سوشل میڈیا بطور عالمی ادبی پلیٹ فارم اور ہمارا ادیب

ہم زندگی کے جس شعبہ میں بھی ہوں اپنی حدود خود متعین کرتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے گرد ایک دائرہ کھینچیں اور اسی کی تنگی میں قید رہ کر تمام عمر گزار دیں یا اس دائرے کے امکانات کو دریافت کرنے کی مسلسل سعی کرتے رہیں اور دریافت کی اس خواہش کے بل پر دائرے کو کائنات جتنا وسیع کر لیں۔ یا دوسری صورت میں ایک دائرے کو تسخیر کر کے ایک بڑے دائرے اور

Read more

ایک متحرک زندگی کا شعور۔ مگر کیسے؟

جب اصحاب کہف کی آنکھ کھلی تو زمانہ بدل چکا تھا۔ سماج ایک نئی کروٹ لے چکا تھا۔ ان کی نقدی کھوٹی ہو چکی تھی اور اب ان کی پہچان کا کوئی حوالہ باقی نہیں بچا تھا۔ کبھی کبھی میں بھی ایسی ہی طویل نیند سونے کی خواہش کرتا ہوں جس کے بعد آنکھ ایک نئے زمانے میں کھلے۔ جہاں تمام تر انسانی المیے دم توڑ چکے ہوں، سانس کے راستے میں حائل سب رکاوٹیں ہٹ چکی ہوں، جینا اتنا

Read more

130 فٹ قد کا خواب اور ہمارے منحنی وجود

ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، ایک عالمِ بے بدل پنج ستارہ ہوٹل کے حال میں اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ ہم ایسے عامیوں کو بھی اس تقریب۔ سعید میں شرکت کا موقع ملا۔ ہم ان کی شہرت سے تو پہلے ہی متاثر تھے مگر اب ان کی تمکنت نے ہمیں حد سے زیادہ ہی مرعوب کر دیا۔ ہم ان کے ارشادات۔ عالیہ کو ہمیشہ ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں لیکن جب کچھ ناہنجار ان سے

Read more

اس طرف بھی اک نظر، اہلِ نظر

دوران۔ کرونا اور ما بعد کرونا صورتحال میں طبقہ اشرافیہ کے نونہالوں کو تعلیم دینے والے اداروں نے تو خوب مال سمیٹا۔ انہیں تمام تر بقا یا جات اور واجبات بھی ملے اور رعایات بھی کیوں کہ یہ ادارے ہمارے طبقاتی سماج میں ’سٹیٹس سمبل‘ گردانے جاتے ہیں۔ مگر مافیا مافیا کے شور میں کسی نے ان اداروں کی بات نہیں سنی جو انتہائی کم فیس میں اچھا ماحول بھی دے رہے تھے اور معیاری تعلیم و تربیت کا بندو

Read more