بیوی یا لائسنس یافتہ سیکس ورکر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریپ جنسی حملے کی ایک قسم ہے مگر ہر جنسی حملہ ریپ نہیں ہوتا۔ “ریپ ” کی اصطلاح اکثر بغیر فریق دوئم کی رضا کے دخول کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دخول انسانی اعضا کے ساتھ فطری یا غیر فطری طریق سے ہو سکتا ہے۔ بہر حال یہ طے ہے کہ یہ بزور طاقت ہوتا ہے.

یہ طاقت جسمانی ، جذباتی اور ذہنی دباؤ تینوں طرح کی ہو سکتی ہے۔ یہ زبردستی شکار کے حالات، حالت اور توانائی پر منحصر ہے یا پھر شکاری کی اپنی ذہنی اور جسمانی قوت پر۔ عموماً اس طاقت کے بل پر کیے گے میریٹل ریپ یعنی ازدواجی ریپ کی کوئی رپورٹ پاکستان میں درج نہیں ہوتی۔ پاکستان تو کیا کسی بھی اسلامی ملک میں درج نہیں ہوتی۔ شادی یا رشتہ ازدواج کسی شوہر کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ بیوی کی ایما کے بغیر اس سے ہمبستری کر سکتا ہے۔

شادی باہمی محبّت اور پیار سے ایک دوسرے کو قبول کرنے کا نام ہے اگر کبھی دونوں فریقین میں سے ایک اس اس تعلق پر رضا مند نہیں تو دوسرے کو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

نکاح معاشرتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی عورت نکاح کے وقت قبول ہے کہتی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ جب ،جہاں اور جیسے بھی سیکس کو قبول کر رہی ہے.

شوہر کی خواہش کا احترام اور اپنی ضرورت دونوں ہی عورت پر واجب ہیں۔ مگرباہمی رضا و الفت کا بھرم رکھنا، احساسات کا لحاظ کرنا نکاح کا اولین مقصد ہے۔ اور اس اولین مقصد حیات کی نفی صرف ایک جملہ جو عورت کو سکھا دیا جاتا ہے وہ ہے گھر بچانا ہے۔ مگر کیا یہ صحیح ہے کہ ایک ایسا رشتہ بچ جائے جس سے کسی انسان کی نہ تو روح سلامت ہو نہ ہی جسم محفوظ ہو

میں پوائنٹس کی صورت میں ازدواجی ریپ کو واضح کرنا چاہتی ہوں تاکہ ایک صورت حال دوسری سے خلط ملط نہ ہو

طاقت کے زور پر:

یہ واضح ہونا چاہیے مگر کچھ مرد اس سوچ پر غلط ہیں کہ انھیں شادی اس چیز کی اجازت دیتی ہے کہ وہ عورت کی مرضی کے بغیر کسی بھی طریقے سے انھیں بستر پر کھینچ سکتے ہیں۔ چاہے عورت کو مار پیٹ کر ہی کیوں نہ اس کے ساتھ ازدواجی تعلق بنایا جاۓ۔ اس فعل سے چاہے عورت کی ذات کتنی ہی مجروح کیوں نہ ہو۔ کیا اس کو محبّت اور الفت اور سکون قلب کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ہر گز نہیں ، یہ ریپ ہے۔ محبّت میں کسی کو رلایا نہیں جاتا

عورت کو ڈرا دھمکا کر:

اگر شوہر بیوی کو مجبور کرتا ہے اپنے درشت رویے اور الفاظ کے ساتھ ، ڈرا کر چاہے طلاق کی دھمکی سے ڈرایا جائے یا دوسری شادی کے کاری وار سے، احسان جتا کر کہ میں کماتا ہوں، کھلاتا ہوں سو میرے لیے ہمہ وقت حاضر رہو تو یہ جذباتی تشدد ہے۔ اور پھر اگر عورت ٹوٹ جاۓ اور اس مرد کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ اس زبردستی سے خوش ہے

غلط بات کو منوانا :

