ہیں آج بھی کچھ کام پہ مزدور ہمارے
ایک پچاس کلو کا تھیلا اٹھا کر روز اپنی کمر کو مشقت دینے والے کے گھر ایک وقت میں پانچ کلو آٹا دستیاب نہیں۔ پچاس لاکھ کی سواری کو ڈرائیور کرنے والے کے پاس پچاس ہزار کی سواری نہیں۔ دس کروڑ کے بنگلے کی رکھوالی کرنے والا اپنی رہائش گاہ اپنی چھت سے محروم ہے۔
ہم ایک بوسیدہ اور گلے سڑے نظام کا حصہ ہیں جس میں امیر، امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب، غریب سے غریب تر۔ معاشرے کا غریب طبقہ اسی حالات کی چکی میں پس کر اپنا دم توڑ رہا ہے۔ اس نظام میں نچلے طبقے کے لوگوں کو اور ان کے بچوں کو یہ بات بتائی اور سکھائی جاتی ہے کہ غربت تمھارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے اور تمھارے حصے کی روٹی اور آرام و آسائش تمھاری تقدیر میں لکھے ہی نہیں۔ اور ساری زندگی ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی سسک سسک کر اپنا دم توڑتی رہتی ہیں۔
Read more
