عارفہ شہزاد کا شعری مجموعہ ”عورت ہوں نا“

عارفہ شہزاد کی ”عورت ہوں نا! “ میں نے ایک سے زیادہ بار پڑھی مگر اس کی تفہیم کا غرفہ ہے کہ کھلنے کا نام نہیں لیتا۔ کہیں ایک ابلاغی تہ داری کا حجاب وجہ فراق ہے تو کہیں نسائی رمزیت نے ”با ادب با ملاحظہ ہوشیار“ کی گونج سے موجود کو دہکا رکھا ہے…

Read more

”پانی مر رہا ہے“ ایک تجرباتی ناول

ایک مدت تک ( اورایک اب بھی کبھی کبھار ) میں اپنی غزلیں، کہیں چھپوانے سے پہلے محمد سلیم الرحمٰن کو دکھاتا رہا ہوں کہ ان کے ذوقِ شعری کا میں قائل تھا اور ہوں۔ برسوں پہلے ایک دن میری تازہ غزلوں پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کہنے لگے : ”ساجد! اب مثنوی لکھو…

Read more