 اگر شوہر بیوی کو گالیاں دیتا ہے اور اس کو الزام دیتا ہے کہ وہ ایک اچھی بیوی نہیں کیوں کہ وہ اسے حالت ناپاکی میں انکار کرتی ہے یا دوسرے غیر فطری طریقوں پر راضی نہیں ہوتی تو وہ ایک ناکام بیوی ہے۔ اور دنیا کی تمام باقی عورتوں میں سب سے گھٹیا اور ناپسندیدہ ہے اور یہ بھی کہ مرد کے غیرعورتوں سے روابط کی ذمہ داری عورت کے اس رویے پر آتی ہے۔ اگر تو بیوی اپنے موقف پر ڈٹی رہے تو نتیجہ بول چال بند، مار پیٹ وغیرہ۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو بالخصوص اس رویے کا سامنا ہے کہ اگر وہ اپنے مرد کے مردود فعل کا ذکر کسی سے بھی کرتی ہے وہ نہ تو صرف بےشرم کہلاتی ہے بلکہ پھر شوہر بھی اس کو قبول نہیں کرتا۔

کتنی عورتیں ہیں جو طلاق لے کر میکے جا سکتی ہیں ؟ یا اپنے لئے خود کما سکتی ہیں ؟ شاید 10 فیصد بھی نہیں۔ شاید یہی وہ عناصر ہیں جن سے مرد عورت کو مجبور کر دیتا ہے اف کیے بغیر اس کی تمام بربریت کو قبول کرے۔ اس جنسی فعل کو کون محبّت کا نام دے گا ؟

 بیماری یا کسی دوا، دکھ یا نیند کے زیر اثر

عورت کے ساتھ میلان، محبّت بھرا سیکس دونوں فرقین کی رغبت کے بغیر ممکن نہیں۔ بیوی سوئی ہوئی ہے۔ بے ہوش ہے۔ بیمار ہے تو اگر وہ شوہر کے بلانے پر بستر پر آ بھی جائے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ سچی رضا مندی یا رغبت نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس وقت وہ عورت اس حالت میں ہوتی ہی نہیں کہ وہ مرد کا بھرپور ساتھ دے سکے یا خود لطف اندوز ہو۔ واہ رے “قبول ہے “کی نیرنگیاں۔۔۔

دوسرا کوئی راستہ نہیں

مرد کی جائز و ناجائز جنسی خاھشات کے آگے دم توڑتی عورت کی ذاتی خواہش کہہ رہی ہوتی ہے کہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ کیونکہ میں قبول ہے کہہ کر مرد کو اپنے جسم و جان کا اور جذبات کا مالک بنا چکی ہوں۔ طلاق شرمندگی اور گالی ہے اور مردوں کا معاشرہ ہے۔ سو مرد کو ہی سچا کرے گا۔ میرے بچے میرے پاؤں کی زنجیر ہیں۔ مرد کا رویہ نہ نگلا جا سکتا ہے اور نہ ہی اگلا جا سکتا ہے۔ کم تعلیم اور معاشرتی نا ہمواری عورت کے گلے کا طوق ہے۔ مرد سے الگ ہو کر زندگی گزارنا ہی ایک عذاب ہے۔ اس لئے عورت مرد کی رضا پوری کر کے اپنی جان بچاتی ہے۔ کہ اسے یہی طریقہ سب سے آسان لگتا ہے۔ اس روزانہ یا ہفتہ وار یا مہینہ وار ریپ کو بیوی جھیل رہی ہے۔

اگر مردوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عورت میں بغاوت تو موجود ہے۔ وہ دبی چنگاری آگ بھی لگا سکتی ہے۔ گھر ٹوٹ جائیں گے۔ بچے تقسیم ہو جائیں گے۔ بے حیائی عورت میں عام ہو گی۔ حدود و قیود کا لحاظ پھر عورت کیوں کرے گی۔ جب اس کی عزت شوہر ہی پامال کرتا رہے گا۔ لگاتار۔ بار بار۔ عورت کو باوقار رہنے دیا جاتے۔ یہ عورت بیوی ہے آپ کی۔ بچوں کی ماں بھی ہے۔ مت بدظن کریں اسے خود سے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •