حمیرا اصغر: کمرے میں فقط ان کہی باتوں کا دکھ رچا ہے!
(حمیرا اصغر کی مثال کے تناظر میں ایک سماجی و نفسیاتی جائزہ)
عورت کی ذہانت، تعلیم اور تخلیقی صلاحیتیں کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔ ذہین عورت نہ صرف اپنے لیے بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی مثبت انداز میں متاثر کرتی ہے۔ جب تعلیم اس کی سوچ کو وسعت دیتی ہے تو تخلیقی قوتیں اظہار کے نئے راستے تلاش کرتی ہیں، چاہے وہ ادب ہو، فنونِ لطیفہ ہوں یا سائنسی میدان۔ ایک تعلیم یافتہ اور تخلیقی عورت سوال اٹھانے، نئے امکانات تلاش کرنے اور معاشرتی ڈھانچوں کو چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو نہ صرف خود عورت کی شناخت کو جلا بخشتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی فکری اور اخلاقی ترقی کا زینہ بنتی ہے۔
عورت اور تعلیم کا ربط جتنا مضبوط ہوتا جا رہا ہے، اتنے ہی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ عورت کو کس حد تک اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں جہاں ایک طرف اعلیٰ تعلیم کو عورت کی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف اس تعلیم کے استعمال میں شدید تضاد اور رکاوٹیں بھی پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر جب عورت ماڈلنگ، اداکاری یا میڈیا کے شعبے کا انتخاب کرتی ہے تو سماج، خاندان اور مذہبی بیانیے یک زبان ہو کر اسے ”غیر مہذب“ قرار دیتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ عورت کس معیار کی تعلیم رکھتی ہے یا کس ذہنی بالیدگی سے اپنے راستے کا تعین کر رہی ہے۔
اعلیٰ تعلیم کا حصول صرف ایک ڈگری تک محدود نہیں بلکہ یہ سوچ، شعور، خود مختاری، فیصلہ سازی اور خود اعتمادی کا ذریعہ ہے۔ جدید لڑکیاں تعلیم حاصل کر کے نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلوں کو زیادہ اعتماد، آگہی اور سمجھ بوجھ سے طے کرنا چاہتی ہیں۔ وہ میڈیکل،
انجینئرنگ، وکالت، معلمہ، میڈیا، فلم، آرٹس اور ماڈلنگ جیسے متنوع شعبوں میں جانا چاہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جنون، دلچسپی اور جذبے کو پیشے میں ڈھالیں، چاہے وہ کیمرے کے سامنے ہو یا کلاس روم میں۔
کیا ماڈلنگ یا میڈیا کا شعبہ تعلیم یافتہ عورتوں کے لیے نا مناسب ہے؟
اس سوال کے پیچھے جو تعصب کارفرما ہے وہ عورت کی جسمانی شناخت، ظاہری نمائش، اور معاشرتی کردار سے وابستہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں ماڈلنگ کو عمومی طور پر ایک ایسا پیشہ سمجھا جاتا ہے جہاں ”جسم“ کو ”پیش“ کیا جاتا ہے، نہ کہ دماغ یا قابلیت کو۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی لڑکی، خاص طور پر تعلیم یافتہ، ماڈلنگ کا انتخاب کرتی ہے تو اکثر اسے نہ صرف تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے خاندان سے بے دخل بھی کر دیا جاتا ہے۔
جب میں نے میڈیا کے میدان میں قدم رکھا، تو میرے خاندان میں جیسے ایک بھونچال سا آ گیا۔ ایک روایتی گھرانے کی بیٹی کا ٹی وی اسکرین پر آنا، گویا ایک ناقابلِ تصور بات تھی۔ ہر طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہونے لگی: ”لوگ کیا کہیں گے؟“ ”ایسا کیسے ممکن ہے؟“ مگر ان تمام اندیشوں اور روایتوں کے بیچ، میرے والد میرے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ ان کی حوصلہ افزائی اور اعتماد ہی میرا اصل سرمایہ تھا۔
