اقبال – جدید غزل کا پیش رو

امیر خسرو سے لے کر اب تک غزل ہی وہ صنف سخن ہے جس نے ہر دور کے مذہبی، سماجی اور تہذیبی رویوں کا اظہار کیا ہے۔ اردو کی ادبی تاریخ میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح نظر آئے گی کہ شعری اصناف میں اہل زبان کو خصوصی لگاؤ غزل سے ہی رہا اور اردو کی بھی یہی کمزوری سمجھ لیجئیے کہ اسے بھی خصوصی لگاؤ غزل سے ہی رہا ہے۔ اردو کے شعری

Read more

ڈسکورس/کلامیہ/ بیانیہ

”ڈسکورس وہ لسانی قوت ہے جو بیانیہ کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے اور بیانیہ کو مکمل کرتی ہے۔“ کلامیہ، کلام سے مشتق ہے جس کے معنی گفتگو کرنا، بات چیت کرنا، اپنی خواہشات کا اظہار کرنا وغیرہ وغیرہ۔ کلام دو طرح کے ہوتے ہیں کلام موزوں اور کلام ناقص، کلام موزوں ایسا کلام جسے سن کر یا پڑھ کر کوئی بات اچھے سے سمجھ میں آ جائے۔ بالفاظ دیگر کلامیہ سے مراد ایسا موزوں کلام ہے جسے سن کر کوئی

Read more

اقبال کے نظریۂ فن کا افلاطون اور ارسطو سے اجمالی جائزہ

فن کی جامع تعریف بیان نہیں کی جا سکتی البتہ کسی کام میں ایسی حسن و خوبی پیدا کرنا کہ اس سے انسان کا ذوق جمال تسکین پائے، فن کہلاتا ہے۔ راقم الحروف نے فن کے حوالے افلاطون اور ارسطو کے فلسفہ کو پیش کرنے کے بعد اقبال کے نظریہ فن پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں افلاطون فن کو نقالی کہتا ہے اور شاعری کو نقل کی نقل قرار دے کر شعراء کو اپنی جمہوریت سے دیس

Read more