کچھ پل عبدالقادر جونیجو کے ساتھ

سندھ یونیورسٹی کی رہائشی سوسائٹی میں رہنے کا مجھے ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہاں سندھ کے پڑھے لکھے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ یوں تو میں گذشتہ تیس سالوں سے جامشورو میں ہی رہ رہا ہوں۔ مگر حالیہ سالوں میں جب سے میں نے لکھنا شروع کیا ہے تو سندھی ادب کی کسی…

Read more

حیدرآباد میں وہ گھر جہاں فلم اسٹار محمد علی نے بچپن اور جوانی گذاری

سال 2009 سے جب سے میں نے صحافت میں قدم رکھا ہے، اس دن سے لے کر آج تک حیدرآباد کے علاقے گاڑی کھاتہ کی تنگ اور بوسیدہ گلیوں سے سیکڑوں بار گزر چکا ہوں۔ ان گلیوں میں موجود انگریز دور کی عمارتوں کو دیکھ کر مجھے ڈر سا لگنے لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ان قدیم عمارتوں کو خریدنے کی بات کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے :
”کیوں کہ یہ عمارتیں ہندوں کی چھوڑی ہوئی ہیں، اس لئے ان میں بھوت اور آسیب پائے جاتے ہیں۔ “

یہ سن کر ڈرے اور سہمے ہوئے لوگ اور بھی زیادہ ڈر جاتے ہیں اور ان قدیم عمارتوں سے دور بھاگتے ہیں۔ اور پھر ہوتا یوں ہے کہ کوئی بلڈر ان آسیب زدہ عمارتوں کو گرا کر وہاں فلیٹوں کی اونچی عمارت کھڑی کر دیتا ہے جس کے بعد بھوت اور آسیب بھاگ جاتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو گاڑی کھاتہ کی ان تنگ اور بوسیدہ گلیوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی اور جتنا جلدی ہوسکے میں وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر کچھ دن قبل میرے ایک دوست ڈاکٹر سنتوش کامرانی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے بتایا کہ:
”کیا تم جانتے ہوکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار محمد علی صاحب کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ “

Read more

پاؤلو کویلہو کی ناول ہپی پر ایک نظر

پاؤلو کویلہو کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ان چند لکھاریوں میں سے ایک ہیں جن کی کتابوں سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں دنیا کی 52 سے زیادہ زبانوں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ کویلہلو کی ناول الکیمسٹ نے تو پوری دنیا میں شہرت حاصل کی اور…

Read more