اُس دور میں میں نے پی ٹی وی کے سندھی پروگرامز میں کام کیا، اور ایک اردو پروگرام کی بھی کمپیئرنگ کی۔ یہ ایک تعمیری اور ثقافتی سفر تھا، مگر افسوس کہ اس راہ میں جتنی باتیں سننے کو ملیں، اور جتنی بار حوصلہ شکنی کا سامنا ہوا، وہ میرے لیے نہایت اذیت ناک تجربات تھے۔ یہ وہ لمحے تھے جب مجھے اپنے خوابوں اور سماجی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے اندر سے بہت مضبوط ہونا پڑا۔
ہمارے معاشرے میں ماڈلنگ اور میڈیا کے شعبے کو برا سمجھا جاتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ سماجی اور تاریخی مسئلہ ہے۔ برصغیر میں صدیوں تک عورت کو ”پردے“ تک محدود رکھا گیا، اس کی شناخت کو صرف گھر تک محدود کیا گیا۔ جب عورت گھر سے باہر نکلی تو بھی اس پر اخلاقی معیار نافذ کیے گئے۔ میڈیا اور ماڈلنگ جیسے شعبے چونکہ پبلک ایکسپوژر سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں کام کرنے والی خواتین کو ”آزاد خیال“ یا ”بدکردار“ سمجھا گیا۔ تعلیم یافتہ عورت جب ان شعبوں میں آتی ہے تو لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کا ”غلط استعمال“ کر رہی ہے۔ گویا تعلیم کا مطلب صرف معلمہ یا ڈاکٹر بننا ہے، جبکہ ماڈلنگ میں تعلیم یافتہ لڑکی کو بے وقوف یا باغی سمجھا جاتا ہے۔ خاندان کی طرف سے رشتہ توڑنے کی بنیادی وجہ ”سماجی دباؤ“ اور ”عزت کا تصور“ ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاندان اپنی بیٹیوں کی شناخت کو اپنی ”عزت“ سے جوڑتا ہے۔ اگر بیٹی ماڈلنگ کرے، تو وہ صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کر رہی ہوتی، بلکہ پورے خاندان کو لوگوں کی عزت خراب کر رہی ہوتی ہے۔ یہ نظریہ بہت خطرناک ہے، کیونکہ اس میں فرد کی خودمختاری اور خود ارادیت کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
ایک ماڈل اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اور اپنے جسم، لباس، اظہار اور پرفارمنس پر مکمل اختیار رکھتی ہو، تو اس کے باوجود خاندان اس کو قبول نہیں کرتا کیونکہ خاندان اس بات سے ڈرتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ان کے لیے یہ قابلِ قبول ہے کہ بیٹی بے روزگار ہو، مگر ماڈل نہ بنے۔
بعض افراد یہ موقف اپناتے ہیں کہ جب کوئی تعلیم یافتہ لڑکی ماڈلنگ جیسے شعبے کا انتخاب کرتی ہے تو یہ ”فیمینزم“ کے نام پر عورت کو بازار میں لانے کی کوشش ہے، گویا وہ اس جدوجہد کو محض جسمانی نمائش کا بہانہ سمجھتے ہیں۔ یہ موقف نہ صرف فیمینزم کی روح کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے بلکہ عورت کی خود ارادیت اور شعوری فیصلے کی بھی توہین ہے۔
فیمینزم (نسائیت) دراصل اس نظریے کا نام ہے جو عورت کو مرد کے برابر انسان تسلیم کرتا ہے، اور اسے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں مکمل آزادی، عزت اور خود مختاری کا حق دیتا ہے۔ فیمینزم کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت محض جسم کی نمائش کرے یا بازار کی جنس بنے، بلکہ یہ نظریہ عورت کو خود فیصلہ کرنے کی اہلیت دیتا ہے، چاہے وہ گھر میں رہے، استاد بنے، یا ماڈلنگ کرے۔
یہ سماج کھلے گناہ سے زیادہ چھپ کر کیے گئے گناہ کو بہتر سمجھتا ہے، گویا منافقت نے اخلاقیات کی جگہ لے لی ہے۔ اگر کوئی عورت یا مرد ایسا پیشہ اختیار کرے جس پر معاشرتی شکوک و شبہات پہلے سے چپکے ہوں، جیسے ماڈلنگ، اداکاری یا تھیٹر تو پورا سماج بنا کسی تحقیق کے ان کے کردار کو پرکھنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ ایسے افراد کے خلاف فتوے، تہمتیں اور سوشل میڈیا پر کردار کشی ایک تفریح بن جاتی ہے، گویا سچ کا تعین ہمارے تعصبات کرتے ہیں، نہ کہ حقائق۔ بغیر کسی ثبوت کے کردار کشی کرنا نہ صرف غیر انسانی بلکہ ایک اجتماعی ذہنی بیماری کی علامت ہے، جسے معاشرتی نیکی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔
سماج کو خودمختار اور مضبوط عورت اس لیے قابلِ قبول نہیں کیونکہ ایسی عورت رائج روایات، مردانہ بالادستی، اور صدیوں پرانے پدرشاہی نظام کو چیلنج کرتی ہے۔ خود فیصلہ کرنے والی عورت سماج کی ”اطاعت گزار“ عورت کے تصور کو توڑتی ہے، جو خاندان، معاشرت اور مذہب کے نام پر اس کی آزادی کو محدود کرتا آیا ہے۔ خودمختار عورت صرف اپنی زندگی کی مالک نہیں بنتی بلکہ دوسری عورتوں کے لیے بھی مثال بن جاتی ہے، جو ان لوگوں کے لیے خطرہ محسوس ہوتی ہے جو اقتدار اور کنٹرول کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ اکثر ایسے معاشرے میں عورت کی طاقت کو بغاوت، اس کے اعتماد کو غرور، اور اس کی آواز کو گستاخی کہا جاتا ہے، کیونکہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور با اختیار عورت ان تمام سہاروں کو غیر ضروری ثابت کر دیتی ہے جن پر مردانہ انا ٹکی ہوئی ہے۔ مشہور قول ہے :
”The woman who follows her own path will find herself in places no one has ever been before.“
(جو عورت اپنے راستے پر چلتی ہے، وہ ایسی جگہوں تک پہنچتی ہے جہاں کوئی اور کبھی نہیں پہنچا۔ )
سماجی رویوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی ناگزیر ہے کیونکہ ایک جامد معاشرہ نہ صرف فرد کی آزادی کو محدود کرتا ہے بلکہ اجتماعی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ خودمختار اور باوقار عورت کی قبولیت صرف عورت کی جیت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فلاح کا راستہ ہے، کیونکہ جب عورت با اختیار ہوتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت بھی شعور، خودداری اور اعتماد کے ساتھ کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو عورت کی قابلیت، ذہانت اور خودمختاری کو تسلیم کرے، وہی مستقبل میں فکری، اخلاقی اور معاشی طور پر مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی کو اپنانا ہی معاشرتی بھلائی اور ترقی کا زینہ بنتا ہے۔
دوسری طرف، وہ جرائم جن پر ہمارے معاشرے کو واقعتاً آواز بلند کرنا چاہیے جیسے زنا بالجبر، ایکسٹرا میریٹل ریلیشنز، مذہبی اداروں میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے کیسز، یا مہذب طبقے کے خفیہ اخلاقی جرائم وغیرہ تو وہ یا تو نظر انداز کیے جاتے ہیں یا ان پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ اس تضاد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ظاہری شرافت اور اندرونی سڑاند کے درمیان جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی اخلاقی اقدار کے محافظ ہیں، یا صرف انفرادی آزادی اور حق انتخاب کے دشمن بن چکے ہیں، خاص طور پر جب بات عورتوں کے کردار یا ان کے پیشے کی ہو۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ایک بیمار ذہنیت کا عکاس ہے، جس کا علاج اجتماعی سماجی خود احتسابی سے ہی ممکن ہے۔
حمیرا جیسے کیسز کو بنیاد بنا کر فیمینزم کو غلط رخ دینا نہ صرف فکری دیانت داری کے خلاف ہے بلکہ یہ خواتین کے آئینی اور اخلاقی حقوق پر حملہ بھی ہے۔ یہ کہنا کہ ”تعلیم یافتہ لڑکی ماڈل بن گئی، یہ فیمینزم کا نتیجہ ہے“ ، ایک سطحی سوچ ہے جو نہ فیمینزم کو سمجھتی ہے اور نہ اس عورت کی داخلی جدوجہد کو۔
