و انتظامی حقیقت بھی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ 2025 کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان کا شمار مسلسل بدترین کارکردگی والے تین ممالک میں ہوا ایک ایسی فہرست جس میں پاکستان کے اعداد و شمار سوڈان اور چاڈ جیسے قحط اور جنگ زدہ ممالک کے اعداد و شمار کے برابر کھڑے ہیں۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان صنفی برابری کے میدان میں یہی نتائج دکھا رہا ہے۔

اس بار بار کے اعزاز نے پالیسی سازوں کو شرم دلائی نہ ہی سماجی ڈھانچے نے کوئی عار محسوس کرتے ہوئے کسی تبدیلی کے لیے دامن وسیع کیا۔

حالیہ دنوں میں نادرا میں یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ عورتوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شناختی کارڈ میں شادی کے بعد والد کا نام برقرار رکھ سکیں یا زوجیت کا اظہار شوہر کے نام کے اندراج سے کریں۔ اس پالیسی کو عورت کے حق میں ہونے میں عشرے صرف ہوئے ہیں (ویسے جو ریاست اپنے ایک پورے جغرافیائی منطقے اور نسلی گروہ کو اپنی شہریت دینے میں پون صدی لگا دے اس سے صنفی مساوات کے لیے ٹھوس قدم اٹھانے کی توقع رکھنا عبث ہی ہے ) قبل ازیں یہ روایت جڑ پکڑ چکی تھی کہ لڑکیاں شادی سے پہلے شناختی کارڈ اپلائی ہی نہیں کرتی تھیں۔ ایک بار والد کے نام سے بنوائیں بعد میں شوہر کے نام و نسبت سے تبدیل کروائیں۔ اس سے بہتر ہے ایک مرتبہ ہی شادی کے بعد میاں حضور کے نام سے بنوایا جائے۔ اگر شادی ٹوٹ جائے، علیحدگی ہو جائے تو پھر شوہر کا نام ہٹانے کی مشقت وہ کیسے اٹھائیں گی اس کے متعلق وہ نہیں سوچتیں کیوں کہ ان کے ذہن میں یہ تصور ہی نہیں کہ شادی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ ان سے یہ شناخت اور نسبت چھنے گی یا انہیں چھوڑنی پڑے گی۔

شناختی کارڈ ایک فرد کی ذاتی انفرادی پہچان کے لیے ہے، اس لیے اس میں شوہر سے نسبت ظاہر کرنا ایک غیر منطقی امر ہے۔ شوہر اس کا زندگی کا ساتھی ہے اس کی ”پہچان“ نہیں ہے۔ پہچان کے لیے مرد و عورت دونوں کے لیے باپ ہی ہونا چاہیے۔ ذیلی طور پر شوہر کا نام لکھوانا غلط نہیں ہے، اگر وہ خوشی، مرضی اور پسند سے ہو۔ زبردستی نہیں ہونا چاہیے۔ دستاویزات بالخصوص شناختی کارڈ کو شوہر کے نام سے بنوانا ان کوششوں اور حربوں میں سے ایک تھا جو اس تصور کو متشکل کرتا ہے کہ عورت کوئی مکمل اکائی نہیں ہے۔ وہ ”سب ہیومن“ (ذیلی انسان) ہے، اصل انسانوں سے کم۔ اس لیے اس کی ذاتی شناخت نہیں ہونی چاہیے۔ وہ کسی مرد سے جڑی ہوگی تو یہی اس کی پہچان ہے۔ ایکس کی بکری، وائے کی بھیڑ، زیڈ کی مرغی (فلاں کی زوجہ، فلاں کی بہن، ڈھمکاں کی ماں۔ اس کی اپنی شناخت اور حیثیت کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں ) ایک شخصیت اور دو نسبتیں؟ دو شناختیں۔ یہ معاملہ چیزوں کے ساتھ تو مناسب ہے انسانوں کے ساتھ نہیں۔ چیزوں کی ملکیت بدلے تو شناخت و نسبت پر فرق پڑتا ہے۔ انسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنی ذات میں مکمل ہوتے ہیں۔

یہ اس نظام کا جبر تھا کہ خواتین اپنی مرضی کے خلاف اپنی شناختی دستاویزات میں ترمیم کرواتیں۔ آخر کوئی ادارہ، نظام یا ریاست کسی کو کیسے مجبور کر سکتی ہے کہ وہ ایک نئے بننے والے رشتے کے بعد اپنا وہ نام ترک کر دے جو اس کی شخصیت کے ساتھ پروان چڑھا؟ انفرادی شناخت کسی کا عطیہ یا تحفہ نہیں ہوتا، یہ ہر فرد کا حق ہے۔

پالیسی اور انتظامی سطح پر یہ تبدیلی معاشرتی سطح پر بھی بہتر اثرات نقش کرے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ مخصوص گروہ جن کی ”ہیجمنی“ کو خطرہ لاحق ہے، اسے اور اس سے متعلقہ ہر کوشش کو ہمیشہ کی طرح ”مغربی ایجنڈا“ اور ”خاندانی نظام کے لیے خطرہ“ قرار دیں گے، اسے مسترد کریں گے۔ یہی ان کا اصلی وتیرہ ہے۔

اب سوچ یہ ہے کہ شناختی کارڈ کی حد تک تو یہ تبدیلی آ گئی۔ امیگریشن، پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات کے لیے شاید کئی سال مزید درکار ہوں گے جب خاوند کے ساتھ ساتھ والد کے نام والا پاسپورٹ حلال ہو جائے گا۔

شناختی کارڈ میں والد یا شوہر کے نام کے انتخاب کا اختیار دینا مثبت عمل ہے مگر اسے موثر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ:

تمام سرکاری و نجی ادارے اس اختیار کے حق کو تسلیم کریں۔
پاسپورٹ، امیگریشن، بینکنگ، بزنس اور وراثتی کاغذات میں بھی یہ اختیار شامل کیا جائے۔
ازدواجی حیثیت سے متعلقہ ڈیٹا نکاح نامے میں شامل کیا جائے۔ یا ضرورتاً الگ دستاویز کا حصہ بنایا جائے۔ یا پھر کارڈ آئی ڈی کے تحت سسٹم میں ایمبیڈڈ رکھا جائے۔ اسے کارڈ پر چھاپنے سے گریز کیا جائے۔

نوٹ: ایسی تبدیلی صرف اور صرف اچھی لڑکیاں بن کر گھر کے کام کرنے، ہر جائز ناجائز بات کو تسلیم کرنے، احتجاج کرنے اور پلے کارڈز اٹھانے والیوں سے لاتعلقی کا اعلان کر کے، انہیں اجتماعی طور پر لعنت بھیج کر آتی ہے۔

Facebook Comments HS