اس مسئلے کا حل کثیر جہتی ہے کہ ہمیں تعلیم کو صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کو خود ارادیت، خود شعوری اور معاشرتی فیصلہ سازی کا ذریعہ ماننا چاہیے۔ سماجی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ میڈیا، فلم اور ادب کو استعمال کر کے ماڈلنگ جیسے پیشوں کے مثبت پہلو اجاگر کرنے ہوں گے۔ والدین اور رشتہ داروں کو یہ سکھانا ہو گا کہ ان کی بیٹی یا بہن اگر ماڈل بننا چاہتی ہے، تو وہ اس کا حق ہے، اور اس حق کی حفاظت خود ان کی ذمہ داری ہے۔ ایسے ادارے اور سوسائٹیز بننی چاہئیں جو ماڈلز اور اداکاراؤں کو قانونی، سماجی اور نفسیاتی مدد فراہم کریں۔
حمیرا ایک ایسی تعلیم یافتہ مصور ماڈل و اداکارہ تھی، جس نے روایتی سوچ کے خلاف اپنی راہ بنائی۔ انہوں نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کی، اور وہ جانتی تھیں کہ میڈیا اور ماڈلنگ ان کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ انہوں نے جب ماڈلنگ کا انتخاب کیا، تو انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض اوقات خاندان کی طرف سے بائیکاٹ، مذہبی حلقوں سے نفرت، اور سوشل میڈیا پر بدزبانی کی انتہا ہو جاتی ہے۔ مگر حمیرا نے ہار نہیں مانی۔ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہی، اور نہ صرف اپنی شناخت کو برقرار رکھا بلکہ پاکستان کے فیشن انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کا کہنا ہے :
”میں نے تعلیم اس لیے حاصل کی تھی کہ میں اپنی زندگی کا فیصلہ خود کر سکوں۔ اگر میرے فیصلے سے کسی کو مسئلہ ہے، تو یہ ان کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔“
تعلیم یافتہ عورت کا ماڈل بننا نہ صرف اس کی ذاتی پسند کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی امتحان بھی ہے۔ جب تک ہم عورت کی تعلیم کو اس کی خود مختاری سے جوڑ کر نہیں دیکھیں گے، تب تک ہم صرف ڈگریاں بانٹتے رہیں گے، حقیقی آزادی نہیں دیں گے۔
وہ ایک ایسی عورت تھی جس کے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والی، خاموش طبع اور خوددار انسان تھی۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں اکیلا رہنا خود ایک چیلنج ہے، اُس نے نہ صرف اپنے قدم جمائے بلکہ بغیر کسی سہارے کے ایک باعزت مقام بھی بنایا۔ اس کی زندگی میں بہت سے چیلنجز آئے : تنہائی، ڈپریشن اور معاشی تنگی۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری، جب تک کہ حالات نے مکمل طور پر اس کا حوصلہ نہ توڑ دیا۔
ماڈلنگ کرنا یا میڈیا کا شعبہ ہرگز برا نہیں ہے، مگر لڑکیوں کو والدین، بھائیوں یا شوہر کا اعتماد و سہارا ملنا چاہیے۔ اگر حمیرا کو گھر سے سہارا ملتا، تو وہ اور بھی مضبوط اور کامیاب ہوتی، اور آج وہ اس کسمپرسی کی حالت میں نہ مرتی۔ چھے مہینے سے ایک لاش فلیٹ میں پڑی ہے، کس قدر تکلیف دہ احساس ہے۔ تصور کر کے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر رابطہ کرنے پر گھر والوں کی لاتعلقی نے مزید سوال پیدا کر دیے۔ این سی اے جیسے ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی، جو مصوری بھی کرتی تھی، اپنی پسند کی دنیا حاصل کرنے کے پاداش میں رشتوں کی جانب سے مجرم بنا دی گئی۔
رشتے خوبصورت ہوتے ہیں، مگر جب وہ مشروط ہو جائیں تو اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔
وہ صرف اپنے لیے ہی نہیں جیتی تھی، بلکہ دوسروں کے لیے بھی نرم دل اور ہمدردی سے لبریز تھی۔ فلاحی کاموں میں اس کی دلچسپی، اس کے دل کی وسعت کا ثبوت تھی۔ اس کی اندوہناک اور اذیت ناک موت نے دل کو بہت افسردہ کیا ہے۔ ایک حساس، مہذب اور نیک دل عورت اس طرح کی بھیانک موت کی ہرگز حقدار نہیں تھی۔ معاشرے کی بے حسی، ظلم اور تنہائی نے ایک اور چراغ بجھا دیا۔

